برسلز کے بعد کیا ہو گا؟


\"mujahidکل برسلز ائر پورٹ اور میٹرو اسٹیشن پر ہونے والے بم دھماکوں میں 31 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ 200 کے لگ بھگ لوگ زخمی ہیں۔ اس لئے ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ دولت اسلامیہ یا داعش نے اس دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ نومبر 2015 میں پیرس میں ہونے والے دھماکوں اور قتل عام سے حملہ آوروں کا تعلق واضح ہو رہا ہے۔ ان دھماکوں میں مبینہ طور سے ملوث تینوں افراد پیرس حملوں کے بعد سے بیلجیئم پولیس کو مطلوب تھے لیکن انہیں حراست میں نہیں لیا جا سکا اور نہ ہی دہشت گردی کے اس واقعہ کو روکا جا سکا۔ ماہرین یہ بحث کرنے میں مصروف ہیں کہ کیا کل ہونے والے حملے پیرس حملوں کے اہم ملزم صالح عبدالسلام کی گرفتاری کا انتقام ہیں یا بہرصورت یہ حملے ہونے ہی تھے۔ بیلجیئم میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور دھماکوں اور ہلاکتوں کے مقامات پر افسردہ اور رنجیدہ شہری پھول رکھ کر اپنے احساسات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس دوران مغرب میں مسلمانوں کے خلاف شک و شبہ میں اضافہ ہوا ہے اور مسلمان ملکوں میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مذمت کے ساتھ ہی یہ واضح کر دیا جائے کہ اس قسم کے حملے امریکہ اور یورپ کی غیر منصفانہ اور غیر انسانی پالسیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

دنیا بھر کے لیڈر بیلجیئم کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ نیٹو کے سربراہ ینس ستولتن برگ اور بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس مشل نے واضح کیا ہے کہ جب تک یورپ میں ایک آزاد معاشرہ قائم ہے، اس وقت تک اس قسم کے حملوں سے سو فیصد تحفظ ممکن نہیں ہے۔ ان دونوں لیڈروں نے بتایا ہے کہ کل برسلز میں ہونے والے حملے یورپ کی بنیادی اقدار اور جمہوریت پر حملے ہیں۔ ان کی روک تھام کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ لیکن ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہو گی کہ ہم جذبات میں بہہ جانے کی بجائے نارمل زندگی کی طرف واپس آئیں اور مٹھی بھر دہشت گردوں کو اپنے اصولوں سے انحراف کا سبب نہ بننے دیں۔

\"1257149_630x354\"یہ باتیں بھلی لگتی ہیں۔ ایک ایسے براعظم میں جہاں کے اہم ترین ملکوں میں مسلمانوں کی آبادی 5 سے 10 فیصد کے بیچ ہے، یہ ایک اہم سیاسی ضرورت بھی ہے کہ دہشت گردوں کو مسترد کرتے ہوئے، اس عزم کا اظہار کیا جائے کہ ہم باہم احترام ، مساوی حقوق اور تعصب سے پاک معاشروں کی تشکیل کے لئے کام جاری رکھیں گے۔ لیکن انتہا پسندی میں اضافہ اور خاص کر یورپ میں داعش کی طرف سے حملوں کے آغاز کے بعد سیاسی لیڈر مسلسل قوانین سخت کرتے ہوئے خاص طور سے مسلمان ملکوں سے آنے والے باشندوں کے لئے حالات مشکل بنا رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ گزشتہ نومبر میں پیرس حملوں کے بعد سامنے آیا تھا۔ بلاشبہ یہ حملے اشتعال انگیز حد تک افسوسناک تھے۔ دھماکوں اور فائرنگ کے ذریعے 130 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لیکن یہ حملہ دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والے روزانہ کی بنیاد پر ہونےو الے حملوں کے مقابلے میں محض ایک واقعہ تھا۔ اس لئے ترکی سے لے کر پاکستان تک کے مسلمان اور ان کے لیڈر بجا طور سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ایک سانحہ پر اس قدر غم و غصہ اور بدحواسی کا سبب کیا ہے۔ کیا پیرس میں مرنے والوں کا خون پاکستان یا شام و عراق اور ترکی میں مرنے والوں کے خون سے زیادہ سرخ ہوتا ہے۔ مساوات اور یکساں حقوق کا علمبردار براعظم اپنی حدود میں دہشت گردی پر ردعمل دکھاتے ہوئے ان اصولوں سے گریز کی صورت پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے جن کی بنیاد پر یورپی یونین وجود میں آئی تھی اور جو جدید معاشروں کی بنیاد ہیں۔ یہ دو اصول افراد اور سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت ہے۔ یورپ کے لیڈروں نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران درجنوں اجلاس منعقد کئے ہیں اور مسلسل کوشش کی جا رہی ہے کہ آزادانہ نقل و حرکت کے اس حق کو محدود کیا جائے۔ وہ لیڈر جو جنگ اور ناانصافی کے ستائے ہوئے لوگوں کو پناہ دینے کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اب شام جیسے جنگ زدہ ملک کے لوگوں کو اپنے ملکوں سے نکالنے کے لئے اقدامات تجویز کر رہے ہیں۔ ہفتہ عشرہ قبل ترکی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدہ کے تحت ترکی سے سمندر کے راستے یونان آنے والے پناہ گزینوں کو فوری طور سے واپس ترکی بھیجنے کی راہ ہموار کر لی گئی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوگان نے یورپ اور اس کے لیڈروں کے دوہرے معیار پر پھنکارنے کے بعد بالآخر اپنے ملک اور اپنے شہریوں کے لئے مراعات کے عوض شام کے پناہ گزینوں کی تقدیر کا سودا کر لیا۔ اس لئے عالمی لیڈر جب کسی سانحہ کے بعد کسی اصول یا عزم کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی وہ ان اصولوں سے نظر چرا کر قومی مفاد کا تحفظ کرنے کے راستے تلاش کرنے کی کوشش بھی کرنے لگتے ہیں۔ پیرس سانحہ کے بعد یورپ بھر میں پناہ گزینوں کے لئے پائے جانے والے خیر سگالی کے جذبات خوف اور اندیشوں میں تبدیل ہو گئے۔ کرسمس کے موقع پر کولون اور جرمنی کے دیگر شہروں میں عرب اور ایشیائی نوجوانوں کے جتھوں نے خواتین پر جنسی حملے کر کے اس خوف اور بدگمانی میں مزید اضافہ کیا۔ اب یورپ کا ہر ملک اپنے اپنے طور پر اور یورپین یونین اجتماعی طور پر ایسے انتظامات کرنے میں مصروف ہے کہ نئے پناہ گزینوں کا راستہ مسدود کیا جائے اور جو لوگ کسی نہ کسی طریقہ سے یورپ کے کسی ملک میں پہنچ چکے ہیں، ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو واپس بھیجنے کا ” قانونی اور اخلاقی طور سے درست “ راستہ تلاش کیا جائے۔ برسلز حملوں کے بعد ان کوششوں میں تیزی آنا لازم ہے۔

