ذہین نوجوان اور نیک بزرگ


 ali arqamبس کی آخری سیٹ پر کھڑکی کی جانب بیٹھے ہوئے باریش بزرگ اپنے بائیں جانب بیٹھے نوجوان کی مُنہ میں گُٹکا بھر کر بات کرنے کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے تھے کہ دفعتاً اُس نے تھوکنے کے لئے بزرگ کے اوپر اچھا خاصا جُھک کر کھڑکی میں سے سر نکالا اور تھوکنے کے بعد بزرگ کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات دیکھ کر خجل ہوتے ہوئے کہا، “سوری حاجی صاحب”

بزرگ کے چہرے سے ناگواری کے اثرات دور ہوئےاور اس کی جگہ مُربّیانہ متانت نے لے لی۔

“برخوردار کیوں کھاتے ہو اسے؟” اس نے نوجوان کے احساس جرم کو دیکھ کر موقع مناسب جانا اور اس کی عادت پر چوٹ کرتے کہا “بس حاجی صاحب ، بُری عادت سمجھ لیں، پر چُھٹتی نہیں ہے ” بزرگ نے سرزنش کو تبلیغی چھ نمبرز کے سیاق وسباق میں لانے کے لئے کہا ، “بیٹا تو اللہ سے مانگو” “تمھیں پتا ہے میرے اللہ کےحکم سے ہی سب کُچھ ہوتا ہے۔ ” بزرگ نے پوزیسیو پر زور دیا اور بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ” اگر میرا اللہ نہ چاہے تو اس نشے میں جو نقصان ہے وہ ظاہر ہی نہ ہونے دے چاہے تم اسے ساری زندگی کھاتے رہو اور اگر وہ چاہے تو بھلے تم اس نشے کو آج سے ہی چھوڑ دو لیکن پھر بھی تمہیں وہ بیماری لگا سکتا ہے۔”

گُٹکا کھانے والے نوجوان اس منطق کو سمجھ پایا یا نہیں وہ تو بظاہر واضح نہیں تھا لیکن اُ س نے ہونقوں کے طرح اثبات میں سر ضرور ہلایا جیسے کہ رہا ہو کہ دین کی بات ہے تو سمجھنے سے زیادہ ماننا ضروری ہے “تو میرے بھائی سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے پس اُسی سے مانگو اور گڑگڑاؤ” بزرگ نے اپنی گفتگو کا مطلع دوبارہ سے دہرایا

“ویسے حاجی صاحب ! ایک بات ہے، گُٹکا منہ میں بھرا ہو ہو تو بندہ چُپ رہتا ہے اور بے سروپا باتوں کی تکرار سے بچا رہتا ہے، وہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ نے سن رکھی ہ وگی جس میں خاموشی کے فتنے کو زیادہ بات کرنے کے فتنے سے کمتر ٹھہرایا گیا ہے اور کثرت تو اگر وعظ کی بھی تو اولیاء اس کی مُذمت کرتے ہیں، کیا خیال ہے، امیر صاحب؟”

نوجان نے بات مکمل کر کے بزرگ کی طرف دیکھا۔ اوراس بار بنا سمجھے اثبات میں سر ہلانے کی باری بزرگ کی تھی۔


Comments

FB Login Required - comments