بھگت سنگھ کو زندہ رکھیں


inam-rana

گو ایک عرصے سے میں نے اپنی سوشل لائف کو حقیقی سے زیادہ آن لائن کر رکھا ہے اور اپنی گپھا میں بیٹھا فیس بک کی راہ سلوک کی منزلیں طے کرتا ہوں، مگر کبھی کبھی طوعاً و کرہاً اس غار سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ اور اگر کامریڈ عاصم شاہ بلائے تو میرا وہی حال ہوتا ہے جو برسوں سے تپسیا کرتے سادھو کا نرتکی کو دیکھ کر ہوا تھا، مراقبہ تک ٹوٹ جاتا ہے۔ کامریڈ سارا دن سرکاری ملازمت کر کے رات بھر اس پریشانی میں رہتا ہے کہ اس کے ہونے کا کیا فائدہ اگر وہ دنیا میں ایک شخص کو بھی سوشلسٹ نہ بنا کر مرا۔ اور مجھ پر تو اس کی توجہ ایسی ہی ہے جیسے بجرنگ کی “گھر واپسی” مہم۔ تفنن برطرف عاصم ان بے لوث لوگوں میں سے ہے جو آج بھی نظریے کی پیروی اپنی بجائے سماج کے فائدے کے لیے کرتے ہیں۔ سو بلاوا آیا اور اس بار کامریڈ کے جنون نے ہندوستانی کامریڈ کنول کے ساتھ مل کر SOAS یونیورسٹی میں بھگت سنگھ کا میلہ سجایا تھا ۔ بھرے کمرے میں انڈیا پاکستان کے بہت سے اور گورے کالے ملکوں کے کچھ مرد و عورت نوجوان و پیر یوں جمع تھے کہ لگتا تھا ابھی بھگت سنگھ خود بھی آتا ہی ہو گا۔

12895245_10154057226426667_1354088562_nبھگت سنگھ میری پنجاب دھرتی کا ایک ایسا بیٹا جو مذہب، قومیت اور زبان کی تقسیم سے ماورا ہو کر ایک ایسا لوک کردار بن گیا جو ہر اس شخص کا اپنا ہے جو کسی بھی جبر کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے۔ سنہ انیس سو سات میں لائل پور میں پیدا ہونے والا سردار بھگت سنگھ سندھو فقط تئیس چوبیس برس کی عمر میں ایسا تاثر چھوڑ گیا کہ آج پچھتر برس بعد بھی شہید بھگت سنگھ دلوں میں زندہ ہے۔ ہمیں تو عادت ہے کہ کوئی مقامی ہیرو تو ہم مانتے ہی نہیں۔ مگر جانتے ہیں تامل اور ناگا زبان میں بھگت کے لیے لوک گیت موجود ہیں۔ پچاسی برس بہت زیادہ ہوتے ہیں تاریخ میں کسی کے مٹ جانے کے لیے۔ ذرا نوجوان نسل سے پوچھیے، انکو آزادی کے کتنے ہیروز یاد ہیں؟ دو ہزار آٹھ میں ایک ہندوستانی سروے میں عظیم ترین ہندوستانی جانتے ہیں کس کو چنا بھارتی جنتا نے؟ گاندھی یا نہرو کو نہیں، کامریڈ بھگت سنگھ کو۔ گاندھی جی نے جس سنگھاسن کو بچانے کے لیے بھگت اور اسکے رفقا کے کردا کو جھٹلایا، افسوس عوام نے برسوں بعد انھیں اسی سنگھاسن سے اتار دیا۔ صاحبو کتابیں، حکومتی تاریخ، بت تو بنا سکتی ہیں۔ مگر عوام کے دل میں ان کی تعظیم پیدا نہیں کر سکتیں۔ ہندوستان چاہے بھگت کو سکول ٹیکسٹ سے نکالنے کی سوچے یا پاکستان بھگت سنگھ چوک بنانے پر متذبذب ہو، بھگت ہر اس شخص کے دل میں بستا ہے جو آج بھی اس آزادی کی تلاش میں ہے جس کا خواب ہمارے پرکھوں نے دیکھا۔ بھگت نے کہا تھا، ہم گورے سے آزادی اور بھورے کی غلامی نہیں چاہتے، ہماری جدوجہد اس نظام کے خلاف ہے جو استحصالی حکمران طبقہ پیدا کرتا ہے۔

