23 مارچ ۔۔۔ تعزیر سے اعزاز تک


wajahat

 آج تئیس مارچ ہے، پچھلی صدی کا چالیسواں برس تھا اور آج ہی کا دن۔ لاہور میں مسلم لیگ نے قائداعظم کی قیادت میں مطالبہ کیا تھا کہ شمال مغربی ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے انھیں آزاد کر کے ایک الگ مملکت قائم کی جائے۔ اس مطالبے میں بہت سے زاویے تھے، سب سے پہلی بات یہ کہ غیر ملکی حکمرانوں سے آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔ ہندوستان تقسیم ہو یا نہیں ہو، اس بحث سے پہلے اس نکتے پر اتفاق کر لیا گیا کہ انگریز کو یہاں حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔ اسی لاہور شہر میں 26 جنوری 1930 کو دریائے راوی کے دوسرے کنارے پر شاہدرہ کے قصبے میں آل انڈیا کانگریس نے کامل آزادی کی قرارداد منظور کی تھی۔ 23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے اس مطالبے میں اپنی آواز شامل کر دی۔

دوسرا نکتہ یہ کہ تاریخی اسباب کی بنا پر شمال مغربی ہندوستان کی معیشت اور معاشرت باقی ماندہ ہندوستان سے الگ ہو چکی تھی۔ مشرقی اور جنوبی ہندوستان کے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ تھے، تجارت میں ان کا حصّہ زیادہ تھا، صنعتوں میں انہیں بالا دستی حاصل تھی، سرکاری ملازمتوں میں ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ خدشہ تھا کہ اگر معاشی اور معاشرتی طور پر اس طرح کے دو مختلف منطقوں کو ایک سیاسی بندو بست میں رکھا گیا تو بالا دست طبقہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسکی سیاسی بالا دستی مستقل معاشی استحصال کی صورت اختیار کر جائے۔ چناچہ ہندوستان میں دو مملکتوں کے قیام کا مطلبہ کیا گیا۔ کیا اس مطالبے کا مقصد مذہب کی بنیاد پر اور مذہبی پیشواؤں کی رہنمائی میں کوئی قانونی اور سیاسی نظام قائم کرنا تھا تو اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ تئیس مارچ کو منظور ہونے والی قرارداد کا متن پڑھ جائیے اور اس نکتے کی نشاندہی کیجیے جہاں مذہبی پیشوایت کے قیام کی بات کی گئی ہو۔

ijazدوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اس قرارداد کے منظور ہونے کے سات برس بعد جب ہندوستان کی تقسیم کو عملی صورت دی جا رہی تھی تو مسلم لیگ نے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی مخالفت کی۔ قائد اعظم نے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے خلاف جو دلائل ماؤنٹ بیٹن کے سامنے رکھے، وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صوبوں کی تقسیم کا مطالبہ کانگریس نے کیا تھا۔ مسلم لیگ نے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی ہر ممکن مخالفت کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ کو پنجاب میں چوالیس فیصد غیر مسلم آبادی منظور تھی۔

تئیس مارچ کی قرارداد کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ حکومت کرنے کا حق عوام کے لیے مانگا جا رہا تھا۔ پاکستان کے نام  پر ایک جمہوریہ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ جمہوریہ کی اصطلاح ایک سیاسی تصور ہے جس کا مطلب ہے ایسی زمین جس پر عوام کی حکومت ہو۔

اگست 1947 میں پاکستان بن گیا۔ ملک تقسیم ہوگیا۔ لیکن اس ملک کے رہنے والوں کو حکومت کا حق نہیں مل سکا۔ کبھی یہ حق زبان کے نام پر چھینا گیا، کبھی مذہب کے نام پر عوام کے حقِ حکمرانی سے انکار کیا گیا اور کبھی بندوق دکھا کر عوام کا حقِ حکمرانی چھینا گیا۔ اس ملک میں خوش قسمتی سے کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو عوام کے حقِ حکمرانی سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں تھے۔ ان لوگوں کے بہت سے نام اور بہت سے چہرے تھے۔ کبھی انہیں باچا خان کہا جاتا تھا اور کبھی حسین شہید سہروردی۔ کبھی یہ لوگ شعر لکھتے تھے اور فیض، جالب، گل خان نصیر، شیخ ایاز اور غنی خان کہلاتے تھے۔ کبھی یہ اخبار نویسی کرتے تھے اور انہیں مظہر علی خان، نثار عثمانی، ابراہیم جلیس اور رضیہ بھٹی کہا جاتا تھا۔ کبھی یہ تصویریں بناتے تھے اور 1200594536098_oانہیں کولن ڈیوڈ، اقبال حسین اور ناگوری کہا جاتا تھا۔ کبھی یہ نوجوانوں کی آواز بنتے تھے اور انہیں حسن ناصر، معراج محمد خان، نذیر عباسی اور حمید بلوچ کہا جاتا تھا۔ کبھی یہ عورتوں کی حقوق کی آواز بلند کرتے تھے اور انہیں عاصمہ جہانگیر اور عزیز صدیقی کہا جاتا تھا۔ کبھی یہ غلام نسلوں کا نوحہ کہتے تھے اور انہیں شکیل پٹھان اور راشد رحمان کہا جاتا تھا۔ کبھی یہ مظلوم قوموں کا پرچم اٹھاتے تھے تو انہیں ابراہیم جوئیو، بزنجو اور سوبھو گیان چندانی کہا جاتا تھا۔ ان کی نوکریاں چھینی جاتی تھیں، انہیں جیلوں میں ڈالا جاتا تھا، انہیں سزائیں دی جاتی تھیں، انہیں قتل کیا جاتا تھا، ان کے کنبے برباد ہوتے تھے، ان کے نام سیاہ فہرستوں میں تھے۔ ان پر انگلی اٹھانے والوں کو اعزاز دیے جاتے تھے۔ ان کی مخالفت کرنے پر معاش کی راہیں کشادہ ہو جاتی تھیں۔ ان پر دشنام کرنے والوں کے ہاتھ میں اختیار کی باگ دی جاتی تھی۔ یہ جھگڑا اس ملک میں ستر برس سے چل رہا ہے۔

آج تیئس مارچ ہے، آج صبح لاہور کے گورنر ہاؤس میں دربار ہال کی چھت تلے مسعود اشعر کو ریاست کی طرف سے تحسین اور اعزاز کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ یہ وہی مسعود اشعر ہے جو 1978 میں امروز ملتان کے مدیر تھا اور جس پر روزگار کے دروازے بند کیے گئے تھے۔ آج پنجاب کے گورنر ہاؤس میں اکرام اللہ کو تکریم دی گئی۔ یہ وہی اکرام اللہ ہے جس کی کتاب “گُرگِ شب” پر پابندی لگائی گئی تھی (یہ کتاب آج بھی پڑھنے والوں کے لیے دستیاب نہیں ہے)۔ آج پنجاب کے گورنر ہاؤس میں ڈاکٹر اعجاز الحسن کو اعزاز دیا گیا۔ یہ وہی اعجاز الحسن ہے جس پر روزگار کے دروازے بند کیے گئے تھے اور جسے لاہور کے شاہی قلعے میں اذیتیں دی جاتی تھیں۔ آج ان تین ناموں کو تاریخ کی Ikram-Ullah-2ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کر کے نصاب کا حصہ بنا دیا گیا۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا فرد سے کی گئی ناانصافی ختم کر کے تاریخ کا نصاب بدلا جا سکتا ہے؟ اسکا جواب نہیں میں ہے۔ کیوں کہ یہ بڑے لوگ جن اصولوں کے لیے لڑے تھے وہ اصول ابھی نصاب کا حصہ نہیں بنے۔ انہوں نے جن حقوق کے لیے جد و جہد کی تھی وہ حقوق ابھی کتاب قانون کا حصہ نہیں بنے۔ ان بڑے لوگوں نے جس انصاف کا مطالبہ کیا تھا وہ انصاف ابھی اجتماعی شعور کا حصہ تسلیم نہیں کیا گیا، ابھی اس ملک کے لوگوں کے حق حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے۔ ابھی اس ملک کی عورتوں کو برابر کا انسان تسلیم نہیں کیا گیا۔ ابھی اس ملک کی مذہبی اقلیتوں کو  مساوی درجہ اور تحفظ نہیں دیا جاسکا ۔ ابھی اس ملک کے بچوں کے لیے تعلیم کی ضمانت موجود نہیں۔ ابھی اس ملک میں رہنے کے لیے چھت کی ضمانت موجود نہیں ابھی اس ملک میں  بیماری میں علاج کی سہولت سب کو میسر نہیں۔ پینے کا صاف پانی سب کے لیے نہیں ہے، ابھی ذات پات کی ذلت موجود ہے۔ ابھی قانون کا احترام قائم نہیں ہوسکا۔ ابھی تو بہت کام باقی ہے۔۔۔ ابھی تو جدوجہد شروع ہوئی ہے۔ ابھی صرف یہ ہوا ہے کہ تاریکی کے خلاف لڑنے والوں کو تین چراغ مزید مل گئے ہیں۔ آنے والے عہد میں صحافی کو بتایا جا سکے گا کہ مسعود اشعر  کو بے روزگار تو کیا جاسکتا ہے لیکن اسکے لہجے کی معقولیت سے ہمیشہ کے لئے انکار ممکن نہیں۔ مسعود اشعر سے اخبار چھینا جاسکتا ہے، اس کا قلم خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ اکرام اللہ کی کتاب پر پابندی لگائی جاسکتی ہے، اکرام اللہ کا لفظ گونگا نہیں کیا جا سکتا ۔ اعجاز الحسن کی تصویر چھپائی جا سکتی ہے لیکن اس کی لکیریں بات کرتی رہیں گی، اس کے رنگ چھپائے نہیں جا سکتے۔ بس اتنی سی بات ہے، ایک نسل کی کہانی 23 مارچ 1940 سے 14 اگست 1947تک آتی ہے اور ایک نسل کی کہانی 1977 سے  2016 تک۔

