نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں!


izhar

مکالمہ جناب عامر خاکوانی اور وجاہت مسعود جیسے اہل دانش کے درمیان ہو تو ہم جیسے شائقین علم کی گویا عید ہوجاتی ہے۔ یہی تو موقع ہوتا ہے کہ طالب علم اشکال کی پوٹلیاں لیے حاضر ہوتے ہیں تاکہ ان دانشوروں کے سامنے اپنی مشکلات رکھیں۔

حافظ شیرازی کے بقول

مشکل خویش بر پیر مغان بردم دوش

کو به تائید نظر حل معما می‌ کرد

(اپنی مشکل میں کل پیر مغاں کے حضور لے گیا کہ وہ نظر کی تائید کے ساتھ عقدے وا کرتا تھا!)

پہلی مشکل یہ آن پڑی کہ –”پاکستان میں رائٹ ونگ صرف اور صرف مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے لوگ ہی ہیں” اتنا بڑا دعویٰ! دلیل شاید ہو مگر دی نہیں گئی۔ اصلاً رائٹ ونگ اور لفٹ ونگ کی اصطلاحات سیاسی تھیں اور سیاسی ہیں۔ اہل مذہب ان اصطلاحات سے دور ہی رہے۔ اس لئے کہ مذہبی نقطۂ نظر رکھنے والا رائٹ ونگ سے ہوسکتا ہے تو لیفٹ ونگ سے بھی ہوسکتا ہے! مولانا عبید اللہ سندھی کی مثال ماضی بعید سے ہے مگر ماضی قریب میں مولانا غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود رائٹ ونگ سے نہیں تھے۔ شورش کاشمیری ایک عرصۂ تک ان پر یہی پھبتی تو کستے رہے اور اسللامی سوشلزم کو “اسلامی سلوشزم” لکھتے رہے!

پھر “اگر رائٹ ونگ صرف اور صرف مذہبی نقطہ نظر رکھنے والے لوگ ہیں ” تو کیا مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ ق جیسی پارٹیاں لیفٹ ونگ سے تعلق رکھتی ہیں؟ ہاں اگر دلیل یہ ہے کہ پاکستان میں اہل مذہب ہمیشہ وڈیروں اور جاگیر داروں کے حامی رہے تو یہ دعویٰٰ تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ نواب زادہ نصرالله خان نے جب “انجمن حقوق تحفظ زمینداران” کا ڈول ڈالا تو اسے “تحت الشریعہ” قرار دیا۔ شریعت کے کسی محافظ نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ یہ وضاحت بھی دلچسپ ہے کہ — دنیا میں رائٹ ونگ کی جو بھی شکل ہو ہمارے ہاں یہی چلی آرہی ہے—”! درست فرمایا!! اسلام جو ہمارے ہاں رائج ہے، وہ افغان اور پاکستان ایڈیشن ہے۔ وہ رائٹ ونگ کا مترادف ہوسکتا ہے۔ باقی دنیا میں اسلام کو رائٹ ونگ کا ہم معنی کسی نے نہیں قرار دیا! اسلام کا رائٹ ونگ اور لفٹ ونگ سے کیا تعلق؟ سورہ بقرہ کی آیت 219 ہے۔ “اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں۔ کہ دے جو بچے اپنے خرچ سے”۔ اس آیت کی تفسیر میں مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں—” لوگوں نے پوچھا کہ مال اللہ کے راستے میں کس قدر خرچ کریں حکم ہوا کہ جو اپنے اخراجات ضروری سے افزود (زائد) ہو کیونکہ جیسے آخرت کی فکر ضرور ہے، دنیا کی فکر بھی ضرور ہے۔۔۔”۔ سید ابو اعلی مودودی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے—” پوچھتے ہیں ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں کہو جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو—” رائٹ ونگ کے سرمایہ دارانہ نقطۂ نظر میں “قل العفو” کی گنجائش کیسے نکل سکتی ہے؟

دوسری مشکل ذیل کے دعویٰ میں آن پڑی—

“برسبیل تذکرہ اب یہ بھی مان لینا چاہیے کہ پاکستان میں رائٹ ونگ مذہبی نقطۂ نظر رکھنے والے لوگ ہی ہیں وہ لوگ جو خدا اور اس کے دین کو گھر تک محدود کرنے کے قائل نہیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور وہ رب کائنات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کو سمجھتے ہے”۔

اس سے بڑا myth شاید ہی کوئی ہو کہ پاکستان میں مذہبی نقطۂ نظر رکھنے والے لوگ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور خدا اور رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کو سمجھتے ہیں! حضور! ہم بھی اسی ملک میں رہتے ہیں ذرا ہمیں وہ لوگ دکھا دیجئے! پاکستان میں عام شہری اسی وجہ سے تو پریشان ہے کہ مذہبی نقطۂ نظر اور مذہبی حلیہ رکھنے والے لوگوں کا عملی زندگی میں اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں! تاجر برادری کو دیکھ لیجیے۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ہمارے اہل تجارت کی اکثریت بظاہر مذہبی ہے! ان کی اکثریت مذہبی، تبلیغی اور دینی جماعتوں سے وابستہ ہے۔ انہی کے عطیات سے لاکھوں مدارس چل رہے ہیں۔ حج اور عمرہ کی رونق کا اکثر حصہ انہی کے دم سے ہے، خیرات، صدقات میں سب سے آگے ہیں مگر دوسری طرف یہی ملک ہے جس میں خوراک اور ادویات میں بھیانک درجے کی ملاوٹ ہے۔ کم ناپ تول روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ اشیاء بیچتے وقت شاید ہی کوئی نقص بتاتا ہو جس کی اسلام میں حد درجہ تلقین کی گئی ہے۔ ٹیکس چوری عام ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ناجائز تجاوزات کی اکثریت جن کی وجہ سے پورا ملک بدصورت اور تکلیف دہ بنا ہوا ہے تاجر برادری کی وجہ سے ہے۔ برآمدات میں اس ملک نے جو شہرت پائی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ مذہب کو تجارت کے لیے خوب خوب استعمال کیا جارہا ہے۔ کیا نہاری کو سرور کونین کے نام پر بیچنا توہین رسالت نہیں؟ دکانوں کے نام حرمین شریفین پر ہیں۔ شہد کو اسلامی کہ کر بیچا جارہا ہے۔ کہیں دنیا میں غیر اسلامی یا کافر یا نصرانی یا یہودی یا ہندو شہد بھی دیکھا گیا ہے؟

پھر اہل تبلیغ کو دیکھ لیجئے۔ ان حضرات کا سارا پروگرام ہی اسلام کو عبادت تک محدود رکھنے کا ہے۔ کہاں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی؟ اور کون سے خدا رسول کے بتائے ہوئے طریقے؟ ساری تربیت روزے سے لے کر تین چلوں تک، بازار، دفتر، کھیت، کارخانے، عائلی زندگی، رشتہ داری سے کاٹ کر رکھ دینے کے لئے ہے۔ سینکڑوں مشاہدات ہیں۔ یہ حضرات پڑوسیوں سے ملنا تک نہیں پسند کرتے ہیں۔ ایک ایسے امیر جماعت کو میں جانتا ہوں جس نے گھر بنایا تو آدھی گلی پر قبضہ کرلیا۔ نوجوان بیویوں کو سال سال بھر چھوڑ دینا کون سا اسلام ہے؟ قرآن پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے کہ یہ تو علماء کا کام ہے حالانکہ غیر مسلم صرف قرآن پاک پڑھ کر مسلمان ہو رہے ہیں ورنہ ہم مسلمانوں کو دیکھ کر کون مسلمان ہوتا؟ ان حضرت کے پاس صلہ رحمی کے لئے بھی وقت نہیں! حقوق العباد سے ان کا خانہ خالی ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے شاید ہی کوئی انکار کرے۔

اہل مدارس کو دیکھ لیجئے۔ پوری تاریخ اسلام میں علماء حق نے دین سیکھنے کو ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ تجارت کی، ہل چلایا، جوتے گانٹھے، مزدوریاں کیں مگر اب چندہ فی سبیل الله مدارس کے لیے مانگا جاتا ہے اور گھر اس سے مالکان مدارس کے بھی چلتے ہیں۔ کیا کبھی عطیات مانگتے یا وصول کرتے وقت بتایا گیا تھا کہ اس کا ایک حصہ ذاتی اخراجات پر اٹھے گا؟ مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ اور پڑھنے والے طلبہ کا معیار زندگی دیکھئے اور “مالکان” اور صاحبزدگان کا معیار زندگی دیکھئے پھر انصاف کیجئے۔ یہ کون سا اسلام ہے جس میں مالکان صوفوں پر تشریف فرما ہوتے ہیں مگر طلبہ کو میز کرسی استعمال نہیں کرنے دیا جاتا۔ امریکہ میں ایک مدرسہ میں طلبہ کو میز کرسیوں پر بیٹھا دیکھ کر ایک پاکستانی عالم دین نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا کہ اس میں برکت نہیں ہوتی۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ اس قسم کے اصول اسلامی ہیں؟

