بھگت سنگھ نے عدالت میں کیا کہا؟


 tanveer Jahanبھگت سنگھ ضلع لائلپور کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ڈی اے وی کالج لاہور میں تعلیم پائی جہاں انھوں نے طلبا یونین قائم کی۔ 1923ءمیں بھگت سنگھ خفیہ انقلابی پارٹی کے ممبر ہو گئے اور جلد ہی ان کا شمار پارٹی کے رہنماﺅں میں ہونے لگا ۔ 1925ءمیں انھوں نے پنجابی نوجوانوں کی تنظیم ”نوجوان بھارت سبھا“ کی بنیاد رکھی ۔ مختلف اخبارات میں فرضی ناموں سے مضامین لکھنے کے علاوہ انھوں نے کچھ مدت تک ایک اخبار ”کیرتی“ کے عملہ ادارت میں بھی کام کیا۔ مگر بھگت سنگھ کی شخصیت کا جوہر ایک دانشور کی بجائے عمل پسند سیاسی کارکن کا تھا۔ 1926ءمیں وہ کاکوری کیس کے قیدیوں کو چھڑانے کے ناکام منصوبے میں شریک ہوئے ۔ سائمن کمیشن کے خلاف ایجی ٹیشن کے دوران بزرگ قوم پرست رہنما لالہ لاجپت رائے پولیس لاٹھی چارج سے لگنے والی چوٹوں کے باعث انتقال کر گئے ۔ بھگت سنگھ کی جماعت نے لالہ لاجپت رائے کی موت کا انتقام لینے کا فیصلہ کیا۔ 17دسمبر 1928ءکو بھگت سنگھ نے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ پولیس افسر سانڈرس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 8اپریل 1929ءکو بھگت سنگھ اور کشیوردت نے غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف قومی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم پھینکے اور خود کو گرفتار کرا دیا۔ اس جرم میں ان کو عمر قید بعبور دریائے شور کی سزا ملی۔

جولائی 1929ءمیں لاہور سازش کیس شروع ہوا تو بھگت سنگھ کو مرکزی ملزم کی حیثیت سے سزائے موت سنائی گئی ۔ عدالت کا فیصلہ سن کر بھگت سنگھ نے انقلاب زندہ باد کا نعرہ بلند کیا اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ انھیں پھانسی دینے کے بجائے جنگی قیدی کی حیثیت سے گولی مار کر ہلاک کیا جائے۔ بھگت سنگھ 23مارچ 1931ءکو اپنے رفیقوں سکھ دیو اور راج گرو کے ساتھ پھانسی کے تختے پر جھول گئے۔ مقدمہ سازش کی سماعت کے دوران بھگت سنگھ نے عدالت کے کٹہرے میں درج ذیل بیان دیا تھا ۔

جناب !

bhagat-singh2میں اور میرے چھ ساتھی مقدمے کی کارروائی میں کسی طرح کا حصہ نہیں لینا چاہتے کیونکہ ہم نہ تو سرکار کو انصاف پر مبنی سمجھتے ہیں اور نہ ہی اسے قانونی طور پر جائز حکومت سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے پورے یقین سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ قوت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں ۔ کوئی شخص یا سرکار ایسے کسی اختیار کی حقدار نہیں جو عوام نے اسے نہ دی ہو۔ کیونکہ یہ سرکار اس اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے، اس لیے اس کا وجود جائز نہیں۔ ایسی سرکاریں جو دوسرے ملکوں کو لوٹنے کے لیے قائم کی جاتی ہیں، ان کے پاس تلوار کی طاقت کے علاوہ کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اسی لیے ایسی حکومتیں وحشیانہ طاقت سے آزادی کے خیالات اور آزادی کی اُمنگیں کچلتی ہیں۔

ہم یقین رکھتے ہیں کہ انگریزی سرکار ہندوستان پر زبردستی تھوپی گئی ہے ۔ یہ حکومت غنڈوں، ڈاکوﺅں کا گروہ اور لٹیروں کا ٹولہ ہے جس نے لوگوں کو لوٹنے کے لیے ہر طرح کی طاقت جمع کر رکھی ہے۔ یہ سرکار امن و امان کے نام پر اپنے مخالفین کو کچل دیتی ہے۔

ہمارا یقین ہے کہ سامراجیت ایک بڑی ڈاکہ زنی کی سازش کے علاوہ کچھ نہیں۔ سامراجیت انسان کے ہاتھوں انسان کے اور ملک کے ہاتھوں ملک کے استحصال کی آخری حد ہے۔ سامراجیت پسند اپنے مفاد اور لوٹنے کی اسکیموں کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف عدالتوں اور قانون کا قتل کرتے ہیں، بلکہ خطرناک ڈھنگ سے لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ استحصالی عزائم پورے کرنے کے لیے جنگ جیسے خوفناک جرائم بھی کرتے ہیں۔ جہاں لوگ ان کے نادر شاہی اور استحصالی مطالبات قبول نہ کریں یا ان کی نفرت انگیز سازشوں کو ماننے سے انکار کر دیں تو وہ بے قصور لوگوں کا خون بہانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ امن و امان کی آڑ میں وہ امن و امان کو تباہ کرتے ہیں۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور ہر انسان کو اپنی محنت کا پھل پانے کا بھی حق حاصل ہے اور ہر ملک اپنے قدرتی وسائل کا مکمل طور پر مالک ہوتا ہے۔ اگر کوئی سرکار عوام کو ان حقوق سے محروم رکھتی ہے تو عوام کا یہ حق ہی نہیں بلکہ فرض ہے کہ وہ ایسی حکومت کو ختم کر دیں۔ کیونکہ برطانیہ کی سرکار ہمارے بیان کردہ اصولوں کے بالکل منافی ہے اس لئے ہمارا ایقان ہے کہ جس طریقے سے بھی انقلاب لایا جا سکے اور اس حکومت کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے، اس کے لیے ہر طرح کی کوشش اور تمام طریقے اخلاقی طور پر جائز ہیں۔ ہم موجودہ سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچوں میں انقلابی تبدیلی لانے کے حق میں ہیں۔ ہم موجودہ سماج کو پورے طور پر ایک نئے سماج میں بدلنا چاہتے ہیں تاکہ انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ناممکن بنا کر عوام کے لیے ہر میدان میں مکمل آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ جب تک موجودہ سماجی ڈھانچہ بدلا نہیں جاتا، ساری دنیا ایک تباہی کے کنارے پر کھڑی ہے۔

جہاں تک پرامن اور دیگر ذرائع سے انقلابی آدرش اپنانے کا سوال ہے، ہم اعلان کرتے ہیں کہ اس کا انتخاب موجودہ حکمرانوں کی مرضی پر منحصر ہے۔ انقلابی انسان دوست ہوتا ہے۔ ہم انصاف اور برابری کی بنیاد پر قائم صحیح اور حقیقی امن چاہتے ہیں ۔ ہم جھوٹے اور بناوٹی امن کے حامی نہیں، جو بزدلی سے قائم ہوتا ہے اور بھالوں اور بندوقوں کے سہارے زندہ رہتا ہے۔ انقلابی اشد ضرورت اور آحری داﺅ کے طور پر بم اور پستول کا سہارا لیتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ امن و قانون انسان کے لیے ہے، نہ کہ انسان امن اور قانون کے لیے۔

فرانسیسی ماہر قانون نے ٹھیک کہا ہے کہ قانون کا بنیادی مقصد آزادی ختم کرنا یا اس پر پابندی لگانا نہیں ہے بلکہ آزادی کو محفوظ رکھنا یا اس کو آگے بڑھانا ہے۔ سرکار کو قانونی جواز ان جائز قوانین ہی سے ملے گا جو اجتماعی فلاح کے لیے بنائے گئے ہوں۔ اور جو عوام کی مرضی سے بنائے گئے ہوں ۔ قانون کا تقدس اسی وقت قائم کیا جا سکتا ہے جب وہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہو ۔ جب قانون استحصالی گروہ کا آلہ کار بن جاتا ہے تو اپنا تقدس اور اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں بنیادی نکتہ ہر طرح کے امتیاز کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ جب قانون سماجی ضرورتوں کو پورا کرنا بند کر دیتا ہے تو ظلم اور ناانصافی کو بڑھانے کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ ایسے قوانین کا جاری رہنا عوامی مفاد میں نہیں، بلکہ مخصوص لوگوں کے مفادات کو زبردستی پورا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

موجودہ سرکار کے قانون بدیسی حکومت کے مفاد کے لیے بنائے گئے اور ہم لوگوں کے مفاد کے بالکل خلاف ہیں۔ اس لئے ہم پر ان قوانین کی پاس داری لازم نہیں آتی ۔ ہماری نظر میں ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قوانین کو چیلنج کرے اور انھیں توڑے۔ انگریز عدالت کے کل پرزے ہیں، وہ انصاف نہیں دے سکتے۔ خاص طور پر سیاسی میدان میں جہاں سرکار اور لوگوں کے مفاد میں ٹکراﺅ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ عدالت انصاف کے ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں۔ چنانچہ ہم اس عدالت کے تحت موجودہ مقدمے کی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہیں ۔

مولانا ظفر علی خان نے ان انقلابیوں کی موت پر لکھا تھا :

شہیدانِ وطن کے خونِ ناحق کا اگر ست نکلے
تو اس کے ذرے ذرے سے بھگت سنگھ اور دت نکلے


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “بھگت سنگھ نے عدالت میں کیا کہا؟

  • 24-03-2016 at 12:03 am
    Permalink

    تو انگریز سرکار سے پہلے کونسی عوامی حکومت تھی؟!

  • 24-03-2016 at 8:26 am
    Permalink

    یہ ایک معتدل اور غیر جانبدار آرٹیکل ہے. مجھے پسند آیا

  • 24-03-2016 at 1:36 pm
    Permalink

    بہت شکریہ، اتنا اعلٰی بیان شئر کرنے پر۔ تاریخی شعور کے برخلاف انگریز سے قبل کی حکومتوں کے عوامی ہونے کا سوال اٹھانے والوں کو گذشتہ صدیوں کی اقوامِ عالم کی تاریخ میسر نہیں تو کم از کم برصغیر کے تقابلی حالات کیلئے ولیم ہنٹر کی کتاب سے استفادہ کر لیں۔ پاکستان میں چھپ چکی ہے۔

Comments are closed.