لکھو کہ راہوار تھک گئے ہیں

لکھو کہ اس واقعے کے اندر جو تھی کہانی بدل گئی ہے

گنو، ہیں قبروں پہ پھول کتنے

شمار کرنا کہ ترکشوں میں

بچے ہوئے ہیں اصول کتنے


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “23 مارچ ۔۔۔ تعزیر سے اعزاز تک

  • 23-03-2016 at 3:54 pm
    Permalink

    جتنے بھی اوپر نام لیے گہے ان میں سے اکثریت جناح کو نہ جمہوری لیڈر مانتے تھے نہ انہیں قاہد اعظم کہتے تھے ۔۔لیکن آپ لوگوں کے فن کو سلام ہے کہ کس کو کہاں کیسے ملا رہے ہو۔۔۔۔

  • 23-03-2016 at 5:39 pm
    Permalink

    مزید انقلاب یہ ہوا کہ اسی گورنر ہاوس میں ایک جینئن دانشور کو بھی تمغہ حسن کارکردگی مل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبارک ھو

  • 24-03-2016 at 2:14 am
    Permalink

    آپ نے دوسرے پیرا گراف میں قرارداد لاہور کے پس منظر میں جو وجہ بیان کی ہے کہ جنوب مشرقی ہندوستان تعلیمی اعتبار سے زیادہ ترقی کرگیا تھا،یہ وجہ ایک ثانوی وجہ تو ہوسکتی ہے مگر تاریخی حقائق کے مطابق تو بنیادی وجہ مسلمانوں اور ہندوں کے درمیان ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے تفریق ہی نظریہ پاکستان کی بنیادی وجہ تھی۔ کانگرس کی حکومت کی مسلمانوں سے جاری زیادتیوں نے قائداعظم کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ہندو اکثریتی حکومت میں مسلمان اپنے سیاسی حقوق کبھی حاصل نہیں کرپائیں گے۔ قایداعظم کی تقریر سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے اور قرارداد لاہور کے متن میں واضح طور پر اس طرف اشارہ ہے۔

  • 24-03-2016 at 7:25 am
    Permalink

    ap k column sy may mutafiq nahi hon. buhat sarey saqam maujud hain. 1 ye qardare e lahore tha pakistan nahi 2 is qardad may sarhadon ka koi zikar nahi. 3 is qardad may lafz pakistan aik bar bhi nahi.4 is qardad may 2 say ziyada riasaton ka zikar tha sirf 2 pak india ka nahi. 5 is mukkammal azadi ka zikar tak nahi. baraye muehrabni qum ko haqiqat bataya karain.
    thanks

  • 24-03-2016 at 3:55 pm
    Permalink

    اللہ کرے زورقلم اور زیادہ

  • 24-03-2016 at 7:36 pm
    Permalink

    Khudaa aap ko meri Umrr b de de

Comments are closed.