عابد بخاری صاحب  کا مولانا آزاد پر ناشائستہ حملہ


shakil chadhriسید عابدعلی بخاری صاحب نے مولانا ابوالکلام  کے بارے میں اپنےمضمون میں بہت زیادہ جذباتی اور نا شائستہ لفاظی سے کام لیا ہے۔  اگر وہ حقائق کی چھان بین پر ذراسی محنت کرلیتےتو ان کے دلائل اتنے سطحی  نہ ہوتے۔اس تحریر کو کسی بھی طرح محققانہ اورمتوازن قرارنہیں دیا جاسکتا۔ ہمارے تعلیمی نظام میں طلبہ کی تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت بڑھانے پر ذرا بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ کو تعلیم دینے کے بجائے ان کی برین واشنگ کررہے ہیں۔
بخاری صا حب نے یہ  فتویٰ  صادر کردیا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ پاکستان معرضِ وجود میں نہ آیا ہوتا تو بھارت کی آبادی میں اٹھارہ کروڑ مسلم غلاموں کا اضافہ ہو چکا ہوتا جن کی حیثیت شودروں سے بھی کمتر ہوتی۔‘ انہوں نے بنگلہ دیش کے پندرہ کروڑ مسلمانوں کو  کیوں نظر انداز کردیا ہے؟  کیا وہ پاکستان  سے علیحدہ ہوکر مسلمان نہیں رہے؟ کیا وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دعوے کے برعکس ہندوستانی مسلمان خود کو غلام نہیں سمجھتے؟  کیا جمعیت علماء ہند‘ جماعت اسلامی ہند‘ انڈین یونین مسلم لیگ‘ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین  اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے رہنما اپنے آپ کو غلام سمجھتے ہیں؟  کیا مسلم دورحکومت میں ہندوغلام تھے؟  اگربادشاہت میں ہندو غلام نہیں تھے تو جمہوری دور میں مسلمان غلام کیسے  بن جاتے؟  کیا مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمان بھی غلام ہیں؟

ایسا لگتا ہے کہ مولانا آزاد اورہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بخاری صاحب کی معلومات سنی سنائی بلکہ خیالی باتوں پرمشتمل ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ ہندوستان   جاکر وہاں کے  مسلمانوں سے ملیں ۔ اگر فی الحال ایسا ممکن نہیں تو پھرفیس بک  یا ای میل کے ذریعے ہی ان سے رابطہ کرلیں۔  انہیں  کم از کم اسدالدین اویسی ‘ ذاکرنائیک  اور ایم جے اکبرسے ضرور رابط کرنا چاہئے۔  ہوسکتا ہے کہ بخاری صاحب کو لینے  کے دینے پڑ جائیں۔
اگرکسی ہندوستانی مسلمان  نے پاکستانیوں کو غلام قراردے دیا تو بخاری صاحب کیا جواب دیں گے؟  وہ بخاری صاحب سے پوچھ سکتے ہیں:   آپ  کے ہاں دو قسم کے قانون کیوں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ آپ نے ایک شخص کے قتل کے الزام میں بھٹو کوتو پھانسی  دے دی اور سینکڑوں افراد کے قتل کے ملزم مشرف پر مقدمہ بھی نہ چلاسکے؟   ایک طرف آپ کا آئین تمام شہریوں کے حقوق کی برابری کی بات کرتا ہے  اور دوسری طرف غیر مسلموں کو ریاست کے اعلی ٰ ترین عہدوں کے لئے نااہل   قراردیتا ہے۔ اس  تضاد کی وجہ کیا ہے؟   آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے بنایا گیا تھا تو پھر آپ نے مولانا شبیر احمد عثمانی  کے بجائے جوگندر ناتھ منڈل  نامی ایک ہندوکو اپنا پہلاوزیرقانون کیوں بنایا تھا؟  منڈل صاحب  انیس سو پچاس میں پاکستان چھوڑ کر ہندوستان کیوں چلے آئے تھے؟ انہوں نے اپنے استعفا کے خط میں یہ کیوں لکھا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلموں اور خاص طور پرہندوؤں کے لئے کوئی جگہ نہیں؟ واضح رہے کہ اس سال مشرقی پاکستان میں دس ہزار ہندو موت کے گھاٹ اتار دئے گئے تھے۔منڈل صاحب کے استعفا کا متن مندرجہ ذیل لنک پر موجود ہے۔ https://en.wikisource.org/wiki/Resignation_letter_of_Jogendra_Nath_Mandal
وہ آپ سے یہ  بھی پوچھ سکتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ دنیا کا توہین مذہب کا سخت ترین قانون پاکستان ہے ۔اس کے باوجود توہین مذہب کے سب سے زیادہ واقعات پاکستان میں کیوں رپورٹ ہوتے ہیں؟  کیا یہ درست ہے کہ اس قانون کے تحت ملزم کو سزا دینے کے لئے اس کی نیت کاکوئی کردارنہیں؟ اس قانون کے بارے میں جاوید غامدی صاحب کیوں یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن و حدیث کی تعلیمات اور فقہائے احناف کی آراءکے خلاف ہے؟  اس مسئلہ پر مولانا وحیدالدین خان کی کتاب پر پاکستان میں پابندی کیوں ہے؟ پاکستانی ریاست اور معاشرے کو احمدی اور لاہوری فرقوں کو غیر مسلم قراردے کرکیا فائدے حاصل  ہوئے؟ اگراحمدی واقعی غیرمسلم ہیں تو پھرایک احمدی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کیسے بن گئے تھے؟ تقسیم سے پہلے مسلم لیگ نے ضلع گورداس پور میں مسلمانوں کی اکثریت ثابت کرنے کے لئے   احمدیوں کو مسلمان شمار کر  نے پر کیوں اصرار کیا تھا؟   سردارشوکت حیات  نے اپنی سوانح عمری ’گم گشتہ قوم‘ میں کیسےیہ لکھ دیا ہے کہ  جناح صاحب نے انہیں حکم دیا  تھاکہ ’تم قادیان جاؤاور حضرت صاحب کو میری درخواست پہنچاؤکہ وہ حصول پاکستان کے لئے اپنی نیک دعاؤں اورحمایت سے نوازیں‘؟ شانتی نگر‘گوجرہ‘سانگلہ ہل ‘بادامی باغ  اور شادباغ  کالونی میں رہنے والے مسیحی لوگوں پر حملے کیوں کئے گئے تھے؟  ان میں سے کتنے حملہ آوروں کو سزادی گئی؟  ڈاکٹر اے کیوخان کے مطابق ہم نے  مشرقی پاکستان میں اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل عام کیا تھا۔  کیا اس کے ذمہ داروں میں سے میں کسی کو سزا ہوئی تھی؟ بخاری صاحب نے گجرات کے فسادات کا تذکرہ بھی کیا ہے ۔کیا انہیں معلوم ہے کہ ان فسادات میں ملوث ہونے کے باعث گجرات کی سابق وزیر  مایا کودنانی اٹھائیس سال اور بجرنگ دل کے رہنما بابو بجرنگی عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں؟

بخاری صاحب  نےصحیح کہا ہے کہ ’علم و تحقیق کا سفر ریاضت مانگتا ہے۔ ہنگامہ ہائے حیات میں یہ بہر طور ایک مشکل منزل ہے۔ میرے نزدیک یہ امر قابل افسوس ہے کہ کسی شخص کا علم و فضل یا احترامِ ذات ہمیں حق گوئی سے باز رکھے۔‘ بخاری صاحب کو چاہیئے کہ وہ اب علم و تحقیق کا سفر شروع کر ہی دیں۔ کوئی بات نہیں اگر یہ ریاضت  مانگتا ہے۔ اور ہاں حق گوئی اور زبان درازی کا فرق ضرورملحوظ خاطر رکھیں۔
بخاری صا حب  نے  ایک’ غیر متعصب‘ برطانوی  تاریخ دان کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہہ ہندوستانی ’مسلمان تعلیم اور ملازمتوں سے باہر ہیں۔‘ میں نے دودفعہ بخاری صاحب  سے اس برطانوی تاریخ دان کا پورا نام پوچھا لیکن انہوں نے اب تک میری درخواست کو شرف قبولیت نہیں بخشا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا جدید تعلیم کی طرف رجحان کم رہا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں ۔ حکومت نے اس صورت حال کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔ اسی مقصد کے لئے سچر کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔  (پاکستان  میں اس طرح کی کمیٹیاں نہیں بنائی جاتیں۔ ) لیکن یہ کہنا کہ وہ تعلیم اور ملازمتوں سے باہر ہیں انتہائی مضحکہ خیز بات  ہے۔ہندوستان میں برما کی طرح مسلمانوں پر جدید تعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہندوستان میں ایران والی صورت حال بھی نہیں جہاں بہائیوں کو اعلی ٰتعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔
بخاری صاحب شاید نہیں جانتے کہ تین مسلمان ہندوستان کے اعلیٰ ترین عہدے یعنی صدارت پر فائز رہ چکے ہیں۔ چار مسلمان ہندوستان کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔وہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ‘ سیکرٹری خارجہ ‘ چیف الیکشن کمشنرز‘ وائس چانسلرز‘ گورنرز‘سفراء‘ ایڈیٹرز‘ انٹیلی جینس بیورو کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے متمول ترین مسلمان عظیم پریم جی کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ ہندوستان کے موجودہ نائب صدرحامدانصاری متحدہ عرب امارات‘ ایران‘سعودی عرب‘ افغانستان اوراقوام متحدہ میں سفیر رہ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے موجودہ سفیر کا نام سید اکبرالدین ہے اور اس سے پہلے وہ وزارت خارجہ کے ترجمان تھے۔ ان کے والد سفیر اور وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ پاکستان میں کتنے ہندو اعلی ٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں؟ یہ بھی فرما دیجئے کہ تقسیم کے وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد کتنی تھی اور اب کتنی ہے اور یہ کہ پاکستان میں اس وقت کتنے ہندو تھے اور اب کتنے ہیں؟ بنگلہ دیش کے قیام سے پہلے پاکستان میں ہندوآبادی کا کتنے فیصد تھے؟

بخاری صاحب  کو پاکستان میں تعلیم کی صورت حال پربھی کچھ توجہ دینی چاہیئے۔ و زیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمان نے6 اگست 2015کو کہا  تھاکہ بچوں کے سکول چھوڑنے کی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق تیس فیصدپاکستانی بچے سکول نہیں جاتے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے مطابق پاکستان میں چھ اور سولہ کی درمیانی عمر کے اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے۔
بخاری صاحب نے اکیس مارچ کو  فیس بک پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت عدم برداشت اور تشدد کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ صورت حال کب پیدا ہوئی؟ کیا اس سے پہلے بھی پاکستانیوں کی ہندوستان  کے بارے میں بھی یہی رائے نہیں تھی؟کیا پاکستانیوں نے کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کو سیکولر تسلیم کیا؟ کیا یہ تنقید پاکستان پر لاگو نہیں ہوتی؟ کیا ہمارا جذبہ حب الوطنی ہمیں یہ سچ بولنے کی اجازت دے گا؟ کیا ہندوستان کے  کچھ سیکولر حلقے یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کا ملک بھی پاکستان کے راستے پر چل پڑا ہے؟ پاکستان کی ایک شاعرہ نے تو اس پر ایک نظم بھی لکھ دی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کے انتہا پسند ا ب تک اپنے ملک  کو ہندوریپبلک نہیں بناسکے ہیں۔ہمیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں۔

ایک طرف تو بخاری  صاحب کہتے ہیں کہ ’ابوالکلام آزاد کے بارے میں جو اندازِ بیان ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ قابل تحسین اور لائق ستائش نہیں۔‘ اس کے بعد انہوں نے نہ صرف خودمولاناآزاد کے بارے میں ناشائستہ زبان استعمال کی بلکہ ان کے بارے ناشائستہ ترین پھبتی کو جواز بھی بخش دیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ انہیں اپنا یہ تضاد کیوں نظر نہ آیا۔ بخاری صاحب نے فرمایا ہے کہ ’مسلمانانِ ہند کے موجودہ حالات کے ذمہ داروں میں سب سے اوپر شائد آزاد ہی کا نام آتا ہے۔ آزاد کا تعلق اس قبیل سے تھا جنہوں نے بھارت کے مسلمانوں کو غلامی کا درس دینے میں اپنی زندگی کی قیمتی ساعتیں صرف کیں۔ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی اسلامی شناخت ظاہر کرتے گھبراتے ہیں۔ اپنی ذاتی دنیا میں بے باک، کھرے اور ریاضت کیش آزاد دلیل کی دنیا میں نہ جانے کیوں کمال ہنر مندی سے ڈنڈی مار گئے ہیں۔ انہوں نے سر زمینِ ہند میں مسلمانوں کے قلب و نظر میں غلامی کے تصور کو راسخ کرنے میں ناقابلِ بیاں حد تک اہم کردار ادا کیا۔ بہت سلیقے کے ساتھ کانگریس، ہندوؤں اور انگریزوں کا ساتھ نبھایا۔‘

آزادی  کے لئے گیارہ برس انگریز کی جیل میں گزارنے والے پر یہ الزام لگانا کہ انہوں غلامی کے تصور کو راسخ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ نبھایاتاریخ کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ حیرا ن ہوں‘ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں۔ کاش اتنی  بڑی زبان درازی  کرنے سے پہلے بخاری صاحب  نے پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر چودھری خلیق الزمان کی سوانح عمری ’شاہراہ پاکستان‘ہی  کا مطالعہ  کرلیا ہوتا۔ اس سے انہیں پتہ چلتا  کہ تقسیم ہند سے ایک ہفتہ پہلے دہلی مسلم لیگ کے ایک عہدے دار نے کس طرح جناح صا حب کو لاجواب کردیا تھا۔ چودھری صاحب کے خیال میں یہ اس گفتگو کا نتیجہ تھا کہ جناح صاحب نے اپنی گیارہ اگست کی مشہورتاریخ میں  دوقومی نظریہ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ چودھری صاحب نے حسین شہیدسہروردی کاتائیدی انداز میں حوالہ دیا ہے کہ دو قومی نظریہ مسلمانان ہند کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔کیا یہ حقیقت نہیں تقسیم ہند کےبعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلم لیگی منہ چھپاتے پھرتے تھے؟   انہیں مرنے مارنے کے جذباتی نعرے بھول چکے تھے اور ان کے رہنما انہیں یکہ وتنہا چھوڑ کر کراچی تشریف لے جا چکے تھے۔وہ مسلم آئی سی ایس  افسروں کی ایک  بہت بڑی تعداد بھی اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ اس وقت ہندی مسلمانوں کومولانا آزاد کے علاوہ کس نے سہارا دیا تھا؟ بخاری صاحب کے مطابق مولانا آزاد ہندی مسلمانوں کی بدحالی‘ غربت‘ فاقوں‘مفلسی اور جہالت کے ذمہ دار تھے۔ ان سب مسائل کی ذمہ داری آل انڈیا مسلم لیگ پر کیوں عائد نہیں ہوتی ؟ کیا ان مسلمانوں کی بہت بھاری اکثریت نے مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دئے تھے؟   دوقومی نظریہ کی روشنی میں مسلم لیگ نے ان سب کو پاکستان کیوں نہ بلوایا؟

بخاری صاحب نے بڑے ذوق وشوق سےابو الاعلی مودودی کی اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ ’مولانا نے نماز کے لیے اذان کہی مگر اس کے بعد گہری نیند سو گئے۔‘ کیا مولانا آزاد کو مودودی صاحب کے راستہ پر چلنا چاہیئےتھا؟ بہرحال  دونوں میں آل انڈیا مسلم لیگ کی مخالفت قدر مشترک تھی۔ بخاری صاحب مولانا مودودی کی باتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اس لئے میں ان کی خدمت میں مودودی صاحب کا ایک اور ارشادپیش کرنا چاہتاہوں۔’لیگ کے قائدا عظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔‘

 

  .


Comments

FB Login Required - comments

شکیل چودھری

(شکیل چودھری نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا کی تعلیم بالترتیب اسلام آباد اورلندن میں حاصل کی۔ وہ انگریزی سکھانے والی ایک ذولسانی کتاب ’ہینڈ بک آف فنکشنل انگلش‘ کے مصنف ہیں۔ ان کاای میل پتہ یہ ہے shakil.chaudhary@gmail.com )

shakil-chaudhari has 5 posts and counting.See all posts by shakil-chaudhari

27 thoughts on “ عابد بخاری صاحب  کا مولانا آزاد پر ناشائستہ حملہ

  • 25-03-2016 at 3:07 am
    Permalink

    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

  • 25-03-2016 at 4:47 am
    Permalink

    حق ادا کر دیا جناب نے نقد و جرح اور مواخذہ کا ۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  • 25-03-2016 at 9:41 am
    Permalink

    .Absolutely marvelous response. Thank you so much

    C M Naim

  • 25-03-2016 at 10:29 am
    Permalink

    خوبصورت تحریر ہے. لیکن مصنف سے راھنمائی درکار ہے.
    بقول مجید نظامی مولانا نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تھا. اسی لئے وہ پاکستان تشریف لائے اور مزار قائد پر حاظری دی.

    • 25-03-2016 at 11:40 pm
      Permalink

      سہیل یوسف صاحب‘ مضمون کی تعریف کے لئے میں آپ کا ممنوں ہوں۔ جہاں تک مجید نظامی صاحب کے دعوے کا تعلق ہے‘ کیا انہوں نے کبھی اس کا کوئی ثبوت پیش کیا؟ جناح صاحب کےمزارپر’حاضری‘ سے کس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی ’غلطی کا اعتراف‘کرلیاتھا؟ یہ کام تو لال کرشن ادوانی بھی کرچکے ہیں۔
      براہ مہربانی یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ہندوستان سے نفرت کرنے کے حوالے سے نظامی صاحب کاکوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ جوہری بم بن جائیں اورانہیں ہندوستان پر گرادیا جائے۔

  • 25-03-2016 at 11:23 am
    Permalink

    چودھری صاحب نے بخاری صاحب کی خدمت میں حقائق و دلائل پیش کیے. میری بد گمانی کہ بخاری صاحب پہلے مولانا آزاد کی گم رہی پر ایمان لاے، پھر اپنے ایمان کے ثبوت میں زور بیان کی مدد سے “دلائل” تراشے. اس طرز فکر کا حقائق سے کچھ نہیں بگڑتا. ہاں، پڑھنے والوں میں سے کچھ شاید غلط فہمیوں سے بچ گئے ہوں.

  • 25-03-2016 at 12:52 pm
    Permalink

    شکیل ضاخب نے جس تفضیل کے ساتھ پا کستان میں ھونے والے واقعات کا ذکر کیا ھے اب ذرا اسی تفصیل کے ساتھ ھندوستان میں ھونے والے واقعات کی ایک لسٹ بنا دیں۔ مگر شاید اسکی طوالت” ھم سب” کے لئے ایک مشکل ھوگی۔

    • 25-03-2016 at 10:05 pm
      Permalink

      اسداللہ خان صاحب‘ معذرت چاہتا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والے ناخوشگوارواقعات کا ذکر کرکے میں نے آپ کے جذبۂ حب الوطنی کو ٹھیس پہنچائی۔ جہاں تک ہندوستان میں ہونے والے واقعات کی لسٹ بنانے کا تعلق ہے توآپ خود یہ نیک کام کیوں نہیں کرتے؟ براہ مہربانی اس کی طوالت کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں۔ میں ’ہم سب‘ کے مدیر سے درخواست کروں گا کہ اس مقصد کے لئے ایک خصوصی شمارہ شائع کردیں۔ ورنہ نوائے وقت تو موجود ہی ہے۔ ویسے ہماری قوم کافی عرصے سے یہی کام کررہی ہے۔ لیکن ہمیں اس سے اب تک کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے ہونے والے نقصان کا ہمیں کوئی احساس نہیں ہےاورہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں اس کا احساس دلائے۔

  • 26-03-2016 at 2:22 am
    Permalink

    بہت شکریہ، شکیل صاحب۔ آپ نے ایک فرض کفایہ ادا فرما دیا۔ سلامت رہئے۔

  • 26-03-2016 at 2:51 am
    Permalink

    ‘ ہندوستان سے نفرت کرنے کے حوالے سے نظامی صاحب کاکوئی ثانی نہیں تھا ‘ شکیل صاحب صد شکر کی آپ نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا ھے ورنہ نظامی صاحب کی لگائی ھوئی پنیری جو اب جوان ھو چکنے کے بعد ان کا بھی نمبر کاٹ رھی ھے، کا مستقبل تو تاریک ھو جاتا،،، مثلا زید حامد مجدھم وغیرھم

  • 26-03-2016 at 8:08 am
    Permalink

    میں نے سنا ہے انڈیا کا جاسوس پکڑا گیا ہے شاید کسی محب وطن نے افواہ اڑائی ہو یا نوائے وقت کی سازش ہو..

  • 26-03-2016 at 8:59 am
    Permalink

    سر گائے ذبح کرنے پر مسلمانوں کو جو ذبح کرتے ہیں یہ حقیقت ہے یا حافظ سعید کی چکر بازی ہے؟

  • 26-03-2016 at 9:03 am
    Permalink

    جس دن انڈیا نے پاکستان کو ہرایا اسی دن دو مسلمانوں کو درخت سے لٹکا کر مار دیا گیا، یہ سچی بات ہے یا ضیاءالحق کی باقیات میں سے کسی نے شوشہ چھوڑا ہے؟

    • 26-03-2016 at 5:53 pm
      Permalink

      عبدالرؤف حاطب سیف صاحب‘ میں آپ کی مناظرانہ صلاحیتوں کا قائل ہوگیا ہوں۔ لیکن اگرآپ دلیل اورمتانت سےمیرے مضمون کا جواب دیتے تو بہت بہترہوتا۔ لیکن اس کے لئے آپ کو محنت کرنا پڑتی اوراس کا ہمارے ہاں رواج نہیں ہے۔ آپ نے آسان راستے کا انتخا ب کیا اور چند مناظرانہ پھبتیوں پراکتفا کیا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ چار فقروں کے لئے آپ کو تین posts لکھناپڑیں۔

      اگرآپ اب بھی ان اہم سوالوں پر قلم اٹھائیں تو مجھے خوشی ہوگی۔ مثلاً کیا ہندی مسلمان واقعی غلام ہیں؟ کیا وہ اپنے آپ کو غلام سمجھتے ہیں؟ کیاان کے تمام مسائل کی ذمہ داری صرف اور صرف مولانا آزاد پرعائد ہوتی ہےیا کچھ قصورآل انڈیا مسلم لیگ کا بھی ہے؟ دوقومی نظریہ نے ان کے لئےآسانیاں پیدا کیں یا مشکلات؟

      آپ نے فرمایا ہے کہ ہندوستان میں گائے ذبح کرتے پر مسلماںوں کو ذبح کردیا جاتا ہے۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پچھلے پچاس سال میں کتنے ہندی مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے پر قتل کیا گیا؟ اس کے بعد کیا ہوا؟ کیا کسی کو گرفتار کیا گیا؟ کیا کسی کو سزا ہوئی؟ اسی عرصے میں پاکستان میں کتنے لوگوں کوموت کے گھاٹ اتارا گیا؟ اس کے بعد کیا ہوا؟ کیا کسی کو گرفتار کیا گیا؟ کیا کسی کو سزا ہوئی؟

      آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’جس دن انڈیا نے پاکستان کو ہرایا اسی دن دو مسلمانوں کو درخت سے لٹکا کر مار دیا گیا۔‘ اس کے بعد کیا ہوا اس میں شاید آپ کو کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ آپ کا مقصد سچائی تک پہنچنا نہیں مناظرہ بازی معلوم ہوتا ہے۔ اگرآپ سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ یہ ہندوستان میں کتنا بڑا مسئلہ بنا۔ اگرآپ اب بھی سچائی تک پہنچنا چاہتے ہیں تو اس موضوع کو گوگل کرلیجئے۔

      آپ نے اپنے مناظرنہ جوش میں’ محب وطن ‘افراد کے ساتھ ساتھ نوائے وقت اور حافظ سعیدصاحب کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ان سب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پورا سچ عوام تک نہیں پہنچنے دیتے کیونکہ وہ ہندوستان کے نفرت پھیلانے کو حب الوطنی اور مذہب کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وجہ ہے دنیا کا ایک بھی ملک ایسا نہیں جہاں پاکستان کی طرح ہندوستان سے نفرت کی جاتی ہو؟ اورتواورحافظ سعید صاحب کا پسندیدہ ترین ملک سعودی عرب بھی ہندوستان سے نفرت نہیں کرتا۔ یہ وہ ملک ہے جس نے جواہر لعل نہروکا استقبال رسول السلام کہہ کرکیا گیا تھا۔ اسی کے ایک بادشا ہ نے ہندوستان کو اپنا دوسرا گھر قراردیا تھا۔

      آخر میں بات ہوجائے جاسوس کی۔ آپ کی طرح میں نے بھی یہ سنا ہے کہ ہندوستان کا ایک جاسوس پکڑا گیا ہے اور ہندوستان نے اسے اپنا شہری تسلیم کرلیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ہندوستان والےبڑے سادہ لوگ ہیں۔ فوراً مان گئے کہ ہماراشہری ہے۔ آپ کو علم ہوگا کہ حکومت پاکستان نے کتنے عرصے بعد اجمل قصاب کو اپنا شہری مانا تھا جبکہ اس کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہوچکی تھی۔ آج بھی ’محب وطن حلقے‘یہ حقیقت ماننے سے انکاری ہیں۔ وہ آج بھی مصر ہیں کہ ممبائی حملہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کارچایاہوا ایک ڈرامہ تھا۔ وہ جیو ٹی وی چینل کے جانی دشمن بن چکے ہیں کیوں کہ اس نے اجمل کے پاکستانی ہونے کی خبر نشر کی تھی۔ حب الوطنی ہو تو ایسی۔

  • 27-03-2016 at 12:14 am
    Permalink

    جس دن انڈیا نے پاکستان کو ہرایا اسی دن دو مسلمانوں کو درخت سے لٹکا کر مار دیا گیا، یہ سچی بات ہے یا ضیاءالحق کی باقیات میں سے کسی نے شوشہ چھوڑا ہے؟،،،
    ہا ہا ہا،،،، یعنی واقعاتی دلیل کا بودا پن ملاحظہ فرمائیں کہ عبدالرؤف حاطب سیف کے خیال میں ان مسلمانوں کو پاکستان کی انڈیا سے شکست کی سزا دی گئی،،، واہ ،،، تم قتل کرو ھو کہ کرامات کرو ھو۔۔۔۔ بہت اعلیٰ عبدالرؤف حاطب سیف ،،،!!!

    • 27-03-2016 at 12:43 pm
      Permalink

      سلم صاحب سلامت رہیے..
      حضور بندے کو اگر عبارت سمجھ نہ آئے تو کلام کے سیاق و سباق سے اندازہ لگا لیا جاتا ہے.. میں نے میچ کو وجہ نہیں بنایا بلکہ دن کی تعیین کی.

  • 27-03-2016 at 1:19 pm
    Permalink

    چودھری صاحب آپ کا بر صغیر کی تاریخ کے حوالے سے مطالعہ قابل رشک ہے..
    میں ایک طالب علم ہوں.. بچپن میں پٹاخے چلانے کی وجہ سے ڈانٹ کھائی اب بھی پھلجڑیاں چھوڑنے سے باز نہیں آتا..
    آپ نے اپنے مضمون میں اپنی تحقیقی قابلیت اور مطالعے کی کثرت کا خوبصورتی سے استعمال کیا.. ہماری سکول کی کتابیں علامہ اقبال اور قائداعظم کی باتوں سے بھری ہوتی ہیں لیکن مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ کانگرس نے شملہ کانفرنس میں اپنی طرف سے مولانا ابوالکلام آزاد کو بھیجا تا کہ یہ بات ثابت کی جا سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے…
    آپ کے دو مضمون پڑھے بڑی جاندار تحقیق کے حامل، جو سوالات آپ نے مجھ سے کیے براہ کرم اس کے جوابات بھی خود ہی دے دیں جیسے ذاکر نائیک صاحب عیسائیت کی ڈیفینیشن بھی خود کر دیتے ہیں.. آپ نے تاریخ کا ایک رخ دکھایا دوسرا بھی انصاف کے ساتھ دکھا دیں اور آخر میں جو موقف آپ کی نظر میں راجح ہو اس کی نشان دہی کر دیں..
    سر ایک سوال کیا کانگرس نے قائداعظم کو وزیر اعظم بننے کی آفر کی تھی؟
    اور شروع میں آپ نے جو میرے متعلق مناظر والی بات کی، اگر تعریف تھی تو شکریہ..

  • 29-03-2016 at 9:08 pm
    Permalink

    عبدالرؤف حاطب سیف صاحب‘ تعریف کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں۔ آپ کا کہنا ہے کہ آپ ایک طالب علم ہیں۔ میں بھی اپنے آپ کو ایک طالب علم ہی سمجھتا ہوں۔ پھلجڑیاں چھوڑنااچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت بہتربنائیں۔ اس سلسلے میں گوگل کے ذریعےآپ کو اچھا موادمل جائے گا۔ آپ چاہیں تو مجھ سے بذریعہ ای میل رابطہ کرسکتے ہیں۔
    آپ نےمولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے پاکستانی نصابی کتب کا گلہ کیا ہے۔ ہماری نصابی کتب اورکالم نگاروں نے ان سے قطعاً انصاف نہیں کیا۔ وہ بلاشبہ ایک عبقری شخصیت تھے۔ وہ ۱۹۲۳ میں محض پینتیس برس کی عمر میں کانگرس کے صدربن گئے تھے۔ وہ اس پارٹی کے کم عمرترین صدر تھے۔ جواہرلعل نہرو نے انہیں میرکارواں اورگاندھی نے انہیں شہنشاہ علم وفضل قراردیا۔ بطوروزیرتعلیم انہوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی قائم کئے جو ہندوستان کے تعلیمی اداروں کے لئے جھومرکی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے یوم پیدائش کو ہندوستان میں قومی تعلیمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے بہت سے ادارے ان سے موسوم ہیں۔
    ہندوؤں کی متعصب تنظیم کانگرس اوران کے تنگ نظرنےملک نے ایک مولوی کو جو عزت دی اس کا موازنہ اس سلوک سے کرلیجئے جومولانا شبیراحمدعثمانی سے پاکستان میں روارکھا گیا۔ انہیں جوعزت دی گئی وہ پرچم لہرانے تک محدود تھی۔ مسلم لیگ کا صدر بنانا تو دورکی بات ہے انہیں ایک وزارت تک نہ دی گئی۔

    باقی باتیں ہم بذریعہ ای میل کرسکتے ہیں۔ اجازت لینے سے پہلے کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے آپ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا۔ اس کے لئے معذرت۔

  • 30-03-2016 at 3:37 am
    Permalink

    مولانا حسرت موھانی مسلم لیگ کی مرکزی ورکنگ کمیٹی ممبر اور قائد اعظم کے انتہائی معتمد ساتھی تھے. 1946 کے جداگانہ انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ھوۓ لیکن تقسیم ہند کے بعد پاکستان نہیں آۓ. بھارت کی لوک سبھا کا مسلم لیگ کے ممبر کے طور پر حصہ رہے. وہ مولانا ابوالکلام آزاد وزیر تعلیم ھندوستان کو خوب جلی کٹی سناتے. خاص طور پر اس غصہ میں کہ آپ جیسے اہل علم و دانش اگر تحریک پاکستان کی قیادت کا ساتھ دیتے تو وہ نوخیز ریاست موقع پرست ضمیر فروشوں کے چنگل میں پھنس کر نہ رہ جاتی. لوگوں کے پاس چوائس ہوتا تو وہ مخلص قیادت کا ہاتھ تھامتے.
    1947 میں کسی نے پوچھا کہ آپ پاکستان کیوں نہیں چلے جاتے؟
    ايك حسرت بھرے لہجہ میں ٹھنڈی سانس لیکر بولے,
    “دونوں جگہ جذباتی جنونیت کا دور دورہ ہے اور اپنی تو ھر دو جگہ جان خطرے میں رہے گی.
    “یہاں رہے توجانے کب کوئی ھندو انتہا پسند “مسلمان” کہہ کر مارڈالے.
    پاکستان میں یہی کچھ کسی جوشیلے مسلمان کے ہاتھوں ہو سکتا ہے. لیکن وہ مجھ گستاخ” یا “کافر” کہہ کر مارےگا.
    “میں سمجھتا ھوں کہ بھارت میں رہ کر “مسلمان” کی موت مرنا بہترھے پاکستان میں رہ کر “کافر” کی موت مرنے سے.”

  • 04-04-2016 at 12:48 pm
    Permalink

    واہ جی کیا کمال لکھا ہے۔
    حقیقت کی خبر نہ ہو تو یہی کچھ لکھا جا سکتا ہے۔

  • 04-04-2016 at 1:19 pm
    Permalink

    ناشائشہ الفاظ،
    بے تکی گفتگو،
    بے کار مجادلہ ،
    بے ربط سوالات،
    خود ساختہ دلائل،
    الزامات کی بھرمار،
    سب سے بڑھ کر نفرت انگیز طرز تکلم،
    تحقیق اور توازن سے عاری، ملا کے فتوے پر مبنی تحریر
    منہ سے جھاگ، آنکھوں سے آگ ، کانوں سے دھواں کیسے نکلتا ہے اس نشتر پارے کو پڑھ کر اندازہ ہوا۔
    دوسروں کو تنقیدی درس دینے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک لینا اچھا ہوتا ہے۔

    • 11-04-2016 at 10:05 pm
      Permalink

      ڈاکٹرثناء اسلم صاحبہ‘
      آپ کا حدوداربعہ کیا ہے؟ آپ کس شعبے کی ڈاکٹرہیں اورکونسے میدان میں آپ کو اختصاص حاصل ہے؟ کاش آپ تنقید کرنے کا ہنر اورذراسی شائستگی بھی کہیں سے سیکھ لیتیں۔ لگتا ہے کہ میری تحریر پر تبصرہ کرتے وقت آپ اپنے حواس میں نہیں تھیں۔آپ کی فردجرم ناقابل یقین حدتک مضحکہ خیزہے لیکن میں آپ کو اس زبان میں جواب نہیں دوں گا جو آپ نے استعمال کی ہے۔
      آپ کو میری تحریرتحقیق اور توازن سے عاری لگی۔آپ کو میرے سوالات بے ربط اور میرے دلائل خودساختہ لگے۔آپ نے میری تحریر کو’ملا کے فتوے پر مبنی‘ تحریر تک قراردے دیا۔میری تحریر کونسے ملا کے کس فتوے پر مبنی ہے؟ کیا آپ تحقیق کی ابجد سے بھی واقف ہیں؟ آپ نے آج تک کیا تحقیق کی ہے؟ کیا آپ کو خود ساختہ اور غیر خودساختہ دلائل کا فرق معلوم ہے؟ میری کونسی دلیل خود ساختہ ہے؟ وہ کونسی حقیقت ہےجس کی خبر آپ کو ہے اور مجھےنہیں۔ اس کی وضاحت آپ نے کیوں نہیں کی؟ کیا آپ نے آج تک کچھ لکھا ہے؟ آپ کے تبصروں سے تو ایسا نہیں لگتا۔

      • 16-04-2016 at 7:47 pm
        Permalink

        شکیل چوہدری صاحب اپنی زبان کو لگام دیں تو اچھا ہے۔ میں نے جو محسوس کیا وہی لکھا۔ آپ ناشائشتہ انسان نہ ہوتے توآپ سے ضرور شائستگی سیکھنے کی کوشش کرتی۔ آپ کو میرا حدود اربعہ دریافت فرمانے کی حسرت کیوں ہے؟ شائستگی سے جواب دینا بھی نہیں آتا۔ منہ سے جھاگ، آنکھوں سے آگ، کانوں سے دھواں کیوں نکل رہا ہے؟ آنکھوں پر عینک پہلے ہی پہن رکھی ہے اب آنکھوں کا علاج بھی کروا لو کیونکہ اس نمبر کی عینک سے تو میرا درست نام بھی پڑھنا نہیں آتا۔

      • 16-04-2016 at 11:24 pm
        Permalink

        ڈاکٹرثناءسلم صاحبہ‘

        مجھے آپ نے مشورہ دیا ہے کہ میں اپنی زبان کو لگام دوں۔ایسا لگتا ہے کہ آپ کواس مشورے پر عمل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ میرا خیال تھا کہ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ شائستہ ہوتی ہیں۔ لیکن آپ نے میرا یہ خیال غلط ثابت کردیا ہے۔ میرےاس مضمون پر سب سے زیادہ ناشائستہ تبصرہ آپ ہی نے فرمایا ہے۔ لیکن اپنے الزامات کو ثابت کرنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی۔ اس کے باوجود آپ کا دعویٰ ہے کہ مجھے شائستگی سے جواب بھی دینا نہیں آتا۔ آپ اپنے میں بارے میں یہ غلط فہمی کب سے ہے کہ آپ مجسم شائستگی ہیں؟

        برا نہ مانئے گا لیکن شاید آپ کو حدود اربعہ کے معنی معلوم نہیں۔ انگریزی میں اسے credentials کہا جاتا ہے۔ اب سمجھ آگئی کہ نہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے کون کون سی تعلیمی اسناد حاصل کررکھی ہیں اور اس کے علاوہ آپ کون کون سے علمی اور تحقییقی کارنامے سرانجا دے چکی ہیں۔ کیا بحث میں حصہ لینے والے کسی شخص سے اس طرح کا سوال کرنا خلاف شرع ہے یا شائستگی کے تقاضوں کے منافی؟ ہمیں کم از کم یہ تو بتادیں کہ آپ نے ایم بی بی ایس کیا ہے یا پی ایچ ڈی یا پھر ہومیوپیتھی کا کوئی کورس؟

        منہ سے جھاگ‘ آنکھوں سے آگ‘ کانوں سے دھواں؟ یہ لفاظی پرانی ہونے کے علاوہ مضحکہ خیزبھی ہے۔ آپ کے علاوہ کسی کو یہ چیزیں نظر کیوں نظرنہیں آئیں؟ آپ کا ارشاد ہے کہ ’میں نے جو محسوس کیا وہی لکھا۔‘ یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ آپ کے محسوسات باقی نارمل لوگوں سے اتنے مختلف کیوں ہیں؟

        میں معذرت خواہ ہوں کہ میں نے ایک دفعہ آپ کا نام ثناءسلم کے بجائے ثناءاسلم لکھ دیا تھا۔ لیکن میں نے ایک دوسرے کمنٹ میں اپنی اصلاح کرلی تھی۔ آپ نے میرا نام شکیل چودھری کے بجائے شکیل چوہدری کیوں لکھا ہے؟ کیا آپ کو بھی آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے؟

        آپ نے ابھی تک ہمیں یہ بھی نہیں بتایا کہ آپ نے کبھی کچھ لکھا ہے کہ نہیں۔ اگرلکھا تو ہمیں اس سے استفادہ کرنے کا موقع مرحمت فرمائیں تا کہ ہم جان سکیں کہ تحقیق اورتوازن سے بھرپورتحریر کیسی ہوتی ہے۔

        اگرآپ کوناگوار نہ گزرے تو اپنے پچھلے کمنٹ کا ایک حصہ دوبارہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ اس دفعہ آپ جواب مرحمت فرمائیں گی۔

        آپ کو میری تحریرتحقیق اور توازن سے عاری لگی۔آپ کو میرے سوالات بے ربط اور میرے دلائل خودساختہ لگے۔آپ نے میری تحریر کو’ملا کے فتوے پر مبنی‘ تحریر تک قراردے دیا۔میری تحریر کونسے ملا کے کس فتوے پر مبنی ہے؟ کیا آپ تحقیق کی ابجد سے بھی واقف ہیں؟ آپ نے آج تک کیا تحقیق کی ہے؟ کیا آپ کو خود ساختہ اور غیر خودساختہ دلائل کا فرق معلوم ہے؟ میری کونسی دلیل خود ساختہ ہے؟ وہ کونسی حقیقت ہےجس کی خبر آپ کو ہے اور مجھےنہیں۔ اس کی وضاحت آپ نے کیوں نہیں کی؟

        آخرمیں گزارش ہے کہ اب غصہ تھوک دیجئے۔ آپ کو غصہ زیب نہیں دیتا۔ تین دن زیادہ کسی سے ناراض رہنا ویسے بھی جائز نہیں۔ خداآپ کو خوش رکھے اور اچھی اچھی باتیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وما علینا الا البلاغ۔

  • 12-04-2016 at 2:28 am
    Permalink

    محترم شکیل صاحب ، آ پ کا مضمون بہت مدلل ھے، یہ لبنیٰ صاحبہ شاید ھومیوپیتھ ھوں گی جو کہ غالبا میٹرک یا ایف اے کے برابر ھوتا ھے۔۔
    ھمارے محترم کالم نگار صاحب نے ایک جواب الجواب بھی لکھ مارا ھے جس میں پھر سے زہر افشانی کی ھے

    امید ھے جلد آپ کا جواب پڑھنے کو ملے گا

    • 12-04-2016 at 1:56 pm
      Permalink

      سلمان یونس صاحب‘ میرے مضمون کی پسندیدگی کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ محترمہ ہومیوپیتھ ہی ہوں۔ بہرحال میں ان کے جواب اورکسی تحریرکا منتظرہوں۔ اس سے مجھے اندازہ ہوسکے گا وہ کس طرح اپنی تحریروں کو شائستگی‘ تحقیق اورتوازن کا شاہکاربناتی ہیں۔ واضح رہے کہ ان کا نام لبنیٰ نہیں‘ ثناء سلم ہے۔
      جہاں تک کالم نگار صاحب کا تعلق ہے میں نے اپنا جواب الجواب کل مدیر محترم کو بھجودیا تھا۔

      • 17-04-2016 at 12:33 am
        Permalink

        شکیل صاحب، تصحیح کے لیے شکریہ،
        ڈاکٹرثناءسلم صاحبہ سے معذرت کے ان کا نام پچھلے کمنٹ میں مجھ سے غلط لکھا گیا ، امید ہے ڈاکٹر صاحبہ میری معذرت قبول کرتے ہوئے شکیل صاحب کے سوالات ، جو کہ بہت جائز ہیں ، کا جواب مرحمت فرمائیں گی تاکہ ہم طالبعلم اپنی معلومات میں اضافہ کر سکیں
        شکریہ

Comments are closed.