امریکی بال ٹھاکرے اور مسلمان


\"donald_trump\"

امریکہ میں صدارتی امیدوار کے انتخاب کی مہم زوروں پر ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں میں ڈانلڈ ٹرمپ سب سے آگے ہیں اور وہ کافی زیادہ میڈیا کوریج لے رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے امیدوار ہیں جو کہ انتہا پسندانہ، متنازع اور توہین آمیز بیانات کی بنیاد پر مقبولیت حاصل کرنے کی راہ پر چلتے ہیں۔

ایک طرف ڈانلڈ ٹرمپ نے صدا بلند کی کہ وہ میکسیکو اور امریکہ کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کریں گے، اور اس کا سارا خرچہ میکسیکو سے وصول کریں گے۔ دوسری طرف انہوں نے خاتون امیدوار ہلیری کلنٹن کو بھی نہیں بخشا اور ایک مباحثے میں ان پر کافی نامناسب ریمارکس دیے۔ لیکن سب سے زیادہ رش وہ مسلم دشمن بیانات پر لے رہے ہیں۔ ان کے فرمودات دلچسپ ہیں۔

وہ فرماتے ہیں کہ \’وہ (مسلمان) امریکہ میں ہمارے مسیحی انداز زندگی کے مخالف ہیں۔ مسلمان ہمیں مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ (مسلم) مہاجرین داعش میں شامل ہو رہے ہیں اور وہ ہمارے ملک میں داخل ہو رہے ہیں۔ آپ اس بات کو نہیں جھٹلا سکتے ہیں کہ وہ ہماری آزادی اور انداز زندگی سے نفرت کرتے ہیں۔\’

ٹرمپ مسلمانوں کی زیادہ نگرانی پر زور دیتے ہیں۔ وہ ایک مسلم ڈیٹابیس بنانے کی بات کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی \"adnanلگا دی جائے۔

\’ہمیں وہ کام کرنے پڑیں گے جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس ملک میں وہ کئے جائیں گے۔ یہ کام معلومات حاصل کرنے اور دشمن کے بارے میں جاننے کے بارے میں ہوں گے۔ ہمیں وہ کچھ کرنا ہو گا جو کہ ایک سال قبل ناقابل تصور تھا۔ کچھ لوگ اس سے ناخوش ہوں گے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر ایک شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ سیکیورٹی ہر چیز پر مقدم ہے۔\’

ٹرمپ کے پلان میں وارنٹ کے بغیر تلاشیاں بھی شامل ہیں۔ وہ مسلمانوں کی ڈیٹا بیس بھی بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ \’ڈیٹا بیس کے علاوہ بھی بہت سے نظام ہونے چاہئیں۔ نائن الیون کے بعد نیویارک کے پولیس کمشنر رینالڈ کیلی کے وہ بہت مداح ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ \’رے ایک عظیم انسان ہے۔ رے نے پولیس کمشنر کے طور پر بہترین انداز میں کام کیا تھا۔ یقیناً رے ایک ایسا شخص ہے جسے میں (انتظامیہ میں شامل کرنے پر) ضرور غور کروں گا۔

یاد رہے کہ رے کیلی نے نائن الیون کے بعد مسلمانوں کی نگرانی کا ایک پروگرام شروع کیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی ایک مفصل ڈیٹابیس بنائی تھی جس میں ان کی سماجی اور مذہبی زندگی کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا گیا تھا۔ اور وہ چوہدری نثار علی خان کی مانند دہشت گردوں کی شناخت کے لیے روٹیوں پر بھی نظر رکھتے تھے، یعنی مسلمانوں کی گروسری کی خرید و فروخت کا ریکارڈ بھی ان کی ڈیٹا بیس میں جاتا تھا۔

ڈانلڈ ٹرمپ فرماتے ہیں کہ \’میرے بہت سے دوست مسلمان ہیں، اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ بہت خوش ہیں کہ میں یہ سب کچھ کر رہا ہوں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ واقعی ایک مسئلے کا شکار ہیں\’۔ لیکن جب ٹرمپ پر جرح کی گئی کہ کیا ان کے مسلمان دوست ان کے مسلمانوں کو امریکہ میں داخلے پر پابندی کے منصوبے سے متفق ہیں، تو وہ کہنے لگے کہ \’یقیناً ایسا نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے کہ بھلا وہ ایسے بین کی حمایت کیوں کریں گے؟\’

مسلمانوں کی ڈیٹا بیس بنانے کے اس منصوبے کے ارادے پر امریکہ اور دنیا بھر سے شدید ردعمل آیا ہے۔

امریکہ میں روز حامد نامی ایک خاتون، اپنے یہودی وکیل مارٹی روزن بلتھ کے ہمراہ ٹرمپ کی ایک انتخابی ریلی میں چلی گئیں۔ وہ حجاب پہنے ہوئے تھیں۔ روز اور مارٹی نے ایک پیلے رنگ کا بیج پہنا ہوا تھا جس پر لفظ مسلم لکھا ہوا تھا۔ یہ ویسا ہی بیج تھا جیسا کہ نازی جرمنی میں یہودیوں کے لیے پہننے کا قانونی تقاضہ تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ احتجاج شروع کرنے سے پہلے ان کے گرد بیٹھے لوگ ان سے بات چیت کر رہے تھے اور انہیں اپنی پاپ کارن بھی دے رہے تھے۔ لیکن جب وہ احتجاج کرنے کے لیے کھڑی ہوئیں تو لوگوں نے \’ٹرمپ ٹرمپ\’ کے نعرے بلند کرنے شروع کر دیے۔ ایک شخص نے ان پر بمبار ہونے کا الزام لگایا۔ رپورٹرز کہتے ہیں کہ انہوں نے روز کے بارے میں نازیبا جملے سنے۔ روز حامد اور مارٹی روزن بلتھ کو ریلی سے باہر نکال دیا گیا۔

ڈانلڈ ٹرمپ کے ان مسلم مخالف بیانات پر امریکہ اور یورپ میں ان کے خلاف آواز بلند ہو رہی ہے۔ ری پبلکن پارٹی بھی ان سے فاصلہ بڑھاتی نظر آ رہی ہے، اور ایک منتشر ری پبلک پارٹی کا نتیجہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی فتح کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ برطانیہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ڈانلڈ ٹرمپ کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگانے کے بارے میں ایک آن لائن پیٹیشن سائن کی ہے۔

بش خاندان کے تیسرے صدارتی امیدوار، جیب بش کہتے ہیں کہ \’ڈانلڈ فقرے بازی میں طاق ہے لیکن وہ ایک انتشار پسند امیدوار ہے اور وہ ایک انتشار پسند صدر بنے گا۔ ہم اپنے امن پسند مسلمانوں سے الگ نہیں ہو سکتے ہیں۔ لیڈرشپ لوگوں پر حملے کرنے اور ان کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے کا نام نہیں ہے۔\’

حتی کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ کے نظریات کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہ ہے \’اسرائیل کی ریاست تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور تمام شہریوں کے حقوق کی سختی سے حفاظت کرتی ہے\’۔ یہ یقیناً ایک پرلطف بیان ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے ڈانلڈ ٹرمپ کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ہے کہ \’یہ ایک المناک امر ہے کہ ہم نفرت سے آلودہ ایسے فقرے سن رہے ہیں جو کہ دوسروں سے تعصب کرنے کے نظریات پر مبنی ہیں۔ ہر جگہ یہ دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھیں کہ ابھی پیرس میں کیا ہوا ہے، ایک سال پہلے پشاور میں کیا ہوا ہے۔ اگر ہم دہشت گردی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں معیاری تعلیم کے ذریعے سے نفرت اور دہشت گردی کی ذہنیت کو ختم کرنا ہو گا\’۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 527 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “امریکی بال ٹھاکرے اور مسلمان

  • 15-01-2016 at 2:38 pm
    Permalink

    عدنان صاحب ماشااللہ اقوامی اور بین الاقوامی تبدیل ہوتے حالات اور سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں
    آپ کے تجزیات و تحریرات غیر جانبدار ہوتے ہیں

Comments are closed.