ایران کے صدر حسن روحانی کا دورہ پاکستان


roshanپاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات اگر برے نہیں تو اس حد تک مثالی بھی نہیں کہے جاسکتے جو مشترک مذہبی، ثقافتی، تمدنی اور معاشرتی اقدار کے حامل دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان ہو سکتے ہیں۔ امریکہ سمیت دنیا کے دیگر اہم ملکوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران کا خصوصاً مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات کے ایک خوشگوار دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ حسن روحانی کا موجودہ دورہ پاکستان اس بات کی گواہی ہے کہ وہ صرف مغرب ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بھی اپنے خوشگوار اور مثالی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمد نوازشریف بھی ایران گئے تھے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران میاں نوازشریف کے دورہ ایران سے یقیناً ان کی طرف سے ایرانی قیادت اور عوام کو خیر سگالی جذبات پر مبنی مثبت پیغامات دیئے گئے تھے۔ شاید اسی وجہ سے ایرانی صدر کا دورہ پاکستان ممکن ہوا۔

12 نومبر 1948 ءکو ایران کے صوبہ سمنان کے شہر سرخہ میں پیدا ہونے والے حسن فریدون روحانی 4 اگست 2013 ءکو منصب صدارت پر فائز ہوئے۔ اپنے شہر اور پھر قم کی مذہبی درسگاہوں سے تعلیم کی ابتدائی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد حسن روحانی نے حصول علم کا سفر جاری رکھتے ہوئے یونیورسٹی آف تہران سے قانون کے شعبہ میں ڈگری حاصل کی۔ حسن روحانی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے سکاٹ لینڈ کی گلاسکو کیلیڈونین یونیورسٹی گئے جہاں سے انہوں نے پہلے ایم فل اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ حسن روحانی 1980 ءسے 2000 ءتک پانچ مرتبہ مجلس شوریٰ اسلامی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دوران وہ تین مرتبہ مجلس خبرگان رہبری کے رکن بھی چنے گئے۔ 1980 ءسے 1988 ءتک انہوں نے مجلس شوریٰ اسلامی کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ 1992 ءسے 2000 ءتک وہ مجلس شوریٰ اسلامی کی تشکیل برائے قومی سلامتی پالیسی کے امور خارجہ کمیشن کے سربراہ رہے۔ جون 1992 ءمیں وہ مجلس شوریٰ اسلامی کے پہلے ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح 1989 ءسے 2005 ءتک انہیں شوریٰ اعلیٰ ملی امنیت کے سربراہ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ جوہری توانائی کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران اور جرمنی کے نمائندوں پر مشتمل جس ٹیم کے ساتھ ایران کے مذاکرات کا طویل سلسلہ جاری رہا اس میں حسن روحانی نے ایرانی شوریٰ اعلیٰ ملی امنیت کے سربراہ کے طورپر انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

rouhani_2600732bحسن روحانی کو صرف اندرونی طور پر ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ایران کی لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے حق میں اٹھنے والی ایک مؤثر آواز سمجھا جاتا ہے۔ حسن روحانی نے ایران کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے بعد نتخابی مہم کے دوران اپنا آئندہ کا لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے قوم سے وعد ہ کیا تھا صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ عوامی حقوق پر مبنی ایک نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دیں گے۔ ان کا مﺅقف تھا کہ نہ صرف عالمی سطح پر ایران کی حیثیت ایک اہم معاشی قوت کے طور پر بحال ہو گی بلکہ مغربی اقوام کے ساتھ ایران کے بہترین تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوگا۔ اگست 2013ءمیں صدارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے اب تک حسن روحانی نے جو کردار ادا کیا ہے اس سے یہ بات بڑی حد تک ثابت ہوتی ہے کہ وہ تندہی کے ساتھ اپنی انتخابی مہم کے دوران پیش کیے گئے پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔

ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے دو ہفتہ قبل لاہور میں تعینات ایران کے قونصل جنرل جناب محمد حسین بنی اسعدی نے مختلف اخبارات کے کالم نگاروں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران اشارہ دیا تھا کہ جوہری معاہدے کے تحت ختم ہونے والی اقتصادی پابندیوں کے بعد ایران اب عالمی سطح پر اقتصادی لحاظ سے اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم کرتے ہوئے کسی بھی ملک کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے کہ ایران کے کسی تیسرے ملک سے معاشی و تجارتی رابطوں کی نوعیت کیا ہے۔ علاقے کے دیگر ملکوں سے ایران کے تجارتی تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ ایران اور بھارت کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر تجارتی عمل جاری ہے ۔ ایران نے چاہ بہار کو فری ٹریڈ علاقے کی حیثیت دیتے ہوئے پوری دینا کی تاجر برادری کو سرمایہ کاری کی دعوت دے رکھی ہے جس سے بھارت کے کاروباری لوگ بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے فروغ کے امکانات پر بات کرتے ہوئے بنی اسعدی نے بتایا تھا کہ وہ گذشتہ تین برس سے لاہور کے ایرانی قونصل خانہ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے کئی مرتبہ لاہور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سے ملاقات کر کے انہیں دعوت دی کہ وہ ایرانی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں مگر انہیں مثبت جواب نہیں مل سکا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران پاکستانی تاجروں کے لیے چاول برآمد کرنے کی ایک بڑی منڈی ثابت ہو سکتا تھا مگر ایرانی قونصل خانہ کی ترغیب کے باوجود پاکستانیوں کی طرف سے اس کاروباری موقع کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے آج بھارت کا چاول ایران میں اپنی طلب پیدا کر چکا ہے۔

یاد رہے ایران کو آج اس وجہ سے دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت تصور کیا جارہا ہے کیونکہ ترقی پذیر ملکوں میں ایران واحد ایسا ملک ہے جس کے انسانی وسائل ترکی کی طرح، سعودی عرب کی طرح کے خام تیل کے ذخائر، قدرتی گیس کی فراوانی روس جیسی اور معدنی وسائل آسٹریلیا جیسے ہیں۔اقتصادی پابندیوں کے باوجودایران تیل کے ذخائر کی وجہ سے اپنے ملک میں صنعتی ڈھانچے کو قائم و دائم رکھنے میں کامیاب رہا۔ اس وقت ایران کا شمار لوہے کی پیداوار میں دنیا کے پہلے 15ملکوں،آٹو موبائل انڈسٹری میں بھی دنیا کے پہلے 15 ملکوں اور سیمنٹ کی پیداوار میں دنیا کے پہلے 5 بڑے ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سائنس کے کئی شعبوں میں ایران کی ترقی فقید المثال سمجھی جارہی ہے۔ سائنسی ترقی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ایران کو کوئی ثانی نہیں ہے۔

مذکورہ صنعتی، انسانی و معدنی وسائل کے حامل ایران کے متعلق یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں اقتصادی ترقی کرتے ہوئے عالمی سطح پروہ کس مقام پر فائز ہو سکتا ہے۔ اس قدر اقتصادی ترقی کی استعداد کے حامل ایران کے ایک ایسے صدر اس وقت پاکستان کے دورے پر ہیں جن کی شہرت انتہائی معتدل مزاج اور بہترین انسان دوست کی سی ہے۔ حسن روحانی توانائی کے بحران کے شکار پاکستان کو کئی ہزار میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ و ہ ایران سے اقتصادی تعاون کے معاملے میں لاہور میں تعینات ایرانی قونصلیٹ محمد حسین بنی اسعدی کی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے توانائی کے شعبے کے علاوہ دیگر پہلوﺅں پر بھی غور کرے۔


Comments

FB Login Required - comments