پولینڈ کے وزیراعظم بیاٹے زیدلو BEATA SZYDLO نے فوری طور پر اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ کسی پناہ گزین یا امیگرنٹ کو اپنے ملک میں آباد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہنگری پہلے ہی اس قسم کا اعلان کرتا رہتا ہے۔ مشرقی یورپ کے سارے ملک یونان سے پناہ گزینوں کو اپنے ملکوں سے گزر کر وسطی اور شمالی یورپ جانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اب ان کوششوں کو مزید مربوط کیا جائے گا اور یورپ کے عوام اور لیڈر انہیں جائز اور درست اقدام قرار دیں گے۔ امریکہ میں صدارتی مہم میں شریک ڈونلڈ ٹرمپ نے برسلز حملوں کے بعد ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ مسلمان مغربی معاشروں میں ضم ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ مختلف لوگ ہیں۔ انہیں امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ تو ایک انتہا پسند اور منہ پھٹ لیڈر کا بیان ہے لیکن ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ کے لئے ہاتھ پاﺅں مارنے والے دوسرے امیدوار ٹیڈ کروز نے برسلز سانحہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں جن علاقوں میں مسلمان آباد ہیں، وہاں بہتر کنٹرول کے لئے پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے۔ یورپ میں دائیں اور بائیں بازو کے لیڈر یکساں طور سے امیگریشن کنٹرول کے حوالے سے ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن ان کے الفاظ کا چناﺅ ذرا محتاط ہوتا ہے۔ اس لئے یہ مانا جائے یا اس سے انکار کیا جائے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یورپ میں ہونے والا ہر دہشت گرد دھماکہ اگر مساوات ، احترام قانون اور انسانوں کی برابری کے اصولوں پر حملہ ہے تو ہر بار وہ ان اصولوں کو ختم تو نہیں کر پاتا لیکن انہیں لہولہان ضرور کرتا ہے۔ مغربی لیڈروں کو اس وقت دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں اپنے لوگوں اور معیشت کی حفاظت کرنی ہے لیکن انہیں انسانی حقوق کے احترام کا جھنڈا بھی اٹھائے رکھنا ہے۔ یہ کڑا امتحان ہے۔ یورپی لیڈر اس میں پورا اترنے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں۔

لیکن یہ بھی تصویر ہی کا پہلو ہے کہ ہر دہشت گرد حملہ کے بعد یورپ میں آباد لوگوں کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دراڑ پڑ جاتی ہے۔ اسے خوف اور شبہ کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس خوف کی بنیاد پر سیاست کرنے والے لیڈروں اور گروہوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ یہ لیڈر اس نئی صورتحال میں مقبول بھی ہو رہے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں کی سیاسی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت اور صلاحیت بھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ نیا رجحان بھی باالواسطہ طور سے انتہا پسند دہشت گردوں کی حکمت عملی اور طریقہ جنگ کی کامیابی ہی کہی جا سکتی ہے۔ یورپ میں 6 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اہم یورپی شہروں میں مسلمان آبادیوں کی تعداد دس سے 20 فیصد تک ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ابھرنے والی تحریکیں اس اہم اقلیت اور اکثریت کے تعلق میں فاصلہ پیدا کر رہی ہیں۔ مین اسٹریم لیڈر ان خطرات سے آگاہ ہیں۔ اسی لئے ہر سانحہ کے بعد یہ کہنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی قوت مسلسل ان آوازوں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔

یورپ میں آباد مسلمان نہ تو ہم خیال ہیں اور نہ مسلکی اور انتظامی لحاظ سے وہ ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی طرف سے ابھی تک دہشت گردوں کی طرف سے سامنے آنے والے خطرات کا اندازہ کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس اور موثر اقدام دیکھنے میں نہیں آئے۔ اکثر مذہبی رہنما بھی سیاسی لیڈروں کی طرح مذمت کا بیان ضرور دیتے ہیں لیکن جو بیان عملی کوششوں کا نقطہ آغاز نہ بن سکے، اسے کوئی خاص اہمیت دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی مختلف ملکوں سے سامنے آنے والے جائزوں میں یورپ اور امریکہ میں آباد مسلمانوں کی بڑی تعداد (بعض صورتوں میں 50 فیصد تک) معاشروں میں شرعی قوانین کے نفاذ کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ اس سے دیگر باتوں کے علاوہ یہ اندازہ کرنے میں غلطی نہیں کی جا سکتی کہ یہ لوگ معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بے بہرہ ہیں۔ مقامی آبادیاں اس رائے پر یہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ سارے لوگ دہشت گرد گروہوں کی باالواسطہ حمایت کر رہے ہیں۔ انتظامی سطح پر اس کنفیوژن میں اضافہ ہوتا ہے کہ ایسے مسلمان کیا اپنے گھروں ، محلوں اور عبادت گاہوں میں پروان چڑھنے والے انتہا پسندوں کے بارے میں حکام کو اطلاع دینا ضروری سمجھیں گے یا نہیں۔

یورپ کی سرزمین پر دہشت گرد حملوں سے یہ اندیشہ تو قوی ہوتا ہی ہے کہ نوجوان مسلمان اس رجحان کو اپنانے لگیں گے اور انہی ملکوں کے خلاف جنگ آزما ہوں گے جہاں وہ پیدا ہوئے اور جو ان کا وطن اور بعض صورتوں میں ان کے والدین کی بھی جائے پیدائش ہے۔ لیکن مسلمان رہنما اور تنظیمیں ابھی تک اس خطرے کو بھانپنے میں ناکام ہیں کہ مٹھی بھر انتہا پسند اور دہشت گرد بہت سے نوجوان مسلمانوں کو اپنے ہی عقیدہ سے برگشتہ کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ کل کے سانحہ کے بعد ایک انٹرویو میں بیلجیئم کے ایک 19 سالہ نوجوان نے کہا کہ میں نماز پڑھتا ہوں، روزے رکھتا ہوں، لیکن ان حملوں سے میرے عقیدے کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ کیا یہ لوگ میرے ہی ہم مذہب ہیں جو اس بے دردی سے لوگوں کو مارتے ہیں۔ یہ سوچ کر میرا ایمان ڈولنے لگتا ہے۔ ایک اور مسلمان کا کہنا ہے کہ اس سانحہ کے بعد مجھے لگتا ہے کہ بطور مسلمان میں نے بھلائی کے جتنے بھی کام کئے ہیں، وہ سارے ضائع ہو گئے۔ میں ان دہشت گردوں کے بارے میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں حقیقت تسلیم کرنے اور ذمہ داری قبول کرنے سے بھاگ رہا ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں یہ اور داعش کے سارے لوگ جہنم رسید ہوں۔

یہ باتیں یورپ اور مسلمان ملکوں میں مذہب کی بنیاد پر کام اور سیاست کرنے والے سب رہنماﺅں کے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہئیں۔ اب دہشت گرد مسلمانوں کی پوری نسل کو اپنے عقیدہ کے بارے میں شکوک میں مبتلا کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہم بدستور ایسے مباحث سنتے اور پڑھتے ہیں جن میں دہشت گردوں کو منظم تحریک کا حصہ تسلیم کرنے کی بجائے امریکہ اور یورپ کے ظلم سے ستائے ہوئے دل برداشتہ نوجوان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ دہشت گرد گروہوں کی حرکات کو جائز قرار دینا یا یہ کہنا کہ یہ کسی ظلم کا ردعمل ہے دراصل ان انتہا پسند قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ کی غلط پالیسیوں پر حرف زنی جائز اور درست لیکن اس مقصد کے لئے معصوم انسانوں کو ہلاک کرنے والوں کو جواز فراہم کرنا غلط رویہ ہے۔ یہ مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ اس لئے اس مذہب کے ایسے نادان دوستوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کن لوگوں نے ان کے عقیدہ کو یرغمال بنا کر دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے منہ پر کالک پوتنے کا کام شروع کیا ہے۔ ایسے لوگوں کی حمایت انسانی اور دینی لحاظ سے غلط اور ناقابل قبول ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 500 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali