ایک پاکستانی نژاد امریکی


khurram buttان کی بھوری آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ جو موضوع کے بدلنے پر بھی نہ بدلتی۔ میری خاموشی اور یکسوئی کے پیش نظر وہ بولتے ہی چلے گئے۔ گویا کم وقت میں بہت کچھ بتا دینا چاہتے تھے۔یہ ہماری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ شام کو اپنے دفتر میں روزمرہ کے کام میں مصروف تھا کہ موبائیل پر انجانے نمبر سے کال آئی۔ سلام کیا تو ایک مانوس لہجے والی نامانوس آواز سنائی دی۔۔پہچانا بٹ صاحب؟میرے انکار پراجنبی نے بتایا کہ میں شاہد بٹ ہوں واشنگٹن سے، آپ کا فین ہوں۔ اور فیس بک فرینڈ ہوں۔یہ سن کر میں گھسیانا سا ہو گیا کہ مجھ سے ایسا کون سا فعل بد سرزد ہو گیا کہ امریکہ میں میرے بھی فین ہونے لگے۔لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ میری بٹ گمانیوںکے فین ہیں۔آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں اور مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔سو میں نے انہیں راولپنڈی پریس کلب کا وقت دے دیا اور وہ وقت مقررہ پر پہنچ گئے۔

میٹرو بس سٹیشن لیاقت باغ سٹاپ پر میں نے انہیں خوش آمدید کہا۔بہت پرتپاک انداز میں گلے ملے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔بات بات پر شکریہ ادا کرنے کی ان کی عادت بہت بھلی لگی۔وہ ساٹھ کے پیٹے مےں تھے۔سرخ و سفید رنگت۔۔انکے آنے سے اچانک میں افریقہ کا بٹ دکھائی دینے لگا۔مجھے حیرت ہوئی تھی بعد میںجب انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کینسر کے مریض ہیں اور انکادل کا بائی پاس بھی ہو چکا ہے۔ اس عمر میںان جان لیوا بڑی بیماریوں سے مقابلہ کرنے والے کی اتنی اچھی صحت شاید امریکہ میں ہی ممکن تھی کیوں کہ ہمارے ہاں تو عدم علاج اور ناقص خوراک کے باعث کئی شہری معمولی بخار ہونے پر بھی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ گاڑی میں بیٹھتے وقت وہ کہ رہے تھے کہ اس میں کوئی شک نہیں میٹرو پروجیکٹ میں کرپشن ہوئی ہو گی۔ لیکن میں آدھا بھرا ہوا گلاس دیکھنے کا عادی ہوں پوری دنیا گھوما ہوں۔ سہولت کے اعتبار سے پاکستانی میٹرو پروجیکٹ اور امریکہ اور ترکی کے میٹرو پروجیکٹس میں کوئی خاص فرق نہیں لیکن واشنگٹن امریکہ میں میٹرو بس کا کرایہ پانچ ڈالر ہے ۔جبکہ استنبول ترکی میں دو ڈالر ہے ۔یعنی پاکستانی میٹرو کا سفر دنیا کا سستا ترین آرام دہ سفر ہے۔ مجھے پاکستانی نژاد امریکی کے منہ سے پاکستان کی یہ تعریف بہت بھلی لگی۔ اور میرا سینہ تھوڑا سا پھول گیا۔وہ بتا رہے تھے کہ 1953 میں پاکستان میں ہی پیدا ہوئے انہوں نے بھی مشہور زمانہ گارڈن کالج میں تعلیم حاصل کی تھی اور انکے دور کے بہت سے کلاس فیلو دوست اب پاکستانی سیاست میں ایک بڑا نام رکھتے ہیں۔ وہ خود بھی عوامی سیاست کرتے تھے لیکن بھٹو کی حکومت پر ضیاءکے شب خون مارنے سے وہ دلبرداشتہ ہو کر سعودیہ چلے گئے تھے اوراب برس ہا برس سے امریکہ میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں۔ اور امریکی رپبلکن پارٹی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ امریکہ میں بہت پرسکون زندگی گزار رہے ہیں لیکن اگر انکی زندگی میں کوئی کسک ہے تو وہ پاکستان اور اسکے حالات ہیں۔ وہ اپنی مٹی نہیں بھول سکتے اور نہ ہی اسے خون رنگ دیکھ سکتے ہیں۔وہ پاکستانی میڈیا پر غیر معیاری برینکنگ نیوز دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ بہت سے پاکستانی نامور صحافی امریکہ سے بھی رابطے میں ہیں۔اگرچہ پاکستانی میڈیا عوام کو شعور دے رہا ہے لیکن وہ کس قسم کا شعور دے رہا ہے اس پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریحام خان کو بنی گالا سے لندن میڈیا کانفرنس بلانے میں ایک مشہور پاکستانی خاتون صحافی کا کردار تھا جنکی والدہ پاکستانی سٹیبلمشنٹ کے قریب ترین رہنے والی مشہور زمانہ خاتون تھیں۔انکا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان کے نابالغ ترین سیاستدان ہیں جو عوامی پسندیدگی کے باوجود اپنی ضدی ،بے وقوفانہ اور لائی لگ طبیعت کے باعث کبھی بھی مستقبل میں پاکستان کے وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔زرداری کے بارے میں انکا خیال تھا کہ کرپشن تو پاکستان کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگر اس سے بالا تر ہو کر سوچا جائے تو اسے نام نہاد جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے کر کے اسے اگلی کامیاب پارٹی مسلم لیگ کو سونپنے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے بارے میں انکا خیال یہ تھا کہ پاکستان میں مذہب کو سر بازار بیچا جاتا ہے۔نواز شریف کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھٹو کے بعد اگر کوئی دلیر سیاسی لیڈر آیا تو وہ بلاشبہ وہی ہے۔اگرچہ بقول شیخ رشید وہ سٹیبلشمنٹ سے پنگا لے کر اپنے پاﺅں پر گولی مارنے کے عادی ہیں لیکن اپنی دلیری اور جدوجہد کے باعث ہی وہ ملک کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے اور واقعی ملک کو پہلے کی نسبت بہتری کی جانب گامزن کیا ہے۔اور اب مستقبل میں شہباز شریف وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔شیخ رشید کے بارے میں انہوں نے کچھ ایسی باتیں بتائیں کہ جو میں اس کالم میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں۔

