یوم پاکستان اور نصابی کتب


تقی سید

taqi

ریاستی سطح پر نصابی کتب کی تیاری کے دوران ریاستی نظریات کی تبلیغ کے لیے متعدد طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ایسے واقعات کو نظر انداز کر دیا جائے یا ان کے وقوع پذیر ہونے سے متعلق ایسی تفاصیل حذف کر دی جاتی ہیں جن سے قومی نقطہ نظر مجروح ہو۔ دوسرا یہ کہ ایسے “ناپسندیدہ” واقعات کو بہت ہی اختصار سے بیان کیا جائے تا کہ ان کی اہمیت پوری طرح ابھر کر سامنے نہ آسکے۔ ایک تیسرا طریقہ بھی ہے کہ واقعات کو مسخ کر کے پیش کیا جائے یا غلط انداز میں لکھا جائے کیونکہ ان کی سند اور صحت پر اعتراض کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

اس مسخ شدہ تاریخ پر اعترض کرنے والے مورخین کی رائے اکثر کتابوں، رسالوں اور اخباروں تک محدود رہتی ہےجب کہ طالب علم اس مسخ شدہ یا گم راہ کن تعبیر پر مبنی تاریخ کو پڑھتے رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر کرشن کمار کے مطابق؛ نصابی کتابیں طالب علم کو “سرکاری علم ” سے روشناس کراتی ہیں۔ یہ سرکاری نقطہ نظر رکھتے ہوئے اس بات کی تبلیغ کرتا ہے کہ طالب علم ریاست کا وفادار اور تابعدار شہری ہو، اکثر سرکاری علم میں تضاد پایا جاتا ہے اور طالب علم کےلیے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ مورخ کے مسخ شدہ تاریخ پر اٹھائے گئے اعتراضات کو سچائی تسلیم کرے یا نصاب کی کتابوں کو۔ آخر کار اسے نصاب کی کتابوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑتا ہے کیونکہ اسے امتحان میں نصابی کتب کے مطابق لکھ کے پاس ہونا ہوتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ایسی غلطیاں ہر درجے کے نصاب میں موجود ہیں۔ نصاب چاہے سرکاری سطح پر شائع کیا گیا ہو یا کسی نجی ادارے کی اشاعت ہو، اس میں ریاست کی منتخب شدہ اور مرتب کردہ تاریخ ہی پڑھائی جاتی ہے۔پاکستانی تاریخ کے سرکاری درباری مرتبین نے ایک ایسی مصنوعی تاریخ اس احتیاط سے مرتب کی ہے جس کے پڑھنے والے طلبہ ریاست کے بیانیے سے اختلاف کے قابل نہیں رہتے۔ پاکستانی نصابی کتب میں تاریخ کے نام پر واقعات کی من مانی تشریح اور حقائق کی جگہ نظریات کی تدریس کی جارہی ہے۔ ان میں قراداد لاہور 23 مارچ 1940 کا واقعہ بھی باربار اس انداز سے پڑھایا جاتا ہے کہ محض ریاستی بیانیے کی تصدیق اور تکرار ہوتی رہے۔ خورشید کمال عزیز نے اپنی کتاب “The Murder of History ” میں پاکستان کے نصابی کتب میں مسخ شدہ تاریخ اور غلط نظریات کی نشاندہی کی ہے۔ اس کتاب کے مطابق قرارداد لاہور کو اس کے سیاسی سیاق و سباق کے برعکس معرکہ حق و باطل قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور عام غلطی اس قرارداد کے دن اور تاریخ کے حوالے سے برتی جاتی ہے۔ عصر حاضر کے تمام اخبارات اور نصابی کتب 23 مارچ کو قرارداد لاہور کی منظوری کا دن ثابت کرتے آرہے ہیں اور اس مغالطے کا سہرا بھی ایک فوجی آمر کے سر ہے جس نے 23 مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر منانے کی ابتداء کی۔ در حقیقت آل مسلم لیگ کا لاہور میں ستائیسواں سالانہ اجلاس 22 مارچ کو سہ پہر 3بجے شروع ہوا جس میں نواب ممدوٹ نے استقبالیہ چیئرمین کے طور پر تقریر کی اور بعد میں جناح صاحب کی تقریر پر پہلے دن کا اختتام ہوا۔ اگلے روز 23 مارچ کو3 بجے فضل الحق نے مجوزہ قرارداد کا متن پیش کیا جس کے بعد خلیق الزمان، ظفر علی خان، سردار اورنگزیب خان اور سرعبدللہ ہارون نے قرارداد لاہور کے حوالے سے تقریریں کیں۔ ان تقاریر کے بعد اجلاس کو اگلے روز تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔  24مارچ 1940 کو دن ساڑھے گیارہ بجے جلسے کی کارروائی کا دوبارہ آغازکیا گیا جس میں یو پی کے نواب محمد اسماعیل خان، بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ اور مدراس سے عبدالحامد خان نے قرارداد لاہور کے حوالے سے اپنی اپنی رائے دی۔

اس اجلاس میں جناح صاحب صدرات کی نشت پر موجود تھے بعد میں اجلاس کو رات 9 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ اس کے بعد باقی شریک اراکین نے قرارداد لاہور کے حق میں اپنی رائے دیں اور ایک متفقہ فیصلے کے طور پر قرارداد کو منظور کرتے ہوئے اس کے عہدیدار کو منتخب کیا گیا اور قائداعظم نے رات ساڑھے گیارہ بجے اختتامیہ تقریر کی۔ قرارداد 24مارچ کو منظور کی گئی مگر ہمارے قومی تعلیمی اداروں میں مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور اسی مسخ شدہ تاریخ کے تحت ہی قومی تعطیل ہوتی ہے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے کی نصابی کتب میں قرارداد لاہور کا مقصد مختلف ہے:

 قرارداد لاہور کا مقصد مسلمانوں کے لیے خودمختار ریاست کا قیام تھا (سندھ بورڈ کلاس ششم);

قرارداد کا مقصد علیحدہ وطن کا قیام تھا (پنجاب بورڈ کلاس ششم);

قرارداد کا مقصد اسلامی ریاست کا قیام تھا (سندھ بورڈ کلاس ہفتم);

قرارداد کا مقصد آزادانہ مسلم ریاست کا قیام تھا (بورڈ خیبر پختونخواہ آٹھویں کلاس);

قرارداد کا مقصد برصغیر میں صرف مسلمانوں کے لیے آزاد ریاست کا قیام تھا (پنجاب بورڈ کلاس نہم،دہم)۔

در حقیقت لاہور قرارداد کا مقصد یہ مطالبہ کرنا تھا کہ جہاں جہاں مسلم آبادی اکثریت میں ہے ان کےلیے آزاد ریاستوں کے قیام کے لیے گروہ بندی،علاقائی وحدتوں کی تشکیل اور ان کی حدود میں ردوبدل کے ذریعے تشکیل دی جائے گی اور ان کی خودمختاری کو قائم رکھا جائے گا۔ نصابی کتب میں صرف ایک آزاد ریاست کے قیام کا ذکر کیا گیا جبکہ یہ ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد ریاستوں کے قیام اور خودمختاری کا مطالبہ تھا۔ اسی طرح اس قرارداد کے پیش کرنے والوں کا مقصد کسی بھی طرح کوئی اسلامی یا مذہبی ریاست حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ مسلم اکثریتی علاقوں پر مبنی قومی اور جمہوری ریاست(ریاستوں) کی تشکیل کا مطالبہ کرنا تھا۔

پاکستان میں جمہوری و سیاسی پیش رفت کےلیے لازمی ہے کہ نصابی کتب میں مسخ شدہ تاریخ کی تدریس کو روکا جائے۔ سرکاری سطح پر تحریف شدہ تاریخ کی تدریس آنے والی نسل کو دھوکہ دینے کے مترداف ہے جو بعد میں سماج سے بغاوت اور منافرت کا سبب بنتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مقتدر طبقات کے مفادات کے تحت تاریخ کی تشکیل کی بجائے حقائق کی بنیاد پر نصابی کتب میں اصلاح کی جائے۔


Comments

FB Login Required - comments