دائیں اور بائیں فکر کی نفسیاتی گرہیں (2)


waqar ahmad malikدماغ خوف کو بطور ایک پروڈکٹ کیسے لیتا ہے؟ دماغ اور جسم میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتیں ہیں؟

ہم ایک سادہ اور عام فہم سی مثال سے آغاز کرتے ہیں۔ میرا بیٹا وقا ص ڈیڑھ سال کا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے ایک بات نوٹ کی گئی کہ سڑ ک سے گزرتے گارڈ کی سیٹی سے وہ شدید خوفزدہ ہو جاتا تھا ۔ بھاگ کر کسی کی پناہ میں جاتا اور رونا شروع کر دیتا۔ عائشہ نے ایک دن سڑک سے گزرتے گارڈ کو دیکھا اور رکنے کا اشارہ کیا۔ وقاص کو گارڈ کے پاس لے گئی اور وقاص کو کہا دیکھو یہ بھائی ہے (وہ ہر اجنبی شخص کو بھائی کہتا ہے ) ۔ گارڈ اور وقاص کی سلام دعا کے بعد عائشہ نے گارڈ کو بتایا کہ یہ آپ کی سیٹی سے ڈرتا ہے آپ سیٹی جیب سے نکالیں اور آہستہ سے بجائیں۔ جیسے ہی وقاص نے سیٹی کی آواز سنی وہ ماں سے چمٹ گیا۔ عائشہ نے سیٹی گارڈ سے لی اور خود بجائی ۔ تھوڑی دیر بعد جب وقاص نارمل ہونا شروع ہوا تو وقاص کو لیکر اند ر آگئی۔ دوسرے دن ہم نے مشاہدہ کیا کہ گارڈ کی سیٹی سے وقاص نروس ہوا لیکن شدید خوفزدہ نہیں ہوا۔ ہم نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی کہ یہ وہی بھائی ہے۔ تیسرے یا چوتھے دن ہم نے مشاہدہ کیا کہ گارڈ کی سیٹی بجانے کے جواب میں وقاص ہونٹوں کو سکیڑ کر سیٹی بجا رہا تھا اور نقلیں اتار کے خوش ہو رہا تھا۔

آئیے اب اس واقعہ کا تکنیکی جائزہ لیں۔

motherپہلی دفعہ وقاص خوفزدہ کیوں ہوا تھا؟ خوف ان چند جذبات سے تعلق رکھتا ہے جو انسانی نفسیات کا پہلے دن سے حصہ ہوتے ہیں۔ (آپ نے نومود بچے کو ایک دم سے ڈرتے کانپتے دیکھا ہو گا۔ وہ ماں کے رحم میں اپنے آپ کو محفوظ خیال کرتا رہا کیونکہ اس کے چاروں جانب حفاظتی دیوار تھی۔ دنیا میں آتے ہی اس کو گرنے کا خوف جکڑ لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نومولودوں کے اس ڈر کا تجربہ کار عورتیں یہ حل نکاتیں تھیں کہ ان کو کپڑوں میں سختی سے لپیٹ دیا جاتا تھایا چارپائیوں کے ساتھ لٹکتے کپڑے کے پنگھوڑے آپ نے دیکھے ہوں گے ان پنگھوڑوں میں بھی بچہ پھنس کر محفوظ خیال کرتا تھا)

جب سیٹی کی آواز آئی تو یہ وقاص کے دماغ کے لیے نئی اجنبی اور تیز آواز تھی۔ خوف کی دو شاہراہیں ہیں۔ ایک کو نچلی شاہراہ اور دوسری کو اوپر والی شاہراہ کہہ لیں۔ اوپر والی شاہرہ تجربے اور سیکھنے پر انحصار کرتی ہے۔ نچلی شاہراہ براہ راست ہے۔ بچوں میں تجربات کی ابھی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے نچلی شاہراہ زیادہ استعمال ہو تی ہے۔ نچلی شاہراہ کا ردعمل فوری ہوتا ہے۔ ردعمل دینے میں کل وقت 12 ملی سیکنڈ لگتا ہے۔ جب سیٹی کی آواز آئی تو کانوں کے ذریعہ یہ آواز Thalamus میں پہنچی۔ دماغ کے اس حصے نے یہ اطلاع فوری طور پر Amygdala تک پہنچا دی۔دماغ کے اس حصے نے Hypothalamusکو ڈیٹا پہنچایا۔ یہاں سے دلچپ کہانی شروع ہوتی ہے ۔ Hypothalamus فوری طور پرSympethetic Nervous System کو جگاتا ہے۔ جگانے کا یہ عمل بے حد پیچیدہ ہے۔ اس کے لیے دو 004-1کیمیائی مواد چھوڑے جاتے ہیں Norepinephrine اور Epinphrine ۔ دوسری طرف Hypothalamus تیس کے قریب ہارمونز خون میں شامل کر دیتا ہے۔ جبکہ توانائی کے ذخیروں کو متحرک کیا جاتا ہے اور پٹھوں کو سخت ہو نے کا پیغام پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس جسمانی افراتفری کے نتیجے میں دو ردعمل پیدا ہوتے ہیں۔ مقابلہ کرو یا بھاگ جاﺅ۔کیونکہ ان دونوں کاموں کے لیے جسم ایک خاص سطح پر جا کر کام کر سکتا ہے یعنی فرض کیجئے آپ کے دل کی دھڑکن ستر فی منٹ کے حساب سے چل رہی ہے ۔ اور آپ کو پوری رفتار سے بھاگنے یا پوری توانائی سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک سودھڑکن فی منٹ سے بھی زیادہ درکار ہے۔ستر دھڑکن فی منٹ میں آپ سو دھڑکن فی منٹ کا اچانک کام کریں گے تو فوری طور پر آپ کو دل کا دورہ پڑ جائے گا۔ (Sympethetic Nervous System کی سستی سے بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے)۔ افرا تفری سے نمٹنے کے لیے ابھی آپ بھاگے یا مقابلے کے لیے نہیں آئے ہوتے لیکن اس میں سے کسی میں معاملے سے نمٹنے کے لیے آپ کی دھڑکن سو سے تجاوز کر جاتی ہے۔ مسام پہلے سے کھلے رکھنے کے لیے پسینے آ جاتے ہیں، اور آپ کے پٹھوں کو پہلے سے متحرک رکھنے کے لیے توانائی کے ڈھیر پہنچا دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ردعمل (بھاگنے یا مقابلہ کرنے) دینے سے پہلے ہی آپ کانپنا شروع کر دیتے ہیں۔

007یہ تو تھی نچلی یا مختصر شاہراہ جس کا دورانیہ 12ملی سیکنڈ تھا۔

دوسری دفعہ وقاص نروس کیوں ہوا تھا؟ جب وقاص کی Fear Conditioning ہوگئی یعنی اس کو گارڈ سے اور گارڈ کی سیٹی سے شنا سائی ہو گئی۔ اب دوسرے دن گارڈ کی سیٹی سے وقاص شدید خوفزدہ نہیں ہوا لیکن نروس ہو گیا۔ بالائی شاہراہ 24 ملی سیکنڈ کا وقت لیتی ہے۔ سیٹی کی آوازThalamus تک پہنچی۔ یہاں Thalamus نے ایک مناسب حرکت کی ۔ سیٹی کی اطلاع بجائے براہ راست Amygdala تک پہنچانے کے Sensory Cortex تک پہنچا دی۔ Sensory Cortex نے کہا ۔۔”اوکے اوکے مجھے اس معاملے کو ہینڈل کرنے دو ، ہیلو Hippocampus(یاداشت سے متعلق حصہ)کیا اس طرح کی آواز کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی ڈیٹا ہے کوئی متعلقہ ڈیٹا ، یہ کس طرح کی آواز ہے کیا کوئی خطرہ ہے۔ مسٹر Hippocampus کہتا ہے ۔۔سر ایک گارڈ اور سیٹی کے حوالے سے کچھ تصویریں پڑی ہیں اور یہ گارڈ ہے جو سیٹی بجاتا ہے یہ آواز اس سے مل رہی ہے۔ سر ہمارے پاسObject, Concept and Context موجود ہے۔

او کے اوکے ۔ تھینک کیو مسٹر Hippocampus۔۔اور سنو مسٹر Amygdala کوئی پریشانی نہیں ہے معاملات کنٹرول میں ہیں۔ جلد بازی میں تم یہ اطلاع Hypthalamus کو نہ دے دینا، کم بخت کرفیو ہی لگا دیتا ہے۔ اور وقاص نروس ہونا ختم کر دیتا ہے۔

وقاص گارڈ کی سیٹی کی نقلیں کیوں اتارتا ہے؟ چوتھے دن جب گارڈ نے سیٹی ماری تو Thalamusنے یہ اطلاع Sensory Cortex کو بھیجی جس کے حوالے سے Hippocampus نے فوری تعاون کیا اور معاملہ ’عالم بالا‘ میں ہی رفع دفع ہو گیا۔ یہاں سے انگریزی والا Fun شروع ہوتا ہے ۔ خوف کی ناموجودگی میں تخلیق ابھرتی ہے اور پھر یہ ایک اور دلچسپ باب ہے کہ وقاص گارڈ کی سیٹی کی نقلیں کیوں اتارتا ہے۔

اب سیٹی کی مثال کو آگے بڑھاتے ہیںاور خوف کے مثبت کردار کا ذکر کرتے ہیں۔ دماغ میں کچھ داخلی جذبات بشمول خوف موجود ہیں۔ خوف کی ناموجودگی میں ہماری بقا ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔ یہ خوف ہے جس نے ہمیں ارتقا کے کٹھن مراحل میں زندہ رکھا۔

کیا یہ ایک حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ جو انواع آج زندہ ہے اور زندگی کے تسلسل کو رواں رکھے ہوئے ہیں وہ سب خوفزدہ انواع ہیں۔ دلیر تو مارے گئے۔

یہاں ایک اور دلچسپ نکتہ یاد آرہا ہے ۔ گذشتہ ہفتے لاہور تھا جہاں استاد گرامی اور عزیز از جاں خواجہ جنید یزدانی اور دوسرے دوستوں سے ملاقات رہی۔ خواجہ صاحب نے اندھیرے کے خوف کی کمال توجیہہ پیش کی۔ وہ غالبا کال سیگن کا حوالہ دے رہے تھے۔ اندھیرے کا خوف ایک عجیب خوف ہے ۔ یہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ایسا غیر عقلی خوف ہے کہ عقل اس کے سامنے عاجز ہے ۔رات کو کسی ویرانے میں آپ لاکھ اپنے آپ کو سمجھا لیں کہ کچھ نہیں ہے ، لیکن جھاڑی ایک درندے کی شکل میں نظر آ تی ہے۔ بلکہ اس طرح کے خوف کو اگر آپ تھوڑی دیر یاداشت میں لائیں تو مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اندھیرے میں اوپر سے یا آگے پیچھے سے کوئی ہاتھ پڑنے والا ہے کوئی اچک لے گا۔

 تمام غیر عقلی خوف فوبیا ہیں لیکن اس فوبیا کی بہت دلچپ وجہ ہے۔

ارتقا میں ممالیہ اور رینگنے والے جانوروں (Reptiles) میں زبردست جنگ رہی۔ رینگنے والے جانوروں جیسے مگر مچھوں اور سانپوں وغیرہ کوممالیہ پر ایک زبردست فوقیت حاصل تھی۔ وہ فوقیت تھی رات کو بہتر دیکھنے کی صلاحیت کی۔ ممالیہ نے لاکھوں سال رینگنے والے جانوروں سے جنگ لڑی ہے ۔ رات کو ان نظر نہیں آتا تھا اور رینگنے والے جانور حاوی رہتے۔ فوبیاز یا غیر عقلی خوف اسی لیے دماغ کے قدیمی حصے سے تعلق رکھتے ہیں اور عقل پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ابھی بھی بعض اوقات Thalamus حسیات کی اطلاع براہ راست Amygdala کو دے دیتا ہے ۔

آپ اگر اپنی یاداشت کو متحرک کریں تو ابتدائی عمر کے وہ خواب آپ کو یاد آ جائیں جب آپ کو ایسا لگتا تھا کہ آپ کسی کنویں میں گر رہے ہیں یا صرف نیچے گر رہے ہیں۔ اور گرتے ہوئے آپ شدید خوف محسوس کرتے ہیں اور ایک آواز سی ساتھ ہوتی ہے …. اوں اوںاوں…. اور ایک دم آپ ہڑ بڑا کر اٹھتے ہیں ۔ اپنے آپ کو پسینے میں شرابور پاتے ہیں اور دل شدت سے دھڑک رہا ہو تا ہے۔ یہ خواب Teen Age تک بہت آتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ انسان رینگنے والے جانوروں سے بچنے کے لیے لاکھوں برس تک درختوں کی شاخوں پر سویا جہاں ہر وقت سوتے ہوئے گرنے کا خوف لاحق ہوتا تھا۔ یہ خواب تیس سال کی عمر کے بعد کیوں نہیں آتے ، میرا خیال ہے کہ مسلسل تجربات اور سیکھنے کے عمل سے عقل ، قدیمی دماغ پر حاوی ہو جاتی ہے۔ اگر قدیمی دماغ کوئی ایسی حرکت کرنے لگتا ہے تو پر اعتماد عقل اسے اسی وقت ”شٹ اپ“ کہہ دیتی ہے۔

چلیے ہمیں یہ تو معلوم ہو گیا ، کہ خوف کی دو اقسام ہیں ، عقلی اور غیر عقلی (عقلی خوف پر اگلی قسط میں بات ہو گی) اور دماغ خوف سے کس طرح ڈیل کرتاہے۔

(جاری ہے )

پہلی قسط : http://humsub.com.pk/9171/waqar-malik-8/


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “دائیں اور بائیں فکر کی نفسیاتی گرہیں (2)

  • 24-03-2016 at 9:59 pm
    Permalink

    Described fantastically, bravo Waqar

Comments are closed.