کرپشن کے حوالے سے میرے سوال پر انکا کہنا تھا کہ پاکستانی کرپٹ ماحول کافی حد تک برطانیہ کا تشکیل شدہ ہیں۔اور برطانیہ ہی وہ ملک ہے جو دنیا کو چوری کرنا سکھاتا ہے۔ پاکستانی امیر شہری ٹیکس چور ہیں۔اور صرف غریب آدمی ڈر کے مارے ٹیکس دیتا ہے۔ جس کے بدلے میں اسے تعلیم اور علاج جیسی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ امریکہ میں اگر آپ کیش کی صورت میں دو سو ڈالرز بھی بینک جمع کروانے کے لیے جائیں تو وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ رقم کہاں سے حاصل کی ہے؟جبکہ پاکستانی بنک کرپٹ لوگوں کی بلیک منی سے بھرے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔اور تو اور برطانیہ اور دیگر ممالک کے بینک بھی پاکستانیوں کے دولت سے بھرے ہوئے ہیں۔یہ سب بلیک کا پیسہ ہے۔ کرپشن کو جڑ سے ختم کر کے پاکستان کو حقیقی ترقی یافتہ ملک بنایا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے لندن پلان والے اقتدار کی خاطر دئے لالچی دھرنوں کی ضرورت نہیں ہے۔صرف اور صرف جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت ہے۔جمہوریت کے تسلسل سے ہی پاکستان سے گند صاف ہو گا اور یہ ترقی کے منازل طے کرے گا

شاہد صاحب جذباتی سے ہو رہے تھے کہنے لگے کہ میں امریکی شہری بھی ہوں اور بحیثیت امریکی شہری میرا فرض ہے کہ اس ملک سے محبت کروں اور میں کرتا بھی ہوں کیوں کہ امریکہ کی سڑکوں پر انسانیت کھائی دیتی ہے۔وہاںکوئی شخص بھوکا نہیں سوتا۔وہاں مریض کا علاج پہلے کیا جاتا ہے بل صحت یاب ہونے کے بعد گھر آتا ہے ۔وہ بھی اگر آپ دینا چاہیں تو ٹھیک ورنہ زبردستی نہیں۔لیکن امریکی شہری اکثریت وہ بل ادا کرتی ہے۔اگرچہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں امریکہ کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔لیکن سوچنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ سپر پاور کہلاتا ہے۔؟اسکی عوام کو انصاف ملتا ہے۔قانون سب کے لیے برابر ہے۔ہمیں نفرت اور حسد نہیں بلکہ اپنے علم و عمل سے امریکہ کو نیچا دکھانا ہوگا۔ اپنی عوام کو خوشحالی اور انصاف دے کر۔ہمیں دنیا کوبتانا ہوگا کہ ہم ایک باشعور اور مہذب قوم ہیں۔ہمیں بتانا ہو گا کہ ہم پاکستانی ہیں۔مسلمان ہیں۔شاہد صاحب مسلسل بول رہے تھے۔جیسے کم وقت میں مجھے بہت کچھ کہنا چاہتے تھے۔۔اور میں اب سر جھکائے اپنے گریبان میں جھانک رہا تھا


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ایک پاکستانی نژاد امریکی

  • 25-03-2016 at 10:12 am
    Permalink

    پتہ نہیں کس امریکا کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ وہ امریکا ہرگز نہیں جہاں میں ۱۹۵۷ سے رہ رہا ہوں۔ لطف کی بات یہ بھی ہے کہ موصوف جتنی باتوں کی غلط صحیح تعریف کر رہے ہیں ان میں سے سب امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے کھاتے میں ہی جائینگی۔ جبکہ خود موصوف ریپبلکن پارٹی کے کارکن ہیں۔ اور غالباً اپنی پارٹی کی طرح امریکا میں پناہ لینے والوں کی تعداد پر پابندی لگانا بھی چاھتے ہونگے۔ برتھ کنٹرول کے خلاف بھی ہونگے۔ دوسرے ملکوں کے خلاف جارحانہ کارروائی بھی چاھتے ہونگے۔

    نعیم

Comments are closed.