خوشی اور بادلوں میں تیرتے غم


000وہ بہن کے ساتھ اسٹوڈیو آئی تھی، کچھ ڈری ڈری سی۔۔۔ آج یاد نہیں، میں نے کیا پوچھا، اس نے کیا کہا تھا، لیکن اتنا یاد ہے، اس نے اپنے کالج دور کی تصویر دکھائی تھی۔ ہاتھ رقص کے انداز میں اٹھے ہوے، ترچھی نگاہیں آسمان کو تکتی ہوئیں، گویا تتلی تھی، کسی دِل کنول کی متلاشی۔۔۔ مجھے لگا، میں اس روح کو جانتا ہوں، آواگون کا نظریہ حقیقت کے قریب لگتا ہے، ایسے موقعوں پہ جب آپ کسی سے پہلی بار ملے ہوں، لیکن احساس ہو، کہ ہم شناسا ہیں۔

ایک دن رِکارڈنگ کے دوران، اس نے شکوہ کیا، کہ میں جس دوست کے یہاں شوٹنگ کر رہا ہوں، وہ گزشتہ رات، نشے کی حالت میں اس کے گھر چلا آیا۔ میں جذباتی ہوگیا، کہ اب اس لوکیشن پہ رِکارڈنگ نہیں ہوگی۔ یہ الگ کہانی ہے۔۔۔ دو تین سال بعد، کسی نے کہا، کہ وہ بہت ‘خراب’ ہوگئی ہے، پہلے تو یقین ہی نہ آیا، پھر جا اسی سے کہ دیا، کہ بی بی ٹھیک ہے، جو بھی جی میں‌ آئے کرو، لیکن بدنامی کیوں مول لیتی ہو؟۔۔ مجھے اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر، بہت افسوس ہوا، کہ مجھے ایسے پتھر لفظ نہیں چُننے چاہیے تھے۔

انھی دنوں اس کی شادی ہوئی اور وہ شہر سے رخصت ہوگئی۔۔۔ کہتی تھی، میں‌ بہت خوش ہوں، لیکن وہ خوش نہ تھی۔ تین چار صدیوں کی اذیت سہہ کر، اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی۔۔۔ کہنے لگی، بچے نہیں ہوئے، Iqbal-Hussain-pc-01-4493اس لیے یہ فیصلہ لینے میں‌ آسانی ہوئی، اب خوش ہوں۔ پتا نہیں وہ خوشی سے کیا مطلب لیتی تھی!

وقت کا پہیا کچھ اور گھوما۔ ایک شوٹ پہ ہم اکٹھے ہوئے، تو اس نے بتایا، وہ ایک بار پھر شادی کر رہی ہے۔ ہونے والا شوہر اعلا عہدے پہ فائز ہے، اور پہلے سے شادی شدہ ہے۔۔۔ میں‌ کیا مشورہ دیتا، اور کیوں؟۔۔۔ شادی ہوگئی، خبریں تھیں کہ ہنی مون کے لیے بیرونِ ملک گئی ہے۔ وہ خوش رہے، میں‌ دعا ہی کرسکتا تھا۔ بیچ میں ایک دو بار رابطہ ہوا، تو یہی کہتی تھی، کہ ‘میرا شوہر میرا بہت خیال رکھتا ہے، میں‌ بہت خوش ہوں، اب سمجھی ہوں، کہ جیون کا کیا مطلب ہے۔’۔۔۔ پتا نہیں میں یہ کہانی کیوں‌ سنا رہا ہوں، جب کہ یہ کہانی مکمل ہی نہیں‌۔

حال ہی میں ساحلِ سمندر پہ اتفاقی ملاقات ہوگئی۔ کہنے لگی گھر میں بیٹھی بور ہورہی تھی، کیوں کہ شوہر پہلی بیوی کے پاس ہے۔ پھر اصرار کیا، کہ میں‌ اس کے یہاں‌ چلوں۔ میں اس کے ساتھ اس کے فلیٹ پر آیا۔ ایسے میں ہم نے بہت سی باتیں کیں۔ میں‌ اس سے اپنے دکھ بیان کرتا رہا، یہی کہ مجھے خوش ہونا نہیں آتا۔۔۔ وہ اپنی خوشی بیان کرتی رہی، کہ پہلے ازدواجی زندگی، کیسی عذاب تھی، کیسے سابق شوہر اس کے کردارپہ شک کیا کرتا تھا، اور یہ ایسا پیارا، وسیع القلب انسان ہے، کبھی باز پرس نہیں‌ کی۔ یہ بھی بتایا، کہ وہ دونوں مے نوشی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اور یہ بھی کہا کہ وہ ہر طرح کی ڈرگز کا تجربہ کرچکی ہے۔ اس نے مجھے وہ ٹیبلٹ بھی دکھائی، جسے کھا کر دماغ‌ میں‌ خوشی کے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں، اور
اسے کھا کے ہم سفر سے محبت ہونے لگتی ہے۔

IqbalHussain05اس کے بہ قول اسے خوش رہنے کا فن آ گیا تھا۔ میں ایسا قنوطی کہ روشنی کے پردوں میں‌ بھی تاریکیاں‌ تلاش کرتا ہوں۔ بادلوں کے پیچھے سہی، سورج کہیں تھا۔۔ تپتا۔۔۔ جلانے والا سورج۔

وش کا پیالہ رانا جی نے بھیجا

پیوت میرا ہانسی رے

(زیر نظر تحریر سے منسلک تینوں تصاویر استاذی اقبال حسین کے مؤقلم کا فیضان ہیں۔ )


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran