یورپ میں حملے اور قومی آزادی


khurram niazi

ایران عراق جنگ میں دونوں طرف کے کوئی سات آٹھ لاکھ افراد لقمہء اجل بن گئے۔ اس جنگ سے فراغت کے بعد 1990ء میں صدام حسین نے اپنی فوجیں لے کر کویت پر قبضہ کرلیا جواباً امریکہ نے بھی عراق کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ پوری دنیا ایک ہیجان میں مبتلا ہو گئی۔ ہم میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے جہاں ہم نے عراق کے ساتھ یکجہتی اور امریکہ کی جارحیت کے خلاف ایک سیمینار میں جامعہ کراچی کے شعبہء بین القوامی امور پروفیسر شمیم اختر کو مدعو کیا۔ پروفیسر صاحب کے جوشیلے انگریزی کالم ڈان میں چھپتے تھے۔ انہوں نے اپنی شعلہ بیانی سے محفل کو لوٹ لیا۔ واپسی پر عالمی سیاست پر ان کی عالمانہ گفتگو سے مستفید ہوتے ہوئے میرے منہ سے نکل گیا کہ سر اس وقت ایک جذباتی فضا قائم ہے، کچھ عرصے میں جب گرد بیٹھے گی اور منظر نامہ کھل کر سامنے آئے گا تو ہم تجزیہ کرسکیں گے کہ صدام کا کویت پر حملہ بھی ایک قابلِ مذمت اقدام تھا۔ یہ کہہ کر جیسے میں نے کسی بہت بڑی گستاخی کا ارتکاب کر دیا ہو ڈاکٹر صاحب مجھ پر برس پڑے اور کوئی چالیس منٹ تک مجھے ڈانٹتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ کبھی بھی بے وجہ مشتعل نہیں ہو جاتے مثال کے طور پر انہوں نے ترکی کی خلافت کے خاتمے کے خلاف ہندستان میں اٹھنے والی تحریک کا حوالہ دیا جو ان کے حساب سے سامراج دشمن تحریک تھی اور جس میں ہندو مسلم سب شریک ہوئے تھے۔ اپنے گھر پر گاڑی سےاترتے ہوئے انہوں نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انگریزی میں ایک یادگار جملہ کہا کہ” کبھی قومی آزادی کی جدوجہد کی قیادت بنیاد پرستوں کے ہاتھ میں نہ جانے دینا!” ہمیں یہ عمدہ پیغام دینے کے بعد محترم پروفیسر صاحب خود جماعتِ اسلامی کے منعقدہ پروگراموں میں اپنی امریکہ دشمنی اور شعلہ بیانی سے جلسوں کو گرماتے رہے اور اس وقت کے صدر بڑے بش صاحب کو علامتی پھانسی لگوا کر قومی آزادی کی تحریک بنیاد پرستوں کو سونپتے رہے۔

مجھے یہ بھولا بسرا واقعہ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں کل کے حملوں پر یاد آگیا۔ اس سے پہلے اسی طرح کے حملے فرانس میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں جبکہ برطانیہ میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔ حملوں کے فوراً بعد اس کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ قبول کرلیتی ہے۔ عام مسلمانوں میں سے کچھ مذمت کرتے ہیں کچھ لاتعلق بنے رہتے ہیں کچھ کہتے ہیں کہ یہ خود یہود و نصاریٰ کی سازش ہے اور ایک قلیل تعداد اس کو شام، عراق، لیبیا اور افغانستان کو برباد کرنے کی سزا قرار دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن سے کسی بھی مسئلے پر بحث کرو ان کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ شام کے ساتھ کیا ہوا۔

ہر انسان معاشرہ کا حصہ ہے اور چاہے یا نہ چاہے وہ سیاست میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ سیاست ملکی ہو یا بین الاقوامی اس میں دو طرح کے رحجانات پائے جاتے ہیں۔ وہ نظریات، تحریکیں یا جماعتیں جو قومی، نسلی یا مذہبی برتری کی دعویدار ہوں، دوسرے ملکوں کے خلاف جنگ چھیڑنے کی حامی ہوں، غریب ملکوں سے آنے والے مہاجرین پر پابندیاں لگانے کے حق میں ہوں، صحت، تعلیم اور دیگر فلاحی کاموں کے لئے ریاستی خرچوں کو کم کروانا چاہتی ہوں، ٹریڈ یونین، ہڑتال وغیرہ کو بری نظر سے دیکھتی ہوں ان کو دائیں بازو کا کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ سوچ جس سے تمام انسانوں میں مساوات، عدم جارحیت، امیروں پر ٹیکس، غریبوں کے لئے ریلیف کی راہ ہموار ہو اسے بائیں بازو کی نمائندہ کہا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے یورپ میں یکے بعد دیگرے ہونے والے حملوں سے دائیں بازو کے نظریات اور جماعتوں کو خوب تقویت مل رہی ہے۔ اور بائیں بازو کے لئے اپنا مقدمہ لڑنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

جہاں تک مشرقِ وسطیٰ کے واقعات کا تعلق ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہی جہادی جو یورپ میں برسرِ پیکار ہیں انہی کے ہم نظریہ تنظیمیں بلاد الشام، عراق اور لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف نہیں؟ افغانستان سے روس کی واپسی اور طالبان کی آمد کے درمیانی عرصے میں جو مجاہدیں ایک دوسرے کے خون کی ندیاں بہا رہے تھے ان کی نظریاتی اساس کیا تھی؟ پاکستان میں اسکول کے بچوں سے لے کر طالبات اور پولیو ورکرز تک کے قتلِ عام میں کون سی سوچ کار فرما ہے؟ پاکستانی فوج کن عقائد کے خلاف ضربِ عضب کر رہی ہے؟

ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں شمال (امیر ممالک) کے جنوب(غریب ممالک) کے مابین غیر متوازن تجارت اور نتیجتاً جنوب کی دولت شمال میں جانے کی بحث ہوا کرتی تھی، ایک زمانہ وہ بھی تھا جب افریقہ، ایشیاء اور جنوبی امریکہ کو تیسری دنیا کا نام دے کر اسے پہلی دنیا یعنی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے استحصال سے بچانے کی بات ہوا کرتی تھی، غیر جانبدار تحریک کے تحت کمزور اقوام کو امریکہ اور سوویت یونین کی دستبرد سے محفوظ رکھنا بھی خارجہ پالیسیوں کی بنیاد کی اینٹ ہوا کرتا تھا لیکن نو گیارہ کے بعد یہ تمام مباحث نو دو گیارہ ہو چکی ہیں اور اس کی جگہ دہشت گردی کے ایک دائمی خوف نے لے لی ہے۔ اس کا فائدہ کس کو ہے ہم نہیں کہہ سکتے لیکن اس کا نقصان ساری دنیا کے عوام کا ہے۔

مولانا مودودی جن کی تحریریں اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کا فکری اثاثہ ہیں۔ اپنی تصنیف اسلامی ریاست میں رقمطراز ہیں:۔

۔”جہاد نہ کرنے کے لئے یہ بہانہ نہیں بنایا جاسکتا کہ حکومت اگرچہ کفار کی ہے مگر ہم کو امن نصیب ہے اور ہمارے ساتھ انصاف ہو رہا ہے۔ اور نہ مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں عدل کا دور دورہ ہو تو مطمئن ہو کر بیٹھ رہیں”۔

بلاشک مولانا بیلجیئم، فرانس اور برطانیہ ہی کیا سعودی عرب، امارات اور قطر میں بسنے والے اپنے معتقد مسلمانوں کو اٹھنے اور پوری دنیا کو تہس نہس کردینے کی دعوتِ عام دے رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments