نور جہاں : ’یہ لڑکی تو روتی بھی سروں میں ہے‘


ایک زمانہ تھا جب لاہور کے گورنمنٹ کالج اور لا کالج کے نوجوان یا تو شیزان اوریئنٹل جایا کرتے تھے یا کانٹنینٹل۔ یہاں وہ کھڑکیوں کے پاس بیٹھ کر گزرتی ہوئی لڑکیوں کو دیکھا کرتے تھے۔

باہر مرکزی سڑک پر پر فریدہ خانم اپنے لمبی کار پر نورجہاں کے ساتھ بہت تیزی سے نکلا کرتی تھیں۔ دونوں جگری دوست تھیں۔ اکثر جب ان کی کار ان لڑکوں کے سامنے سے گزرتی تھی تو سست ہو جایا کرتی تھیں تاکہ یہ دونوں معروف گلوکارہ ان نوجوان لڑکوں پر كنكھيوں سے نظر ڈال سکیں۔

جب سنہ 1998 میں نورجہاں کو دل کا دورہ پڑا تو ان کے ایک پرستار اور پاکستان کے معروف صحافی خالد حسن نے لکھا تھا: ’دل کا دورہ تو انھیں پڑنا ہی تھا۔ پتہ نہیں کتنے دعویدار تھے اس کے! اور پتہ نہیں کتنی بار وہ دھڑكا تھا ان لوگوں کے لیے جن پر انھوں نے مسکرانے کی عنایت کی تھی۔‘

علی عدنان پاکستان کے معروف صحافی ہیں اور اس وقت امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے نورجہاں پر خاصی تحقیق کی ہے۔ جب وہ پہلی بار ان سے ملے تو وہ خراب موڈ میں تھیں۔

علی عدنان یاد کرتے ہیں ’نورجہاں اس دن نذیر علی کے لیے گانا ریکارڈ کر رہی تھیں اور ان کے غصے کا نشانہ مشہور بانسری نواز خادم حسین تھے۔ راگ درباری کی بندش میں نورجہاں نرم دھیوت کو اور باریک چاہ رہی تھیں لیکن خادم حسین سے بات بن نہیں پا رہی تھی۔ ان کے منہ سے خادم حسین کے لیے جو الفاظ کا سیلاب نکلا تھا اسے سن کر سبھی ہکا بکا رہ گئے تھے۔‘

علی عدنان کے مطابق نورجہاں کی یہ ادا ہوا کرتی تھی کہ وہ کوئی بھی بات کہہ کر مسکرا دیتی تھیں کہ ’ارے یہ میں نے کیا کہہ دیا اور سامنے بیٹھا شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ نورجہاں کے منہ سے اس طرح کی بات کس طرح نکل سکتی ہے۔‘

نغمہ ریکارڈ کرتے وقت نورجہاں اپنا دل، روح اور دماغ سب کچھ جھونک دیتی تھیں۔ علی بتاتے ہیں کہ انھوں نے اکثر سٹوڈیوز میں نورجہاں کو ان کے پیچھے بیٹھ کر ریکارڈنگ کرتے سنا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’وہ تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب ریکارڈنگ شروع کرتی تھیں لیکن گھنٹے بھر کے اندر ان کی پیٹھ پر پسینے کے قطرے نظر آنے شروع ہو جاتے تھے۔‘ ’ریکارڈنگ ختم ہو تے ہوتے وہ مکمل طور پر پسینے سے شرابور ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ جب مائیک سے ہٹتي تھیں تو ان کے نیچے کا فرش بھی پسینے سے گیلا ہو چکا ہوتا تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ گانے میں وہ بڑي مشقت سے کام لیتی تھیں اور اس کے لیے اپنی پوری جان لگا دیتی تھیں۔‘

بھارت اور پاکستان کی موسیقی کی روایات پر کام کرنے والے بھارت کے سابق سفیر پران نویل کی نورجہاں سے پہلی ملاقات سنہ 1978 میں ہوئی تھی جب وہ امریکہ میں سیئیٹل میں ایک کنسرٹ کرنے آئی تھیں۔ پران نیول یاد کرتے ہیں: ’ان دنوں میں سیئیٹل میں بھارت کا قونصل جنرل ہوا کرتا تھا۔ چونکہ وہاں پاکستان کا کوئی سفارت خانہ تھا نہیں تو اس کا اہتمام کرنے والے مجھے مہمان خصوصی کے طور پر بلانا چاہتے تھے۔ انھوں نے نورجہاں سے اس کی اجازت مانگی۔ نورجہاں نے کہا کہ وہ شخص بھارتی ہو یا پاکستانی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری شرط یہ ہے کہ وہ دیکھنے میں اچھا ہونا چاہیے۔ سامنے بدشكل شخص کو بیٹھے دیکھ کر میرا موڈ آف ہو جائےگا۔‘

نورجہاں نے اس عظمت اور بلندی کو حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی تھی اور اپنی شرائط پر زندگی کو جیا تھا۔ ان کی زندگی میں اچھے موڑ بھی آئے اور برے بھی! انھوں نے شادیاں کی، طلاق دی، محبت کے رشتے نبھائے، نام کمایا اور اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بے انتہا تکلیف بھی جھیلی۔

نورجہاں کا سب سے مشہور معاشقہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر نذر محمد کے ساتھ تھا اور اسی کی وجہ سے نذر محمد کا ٹیسٹ کیریئر وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔

سنہ 1971 میں بھارت پاکستان جنگ کے وقت ان کا نام پاکستانی صدر جنرل یحییٰ خان سے بھی جوڑا گیا۔ نورجہاں نے خود کبھی اس کی تصدیق نہیں کی۔ پاکستان کے مشہور صحافی خالد حسن نے ایک بار اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک بار جنرل یحییٰ نے اپنے ایک ساتھی اور ماتحت جنرل حمید سے کہا تھا: ’اگر میں نوری کو چیف آف دی سٹاف بنا دوں تو وہ تم لوگوں سے کہیں بہتر کام کرے گی۔‘

نور جہاں یحییٰ کو سرکار کہہ کر پکارا کرتی تھیں اور ان کے لڑکے علی کی شادی میں انھوں نے گانے بھی گائے تھے۔

نور جہاں فیض احمد فیض کا بے حد احترام کرتی تھیں۔ ایک بار ایک تقریب میں ملکہ پکھراج نے کہا کہ فیض میرے بھائی کی طرح ہیں۔ جب نورجہاں کی باری آئی تو وہ بولیں کہ میں فیض کو بھائی نہیں محبوب سمجھتی ہوں۔ ایک بار فیض سے ایک مشاعرے میں ان کی مشہور نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ سنانے کے لیے کہا گيا تو وہ بولے: ’بھائی وہ نظم تو اب نورجہاں کی ہو گئی ہے، وہی اس کی مالک ہیں۔ اب اس پر میرا کوئی حق نہیں رہا۔‘

اپنے کریئر کی چوٹی پر پہنچنے کے باوجود بھی نورجہاں کا انسانی اقدار میں ایمان کم نہیں ہوا تھا۔ نورجہاں پر کتاب لکھنے والے اعجاز گل بتاتے ہیں: ’مشہور موسیقار نثار بزمي نے مجھے بتایا تھا کہ نورجہاں اکثر اپنے گھر میں گانوں کی ریہرسل کیا کرتی تھیں۔ ایک بار وہ ان سے ملنے گئے تو انھوں نے چائے منگوائی۔ جب وہ نثار کو چائے پیش کر رہی تھیں تو اس کی کچھ بوندیں پیالی سے چھلک کر ان کے جوتے پر گر گئیں۔ وہ فوراً جھكيں اور اپنی ساڑھی کے پلّو سے انھوں نے گری ہوئی چائے کی بوندوں کو صاف کر دیا۔ نثار نے انھیں بہت روکا لیکن انھوں نے کہا، آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی میں اس مقام تک پہنچی ہوں۔‘

ایک بار کسی نے ان سے پوچھنے کی جرات کی کہ آپ کب سے گانا رہی ہیں؟ نورجہاں کا جواب تھا ’میں شاید پیدا ہوتے وقت بھی گا رہی تھی۔‘

سنہ 2000 میں جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی ایک بزرگ چاچی نے کہا تھا: ’جب نور پیدا ہوئی تھی تو ان کے رونے کی آواز سن کر ان کی پھوپھی نے ان کے والد سے کہا تھا یہ لڑکی تو روتی بھی سر میں ہے۔‘

نورجہاں کے بارے میں ایک اور کہانی بھی مشہور ہے۔ 1930 کے عشرے میں ایک بار لاہور میں ایک مقامی پیر کے عقیدت مندوں نے ان کے اعزاز میں صوفیانہ موسیقی کی ایک خاص شام کا انعقاد کیا۔ ایک لڑکی نے وہاں پر کچھ نعتیں سنائیں۔ تو پیر نے اس لڑکی سے کہا: ’بیٹی کچھ پنجابی میں بھی ہم کو سناؤ‘ اس لڑکی نے فوری طور پر پنجابی میں تان لی، جس کے الفاظ کچھ اس طرح سے تھے: ’اس پانچ دریاؤں کی سرزمین کی پتنگ آسمان تک پہنچے۔‘ جب وہ لڑکی یہ گیت گا رہی تھی تو پیر صاحب پر روحانیت طاری ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھے اور لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا: ’لڑکی تیری پتنگ بھی ایک دن آسمان کو چھوئے گی۔‘ یہ لڑکی نورجہاں تھی۔

(ریحان فضل)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6839 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp