ملتان میں پاک ٹی ہاﺅس


\"anwaarملتان شہر کے تاریخی دروازے تو تھے ہی، جن کی بحالی کی خبریں کبھی ورلڈ بینک کے تعاون سے آتی ہیں،کبھی اطالیہ کی دیوالیہ ہو جانے والی حکومت کے التفات سے کوششیں ہوتی ہیں،مگر وہ تہہ بازاری آڑے آجاتی ہے جسے 70 برس پہلے ہونے والی ہجرت کی ’نہ بھولنے والی یاد‘ نے اور زیادہ تہہ دار بنا دیا ہے،مگر ایوبی آمریت کے دوران یہاں کچھ فکری اور ثقافتی دروازے بھی نمودار ہوئے،جن میں ایک تو امروز کا دفتر تھا،جہاں مسعود اشعر،سلطان سید، اقبال ساغر صدیقی، شبیر حسن اختر، حشمت وفا، ولی محمد واجد،ابن حنیف، مظہر عارف، سعید صدیقی، نوشابہ نرگس، حنیف چودھری، ارشد سلیمی، ایم۔اے شمشاد ، مسیح اللہ جام پوری اور ایسے ہی کئی دوست کام کرتے تھے،ضیاءالحق کے دور میں یوں اہتمام کیا گیا کہ یہ دروازہ ایسا منہدم ہو کہ کبھی اس کی بحالی کا کوئی خواب بھی نہ دیکھے۔ پھر پاکستان بھر کی مزدور انجمنوں میں فعال کردار ادا کرنے والی کالونی ٹیکسٹائل ملز ورکز یونین، جی، ٹی، ایس ورکرز یونین اور کھاد فیکٹری یونین قصہ¿ پارینہ ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد نصرت بھٹو نے ضیا آمریت سے لڑنے کے لئے حیرت انگیز فیصلہ کیا کہ مدِ مقابل آنے والے نو ستاروں میں سے تین چار ستارے نوچ کر ایم آر ڈی بنائی۔ 73ءکے آئین کی بحالی اور قومی انتخابات کے لئے ایسی تحریک جس نے سیاسی قبرستان میں ہلچل پیدا کر دی۔ (شاید قومی اتحاد کے ان ستاروں سے وعدہ کیا گیا کہ پہلے انتخاب میں پی پی پی حصہ نہیں لے گی۔) اسی زمانے میں بیگم نصرت برقعے میں ملبوس کالونی ٹیکسٹائل ملز کے احتجاجی جلسے میں پہنچیں اور یومِ مئی سے بھی بڑا سانحہ ملتان میں پیش آیا اور یہ دروازہ بھی منہدم ہو گیا۔ جی ٹی ایس کو کرپشن نے چاٹا اور کھاد فیکٹری جنرل مشرف کے ولی عہد کے حرص کی نذر ہوئی مگر جب تک دفتر امروز سانس لیتا رہا ، ڈیرہ اڈا بھی ایک عجیب و غریب ’سٹڈی سرکل‘ تھا۔ امروز کے بغل میں ایک ہوٹل شب روز تھا،جہاں وہ خبریں بھی زیرِ بحث آتی تھیں،جو سنسر شپ کے سبب شائع نہیں ہو سکتی تھیں،ضیا کے دور میں یہاں ایک بورڈ لٹکا دیا گیا’سیاسی گفتگو کرنا منع ہے‘،مگر جب اس بورڈ کے سبب یہ ہوٹل اجڑنا شروع ہوا تو اس عبارت میں ایک دل چسپ ترمیم ہوئی ’یہاں نشے میں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے‘۔ اس سے پہلے دہلی مسلم ہوٹل، کیفے عرفات، خان کیفے ٹیریا، پرنس ہوٹل، گلڈ ہوٹل، بالی، نذیرا، چھیلو کے ہوٹل اور بابا ہوٹل بھی مشہور ہوئے۔ ان میں سے گلڈ ہوٹل رائٹرز گلڈ کی سرگرمیوں کے لئے وقف تھا۔ اس کے مالک حاجی امیرالدین نے کراﺅن سنیما کے ساتھ ایک آڈیٹوریم بھی بنوایا تھا، جو اب نہیں ہے۔ ڈیرہ اڈہ سے قربت کے باعث چوک نواں شہر بھی ادیبوں،دانش وروں کی توجہ کا مرکز رہا، یہاں خان کیفے ٹیریا تھا، بہت سے فاقہ مست اندر داخلے کے لئے حیدر گردیزی اور ارشد ملتانی کی آمد کا انتظار کرتے۔ اسی زمانے میں یہاں یونس پان والے کا کھوکھا تھا، بیوٹی جنرل سٹور تھا جہاں بہت بڑا طالب علم رہنما بننے والا اور بعد میں سٹیشن ڈائرکٹر ہو جانے والا فخر بلوچ سیلز مین ہوتا تھا، دن کے وقت وہ ہمارے ساتھ ایم اے اردو کا باقاعدہ طالب علم ہوتا، سو سر شام
اصغر ندیم سید، خالد شیرازی اور عبدالرﺅف شیخ میرے ساتھ براجمان ہوتے، فخر کے مالک کو پہلو بدلتے دیکھ کر ہم بابا ہوٹل میں چلے جاتے، پر اگر محسن نقوی آ جاتا، یا ارشد ملتانی کی نظر ہمارے کملائے چہروں پر پڑ جاتی تو ہم خان کیفے ٹیریا میں بھی بیٹھ جاتے۔ خان کیفے ٹیریا ختم ہوا تو تاج ہوٹل وجود میں آ گیا، تب تک ہم بل ادا کرنے کے قابل ہو گئے تھے، یہیں برس ہا برس احمد خان درانی، ارشد ملتانی، مبارک مجوکہ، اے بی اشرف، ظہور شیخ، فاروق عثمان، محمد امین،
صلاح الدین حیدر اور خالد سعید کے ساتھ نشستیں ہوئیں، پہلے تین دوست عدم آباد کو سدھارے، اشرف صاحب دیارِ غیر کو، اصغر ندیم سید لاہور کو پیارا ہوا۔ قلعے پر کیفے عرفات تھا،جس کے بارے میں شہرت تھی کہ مشروبات بھی مل جاتے ہیں، میرے سامنے ایک مرتبہ شبیر حسن اختر نے اپنے پرانے خراباتی یا عرفاتی ساتھی سے کہا ’اوئے، غدار ہم سے خانہ سوزی کا وعدہ کر کے نہ صرف مطلقہ بیوی سے رجوع کر لیا، بلکہ رہن شدہ گھر چھڑا لیا، پھر سے بچوں کو پڑھانا بھی شروع کر دیا کمینے تمہیں ذرا بھی شرم نہ آئی‘؟
اس میں شک نہیں کہ عتیق فکری، حسن رضا گردیزی، مہر عبدالحق، عرش صدیقی، عاصی کرنالی، ارشد ملتانی، مقصود زاہدی، عمر کمال خان، اقبال ساغ´ر صدیقی،
جابر علی سید، منیر فاطمی، حبیب فائق، انور جٹ، شمشیر حیدر ہاشمی، محسن نقوی اور اسی طرح کے احباب اب ہم میں نہیں، مگر غنیمت ہے کہ خالدسعید، مختار ظفر، حنیف چودھری، ممتاز اطہر، حسین سحر، فاروق عثمان، محمد امین، فیاض تحسین، خادم علی ہاشمی، صلاح الدین حیدر، اقبال ارشد، طاہر تونسوی، نوشابہ نرگس، شہناز نقوی، ذوالفقار بھٹی، قاضی عابد، رضیالدین رضی، شاکر حسین شاکر اور سینکڑوں تازہ دم نوجوان( قمر رضا شہزاد، منور آکاش، الیاس کبیر، سجاد نعیم، حماد رسول، جمشید رضوانی) اس چائے خانے کو اپنی تخلیقیت سے، اختلافِ رائے سے، بت شکنی سے اور نئے بتوں سے فیض پانے کی آرزو مندی سے آباد کریں گے، اگر کبھی فیض عابد عمیق ایسا فکری ادارہ بھی یہاں لوٹ آئے اور سچ مچ قسور گردیزی کے کتاب خانہ کا عطیہ بھی اس شرط پر مل جائے کہ کتابیں یہیں بیٹھ کر پڑھی جائیں تو شاید یہ راز ہماری سمجھ میں آجائے کہ موج دریا کون تھے، ان کے نام کی نہر کو خشک کر کے جو زمین اہل ملتان نے پائی، اس میں ایک دو فرض شناس افسروں نے ملتان آرٹس کونسل بنا دی، نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے بعد ملتان ٹی ہاﺅس بنا دیا، وگرنہ 40 برس تک سٹیٹ بینک کی عمارت میں تعمیر نہ ہو سکنے والا ایوانِ خسرو ہمیں اس علاقے میں تعمیر کے حوالے سے کوئی بھی خواب دیکھنے سے بھی منع کرتا رہا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انوار احمد کی دیگر تحریریں
انوار احمد کی دیگر تحریریں