’اتحاد، یقین محکم، اور تنظیم‘ سے ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘ تک کا سفر


adnan Kakar

 آج پاکستان کا  یوم جمہوریہ ہے۔ آج اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتا ہوں۔ سید اختر وقار عظیم کی کتاب ‘ہم بھی وہیں موجود تھے’ سے اقتباس پیش کرتا ہوں جو ٹی وی کی تاریخ بتاتے بتاتے درمیان میں  کہتے ہیں کہ ’قوم کا مزاج کچھ ایسا بن گیا کہ سچ بولنے اور سچ سننے کی عادت نہیں رہی‘۔

خود بھٹو صاحب کے زمانے میں بھی سنسر کی سختی اسی طرح تھی۔ جس کی مال ایک واقعہ ہے۔ اس زمانے میں کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں ’انتظار فرمائیے‘ لکھ کر اسکرین پر دکھایا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ ہمارے دوست عشرت انصاری کے ذہن میں خیال آیا کہ یہ پیغام اگر کسی مزاحیہ انداز میں دیا جائے تو ناظرین بدمزہ ہونے کی بجائے شائد لطف اندوز ہوں۔ انہوں نے ایک ایک تصویر بنائی جس میں ایک شخص نل کے نیچے بیٹھا غسل کر رہا تھا اور ٹوٹی میں سے بوند بوند پانی ٹپک رہا تھا۔ نیچے لکھا تھا ’انتظار فرمائیے‘۔

پتہ نہیں کیوں پانی کی ان دنوں خاصی کمی تھی جس پر لوگوں کا احتجاج جاری تھا۔ اقتدار کے حلقوں میں عشرت صاحب کی کوشش کو اس ضمن میں طنز سمجھا گیا اور وہ بیٹھے بٹھائے معطل کر دیئے گئے۔

akhtar-waqar-1

جنرل ضیا الحق کی حکمرانی میں ہر رات خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگاموں کی ریکارڈنگ ایوان صدر بھیجی جاتی تھی تاکہ صدر صاحب اپنی فرصت میں جب چاہیں انہیں دیکھ سکیں۔ وہ خبرنامہ اور دوسرے پروگرام دیکھ کر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے جو اکثر ناراضگی کی شکل میں ہوتا تھا اور خفگی کے اظہار کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ کبھی کبھِ رات کو سوتے سے جگا کر بھی صدر کا سخت پیغام پہنچایا جاتا تھا۔ روزمرہ کی ایک شکل یہ بھی تھی کہ ٹی وی کے افسروں کو ایوان صدر بلا کر پروگراموں کے وہ حصے دکھائے جاتے تھے جنہیں صدر قابل اعتراض سمجھتے تھے۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ پروگراموں کی ریکارڈنگ کے ساتھ اس کے پروڈیوسر اور متعلقہ ٹی وی سنٹر کے جنرل مینیجر کو بلا کر ان کی مزاج پرسی کی جاتی تھی۔ ایک ایسے ہی موقع پر پروگرام کے پروڈیوسر اور متعلقہ افسر کو ایوان صدر بلایا گیا تو افسر صاحب موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے ادھر ادھر ہو گئے، پروڈیوسر کو تنہا ایوان صدر جانا پڑا۔ اب تمام افسر پروڈیوسر کی واپسی کے انتظار میں بیٹھ گئے کیونکہ معمول یہی تھا۔

گھنٹے بھر بعد پروڈیوسر کی واپسی ہوئی۔ خلاف معمول وہ ہنستے مسکراتے آ رہے تھے حالانکہ عموماً ایسی ملاقات سے واپسی پر لوگوں کے چہرے لٹکے ہوتے تھے۔ ماجرا پوچھا تو پروڈیوسر نے بتایا ’آج ہماری باری نہیں تھی، صدر صاحب کے مہمان آج ان کے درزی تھے جنہوں نے صدر صاحب کی شیروانی سی تھی۔ ریکارڈنگ دکھا کر سلائی کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی جس میں نمایان کندھوں کے نیچے کپڑے میں پڑنے والا جھول تھا۔ درزی کی خوب تواضع ہوئی اور اب شیروانی اور ریکارڈنگ دونوں ان کے حوالے کر دی گئی ہیں تاکہ سلائی کی خامیاں دور ہو سکیں۔

ان دنوں لڑکیوں کے کھیل ٹیلی ویژن پر نہیں دکھائے جا سکتے تھے، ہیرو اور ہیروئن بات چیت کرتے ہوئے ایک خاص فاصلے تک رہتے تھے، خواتین نیوز کاسٹر اور کمپیئر کے لیے سر پر دوپٹہ رکھنا لازمی تھا۔ کبھی کبھار مذہب کے نام پر کچھ ایسے کام بھی کیے جاتے تھے جو شائد ضروری نہ تھے۔ قائداعظم کے دیے ہوئے مقولے اتحاد، یقین محکم اور تنظیم (Unity, Faith and Discipline) کی ترتیب یوں بدل دی گئی (Faith, Unity and Discipline) اور ترجمہ بھی بدل کر ایمان، اتحاد اور نظم کر دیا گیا حالانکہ اس سے قبل قائد کا یہ قول اتحاد، یقین محکم اور تنظیم کی شکل میں پاکستان کے ٹکٹوں اور سرکاری کاغذات میں اسی طرح چھپتا رہا تھا۔

اس سب کے نتیجے میں قوم کا مزاج کچھ ایسا بن گیا کہ سچ بولنے اور سچ سننے کی عادت نہیں رہی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر ہوا جو آج تک اس صورت حال سے نہیں نکل سکے ہیں۔

ایک مدت تک پابندیوں کا شکار رہنے کے باعث سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو کے بارے میں عموماً یہ رائے بن گئی ہے کہ وہاں مکمل سچ نہیں بولا جا سکتا اسی لیے ان کے پروگراموں میں حصہ لینے والے کھل کر بات چیت نہیں کرتے حالانکہ اکثر موقعوں پر ادارے کی طرف سے انہیں کوئی رہنما اصول نہیں بتائے جاتے۔ یہاں میں اس حوالے سے ایک حقیقی واقعہ سناتا ہوں: ملک کے بہت سارے حصوں میں سیلاب آیا ہوا تھا۔ میں اور مصلح الدین صاحب کوریج کے لیے موجود تھے۔ دور سے ہمیں دکھا کہ ایک بوڑھی سی عورت پلنگ نما لکڑی کے تخت پر بیٹھی پانی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ ہماری طرف بہتی چلی آ رہی ہے۔ ہم نے اس کی فلم بنائی، اسی دوران وہ کنارے تک پہنچ گئی۔

مصلح الدین صاحب کو خیال ہوا ’پتہ نہیں یہ عورت کیا کچھ لٹا کر، کتنی مصیبتوں کے بعد قسمت سے بخیریت یہاں پہنچی ہے، اس کا انٹرویو کرنا چاہیے‘۔ میں نے ان بزرگ خاتون سے پوچھا ’اماں آپ سے ٹی وی کے لیے کچھ بات کرنا ہے، تیار ہیں؟‘۔ انہوں نے فوراً آمادگی ظاہر کر دی بلکہ اپنے کچھ بال بھی ٹھیک کیے، چہرے کو بھی دوپٹے سے پونچھا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں۔ ریکارڈنگ شروع کرنے سے پہلے میں نے حسب عادت پوچھ لیا ’اماں کیا بات کریں گی؟‘ بوڑھی خاتون مسکرائی اور جواب دیا ’پی ٹی وی ہے نہ بیٹا؟ مجھے پتہ ہے سب اچھا ہی کہنا ہے‘۔

اسی طرح کا ایک واقعہ شائد آپ نے بھی پی ٹی وی پر دیکھا ہو۔ ملتان میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ تماشائی بہت جوش و خروش کے ساتھ کھیل سے لطف اٹھا رہے تھے۔ نعرے بازی بھی ہو رہی تھی کہ کسی بات پر غصے میں آ کر ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی کلارک نے باؤنڈری سے اینٹ اٹھا کر ایک بچے کے سر پر مار دی، سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ ٹی وی کے پروڈیوسر اطہر وقار عظیم نے خونم خون بچے کی تصویر کیمرے سے دکھائی اور کمنٹیٹر افتخار احمد سے کہا ’اس پر کچھ بولیں‘، لیکن وہ خاموش رہے۔ دوسری مرتبہ ان سے کچھ بولنے کو کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا ’خوامخواہ مقدمہ بنواؤ گے، پہلے اسسٹنٹ کمشنر سے پوچھ لیو کیا بولنا ہے‘۔ اور یوں زخمی بچے کی تصویر اور اس واقعے کی کوریج خاموشی سے گزر گئی۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 330 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar