نسیم حجازی: ناول کے پردے میں تبلیغ


abdul-Majeed-487x400پاکستان میں مقبول تاریخی فکشن کی بات ہو تونسیم حجازی کے ناولوں کا ذکر سرفہرست آتا ہے۔ سنہ 1914ء میں گورداسپور میں جنم لینے والے محمد شریف کے اصل نام سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔ ’حجازی‘ ان کے نام کا حصہ تب بنا جب ایک استاد نے انہیں کہا کہ ان کی ذات یعنی آرائیں دراصل سرزمین حجاز سے ہجرت کر کے ہندوستان میں آباد ہوئی۔ تاریخی طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید ممکن نہیں۔  تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے لاہور میں رہائش اختیار کی۔ سنہ 1937ء میں انہوں نے  ’داستان مجاہد‘ نامی ناول لکھنے کا فیصلہ کیا اور ایک سال کی محنت کے بعد اسے مکمل کیا، البتہ کوئی ناشر اسے چھاپنے کو تیار نہ تھا۔ اس دور کی روداد بقول نسیم حجازی:’ان دنوں مرحوم حمید نظامی، مولانا عبدالستار خان نیازی اور میں ایک ہی مکان میں رہا کرتے تھے اور مولانا عبدالستار نیاز ی پہلے شخص تھے جو میرے تصنیفی کام میں بے حد دلچسپی لیتے تھے اور میری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ یہ نام نہاد ’ترقی پسند‘ ادب کا دور تھا لہٰذا میں جس بھی مشہور ناشر کے پاس اپنے ناول کا مسودہ لے کر گیا، وہ داستان مجاہد کا عنوان دیکھ کر ہی تلملا اٹھتا۔ با لآخر سنہ 1943ء میں میر جعفر خان جمالی کی ذاتی دلچسپی کی بدولت کوئٹہ سے شائع ہو کر منصہ شہود پر آیا‘۔

1280x720-W4g1930ء کی دہائی میں ’انگارے‘ نامی مجموعے کی اشاعت کے بعد ہندوستانی ادب میں ترقی پسندی کی روایت نے قدم جمائے۔اس دور میں منٹو، کرشن چندر اور دیگر افسانہ نویس ابھی اپنے فن کی عروج کو نہ پہنچے تھے اور بین الاقوامی ادب کے تراجم میں مصروف تھے۔ تاریخی ناول لکھنے کا آغاز عبدالحلیم شررنے  بیسویں صدی کے اوائل میں کیا۔ نسیم حجازی نے ناول نگاری کے ذریعے ’قوم نگاری‘ کا بیڑہ اٹھایا۔ ناسٹیلجیا (Nostalgia) یعنی گزرے ہوئے دور کی یاد، انسان کو حقیقت سے دور لے جاتا ہے اور اس کے مظاہر ہمیں عبدالحیم شرر اور نسیم حجازی کے ناولوں میں ملتے ہیں۔

ڈاکٹر ممتاز عمر کے مطابق نسیم حجازی تین شخصیات سے بہت متاثر تھے: ایک علامہ اقبال، دوسرے قائد اعظم اور تیسرے مولانا مودودی۔ نسیم حجازی کے زیر ادارت شائع ہونے والے اخبار کے متعلق ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب’نسیم حجازی کی تاریخی ناول نگاری کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ‘  میں ذکر کیا:  ’کوہستان کے بیشتر صفحات دینی مسائل، اسلامی مضامین، تاریخ اسلام، مسلم دنیا کے مسائل اور خدمت خلق جیسے عنوانات اپنے اندر سموئے ہوئے تھے۔ کوہستان مسلمانوں کے حقوق کا علم بردار، اسلامی تحریکوں اور احیائے اسلام کی کوششوں کا حامی و مددگار تھا۔ آپ ایک نظریاتی انسان تھے۔ پاکستان کی آزادی اور اسلام کی بالادستی کا مقصد آپ کی زندگی کا سنہرا اور بلند اصول تھا۔ ویسے بھی اسلام اور پاکستان دوستی باہم لازم وملزوم ہیں اس لئے آپ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے ہر لمحہ کوشاں رہے۔‘

dastan-e-mujahid-titleہر ملک کے قیام کی ایک داستان (Foundational Myth) ہوتی ہے، جیسے امریکہ کی کہانی پندرہویں صدی میں یورپ سے آنے والے مہاجرین سے شروع ہوتی ہے یا یونانی اور رومن دیومالائی کہانیاں جو قوم کے ابتدا کی کہانی بیان کرتی ہیں۔ یہ داستانیں تاریخی طور پر درست نہ بھی ہوں تو سرکاری سطح پر ان کی ترویج بطور حتمی سچ ہی کی جاتی ہے۔ پاکستان کے قیام کی داستان محمد بن قاسم سے شروع ہوتی ہے۔ محمد بن قاسم کی زندگی کی ایک کہانی وہ ہے جو تاریخی کتب جیسے چچ نامہ میں ملتی ہے اور ایک کہانی وہ جو نسیم حجازی کے اس نام کے ناول میں نظر آتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ محمد بن قاسم کی آمد سے کئی دہائیاں قبل مسلمان تاجر ہندوستان پہنچ چکے تھے اور باہمی تجارت شروع ہو چکی تھی۔ پاکستان کے ابتدائی تاریخ نویسوں نے اس ملک کی تاریخ لکھی تو ان دنوں ہڑپہ اور موہن جو داڑو کے کھنڈرات کی کھدائی کے باعث اس خطے (یعنی پاکستان)کے باسیوں کا سرا ایک قدیم لیکن شاندار تہذیب سے جوڑتے تھے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک کی ایک نئی تاریخ لکھی گئی جس میں موجودہ پاکستان کو تاریخی طور پر برصغیر سے الگ تھلگ دکھانے کی سعی کی گئی۔ ضیاء نامی ظلمت کا عروج ہوا تو اس کہانی میں مذہب کا تڑکہ لگانا ضروری ہو گیا۔ لہذٰا نسیم حجازی کی کتاب سے محمد بن قاسم کا کردار نکال کر اسے سرکاری خلعت نوازی گئی اور ہماری تاریخی کتب کا آغاز ایک ’سترہ سالہ عرب جرنیل‘ کی سندھ آمد سے ہونے لگا۔ نسیم حجازی کے ناول سرکاری طور پر دوبارہ چھپوائے اور تقسیم کروائے گئے۔ پاکستان کی مختلف چھاؤنیوں کی لائبریریوں میں اب تک وہ ناول موجود ہیں اور ہماری سرحدوں کے محافظ اقبال کی بجائے نسیم حجازی کے ’شاہین‘ سے متاثر ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 19 posts and counting.See all posts by abdulmajeed

11 thoughts on “نسیم حجازی: ناول کے پردے میں تبلیغ

  • 23-03-2016 at 2:04 pm
    Permalink

    ناول نگار کامیاب اسلئے ہوتا ہے کیونکہ وہ قارئین کی تصورات پر حاوی ہوجاتا ہے۔ محمد شریف کے تاریخی طور پر اغلاط سے بھرپور، نسلی تفاخر کی غلاظت میں لتھڑے بکواس ناولز پاکستان میں اس لئے “کارگر” ثابت ہوے کیونکہ یہ نیم خواندہ اور ناخواندہ جاہلوں کا وطن ہے۔ جو عقل و شعور رکھتے تھے، آگاہی رکھتے تھے، بہتان اور حقیقت میں فرق جانتے تھے، ان پر نسیم حجازی کی تیروں کا چنداں اثر نہ ہوا۔

    • 24-03-2016 at 4:17 pm
      Permalink

      عقل اور شعور شہد کی گھٹی نہیں جو پیدا ہوتے ہی بچے کو دے دی جاۓ اور اسے نسسیم حجازی کی نوول سے دور رکھا جاۓ، بھائی یہ عقل شعورپڑھنے سے ہی اتا ہے. اور اگر کسی نی نسیم حجازی کو پڑھ لیا تو کوئی گناہ نہیں کیا.

