یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور


husnain jamal (3)

چند روز پیشتر پیپلز پارٹی کی سیاست کے بارے میں چند معروضات پیش کی گئیں۔ بنیادی اساس ان کی یہی تھی کہ پارٹی جو منشور لے کر میدان میں اتری تھی اس کا عشر عشیر بھی عوام کو نہ دے پائی اور ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو گئی کہ جو کسی بھی بائیں بازو کی جماعت کے لیے نظریاتی طور پر شدید تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ اس کالم کے بدلے بہت ہی شفیق استاد محترم امجد سلیم علوی صاحب کی ناراضگی برداشت کرنا پڑی۔ انہوں نے چند اختلافی نکات لکھے جو پیش خدمت کئے جائیں گے۔ یہ نکات پیپلز پارٹی سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے احباب کے لیے یقیناً اہمیت کے حامل ہیں۔ مذکورہ مضمون میں فقیر نے ایک جگہ یہ کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کو بی بی کی شہادت کا ووٹ ملا۔ اس کے جواب میں علوی صاحب نے یہ وضاحت فرمائی؛

“یہ تاثر کیسے دور ہو کہ بی بی کی شہادت کا ووٹ 2008 میں پڑا؟ کیا 342 کے ہاوس میں 125 نشستیں حاصل کرنا بی بی کی شہادت کا نتیجہ ہے؟ نہیں میرے بھائی، سندھ میں بھٹو کا ووٹ تھا اور ہے، کل کیا ہو گا کوئی نہیں جانتا۔ باقی کے پاکستان میں 1977 سے ایک مہم چلائی گئی اور جاری و ساری ہے۔ کم از کم آپ تو اسی رو میں نہ بہتے چلے جائیں۔ کیا یہ نتیجہ بی بی کے خون کا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ قائم تھی جب کہ خیبر پختون خواہ، بلوچستان اور مرکز میں مخلوط حکومتیں، اور اتنی کمزور کہ ہر وقت بلیک میلنگ کا نشانہ! ایک ایسا چیف جسٹس مسلط کیا گیا جو پی پی پی کے خلاف ادھار کھاۓ بیٹھا تھا۔ بھٹو قتل کا مقدمہ ری اوپن کرنے کا کیا بنا؟ حضور، آپ تو طعنہ نہ دیں کہ پارٹی اپنی چیئر پرسن کے قاتل کو نہ پکڑ سکی۔ کیا لیاقت علی خاں کے قاتل مسلم لیگ کی حکومت نے پکڑ لیے تھے؟ جب کہ اس وقت ان کو ویسے حالات کا سامنا نہیں تھا جیسے حالات کو پی پی پی بھگت رہی تھی۔

پھر مختلف انتخابات اور پارٹی کی پالیسیوں پر کچھ بحث کی تو اس پر استاد محترم نے یہ اعتراضات کئے جو بالکل برحق ہیں اور تاریخ کا حصہ ہیں؛

” 1997 میں صرف پنجاب کیا سرحد اور بلوچستان سے بھی پیپلز پارٹی کا صفایا ہو گیا تھا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ سرائیکی بیلٹ کے سپوت فاروق لغاری نے غداری کی اور اس بہن کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جس نے اسے صدر بنایا تھا۔ 2002 میں پیپلز پارٹی کی سب سے زیادہ نشستیں تھی، اور ایک بار پھر پنجاب ہی سے دس کا ٹولہ ٹوٹ کر مشرف سے جا ملا تھا جس کی قیادت جھنگ کے فیصل صالح حیات کر رہے تھے۔ لاہور کے جس حلقے میں میرا گھر ہے، وہاں سے پہلی مرتبہ ظہیر عباس کھوکھر کو مرکزی اسمبلی کا ٹکٹ ملا تھا، میں نے کبھی ان کی شکل نہیں دیکھی تھی لیکن انہیں ووٹ دیا تھا اور وہ جیتے۔ اس کے بعد اسمبلی سیشن سے پہلے ہی انہیں خبر ہوئی کہ پیپلز پارٹی تو بڑی غلط پارٹی ہے اور وہ بھی اسی دس کے ٹولے میں شامل تھے۔ انہیں لوٹوں کو خان صاحب نے بڑے لاڈ سے اپنی پارٹی میں شامل کر رکھا ہے، یہ الگ بات کہ موصوف ابھی تک دوبارہ جیت نہیں سکے۔”

 جنرل مشرف کی دبئی روانگی کے بعد محترم بلاول زرداری کے ایک ٹویٹی بیان پر چند تنقیدی سطور بھی اس تحریر میں شامل تھیں (بیان یہ تھا : شہید بی بی نے مشرف کو اپنی اصل طاقت سے محروم کیا، یعنی وردی سے اور آصف زرداری نے انہیں قصر صدارت سے باہر نکال پھینکا، بتائیے آپ نے کیا کیا؟ آزاد کر دیا؟ گو نواز گو!) نہایت افسوس اور صد معذرت کہ اس سے بھی علوی صاحب کی دل آزاری ہوئی، لیکن اس بہانے یہ چند مزید باتیں انہوں نے کیں جو ہم سب تک ضرور پہنچنی چاہئیں کہ تاریخ کے ایک سنجیدہ عالم کے قلم سے نکلی ہیں؛

“آپ خوامخواہ ہی “محترم بلاول زرداری” پر برس پڑے۔ بھائی کیا حقیقت نہیں کہ جنرل مشرف کی وردی بے نظیر نے اتروائی؟ کیا “محترم قاضی حسین احمد” اور “حضرت مولانا فضل الرحمان” کی متحدہ مجلسِ عمل نے تحریری معاہدہ نہیں کیا تھا جس کے بعد ہم پر سترھویں ترمیم مسلط کی گئی تھی؟ کیا اس تحریری معاہدے کے باوجود جنرل مشرف نے وردی اتاری؟ جی نہیں۔ جب شہید بی بی نے زبانی معاہدہ کیا تو مشرف صاحب نے وردی اتاری۔ جس این آر او کے لوگ دن رات لتے لیتے ہیں، اسی این آر او کے تحت وردی اتری۔ اور حضور، کیا مشرف صاحب سے استعفی’ افتخار چوہدری یا وکیلوں نے لیا تھا؟ جناب، جب نومبر 2007 میں جنرل مشرف نے افتخار چودھری کو گھر میں نظر بند کر کے ایمرجنسی پلس نافذ کی تھی، کیا کوئی وکیل، کوئی “سول سوسائیٹی”، کوئی میڈیا افتخار چوہدری کے گھر کے سامنے پر مار سکی تھی؟ نہیں۔ کوئی اس طرف نہیں گیا، سواۓ بے نظیر بھٹو کے جو اپنی گاڑی وہاں تک لے گئی تھیں۔ الیکشن ہوا، جب وزیرِ اعظم گیلانی نے اسمبلی کے فلور پر افتخار چوہدری کو “رہا” کرنے کا اعلان کیا، اس کے بعد ہی “سول سوسائیٹی” نے وہاں مجمع لگایا تھا۔ اسی طرح، مشرف نے استعفی’ کب دیا؟ جب زرداری نے ہونٹ چبا کر اور دانت کچکچا کر اعلان کیا کہ تحریکِ عدم اعتماد لائیں گے۔ تو کیا یہ کریڈٹ اس لیے زرداری سے چھین لیا جاۓ کہ آپ کو زرداری کی تعریف پسند نہیں؟ ایسا ظلم نہ کریں بھائی۔ بلاول نے درست کہا۔ بی بی نے وردی اتروائی، زرداری نے استعفی’ دینے پر مجبور کیا۔ زرداری جانتے تھے کہ میاں صاحبان جیسوں نے ہی پیپلز پارٹی کی دشمنی میں جرنیلوں کو اتنا مضبوط کیا ہے کہ ابھی ان کا احتساب ممکن نہیں۔ جب جنرل مشرف زرداری دور میں باہر گئے تو میاں صاحب کو بہت الجھن ہوئی تھی۔ میاں صاحب نے زرداری سے مشرف کو چھوڑنے کی شکایت کی تو زرداری نے اپنی سندھی ٹوپی دکھا کر کہا تھا کہ بھائی ہم کمزور ہیں، آپ کو موقع ملے تو پکڑ لیجئیے گا۔ میاں صاحب کو واضح اکثریت ملی، جو چاہتے کر سکتے تھے۔ بیچاروں نے اپنی سی کوشش بھی کی، لیکن جب دن میں تارے نظر آۓ تو چھوڑنے پر مجبور ہوے، حالاں کہ پنجابی بھی ہیں۔ اب آپ یہ ثابت کریں بلاول نے کیا غلط کہا؟”

یہ تمام باتیں جو علوی صاحب کے قلم سے نکلیں، اس لیے اہم ہیں کہ یہ عین وہ زاویہ ہے جس سے پارٹی کے خیرخواہ اسے دیکھتے ہیں۔ انہیں رقم کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ پیپلز پارٹی کا مقدمہ لڑنے والا ہماری صفوں میں فی الحال کوئی موجود نہیں۔ اور یہ سب آپ تک پہنچانا اس لیے بھی ضروری تھا کہ یہ اس شخص کے الفاظ ہیں جو کم از کم گذشتہ ایک سو پندرہ برس کی تاریخ اخبارات کے ڈیجیٹل اسکین سمیت اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ خدا آپ کی عمر دراز کرے محترم استاد! یہی اختلافات فقیر جیسے طالب علموں کو کئی اچھی باتیں سکھا جاتے ہیں۔ ورنہ “گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں” کے مصداق ہم بھی وہی تھے جنہوں نے بچپن میں نعرے لگائے تھے، “یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور” اور اس وقت تو نعرہ لگانا بھی بڑا قصور ہوتا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 144 posts and counting.See all posts by husnain

4 thoughts on “یا اللہ یا رسول، بے نظیر بے قصور

  • 25-03-2016 at 12:54 pm
    Permalink

    زبردست امجد سلیم علوی صاحب

  • 25-03-2016 at 3:07 pm
    Permalink

    یار میرے خیال میں صحیح مصرع یوں ہے ’واں کے نہیں پہ واں کے نکالے ہوےؐ تو ہیں‘

  • 26-03-2016 at 3:02 am
    Permalink

    Hates off to Amjad Saleem Alvi sb and to you too for accepting and appreciating his genuine analysis.

  • 26-03-2016 at 11:20 am
    Permalink

    جمہوریت ووٹ پر چلتی ہے میرے بھائی۔ اور اب ووٹ حاصل کرنے کیلئے آج اور آنے والے کل پر غور کرنا پڑے گا ماضی کی جزیات سے سبق ضرور لیں لیکن حد سے زیادہ پوسٹ مارٹم کا کوئی فیدہ نہی ہے

Comments are closed.