اس معروف مذہبی سیاسی جماعت کو دیکھ لیجئے جس کا جامعات پر قبضہ ہے۔ سینکڑوں شہادتیں موجود ہیں کہ کینٹینوں میں کھانے اور چائے کی رقم نہیں لی جاتی۔ جھوٹ اتنا عام ہے کہ ہوسٹل میں ہم عمر مہمانوں کو “والد” بتایا جاتا ہے اس لئے کہ صرف والد ہی مہمان کے طور پر رہنے کی اجازت ہے! یہ ہے ان نرسریوں کی ہلکی سی جھلک جن سے تناور درخت نکلتے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کے اکابرین کے حالات زندگی سب کو معلوم ہیں۔ جنرل مشرف سے ڈی آئی خان کے قرب و جوار میں وسیع و عریض زمینوں کی الاٹ منٹ ڈھکی چھپی نہیں۔ سرکاری مراعات کا حصول عام ہے۔ ایک مذہبی جماعت اس وقت مرکزی حکومت میں ہاوسنگ اینڈ ورکس کی وزارت چلا رہی ہے۔ وزیر صاحب صرف بدھ کے دن تشریف لاتے ہیں۔ سو فیصد کام لسانی بنیاد پر ہورہا ہے!

لاکھوں پاکستانی ایسے ہیں جو حلیے سے مذہبی نہیں لگتے، پتلون شلوار پہنتے ہیں۔ عبادت کے پابند ہیں۔ عملی زندگی میں اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کرتے ہیں! ہاں حلیے سے اور زبان سے تشہیر نہیں کرتے۔ ان کا کسی مدرسے سے تعلق ہے نہ کسی نام نہاد دینی جماعت سے! ازراہ کرم اسلام کے اصولوں اور خدا اور رسول کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے کا کریڈٹ صرف “رائٹ ونگ” کو نہ دیجیۓ۔ اور نہ ہی انہیں جن کا سارا اسلام حلیے اور لباس تک محدود ہے اور جن کی عملی زندگی، خواہ وہ بازار میں گزرتی ہے، یا کارخانے، میں یا مدرسہ میں، یا گھر میں اسلام سے بے نیاز ہے!

تیسری مشکل قرارداد مقاصد کے حوالے سے ہے۔ اس سوال کو چھوڑ دیجیۓ کہ قرار داد مقاصد پیش کرنی چاہئے تھی یا نہیں؟ یا یہ کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد ہی کیوں سامنے آئی، یا یہ کہ آئین کا حصہ نہیں بنانا چاہئے تھا۔ ان سب سوالوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ مان لیا اس ضمن میں جو کچھ بھی ہوا درست ہوا۔

سوال صرف یہ ہے کہ کیا قرار داد مقاصد کے بعد یہ معاشرہ اسلامی ہوگیا؟ کیا آپ اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ آج ہم پاکستانیوں کی بھاری اکثریت بات بات پہ جھوٹ بولتی ہے، وعدہ خلافی عام ہے۔ ایک ہفتہ پہلے جذام کی محسن ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پوچھا ہے کہ پاکستانی اتنی آسانی سے جھوٹ کیسے بول لیتے ہیں؟ تھانوں کچہریوں کا حال دیکھیئے۔ منڈی میں ٹیکس چوری، ملاوٹ، دھوکہ فریب عام ہے! پورنوگرافی دیکھنے میں ہمارا شمار سرفہرست ہے۔ جھوٹی گواہیاں روزمرہ کا معمول ہیں۔ قرار داد مقاصد کا عملی کردار کہاں ہے؟ چند دن پہلے مولانا طارق جمیل پر ایک ٹی وی پروگرام میں اعتراض ہوا۔ انہوں نے ایک مغربی ملک میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے پاس اعمال ہیں اور ہمارے پاس ایمان۔ پھر کہا کہ یہ اعمال ہمیں دے دیں اور ایمان لے لیں۔ اعتراض یہ ہوا کہ یہ سودا بازی کیوں کی؟ حالانکہ مولانا کا مطلب فقط یہ تھا کہ ہمیں بھی اعمال میں ان جیسا ہوجانا چاہیے۔ ظاہر ہے فقط ایمان سے تو کام نہیں چلتا۔ تو کیا ان مغربی ملکوں میں دیانت، صدق، اَکِل حلال، وعدے کی پابندی، تجارت میں اصول پرستی، بوڑھوں کی دیکھ بھال، ہسپتالوں میں ہزاروں رضاکاروں کا رات دن آکر کام کرنا، اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ کا فقدان۔ کیا یہ سب کسی قرار داد مقاصد کا کرشمہ ہے؟

جناب والا! کاغذ کے ٹکڑے پر قرار داد مقاصد لکھ دینے اور اسے آئین کا حصہ بنانے کو “رائٹ ونگ” کی بڑی اور بنیادی کامیابی قرار دینا ایسے ہی ہے جیسے ڈاکٹر کے لکھے ہوئے نسخے کو، دعویٰ استعمال لائے بغیر، مریض کی شفایابی قرار دے دیا جائے۔ میر یاد آگئے

کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں

نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں!


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں!

  • 24-03-2016 at 10:51 pm
    Permalink

    Awesome Izhar sb! Awesome. Khakwani sb needs to be clear on many concepts himself.

  • 25-03-2016 at 12:40 am
    Permalink

    سبحان اللہ. کیا خوب تحریر ہے
    مزہ آگیا

  • 25-03-2016 at 1:09 am
    Permalink

    انتہائی مدلل اور مؤثر۔۔۔۔۔ لوگوں کے دل اور جسم اسلامی بنانے پر زور دیا جارھا ھے اور یا پھر اشیاۓ کائنات کو اسلامی اور غیر اسلامی میں تقسیم کیا جارھا ھے۔۔۔۔ ذھن اور ضمیر کو اسلامی رنگ میں ڈھالے بغیر معاشرے میں کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ (حتٰی یغیروا ما بانفسھم)۔۔۔۔۔۔۔ انسانی معاشرہ قائم کۓ بغیر اسلامی معاشرے کی تشکیل کا گمان کیا یوٹوپیا کے مترادف متصورنہیں ھوگا، محترم اظہار صاحب؟؟؟؟؟

  • 25-03-2016 at 1:21 pm
    Permalink

    بہت خوب تحریر جس میں مزید کچھ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں بس چند نکات اسی ذیل میں عرض کرنے کی جسارت کررہا ھوں؛

    ۱- لفٹ ونگ چونکہ سوشلسٹ طبقہ نے اپنے لیئے معاشرہ سے بغاوت کے لیئے استعمال کیا اس لیئے ان کے علاوہ ہر طبقہ کو رائٹ ونگ میں ڈال دیا گایا۔ میں بھی آپ کی ہی بات کا قائل ھوں کہ مذہب کا لفٹ رائٹ سے کوئی تعلق نہیں

    ۲- تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کی عام زندگی میں جزوی اسلام اور دیگر بہت سے اسلامی اصولوں سے کھلی روگردانی خالصتاََ ان کا ذاتی فعل ھے جو تبلیغی اصولوں کی بھی خلاف ورضی ھے، وگرنہ تبلیغ کی ہر نشست میں ایمان اور عبادات جتنی ہی اہمیت معاملات، اخلاق اور حق پرستی کو دی جاتی ھے۔ تبلیغ کے بزرگان جماعت میں پائِ جانے والی اس غیر اعلانیہ روگردانی سے سخت نالاں ہیں

    ۳- مدارس اور مذہبی سیاسی جامعتوں کے اجاراہ دارانہ طرزعمل سے یقیناََ اسلام کو ہی سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ھے مگر اس کا حل کیا ھے؟؟ یہ کوئی نہیں بتاتا، اس لاحاصل انگشت نمائی میں نتیجۃََ عام مسلمان بھی دین سے ہی بدظن ھونے لگا ھے۔ ناچیز کی رائے ھے کہ جو مستند علماء دین کی بے غرض اور صحیح ترویج کررھے ہیں اُن کے پیغام کو انفرادی طور پر بھی عام کیا جائے

  • 25-03-2016 at 1:50 pm
    Permalink

    کہتے ہیں، جس محفل میں اہل ایران بیٹھے ہوں، وہاں فارسی نہیں بولنی چاہیے . اس گفتگو کے جید شرکا، محترم عامر ہاشم خاکوانی، محترم وجاہت مسعود اور محترم محمد اظہار الحق اس “رائٹ” اور “لیفٹ” کے سوال کے بارے میں مختلف پہلوؤں کو نمایاں کر چکے ہیں، سو خادم کا کچھ کہنا شاید دخل در معقولات کے زمرے میں آے، مگر “غریب شہر سخن ہاے گفتی دارد” کے مصداق چند بنیادی نکات عرض ہیں. امید ہے کہ اہل دانش ان کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں گے.

    ١. گزشتہ نصف صدی سے “رائٹ” اور “لیفٹ” کی اصطلاحات دنیا بھر میں اقتصادی سیاسیات کے شعبے میں بحثوں کا محور رہی ہیں. مختصرا، “رائٹ” سے وہ لوگ مراد لئے جاتے ہیں جو معیشت میں کم سے کم حکومتی عمل دخل اور آزاد منڈی کے زیادہ سے زیادہ نفوذ کے قائل ہیں، جبکہ “لیفٹ” سے مراد وہ مکتبۂ فکر لیا جاتا ہے جو مختلف درجوں میں معیشت پر ریاستی کنٹرول اور عمل دخل کے حامی ہیں. “رائٹ” اور “لیفٹ” کو مذہبی اور غیر مذہبی سیاست کا نام دینا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے، جیسا کہ اظہار صاحب نے اشارہ کیا ہے.

    ٢. پاکستان میں سرگرم عمل اکثر مذہبی سیاسی جماعتیں “فلاحی اسلامی مملکت” کی مؤید ہیں. “فلاحی” مملکت واضح طور پر ایک “لیفٹسٹ” تصور ہے جس میں دولت کی تقسیم اور خدمات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ واری سمجھا جاتا ہے. دوسری جانب “لبرل” جماعتیں، چاہے مسلم لیگ کے دھڑے ہوں یا پیپلز پارٹی، سب ہی دائیں بازو کی خاص پہچان، “نج کاری” کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہیں. جو جماعتیں نج کاری سمیت ، خدمات اور روزگار سے حکومت کی دست کشی کی کھلی مخالف ہیں وہ موجودہ سیاسی ڈھانچے کے بالکل حاشیے پر ہیں اور ان کا کسی بھی قانون ساز ادارے میں کوئی نشست حاصل کرنا مستقبل قریب میں محال نظر آتا ہے، مگر “لیفٹ” کی تعریف پر اگر کوئی اس ملک میں پورا اترتا ہے، تو وہ یہی جماعتیں، عوامی ورکرز پارٹی، کمیونسٹ پارٹی، کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی وغیرہ ہیں.

    ٣. “مذہب پسند” کی غیر واضح اصطلاح کے تحت مختلف الخیال سیاسی قوتوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا بھی درست نہیں ہے. مثلا دیو بندی مسلک سے وابستہ جمعیت علماے اسلام کا مولانا فضل الرحمن کے زیر قیادت دھڑا، ابتدا سے ہی پارلیمانی جمہوریت سے اپنی گہری عملی وابستگی کا ثبوت دیتا آیا ہے جبکہ اسی جماعت کا مولانا سمیع الحق کے زیر نگین دھڑا مختلف ادوار میں فوجی آمروں کی جلی یا خفی حمایت کے حوالے سے معروف ہے. یہی حال دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور ان کے مختلف دھڑوں کا ہے.

    ٤. مسالک کے پیروکاروں کی موجودگی سرحدات سے ماورا ہوتی ہے. ہر ملک کے اپنے معروضی حالات کے مطابق کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے راسخ العقیدہ لوگ بھی جو سیاسی راہ اختیار کرتے ہیں، اس کا ان کے اعتقادات سے تعلق ہونا لازمی نہیں ہے. مثلا دیو بندی مسلک کی علم بردار جماعتوں کا بعض بنیادی نکات کے بارے میں پاکستان، بھارت اور افغانستان میں جدا، بلکہ باہم دگر متضاد موقف ہے. اگر اس بحث کو حنفی مسلک کے وسیع تر دائرے تک پھیلا کر دنیا بھر میں پھیلے ہوۓ احناف پر منطبق کیا جاے تو اور زیادہ رنگا رنگی نظر آے گی. کیا امریکہ میں ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی اور برطانیہ میں ٹوری اور لیبر پارٹیوں سے علانیہ طور پر وابستہ ائمہ کرام کو کسی بھی مذہبی یا مسلکی تعریف کی رو سے “رائٹ”اور “لیفٹ” میں بانٹا جا سکتا ہے؟

    خادم کی راے میں اس خلط مبحث کی جڑیں اس خطے میں جد وجہد آزادی کی صف اول کے مسلم قائدین کی راہ سے روگردانی اور بعد کی موقع پرستانہ سیاسی تاریخ میں پیوست ہیں. جمعیت علماے ہند کے سرخیل ہوں یا سرخ پوش، قائد اعظم ہوں یا امام الہند، قائد ملت ہوں یا ذاکر صاحب، مولانا حسرت موہانی ہوں یا حسین شہید سہروردی، سب نے آخری تجزیے میں، مذہب و مسلک کی بنیاد پر شہریوں کو خانوں میں بانٹنے سے گریز کیا. خادم کی راے میں ان سب اکابر کو، ان کی تقسیم کی حمایت یا مخالفت اور “لیفٹ” یا “رائٹ” کی معیشت سے دل چسپی سے قطع نظر، ان فتنوں کا خوب اندازہ تھا جو مذہب کو سیاست میں دخیل کرنے سے رونما ہوتے ہیں. اس صراط مستقیم سے ہٹنے کا نتیجہ ہم ہی نہیں، ہمارے کلمہ گو ہمساے بھی بھگت رہے ہیں.

  • 25-03-2016 at 10:10 pm
    Permalink

    میں تو اس پر حیران ہوں کہ جناب اظہار الحق کے تمام سوالات کا روئے سخن اس خاکسار کی جانب ہے۔ ہم کیا اور ہماری دانش کیا، اظہار صاحب جیسے سینئر لکھنے والے اور صاحب علم اتنی معصومیت سے اگر ہمارے مبلغ علم کو پوری طرح بے نقاب کرنے پر تل گئے ہیں تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے۔ لاہوری پنجاب میں اس کے لئے ’’چیزا لینے‘‘
    کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
    خیر جو کچھ بن پڑے گا، اپنا موقف بیان کر دیں ہی گے، حیرت مگر یہ ہے کہ برادرم وجاہت مسعود کی تحریریں پڑھ کر انجناب کے ذہن میں کوئی سوال نہیں پیدا ہوا؟ بہتر ہوتا کہ پہلے اس حوالے سے وہ کچھ واضح کر دیتے کہ انہیں وجاہت صاحب اور قرارداد مقاصد سے لے کر پاکستانی ریاست کی ہیت کے بارے میں ان کی طرز فکر سے اتفاق ہے یا نہیں ؟ اگر اتفاق ہے تو فبہا، مگر ہمارے لئے پھر یکسوئی سے کوئی رائے قائم کرنا آسان ہوجائے گا۔ بھی تو غامدی صاھب والی پوزیشن ہے کہ بظاہر تو اسلام کا نام لیتے ہیں، مگر ہر فیصلہ کن مرحلے میں سیکولر کیمپ میں براجمان ملتے ہیں۔ تقسیم سادہ سی ہے ۔ آپ چاہتے ہیں کہ ریاست غیر مذہبی ہو، اس کے قوانین، اصول ضوابط میں مذہب یعنی اسلام کا کوئی عمل دخل نہ ہو، اسلامی معاشرہ بنانے کے لئے کچھ عملی کام کرنا توا لگ بات ہے ، وہ اس کا عہد تک نہ کرے یا پھر آپ کے خیال میں پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، یہ ایک وعدہ ہے اسلام کے ابدی اصولوں کے مطابق ایک مثالی معاشری تشکیل دینے کا، جہاں اسلام کا تصور علم ، تصور اخلاق ، تصور معاشرت اور تصور شہریت عملی شکل میں نظر آئے۔ ظاہر ہے ایسا کرنے کا مقصد مولوی کی حکومت نہیں اور نہ ہی مولوی کے تضادات یا مذہبی کہلوانے والے کچھ لوگوں کے تضادات سے یہ عہد ختم ہوجاتا ہے۔ جو غلط ہو رہا ہے اور تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سا غلط ہو رہا ہے، مگر اسے ٹھیک ہونا چاہیے، ہمارا تو صرف اتنا ہی مطالبہ ہے۔ جناب اظہار الحق کوئی واضح پوزیشن لے لیتے اور یکے بعد دیگر کئی سوئپنگ سٹیٹمنٹ نہ دیتے تو بات آگے بڑھانا آسان ہوجاتی۔

  • 25-03-2016 at 10:18 pm
    Permalink

    مزید یہ کہ بہتر ہوتا کہ اس بحث کو اخبار میں شائع کراتے تاکہ زیادہ لوگوں تک یہ مکالمہ پہنچ پاتا ۔ حضرت کے نکتہ نظر کے بارے میں قارئین کو بھی اگاہی ہوجاتے، ان کے سوالات بھی زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتے۔

  • 26-03-2016 at 12:36 pm
    Permalink

    حضور، مسلمانوں کی بھاری اکثریت کے ملک میں،جہاں آپ ہی کے بقول لوگوں کی اکثریت اسلام کی شیدائی ہے، اسلام کے حوالے سے اس قدر عدم تحفظ کیوں؟ اطمینان رکھیے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے مسلمان نمائندگان کوئی ایسا مسودہ قانون منظور نہیں کریں گے جس کے پیچھے اجماع کی پشت پناہی نہ ہو. بالفرض محال ایسا ہو بھی جاے تو اسلامی نظریاتی کونسل ہے، عدلیہ ہے اور سب سے بڑھ کر اگلا انتخاب ہے جس میں ان کے اقدامات پر رد یا قبول کی مہر لگے گی. اگر کسی شخص یا گروہ کا یہ خیال ہے کہ اس کا فہم اسلام زیادہ درست اور زیادہ مبنی بر حکمت ہے، تو روایتی تبلیغی طریق کے علاوہ میڈیا بھی موجود ہے اور سوشل میڈیا بھی.. بسم اللہ کیجئے اور ووٹروں کو قائل کیجئے .. خادم خوش گمانی رکھتا ہے کہ “اسلامی نظام” کے علم بردار اس ملک کے مسلمان عوام کو ایک معروف مولانا کے الفاظ میں “محض پیدائشی مسلمان” سمجھنے کی خود رائی میں مبتلا نہیں ہوں گے.

  • 26-03-2016 at 2:29 pm
    Permalink

    ’’ اسلام کا تصور علم ، تصور اخلاق ، تصور معاشرت اور تصور شہریت عملی شکل میں نظر آئے۔‘‘
    کیا اس وقت روئے زمین پر کوئی زمین کا ٹکڑا ایسا ہے جہاں یہ باتیں عملی شکل میں موجود ہوں؟
    آنحضرتﷺ کے زیر انتظام ریاست مدینہ کی کہانی پڑھیں تو اصول وقوانین وہی نظر آتے ہیں جو آج مغربی سیکولرمعاشروں میں نظر آتے ہیں۔اصل یہ ہے دائیں بازو والے بیچارے خود اتنے کفیوز ہیں کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ آخر نفاذ اسلام سے مراد کیا ہے؟یا تو اس بارے میں کوئی مدلل تحریر لکھئے جناب تا ہمیں بھی سمجھ آئے کہ آنجناب کی مراد کیا ہے؟
    اسلامی قوانین اسلامی معاشرہ کے لئے ہیں،اگر معاشرہ ہی اسلامی نہ ہو تو اسلامی قوانین نافذ کرکے کیا کریں گے؟یہ اسلامی معاشرہ کی ہی خوبصورتی تھی کہ جب شراب حرام ہوئی تو لوگ خود شراب کے مٹکے توڑتے پھرتے تھے۔آنحضرتﷺ کسی کے پیچھے لٹھ لیکر نہیں پڑے کہ شراب چھوڑدو۔علی ہذاالقیاس۔
    سو پہلے معاشرہ کی اصلاح،تربیت اورتقوی قائم کرنے کی طرف توجہ کریں اسلامی معاشرہ خودبخود ایکٹیویٹ ہوجائے گا ورنہ ساری لفظی تکرار ہی ہے

  • 29-03-2016 at 11:54 pm
    Permalink

    Boht zabardast tareqay say byan kiya Janab Izhar ul Haq sb nay…. Insani Muasharay ko samajhna boht ahem hat tab ja ker hi ap Islam ko sahi maanon mein Nafiz ker skty hain…….Aur Left aur Right Wing ki term total political hay

Comments are closed.