  • 23-03-2016 at 2:21 pm
    Permalink

    لبڑل اچکزئی
    آپ نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ یہ جاہلوں کا وطن ہے
    افسوس
    نسیم حجازی میری نظر میں ایک محب وطن شخص کا نام ہے
    باقی جو جیسا سمجھے یہ ہر کسی کا اپنا حق ہے

  • 23-03-2016 at 4:24 pm
    Permalink

    ماڑی قسمت….

  • 24-03-2016 at 2:36 am
    Permalink

    خان اچکزئی نیم خواندہ اور نا خواندہ جاہلوں کے وطن سے اپنے دیش کب جا رہے ہو؟؟؟؟؟

  • 24-03-2016 at 12:53 pm
    Permalink

    خان اچکزئی
    ناخواندگی اورنیم خواندگی آپ کی بات سے ٹپک رهی ھے

  • 24-03-2016 at 6:43 pm
    Permalink

    تعارف والے خانے میں مدیر صاب نے آپکو تاریخ نویسی سے شغل فرمانے والا لکھا ہے میں تو دنگ ہی رہ گیا آپکی تحریر پڑھ کر کیسے کیسے تاریخ دان استادان ہماری نئی نسل کی رہنمائی کر رہے ہین امید واثق ہے کہ ہماری نئی آنے والی نسل سے حجازی زہر بہت جلدی ختم ہوجائے گا۔۔۔
    کالم نویس صاب نے ایک بہت ہی پیاری بات لکھی ہے کہ پہلے پہل ہمارے پاکستان کے تاریخی فکشن لکھنے والے موہنجو دوڑو اور ہڑپہ سے ہمارا ورثہ جوڑا کرتے تھے۔۔ تو ہم جاہل قوم ان سے ریفرنس کی استدعا کر سکتے ہین کہ وہ نادر لوگ عرف تاریخی افسانہ نگار کون تھے یا پھر کالم نگار کا فرمایا ہوا ہی مستند ہے؟؟؟؟
    اور وہ کونسی مفروضہ وجوھات تھی جن کی وجہ سے انہوں نے یہ عطیم کارخیر چھوڑ چھاڑ کر صرف این جی اوز کی نوکریاں ہی شروع کردیں؟؟؟
    اور آخر میں کالم نگار کو اطلاع بہم پہنچائین کہ سترہ سالہ مھمد بن قاسم ہی نے آپکے عظیم والی موہنجو دوڑو کو دیبل میں ہی وہ چرکھ لگائے تھے کہ جن کے زخم آجتک اپ جیسون کے قلموں سے رستے آ رہے ہیں۔۔۔۔
    ہان اگر آپ کے ہود بھائی صیب نے کوئی نئی ریسرچ کردی ہو جس مین لکھا ہو کہ مھمد بن قاسم اسی سال کی عمر میں سندھ کو آکر پامال کیا تھا تو اس سے ہم ابھی تک بے خبر ہی ہیں۔۔۔۔۔
    اور جناب نسیم حجازی صیب کے آپنے تعارف میں ہی فکشن تاریخ لکھا ہے تو آپکو پتا ہونا چاھئے کہ فکشن میں مرچ مصالحہ لگاتے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اور آخری بات نسیم حجازی علامہ اقبال و عمیرہ احمد جیسوں پر پھٹین نہیں بلکہ علم اور افسانے شاعری اور فکشن کے میدانوں میں آکر انکا مقابلہ کریں کب تک محلے کی ماسیوں کی طرح ان مصنفین کو پڑھنے والوں کو جاہل اور گھٹیا اور وغیرہ وغیرہ کا لقب دیں گے ۔۔۔ گرو اپ یار پلیز۔۔۔
    پی ایس: ہم جیسے جاہلین کو اپنی جاہلیت پر فخر ہے کیونکہ ہم آپ جیسے دانش سے لدے ہوئے دماغ افورڈ نہیں کر سکتے جنکے لئیے ورڈز ورتھ اور شیکسپیئر سے علم شروع ہوتا ہے اور منٹو کی کالی شلوار پر آکر ختم ہوجاتا ہے۔۔۔
    اٹھ زرا بند قبا کھول کر دیکھین جناب کہ ان تین چار لوگوں کے علاوہ بھی سات ارب آبادی مین کوئی دس پندرہ لاکھ مصنفین بھی ہیں۔۔

    • 08-04-2016 at 5:59 pm
      Permalink

      آپ تمام لوگوں کو نہیں جانتے ۔ لوگ خود اپنے متعلق بتاتے ہیں جیسے یہاں ایک صاحب کے بارے میں ، میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں کہ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ میں نجومی تو نہیں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ جو چند سطروں کے فاصلے پر لکھی تحریر کے اصل الفاظ کو اپنی پست ذہنی کے مطابق موڑ لیں اور دوسروں سے یہ توقع رکھیں کہ انہوں نے جو تحریر ابھی ابھی پڑھی ہے اسے بھول گئے ہوں گے یا پھروہ ’کرسر‘ اوپر لے جا کر اصل فقرہ نہیں پڑھیں گے، ایسی ’گمراہ کن بدمعاشی‘ کسی جماعتیے سے ہی متوقع ہے۔ ان صاحب نے خود اپنے لیے کچھ القابات موزوں کیے ہیں۔ ان کے ذہنی حالات کو دیکھتے ہوئے ان کی اس بات سے انکار ممکن ہی نہیں۔ ایک طرف تو یہ صاحب فکشن ہسٹری ( میں زاتی طور پر اس اصطلاح سے قطعی متفق نہیں خاص طور پر اس وقت جب یہ قاسم اور غزنوی جیسے لٹیروں اور ڈاکوؤں کو ہیرو بنا دے) کو بے ضرر بتاتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو گمراہ کرنے والے نسیم حجازی کی حمایت میں پڑھے لکھے لوگوں کو گالیاں بکتے ہیں۔ جہالت اتنی بری نہیں ہوتی لیکن اس پر اصرار اوردنیا کے بڑے لوگوں کا نام لے ٹھٹھہ اڑانا اسے بدترین بناتا ہے۔ مجھے ان مغلظ ذہنوں اور سڑی ہوئی زبانوں سے اور کوئی توقع بھی نہیں۔ انہیں اوریا مقبول جان اور انصار عباسی جیسے جید جہلا مبارک ہوں کہ یہی ان کا انجام ہیں۔

  • 25-03-2016 at 12:01 am
    Permalink

    خان اچکزئی نے بالکل درست تجزیہ پیش کیا ہے، نسیم حجازی کے ناول صرف داستان عظمت رفتہ ہیں، نسیم حجازی کا قاری موجودہ زمانے کے مسائل کا حل صرف تلوار کو ہی سمجھتا ہے۔

  • 16-04-2016 at 2:31 am
    Permalink

    مگر صاحب یہ تلوار کا استعارہ دے کر حقیقی کردار کی اصلاح کی تبلیغ کی گئی ھے۔ کم فہمی نسیم حجازی سے اختلاف کرنے پر مجبور کرتی ھے۔

  • 16-04-2016 at 8:35 pm
    Permalink

    جس ملک میں نسیم حجازی کو پسند کیا جارہا ہوں اس ملک کی خواندگی کا اندازہ آپ خود لگائیں رہی بات اپنے ملک جانے کی تو صاحبو ذرا بتانے کی زحمت گوارہ کروگے کہ یہ ملک آخر ہے کس کا ؟

Comments are closed.