اسلام : سوشلزم یا کیپیٹلزم کے قریب؟


khizer hayat

اسلام کا جو تصور ہمارے مسلمانوں کی غالب اکثریت مانتی ہے یعنی مسلمانوں کا بس یہی فرض ہے کہ اپنی عبادات کے بارے میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں اور یہ کہ غربت اور امارت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ حاکم وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے بھی اجتناب کرنے کا پیغام غیر محسوس طریقے سے کر دیا جاتا ہے کہ اگر آج تم لوگوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہو رہی ہے تو کیا ہوا کل کو جنت کے مزے بھی تو تم لوگوں نے لوٹنے ہیں۔ اسلام کا یہ تصور کافی حد تک کیپیٹلزم سے میل کھاتا ہے۔

اس تصور کے بڑے پرچار ہمارے خادمین حرمین شریفین ہیں اور کیا ہمیں حیرت ہونی چاہئیے کہ انکی کیپٹلسٹ امریکہ سرکار سے گاڑھی چھنتی ہے؟ یہ الگ بات کہ صدر اوبامہ نے کچھ ویلفیر کے اقدامات کئے ہیں جو امریکہ کے عیسائی وہابیوں یعنی ریپبلکن کو سوشلزم کی امریکہ میں ابتدا لگ رہے ہیں۔ حالانکہ سچا دین اسلام جس کا پیغام ہمارے پیغمبر صلعم نے قران کی صورت میں دیا وہ لوگوں کو صرف عبادات میں مشغول کرنے اور جنت کی تیاری میں لگنے کیلئے نہیں بلکہ دنیا سے ظلم اور ناانصافی کو ختم کرنے کیلئے ہے۔ ایک ایسی فلاحی ریاست کا تصور اسلام پیش کرتا ہے جہاں ریاست لوگوں کی بنیادی ضروریات یعنی تعلیم اور صحت فراہم کرے اور مالدار مسلمان غریبوں کو اپنے مال میں سے حصہ خیرات سمجھ کر نہیں بلکہ انکا حق سمجھ کر دیں۔ اور اس کا اظہار قہار و غفار اللہ نے قران میں عاجز بن کر مسلمانوں کو قرضہ حسنہ دینے کی صورت میں کیا ہے۔

یہ بات ہمارے ‘جید ‘ علما کو توسمجھ نا آسکی یا وہ سمجھنا چاہتے ہی نہیں تھے کہ اس سے انکی فرقہ ورانہ دکان بند ہوتی تھی یا کچھ اور آڑے آتا تھا۔ مگر روس کیمونسٹ انقلاب کے بانی لینن کو آخر وقت میں سمجھ آ گئی تھی۔ اور اسلام کے پیغام کی صورت میں وہ کڑی نظر آ گئی تھی جو بقول اس کے انقلابی دوست اینگل کے جذبہ محرکہ تھا۔ ایک آدھی رات کو اینگل نے لینن کو جگا کر بے چین کر دیا تھا کہ ہمارا نظام نہیں چل سکے گا۔ لوگ کیوں اپنا مال غریبوں کو دیں گیں ان کے پاس کوئی جذبہ محرکہ جو نہیں۔ اسی تجسس میں لینن نے ہمارے سکالر جناب عبید اللہ سندھی کو روس آنے کی دعوت دی۔ سندھی صاحب روس گئے بھی مگر اس وقت تک لینن بہت بیمار ہو چکے تھے۔ پتہ نہیں ان کے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔ اس زمانے میں مولانا حسرت موہانی اور مولانا عبید اللہ سندھی جیسے جید علما انڈیا کیمونسٹ پارٹی سے وابستہ تھے چند روز پہلے ہمارے دوست رانا انعام نے پاکستان میں ایک کامریڈ کر طرف سےایک اعتراف لکھا ہے کہ کس طرح مذہب سے دوری کی وجہ سے ہمارے کامریڈ کوئی تبدیلی لانے میں ناکام ہوے۔ کاش کہ ہمارے رائٹ کے دوستوں کی طرف سے بھی کوئی ایسی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوے اعتراف کرے کہ کس طرح انہوں نے ظلمت کی ضیاء کا ساتھ دے کر ملک کو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی راہ پر ڈالا۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں رائٹ اور لیفٹ دونوں طرف کی لیڈر شپ میں خلوص کی کمی اور مفاد پرستی غالب رہی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم ‘خضر راہ ‘ جو عثمانیوں کے زوال اور انقلاب روس کے آغاز پر لکھی گئی تھی میں سوشلزم کو کافی سراہا ہے،

دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک جہاں پیما خضر

جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شباب

‘کشتی مسکین، و ‘جان پاک’ و ‘دیوار یتیم،

علم موسی بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش

زندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہے

اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش

ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہ دیرینہ چاک

نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پیرایہ پوش

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی

خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

اسلام کے مالی نظام کے مطالعے سے واضع ہوتا ہے کہ اسلام کیپیٹلزم سے نہیں بلکہ سوشلسٹ نظام سے قریب ہے۔ اسلام میں اسٹیٹ اونر شپ کا تصور ہے اور سود نہیں ہے۔ سب سے بڑھ کر اسلام چند ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کے سخت خلاف ہے اور فرد سے زیادہ معاشرے کی فلاح کو ترجیح دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سچے دین کی طرف رجوح کیا جائے۔ ہم سب اپنے فرقوں کے رنگدار چشمنے اتار کر اللہ کے اصلی پیغام یعنی قران سے رہنمائی لیں جس کو ماننے کا دعویٰ تو سبھی کرتے ہیں۔ جو نہ صرف اللہ کا مکمل اور ہمیشہ کے لئے رہنے والا پیغام ہے بلکہ ہمارے نبی پاک صلعم کی سنت بھی ہے۔ کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر چلتے پھرتے قرآن تھے۔ اسی قران میں ایک فلاحی ریاست کے قیام کا طریقہ کار بھی ہے اور اللہ کی خوشنودی جیسا عظیم جذبہ محرکہ بھی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “اسلام : سوشلزم یا کیپیٹلزم کے قریب؟

  • 23-03-2016 at 4:02 pm
    Permalink

    Very beautiful and thoroughly conveyed.

  • 23-03-2016 at 5:19 pm
    Permalink

    اچھا مضمون ھے مگرمولانا عبیداللہ سندھی کے بارے میں چند چیزیں باتیں حائق پر مبنی نہں
    ۱- سندھی لینن کی دعوت پر روس نہیں گئے تھے بلکہ افغانستان کے نامساعد حالات کی وجہ سے گئے تھے
    ۲- سندھی نے خود اپنی خود نوشت میں تحریر کیا ھے کہ آپ کی ملاقاتیں روسی وزیر خارجہ چیچرن سے ھوئیں لینن سے نہیں
    ۳- سندھی سوشلزم کو کیپٹل ازم سے بہتر نظام معیشت سمجھتے تھے لیکن سندھی کبھی بھی کمیونسٹ پارٹی کے ممبر نہیں رھے تھے
    شکریہ

Comments are closed.