نقلی کہانی کے دوہرے کردار !


CLBPxQnVEAEhnYVفلسفہ کائنات بھی کتنا عجیب ہے بدلتے موسموں اور گذرتے لمحوں کے اس سفر میں کل تک جو رہزن تھے آج وہی رہبر بن کروقت کے اس بھتے دھارے میں چلنے والوں کا سود ا کر رہے ہیں، بکنے والے کل بھی بن داموںبِک رہے تھے اورآج بھی یوسف کنعاں اسی بازار مصر میں ارزاں فروخت ہورہے ہےں کیاہوا جو ادوار بدل گئے بیچنے والے کل بھی انسان کا روپ دھارے اسی بیو پار میں مصروف تجارت تھے اور آج بھی یہ بازار سجتا ہے ،اطوار بدل گئے تو کیا ہوا ،اغےار تو آج بھی وہی ہیں ۔
یہ داستان کوئی الف لیلوی داستان نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے ،کہتے ہیں کہانیاں کبھی پرانی نہیں ہوتیں نسلیں جوان ہوجاتی ہیں لیکن کہانی کے کردا راسی ایک موڑ دم سادھے کھڑے ملتے ہیں ،یہ کہانی ہے اس وطن کی جس کو وجود ملتے ملتے لاکھوں زندگیا ں خاک میں ملیا میٹ ہو گئیں تھیں ،سروں کی کٹتی فصلیں اور پاک اجسام سے بہنے والے خون کی ندیاں بھی جب کسی قوم کو کو ئی مقصد نہ دے سکیں تو پھر کسی لیڈر یا راھنما میں وہ طاقت نہیں کہ وہ بگڑتے کھیل کو سنوارسکے یا پھر اجڑی ہوئی تقدیروں کے ماتھے پر فتح یابی کا سہرا سجا سکے ،کوئی چاہے کچھ بھی کہے لیکن وہ زوال کو عروج میں نہیں بدل سکتا ،جانے والوں کو یاد رکھنے کے لےے جگہوں کے نام تبدیل کرنے کے فیصلے تو صرف اس سمندری جھاگ کی طرح ہیں جو بڑھتی لہرو ں کی عناےت ہوتے ہےں لہریں جب واپس پلٹتی ہیں تو اس جھاگ کا غرور بھی ملیا مےٹ ہو جاتا ہے ۔
وطن کی اس کہانی میں آج تک جو کردا ر بھی آیا اس کے جانے کی خوشی اس کے آنے سے کہیں زیادہ ہوئی ،کیوں کہ اس نے محبتوں کے حصول کے بجائے نفرتوں کو پروان چڑھا کر وقتی فوائد حاصل کیے اور پھر کاتب تقدیر نے اس کے کرتوتوں کے عوض اسے اوج ثریا سے پاتال کی گہرائیوں میں لا پھینکا ،کون ہے جو یہ دعویٰ کرسکے کہ آئینہ سامنے آنے پر بھی اسے ندامت نہیں ہوتی ،کون ہے جو یہ دعویٰ کرسکے کہ رات کے اس پہر جب لوگ محو استراحت ہوتے ہیں تو کوئی ایک ہاتھ بھی اس کے حق میں دست دعا ہوتا ہے ، کردارتو وہ ہوتے ہیںجو کہانی میں مرتے مرتے بھی سماعتوںکی دہلیز پھلانگ کر سامعین کے دلوں کے ایک سحر میں مبتلاکردےتے ہیں جس سحر کے زیر اثر آکر سامع کی آنکھ بھی بھر آتی ہے ،اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سامنے والے سے نظریں چرا کر آہستگی سے ان آنسوو¿ں کو مٹادےتا ہے ،و طن کی اس کہانی میں گذرتے وقت نے بہت سے کرداروں کو یہ موقع فراھم کیا لیکن کوئی بھی کردار اس معیا رپر پورانہ اتر سکا ۔
ایک رواےت سی چل پڑی ہے ہر نیا آنے والا اپنے سے پہلے والے کو گالی دے کر مطمئن ہو جاتاہے اور پھر سے وہی تاریخ کسی نئے انداز سے دہرائی جاتی ہے ،یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ ہمارے یہاں بھی چہرے تبدیل ہوتے ہیں لیکن پالیسیاں وہی رہتی ہیں ،وہ لوگ جو ملک کے لےے کچھ کرنے کا عزم صحیح معنوں میں رکھتے تھے انہیں طاغوتی قوتوں نے یا تو راستے سے ہٹا دیا ،یا پھر انہیں وطن کے لےے کچھ کرنے نہیں دیا ،حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں ،عوام مہنگائی کے شکنجے میں اس طرح جکڑی ہوئی ہے کہ اسے کچھ اور سوجھتا ہی نہیں ،اس ملک میں مسائل کا انبار ہے ،حکمران یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان تمام مسائل سے چھٹکارا پالیںگے لیکن عمل ناپید ہے جس کی وجہ سے آنے والا ہر دن ملک کو پیچھے کی جانب دھکیل رہا ہے ۔
ہر د ن کوئی نیا بحران پیدا ہورہا ہے ،اس میں قصور کس کا ہے ؟اس کا تعین کون کرے گا یہ کسی کا دردِ سر نہیں ،جب تک اس ملک میں ایک ڈکٹیٹر قابض تھا اس وقت تک ہر جمہوری حکمران ایک ہی راگ الاپتا پھر رہا تھا کہ تمام مسائل کی جڑ ایک فرد واحد ہے اسی فردِ واحد کو لے کر جمہوری قوتوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ،عوام کو بھی لگا کہ واقعی ڈکٹیٹر شپ اس ملک کو لے ڈوبے گی چنانچہ انتخابات میں عوام نے جمہوری طاقتوں کا ساتھ دیا اور انہیں کامیاب کرایا ،جمہوری قوتوں نے بھی آکر سو دنوں کا پروگرام ترتےب دیا لوگ خوش تھے کہ سودن کے اندر اس ملک کی تقدیر سنور جائے گی یا کم سے کم حالات میں کچھ نا کچھ بہتری ضرور آئے گی ،ان سو دنوں کو پورے ہوئے بھی سو دن گزر گئے لیکن ہوا کیا ،یہی کہ وہ عوام جو کل تک کھینچ تان کر کسی نا کسی طرح گزارا کررہے تھے آج وہ گزارا بھی مشکل ہو چکا ہے ۔
اسے آپ جمہورےت کا تحفہ کہئے یا پھر کچھ بھی محض چہروں کی تبدیلی ہوئی ہے ،ایک عام آدمی کو ڈکٹیڑشپ یا جمہورےت سے کوئی سروکار نہیں ،پچھلے دنوں ن لیگ کے ایک ذمہ دار کا بیان نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اپنے کارناموں کا تفصیلی ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے ثابت کردیا کہ عوام نے جو ہم پر اعتماد کیا تھا اس میں ہم پور ا اترے ،لیکن پتہ نہیں کیوں مجھ جیسے ایسے کتنے عاقبت نااندیش لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ بیان جاری کرنا بڑا آسان ہے لیکن عملی طور پر کوئی قدم اٹھانا نہاےت مشکل ہے وہ لو گ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم تبدیلی لے آئے ان کو چاہئے کہ ایک دن کے لےے وہ عوام کے درمیان گزار کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ایک عام آدمی کیا سوچتا ہے ،اس کی نظر میں تبدیلی کیا ہے؟ہمارا المیہ اس وقت یہ ہے کہ وہ لو گ جو صاحبِ اقتدار ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے عوام کی خدمت کا موقع دیا ہے وہ لو گ اقتدار میں آکر عوام کو فراموش کردےتے ہیں ،اور پھر جب ان کے پاس کچھ کرنے کا موقع نہیں رہتا تو پھر ان کا کام موجودہ حکومتوں پرمحض تنقید کرنا رہ جاتا ہے ۔
خدا کرے ہمارے حکمران اس مشکل دور میں عوام کے لےے کچھ کر سکیں ورنہ لکھنے والا جب اس دور کی تاریخ لکھے گا تو ان تمام کرداروں کا ذکر کہانی کے ہیروکے بجائے اس ولن کا ہوگا جس کو کوئی پسند نہیں کرتا !


Comments

FB Login Required - comments