ایک ملاّ کی اوقات


mujahid aliمان لینے کو دل چاہتا ہے۔ آخر اس ملک کے آئین نے وزیراعظم کو تمام اختیارات تفویض کئے ہیں اور وہ بطور سربراہ حکومت ان اختیارات کو بروئے کار بھی لاتے رہے ہیں۔ ان کے شانہ بشانہ پاک فوج کے سربراہ اور ملک میں آباد 18 کروڑ لوگوں کی آنکھوں کا تارا اور آخری امید ، مبصرین اور ماہرین کی نظر میں پاکستان کا سب سے طاقتور شخص جنرل راحیل شریف بھی براجمان ہے۔ کچھ لوگ پھر بھی شبہ کریں گے، اس لئے ملک کے طاقتور، پراسرار، باصلاحیت، باخبر اور قوم و ملک کے سارے مفادات کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود ہیں۔ ریاست کی طاقت کے تین ستون اکٹھے بیٹھے ہیں۔ اب بھی اگر کسی کو ارادے کی پختگی میں شک ہے تو سب سے بڑے صوبے پنجاب کے متحرک اور طاقتور وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی بلائے گئے ہیں اور لاہور کے کور کمانڈر بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہیں۔ اعلان ہوتا ہے کہ ہم کسی کو پاک بھارت تعلقات کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمسایہ ملک میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو پکڑ کر سزا دی جائے گی۔ سارے اعلان اور طاقت کا سارا ارتکاز بجا مگر دل چاہے کچھ کہے۔ لگتا ہے شاطر ملاّ ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ سارے مل کر بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔

وزیراعظم کا دفتر اعلان کرتا ہے کہ جیش محمد کے متعدد ارکان گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ اس کالعدم تنظیم کے دفاتر کو تلاش کر کے سیل کیا جا رہا ہے۔ اب بھارت سے مزید معلومات طلب کی جا رہی ہیں تا کہ اس دہشت گرد گروہ کو اس کے جرائم کی سزا دی جا سکے۔ دنیا بھر کا میڈیا اس اعلان کی بنیاد پر خبر نشر کرتا ہے کہ اس گروہ کا لیڈر مولانا مسعود اظہر حفاظتی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس کے بھائی اور بہنوئی کے علاوہ جیش محمد کے متعدد چھوٹے بڑے لیڈر پکڑ لئے گئے ہیں۔ لمحہ بھر کو لگتا ہے کہ اب حکومت پاکستان نے اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا سیکھ لیا ہے۔ اب وہ ہو کر رہے گا جو گزشتہ 20 برس میں نہیں ہوا۔ اب ان لوگوں کی گردن ناپی جائے گی جو قومی مفاد، اسلام کی سربلندی اور کشمیرکی آزادی کے نام پر مسلح جتھے بناتے اور معصوم انسانوں کا خون بہاتے ہیں۔

لیکن سرخوشی کا یہ لمحہ بہت مختصر ہے۔ آئیے جیش محمد کی سوشل میڈیا سائٹ ’ مکتب الامیر‘ کا پیغام تو پڑھ لیں۔ یوں لگتا ہے وزیراعظم کا دفتر جو کہہ رہا ہے وہ کسی دوسرے ملک کا سربراہ حکومت ہو گا کیونکہ اس سائٹ پر لکھا ہے کہ ’ کافر اور منافق گرفتاری کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ وہ گرفتاری جو کبھی ہوئی ہی نہیں۔ اور اگر ہو بھی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘ کیا یہ لوگ مملکت خداداد پاکستان میں طاقت کے سب سرچشموں کی مشترکہ قوت سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک سوال ہے، جس کا جواب اس ملک کے کسی باخبر یا بے خبر ، بااثر یا بے اثر، بااختیار یا بے اختیار شخص کے پاس نہیں ہے۔ دل چاہتا ہے کہ آئینی اختیار رکھنے والے شخص کے دفتر کی بات مانی جائے۔ دور کی کوڑی لانے والے میڈیا کی معلومات کو تسلیم کیا جائے۔ لیکن جن لوگوں کا راستہ روکنے کی باتیں ہو رہی ہیں وہ تو متحرک اور سرگرم ہیں اور ہر اس شخص کو کافر یا منافق قرار دے رہے ہیں جو ان کا راستہ روکنے کا ارادہ کرتا ہے۔

آئیے کچھ اور جانتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ کو یقین ہے کہ بھارت کے ساتھ سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والے مذاکرات منسوخ نہیں ہوں گے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر نہیں کہ مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔ شاید وہ ان گرفتاریوں کے بارے میں بے خبر ہوں گے۔ چلئے پنجاب کے طاقتور وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے پوچھتے ہیں۔ وہ فرما رہے ہیں: ” میری اطلاع کے مطابق تو مولانا مسعود اظہر صاحب کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ لیکن حکومت قانون شکنی کرنے والے ہر شخص کے خلاف کارروائی کرے گی۔ کوئی شخص قانون سے بالا نہیں ہے۔ میری معلومات کے مطابق جیش محمد کا کوئی دفتر نہیں ہے۔ البتہ ان کا ایک مدرسہ ضرور ہے بہاولپور میں۔ مگرجنوبی پنجاب ہو یا شمالی، ہم دہشت گردوں کو کہیں نہیں چھوڑیں گے۔‘ رانا ثنا اللہ دراصل بہت بڑے صوبے کے وزیر قانون ہیں۔ انہیں بہت سے امور دیکھنے ہوتے ہیں۔ چلئے براہ راست اس شہر کے پولیس سربراہ سے پوچھ لیتے ہیں جہاں مسعود اظہر اور اس کے ساتھیوں کو پکڑا گیا ہے۔ یہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرفراز احمد فلکی ہیں۔ کیوں صاحب آپ کچھ جانتے ہیں؟ ’ مولانا مسعود اظہر کی نظر بندی، جیش محمد کے اراکین کی گرفتاریاں۔ دیکھئے یہ فیڈرل معاملہ ہے۔ شاید کسی وفاقی ادارے نے انہیں تحویل میں لیا ہو۔ ہم تو پنجاب پولیس ہیں۔ ان معاملات سے ہمارا کیا تعلق؟‘ جب سوال کا جواب سوال میں دیا جائے تو دال میں ضرور کچھ کالا ہوتا ہے۔“

صوبہ ہو یا مرکز، پاکستانی حکومت کے کسی ایوان کا کوئی نمائندہ یہ بتانے یا کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتا کہ مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے یا اسے حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ ایک ملاّ کی اوقات یا اس کی طاقت ہے۔ ایک مدرسے کا مہتمم ، ایک اسکول کا سابقہ استاد اور ایک اسکول ماسٹر کا بیٹا جس نے مذہبی تعلیم حاصل کی لیکن اسے تخریب کاری اور دہشت گردی کے لئے استعمال کیا۔ جو ہمسایہ ملک کا بھگوڑا ہے۔ جو ایک کالعدم گروہ کا سربراہ ہے۔ جس کی کل اوقات یہ ہے کہ اگر علاقے کا تھانیدار واقعی بااختیار ہو تو کسی چارج کے بغیر ساری رات اپنے تھانے میں بند رکھ سکتا ہے۔ علاقہ مجسٹریٹ جسے بدامنی پھیلانے کے جرم میں پولیس کے حوالے کر سکتا ہے۔ قانون اگر بااثر ہو اور ادارے اگر کام کرتے ہوں تو اس کردار کے شخص کو منہ چھپانے کے لئے ٹھکانہ نصیب نہ ہو۔ لیکن وہ ببانگ دہل للکارتے ہیں۔ پولیس بے خبر ہے، عدالتیں بے بس ہیں، قانون اندھا ہے اور صاحبان اختیار و اقتدار دعوے کرنے اور وعدے کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

پھر کس کا اعتبار کیا جائے۔ جو آئین کے تحت حکمران ہیں اور جو اپنے عہدہ کی حیثیت میں حقیقی طاقتور ہیں یا اس شخص کا جو بظاہر کسی اختیار اور حیثیت کا مالک نہیں ہے لیکن سب کو جھوٹا قرار دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ جو اپنی بات نہ ماننے والوں کو منافق اور کافر کہتا ہے مگر کوئی اس کے منہ پر ہاتھ نہیں رکھ سکتا۔

دل چاہتا ہے کہ ملک کے وزیراعظم اور فوج کے ہردلعزیز اور طاقتور سربراہ کی بات مان لی جائے کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اس وقت تک اندھیروں کی ان قوتوں کا پیچھا کیا جائے گا جب تک وہ قانون کی گرفت میں نہ آ جائیں یا ان کا خاتمہ نہ ہو جائے۔ لیکن یہ بات ماننے کا جواز کیا ہے۔ اگر ایک کالعدم تنظیم کے لیڈر کو پکڑنے کا فیصلہ کرنے کے لئے مملکت کے ہر بااختیار شخص کو ایک کمرے میں جمع ہو کر سوچ بچار کرنا پڑے اور پھر بھی کوئی ادارہ یہ اعتراف کرنے سے گریز کرتا ہو کہ اس شخص کو پکڑ لیا گیا ہے، جس پر ایک ایسے وقت میں ہمسایہ ملک میں دہشت گردی کا الزام ہے جب طویل عرصہ کی دوری کے بعد بالآخر دونوں ممالک بات چیت کرنے اور مسائل حل کرنے پر راضی ہوئے تھے۔ ہم کہتے ضرور ہیں کہ ان عناصر کا خاتمہ ہو جائے لیکن کیا ہم ایسا چاہتے بھی ہیں۔ کیا ہم واقعی اپنے ملک کو فساد برپا کرنے والوں، ہلاک کرنے والوں، تباہی پھیلانے والوں، مملکت کے اختیار کو چیلنج کرنے والوں، نفرت عام کرنے والوں اور اختلاف کو کفر قرار دینے والوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہمارے دعوے سچے اور ہمارا عزم راسخ ہے تو ہم کمزور کیوں ہیں۔ یہ ملا کیا قیامت ہے کہ وزیراعظم ، آرمی چیف ، وزیر داخلہ ، مشیر قومی سلامتی امور ، وزیراعلیٰ ، کور کمانڈر اور آئی ایس آئی کا سربراہ مل کر ایک کالعدم تنظیم اور اس کے کارکنوں کی گرفتاری پر غور کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک ملاّ کو یہ طاقت کس نے عطا کی ہے۔

جیش محمد پر 2002 میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس وقت ملک پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو فرنٹ اسٹیٹ بنانے والے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ لیکن یہ تنظیم اور اس کے کرتا دھرتا ان چودہ برس میں پوری طرح متحرک رہے۔ اس کے سربراہ مسعود اظہر کو بھارت میں دہشت گردی کے الزام میں سزا دی گئی تھی۔ لیکن اس کے بھائی رﺅف نے دسمبر 1999 میں حرکت المجاہدین نام کی تنظیم کے ذریعے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے بھارتی ائر لائن کا ایک مسافر بردار طیارہ ہائی جیک کروا کے افغانستان کے شہر قندھار پہنچایا۔ مسافروں کو رہا کرنے کے بدلے میں بھارتی جیل سے مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مسافروں کو بچانے کے لئے بھارت کو یہ مطالبہ منظور کرنا پڑا۔ مسعود اظہر اس کے بعد بہاولپور آ گیا اور حکومت پاکستان کو اس کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ البتہ 2008 ءمیں ممبئی حملوں کے بعد مسعود اظہر منظر نامے سے غائب ہو گیا۔ تاہم گزشتہ برس مظفر آباد کے ایک جلسہ میں اس کا آڈیو پیغام سنایا گیا جس سے اس کی موجودگی کا پتہ چلا۔

مسعود اظہر کی گرفتاری ، جیش محمد کی سرگرمیوں پر پابندی یا اس قسم کے دوسرے متعدد کرداروں کی ملک دشمن سرگرمیوں کو ختم کرنے کا معاملہ، صرف بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ مسعود اظہر صرف اس لئے نہیں پکڑا جانا چاہئے کہ بھارت اسے پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے۔ بلکہ انہیں پکڑنا اور ان کی حملے کرنے اور نفرت پھیلانے کی صلاحیت کو ختم کرنا پاکستان کی سلامتی اور اس ملک میں آباد لوگوں کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔

ایک اغوا شد جہاز کے مسافروں کے بدلے رہائی پانے والا ایک دہشت گرد اگر سکون ، اطمینان اور راحت سے پاکستان میں زندگی بسر کر سکتا ہے …. اگر اس کی رہائی کے لئے ایک مسافر طیارہ ہائی جیک کرنے کی منصوبہ کرنے والے مجرم ملک میں کسی روک ٹوک کے بغیر معمولات زندگی میں مصروف رہ سکتے ہیں تو کون ہے جو اس ملک کے اس دعوے پر یقین کرے گا کہ ہم دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ملک کے سول اور عسکری قائد قوم کو بتائیں کہ وہ کب اتنا حوصلہ جمع کر پائیں گے کہ بعض ناجائز ضرورتوں کے لئے پالے ہوئے ناجائز عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے گا …. انہیں اس سوال کا جواب ہر اس شہید کے لہو کو دینا ہے جو اس ملک میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “ایک ملاّ کی اوقات

  • 28-01-2016 at 1:54 am
    Permalink

    شکریہ آپ نے سچ لکھا،وگرنہ یہاں ایسے کالم نگار بھی ہیں جو مولانا مسعود اظہر کے بارے قسط وار توصیفی کالم لکھ چکے ہیں۔

Comments are closed.