کیا بھگت سنگھ دہشت گرد تھا؟


 hasanاصل فیصلے میں تاریخ ، مارچ کی چوبیس ، درج تھی مگر چند ناقابل بیان وجوہات کی بنا پر یہ وقت لگ بھگ سولہ گھنٹے آگے کرنا پڑا۔ جیل کے حکام نے کوشش کی تھی کہ یہ خبر کال کوٹھری کے اندر ہر گز نہ پہنچے سو تینوں اسی طرح اگلے دن کا انتظار کرتے رہے۔ پنجاب میں بہار آ چکی تھی۔ جب دونوں وقت مل رہے تھے اور دادی جے کور بی بی گھڑے ڈھانپ کر اندر جا رہی تھی تو اچانک اس کے اپنے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ صبح کے سات بج کر تیس منٹ ہوئے تھے اور 1931 کا سنہ تھا۔

گاﺅں سے بہت دور لاہور شہر میں داتا دربار کی اذانیں مدھم پڑیں تو جیل میں ایک ہلچل مچ گئی۔ ڈیوٹی پہ موجود مجسٹریٹ نے آنے سے انکار کر دیا تھا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ، نوکری بچانے کی خاطر قصور کے ایک آنریری جج ، نواب محمد احمد، کو لایا اور اسی نے حکم نامے پہ دستخط کئے۔ وقت آنے پہ تینوں اپنے پیروں پہ چل کر پھانسی گھاٹ تک گئے۔ ان میں سے ایک نے انگریز سرجن کو مخاطب کر کے کہا۔ ”صاحب! دیکھ لو، ہندوستان میں لوگ اس طرح موت کو گلے لگاتے ہیں“۔ جلاد نے ٹہوکا دیا اور فاتحانہ مسکراہٹ اچانک کالے نقاب میں چھپ گئی۔ گھڑی کی بڑی سوئی، چھوٹی سوئی سے تھوڑا ہی پیچھے تھی جب ایک ہاتھ ہوا میں لہرایا اور تین جسم پھندے پہ جھول گئے۔ صبح کے سات بج کر تیس منٹ ہوئے تھے اور 1931 کا سنہ تھا۔

 Bhagat Singhرات کی تاریکی میں جیل کی پچھلی دیوار توڑ کر ان زندہ شہیدوں کے مردہ جسموں کو نکالا گیا، گنڈا سنگھ والا کے مضافات میں آگ دکھائی گئی اور راکھ ستلج کے پانیوں میں بہا دی گئی۔ جس دن بھگت سنگھ کی پھانسی کی خبر لگی، اس دن پہلی بار ہندوستان میں گاندھی مردہ باد کا نعرہ لگا۔

ریل اب دوآبے میں کھلی پھرتی ہے۔ اس کے مزاج میں کسان جیسی بے فکری در آئی ہے! بیاج، بارش کی پروا نہیں اور فصل، مویشی پہ اختیار نہیں۔ ایسا توکل صرف دیہات ہی کا مقدر ہے۔ جڑانوالہ سے نکل کر ریل تاندلیانوالہ کا قصد تو کرتی ہے مگر ایک گاﺅں ہے کہ اس کے پلو سے بندھا ہے اور لاکھ چھڑانے پر بھی الگ نہیں ہوتا۔ یہ 105 گ ب بانگا ہے، بھگت سنگھ کا گاﺅں! یہیں اس درویش صفت انقلابی نے آنکھ کھولی تھی۔ میں نے بابا سے پوچھا! بھلا انقلابی اور درویش کا کیا جوڑ ؟ بابا بولے، ”جو دنیا کے بنائے راستوں سے ہٹ جائے، وہ انقلابی اور جو ان کی پروا نہ کرے ، وہ درویش۔ نظر نظر کی بات ہے ورنہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں“۔

بھگت سنگھ کے گھرانے میں انقلاب کا چلن عام تھا۔ دادا ارجن سنگھ کے تین بیٹے تھے۔ چاچا اجیت سنگھ، لالہ لاجپت رائے کے ساتھ ایک بار کالا پانی کاٹ چکے تھے اور ہندوستان کے علاوہ بھی انگریز سامراج کے خلاف تحریکوں کا حصہ رہے تھے۔ بابا کشن سنگھ بھی کئی بار جیل جا چکے تھے اور رہے چاچا سورن سنگھ، تو ان کا بھگت سے ایک اور ہی تعلق تھا۔ کہتے ہیں جس وقت انگریز سرکار کے بدترین تشدد کی وجہ سے سورن سنگھ کا انتقال ہوا ، اسی وقت بھگت سنگھ نے لائلپور کے اس گمنام سے گاﺅں میں آنکھ کھولی تھی۔

FB_IMG_1427126327852سکول سے کالج تک کا سفر طے کرتے کرتے اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ نیشنل کالج سے دوارکا داس لائبریری تک جتنی سرخ کتابیں موجود تھیں ، بھگت نے سب پڑھ ڈالی تھیں۔ یہ انقلاب کا زمانہ تھا۔ دنیا نے جنگ تازہ تازہ دیکھی تھی اور سارے ہندوستان میں قوم ، قوم کا آٓوازہ بلند ہو رہا تھا۔

دسہری آموں اور زردوزی کے کام کے لئے مشہور کاکوری اسٹیشن کے قریب، چند انقلابیوں نے، لکھنؤ جانے والی 8 ڈاﺅن کو لوٹ لیا تھا۔ انگریز مجرموں کو مثال بنانا چاہتے تھے اور اس واقعے کی آڑ میں ہندوستان سے انقلاب کے تمام نام لیواﺅں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ پولیس نے کئی چھاپوں کے بعد بالآخر رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان، ٹھاکر روشن سنگھ اور راجندر ناتھ لہری کو گرفتار کیا اور عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔

اسی دوران لاہور میں رام لیلا کے موقع پہ ایک بم دھماکہ ہوا۔ بھگت سنگھ اس وقت لاہور میں تھا سو پولیس نے اسے بھی گرفتار کیا اور کئی دن قید تنہائی میں رکھنے کے بعد ساٹھ ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کر دیا۔ کشن سنگھ کنوئیں والا مربع بیچ کر بیٹا گھر لائے تو دادی جے کور نے جھٹ سے اس کی شادی کی بات پکی کر دی مگر سب جانتے تھے کہ بھگت زیادہ دن رکے گا نہیں۔ جیل میں لگے داغ اب بہار دکھا رہے تھے اور بھگت سنگھ کے اندر انگریز راج کے خلاف انتقام کا جذبہ زور پکڑ رہا تھا۔ ہندوستان ری پبلک ایسوسی ایشن کا قیام اور بعد میں اس نام میں سوشلسٹ لفظ کا اضافہ اسی دور کی یادگار ہیں۔

1928  میں سائمن کمیشن ہندوستان آیا تو لاہور اسٹیشن پہ احتجاج کرنے والوں میں لالہ لاجپت رائے بھی شامل تھے۔ پولیس نے پہلے تو ہجوم کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کی کوشش کی مگر پھر سپرنٹنڈنٹ سکاٹ کے کہنے پہ لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ ایک لاٹھی لالہ لاجپت رائے کو بھی لگی جس کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ چند دنوں بعد انتقال کر گئے۔ لالہ لاجپت رائے کے قتل کے ضمن میں سپرنٹنڈنٹ سکاٹ کا نام لیا جانے لگا۔ دسمبر کی سترہ تاریخ کو پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے کسی نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سانڈرس کو گولی مار کر قتل کر دیا اور اسی رات لاہور کے درودیوار پہ ایک پوسٹر چسپاں ہوا جس میں ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن آرمی نے اس قتل کو لالہ لاجپت رائے کے قتل کا بدلہ قرار دیا۔ یوں تو اس قتل کا منصوبہ بھگت سنگھ ، راج گرو اور چندر شیکھر آزاد نے مل کر بنایا تھا اور گولی کا اصل نشانہ سپرنٹنڈنٹ سکاٹ تھا، مگر عین وقت پہ سکاٹ کی جگہ سانڈرس ہیڈ کوارٹر سے نکل آیا اور نشاندہی کرنے والے نے عجلت میں بھگت سنگھ کو گولی چلانے کا اشارہ کر دیا۔ ہندوستان میں ایک گورے پولیس افسر کا مارا جانا عام بات نہیں تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری پولیس حرکت میں آ گئی۔ لاہور کے داخلی اور خارجی راستے سیل کر دئے گئے مگر بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی لاہور سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

اگلا منظر اپریل کی آٹھ تاریخ کا ہے جب دہلی کے اسمبلی چیمبر میں بدیسی لباس میں ملبوس دو نوجوان داخل ہوئے۔ جب اسمبلی کی کارروائی اپنے عروج پہ تھی، انہوں نے خالی بنچوں کی طرف دو بم پھینکے۔ ان بموں سے ہال میں دھماکہ تو ہوا مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکہ کے بعد بم پھینکنے والے نوجوان نعرے لگاتے نیچے آ گئے، انقلاب زندہ باد، انگریز راج مردہ باد۔ جلد ہی پولیس موقع پہ آ گئی۔ بھگت سنگھ اور بتو کیشور دت نے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔

 سات مئی کو مقدمے کی ابتدا ہوئی۔ ادھر یہ مقدمہ چلنا شروع ہوا اور ادھر بھگت سنگھ نے سوراج کا پیغام عام کرنے کے لئے عدالت کے کٹہرے کو منتخب کیا۔ تھوڑے ہی دن میں عدالت میں ادا ہونے والا ایک ایک لفظ شام سے پہلے ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچ جاتا۔ مزید بدنامی سے بچنے کے لئے جلد ہی ان دونوں کو چودہ سال کی قید سنا دی گئی۔ اسی دوران چند اور شواہد ملے اور گرفتاریاں ہوئیں جن کے بعد بھگت سنگھ کا تعلق سانڈرس کے قتل کیس سے جوڑنا ممکن ہو گیا، لہٰذا چودہ سال کی سزا کالعدم ہوئی اور قتل کا مقدمہ شروع ہو گیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران بھگت سنگھ کو میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا جہاں اس نے ہندوستانی اور انگریز قیدیوں کے درمیان امتیازی سلوک دیکھا۔ اس کا موقف تھا کہ سیاسی قیدی خواہ وہ ہندوستانی ہو یا انگریز ایک جیسے برتاﺅ کا حقدار ہے اور اس کے ساتھ اخلاقی مجرموں والا برتاﺅ نہ کیا جائے۔ جب جیل حکام نے بھگت سنگھ کی بات نہ مانی تو اس نے بھوک ہڑتال کر دی۔ انگریزوں نے بہت کوشش کی مگر اس کا ارادہ نہ ٹوٹ سکا۔ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ بھگت سنگھ، ہندوستان بھر میں مشہور ہوتا جا رہا تھا۔ جب معاملہ شدت اختیار کر گیا تو اس مقدمے کو وقت سے پہلے شروع کیا گیا اور اب سانڈرس کے قتل کے علاوہ سکاٹ کے قتل کی منصوبہ بندی اور شاہ برطانیہ کے خلاف اعلان جنگ بھی بھگت سنگھ کے ذمے تھا۔ اس کی بھوک ہڑتال جاری تھی اور اسی حالت میں اسے لاہور کی بورسٹل جیل میں لایا گیا۔

پانچ اکتوبر 1946 کو بھگت سنگھ نے کانگریس کی قرارداد اور اپنے باپ کے حکم پہ 116 دن کی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس کے آگے کی داستان بہت مختصر ہے، عام عدالتی کارروائی کی طوالت سے بچنے کے لئے ایک خصوصی ٹریبونل بنایا گیا، جس نے قانون کے تمام تقاضے بالائے طاق رکھتے ہوئے 7 اکتوبر 1930 کو تین سو صفحات پہ مشتمل فیصلے میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھدیو کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ اصل فیصلے میں تاریخ ، مارچ کی چوبیس ، درج تھی۔

حسینی والا کے جس مقام پہ ان تینوں شہیدوں کا انتم سنسکار کیا گیا اب وہاں شہیدی میلہ لگتا ہے۔ہندوستان میں بھگت سنگھ کی آبائی تحصیل کا نام بدل کر شہید بھگت سنگھ نگر رکھ دیا گیا ہے، راج گرو کے گاﺅں کا نام بھی راج گرو نگر ہے اور سکھ دیو کے نام سے بھی ایک ٹرسٹ لدھیانہ میں کام کرتا ہے۔ لاہور میں جس جگہ اب شادمان کا فوارہ چوک ہے، قریب قریب یہیں بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تھی۔ کچھ من چلوں نے سرکار سے یہ فرمائش کی کہ اس چوک کا نام بدل کر بھگت سنگھ چوک رکھ دیں۔ پہلے تو حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا پھر آخر کار اسلام کو خطرے میں ڈال کر اس فرمائش سے جان چھڑائی۔

بھگت سنگھ کی 404 صفحات والی ڈائری ورق پہ ورق پلٹ رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ ہندوستان کے مقدر میں آزادی لکھنے والے کون لوگ تھے۔ کانگریس میں بیٹھ کر قراردادیں پاس کرنے والے یا جیل کی کوٹھڑی میں رہ کر معاشرے کی ابتدا کو سمجھنے والا یہ انقلابی۔ مصلحت کی آواز آئی کہ انقلاب بس ایک نظام سے دوسرے نظام تک کا راستہ ہے، وہ بھلے فرانس کا انقلاب ہو جس میں ایک بادشاہ کو تخت سے اتارنے کے بعد انقلاب نے دوسرے بادشاہ کو تخت پہ بٹھا دیا۔ روب سپئر جیسے انقلابی خود تختہ دار پہ چڑھ گئے اور نپولین بادشاہ بن گیا۔ اسی طرح ہندوستان کے لوگ انگریز حکمرانی سے نکلے تو اپنے لوگوں کے چنگل میں پھنس گئے، جبر اور تشدد کے نظام کی جگہ الاٹمنٹوں اور کلیموں کے نظام نے لے لی۔ بھگت سنگھ جیسے انقلابی جیلوں میں جان دے گئے اور مسلم لیگ کانگریس اب بھی پارلیمان میں بیٹھ کر عوام کے فیصلے کرتی ہیں۔

کرہ خاک ہے گردش میں تپش سے میری

میں وہ مجنوں ہوں جو زنداں میں بھی آزاد رہا


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “کیا بھگت سنگھ دہشت گرد تھا؟

  • 23-03-2016 at 6:45 pm
    Permalink

    بہت اعلیٰ

  • 23-03-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    مسلمان قوم کے حق میں
    یہ اشتراکی کوچہ گرد سکّھ
    اور
    ہندو سیٹھوں کے مہاتما گاندھی جی
    دونوں ایک ہی سکّے کے دو رُخ تھے۔
    مہادیو گرو بھگت سنگھ جی مہاراج کے ملفوظات عالیۂ ڈائریہ سے مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے ایک جملہ بھی ثابت نہیں۔
    ہاں موہوم، خودساختہ ہندوستانی قوم ،،، جو آج 85 سال بعد بھی ««عملاً»» کوئی وجود نہیں رکھتی ،،، کے نام پر مسلمانوں کا استحصال کرنے میں عملاً مہاتما جی کے ہمنوا تھے۔
    میں پنجابی آں، تے میرا ہیرو بھگت سنگھ نئیں،
    بلکہ اسلامیہ کالج کے شیرجوان طالبعلم محمد مالک جیسے ہزاروں لاکھوں مسلمان ہیں، جنھیں حصول پاکستان کی ««خالصتاً جمہوری جدوجہد»» میں ظالم ہندو سکھوں نے شہید کر دیا تھا۔
    روسی سامراج دا ایجنٹ شدت پسند دہریہ بھگت سنگھ کتھوں آگیا؟؟۔
    جنھاں دا ہے، اوہ اوہدی بڑی پوجا کردے نیں۔

  • 24-03-2016 at 12:01 am
    Permalink

    سمجھ نہی آتی ہم آئے روز تاریخ کو رگڑا کیوں لگائے رکھتے ہیں کبھی بھگت سنگھ تو کبھی ہری سنگھ تو کبھی رنجیت سنگھ۔
    ہن، آرین، منگول، افغان، ایرانی اور ترک و مغل بھی تو حملہ آور ہی تھے ان کے خلاف جد و جہد والوں کا کوئی ذکر نہی ملتا۔ انگریز نہ آتا تو مغل بادشاہ آج تک کنجریاں نچاتے پائے جاتے۔ مغلوں نے شاہی محلات، شاہی حمام، شاہی قبرستان یعنی مقابر سے لیکر شاہی مساجد تک بنائی لیکن عوام کی یاد نہ آئی۔
    پھر ہمارے یہاں ایک متحدہ ہندوستان کی جگالی چلتی رہتی ہے۔ حالانکہ انگریز سے پہلے اورنگزیب کے مختصر دور کو چھوڑ کر ہندوستان کبھی ایک مملکت نہ تھا۔
    او بھائی معراج تاریخ میں جا کر اپنی لفاظی سے لوگوں کو ہیرو اور زیروبنانا چھوڑ دو اور کوئی مفید کام کرو

    • 24-03-2016 at 9:20 am
      Permalink

      bhai..mufeed kaam kia hota hay
      aur kia insaan kay pass tareekh kay ilawa bhi koyee aur meyaar hay sahi aur ghalat kay fayslay kaa??

  • 24-03-2016 at 1:06 pm
    Permalink

    معراج بھیا، آپ نے بہت خوب لکھا۔ موضوع بھی اعلیٰ اور اسلوب بھی کمال۔ اور لکھئے، اور لکھتے رہئے۔ نہ تو اُن لوگوں کی طعنہ زنی کو اہم سمجھیں جنہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ انگریز سامراج کے خلاف مسلسل اور بڑے پیمانے پر ہونے والی ہمہ جہت (گو غیر منظم) مزاحمت دیگر حملہ آوروں کے خلاف کیوں نہ ہوئی؛ اور نہ اُن مسلم “قوم” پرستوں کے تبصروں کا اثر لیجئے جنہیں آج تک قومیت کے ہوائی تصور کی لایعنیت، بلکہ ضرر، کا احساس نہیں۔ (یہ لطیفہ خوب ہے کہ ہندوستانی قوم تو 85 سال بعد بھی موہوم ہے، مسلم قوم موہوم نہیں ?) بھگت سنگھ اور ہندوستان کی آزادی کے سارے مسلم اور غیر مسلم ہمارے ہیرو ہیں، قطع نظر اس بات کے کہ برصغیر میں ایک قوم ہے، دو ہیں یا کئی قومیں ہیں۔ آپ نے بہت اچھا لکھاہے۔ ہم آپ کی ہر اعتبار سے وقیع تحریر کے بھرپور مداح ہیں۔

    • 25-03-2016 at 1:14 am
      Permalink

      پائی جان
      اوس انتہا پسند،،، ایکٹریمسٹ،، دہریے نوں تے اوہدی اپنی قوم نے بھلا دتا اے،، تسی ایہنوں ساڈھے سِر مڑھن دی کوشت کیوں فرما رہیے۔
      ایہدے ثبوت لئی اپنے مہان بھارت ورش دے سب توں وڈیرے سیکولر پتر کار دی ایہہ تازہ بتازہ چیخ پکار تے جھاتی پاؤ۔

      The very spirit of democracy would be lost if people are told what not to say. True, it is their inherent right to support or oppose a proposition. But it cannot be thrust on them. They are their own masters. Against this background, it is strange that the martyrdom day of Bhagat Singh, hanged by the British, has gone practically unnoticed.
      حوالہhttp://www.navhindtimes.in/erasing-the-curse-of-untouchability/
      محمد مالک ورگے شینہہ جوان شہیداں دی جُتّیاں دی خاک:
      عبداللہ نور

  • 25-03-2016 at 1:15 am
    Permalink

    پائی جان
    اوس انتہا پسند،،، ایکٹریمسٹ،، دہریے نوں تے اوہدی اپنی قوم نے بھلا دتا اے،، تسی ایہنوں ساڈھے سِر مڑھن دی کوشت کیوں فرما رہیے۔
    ایہدے ثبوت لئی اپنے مہان بھارت ورش دے سب توں وڈیرے سیکولر پتر کار دی ایہہ تازہ بتازہ چیخ پکار تے جھاتی پاؤ۔

    The very spirit of democracy would be lost if people are told what not to say. True, it is their inherent right to support or oppose a proposition. But it cannot be thrust on them. They are their own masters. Against this background, it is strange that the martyrdom day of Bhagat Singh, hanged by the British, has gone practically unnoticed.
    حوالہhttp://www.navhindtimes.in/erasing-the-curse-of-untouchability/
    محمد مالک ورگے شینہہ جوان شہیداں دی جُتّیاں دی خاک:
    عبداللہ نور

  • 26-03-2016 at 6:33 pm
    Permalink

    Abdullah Noor Saheb,
    Extremist, Dehriya hay bhagat Singh…. aur bharat ko mera bata rehay hain aap….
    khushqismti ki baat yeh hay kay aap nay apnay comment main meri baat kio sabt kiya hay
    “The very spirit of democracy would be lost if people are told what not to say. ”
    bhayee, meri ek rayay hay, main nay us ka izhar ker diya, mera khayal hay kay is kay radd e amal kay taur pey aap yeh nahi keh saktay kay mera mulk konsa hay

    • 27-03-2016 at 12:22 am
      Permalink

      بھائی جی
      ایہہ کلدیپ نائر دے الفاظ میرے منہ چ پان دی زحمت ناں ای فرماؤ۔ اصل چیز اوہدا اج دے بھات چ تہاڈے ہیرو بھگت سنگھ دی ناقدری دا رونا اے، اوس توں پہلاں دیاں سطراں میں ایس لئی نقل کیتیاں نیں کہ مینوں سیاق و سباق توں ہٹ کے کوٹ کرن دا طعنہ ناں دیوو۔
      سو گل رسّا،، سِرے تے گنڈھ۔۔۔
      بھگت سنگھ نوں اج دے ہندوسکھ بھارت دی نویں پرانی نسلاں اوپرا تے بیگانہ جاندیاں نیں۔ تسی اونھوں اک مسلمان دیس دے لوکاں دے سر متھے تے بٹھان دی ناکام کوشش کر رہے او۔
      لگے رہوو محمد حسن معراج پائی جان

Comments are closed.