بہت دفعہ سوچتا ہوں کہ کیا بھگت کی قربانی فقط ایک نوجوان کا جذباتی قدم تھا؟ ایک نوجوان جو گاندھی کی دو رخی سے تنگ آ چکا تھا، جو مذہب کے نام پر تقسیم ہندوستانی قوم کو جگانا چاہتا تھا اور جو سیاسی جماعتوں کی مفاہمتی سیاست کے برخلاف مزاحمت کا حامی تھا اور بس بے خبر کود پڑا آتش نمرود میں عشق۔ مگر پروفیسر پریتم سنگھ صحیح کہتے ہیں، ہم نے بھگت کو بطور ایک سوشلسٹ مفکر کے ابھی دریافت ہی نہیں کیا۔ اس کا کوئی بھی قدم خواہ شادی سے بھاگنا ہو، ہندوستان ریپبلک پارٹی اور بعد ازاں ہندوستان سوشلسٹ ریپبلک آرمی سے منسلک ہونا ہو، بھوک ہڑتال ہو یا چوم کر پھندے کو گلے میں ڈال لینا، کچھ بھی جذباتی نہیں بلکہ اس نظریہ سے مظبوط لگاؤ کا اظہار تھا جسے وہ حقیقی آزادی کا راستہ سمجھتا تھا۔

12895519_10154056986051667_5380127_n

آپ کو یاد دلاؤں کے قائد اعظم نے کہا تھا اس کے بارے میں ’جو انسان بھوک ہڑتال کرتا ہے وہ ایک نظریاتی روح رکھتا ہے اور وہی روح اسے متحرک کرتی ہے اور وہ اپنے نظریے کی سچائی پر یقین رکھتا ہے۔ آپ ان کو جتنا برا اور گمراہ سمجھیں، مگر یہ مکروہ نظام حکومت ہے کہ عوام جس کی مزاحمت کر رہے ہیں‘ (سنٹرل اسمبلی 29 ستمبر 1928 کی تقریر)۔ جب گاندھی جی ان کو گمراہ نوجوان پکار رہے تھے جناح نے اگلے اجلاس میں پھر اسی معاملے کو اٹھایا اور اس مقدمے کے طریقے کو ہدف تنقید بنایا۔ قائداعظم جیسا ریشنل انسان ایک جذباتی نوجوان کے لیے کبھی آواز نہ اٹھاتا۔ سوچیے ایک بیس بائیس برس کو نوجوان جو اقبال کو اپنا پسندیدہ ترین انقلابی شاعر کہتا تھا فکر کے کس مقام پر تھا کہ کانگریس کے بڑے بڑے نام اس کی مقبولیت سے خائف تھے۔ سوائے سبھاش چندرابوس کی بلند آواز اور نہرو جی کی دبی دبی سرگوشیوں کے ہمیں کچھ بھی سنائی نہیں دیتا۔ اس نے فقط اٹھارہ انیس برس کی عمر میں ہی یہ نکتہ پا لیا کہ ہندوستان کے کثیر مذہبی عوام کو تحریک آزادی کی راہ میں تقسیم سے بچانے کے لیے سوشلزم جیسے نظریے کی ضرورت ہے جو لوگوں کو جوڑے اور متحدہ جدوجہد کو فروغ دے۔ سیاست میں مذہب کا تڑکا اتحاد کی دال کو کالی کر دے گا۔ کیا گاندھی جی کو تب کے بیرسٹر جناح نے یہی تنبیہ نہیں کی تھی جب وہ ہندوستان میں مذہبی روحانی سیاست کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ بھگت کے مضامین، اسکی جیل کی ڈائری اور اس کے مقدمات میں بیان پڑھیں تو جذباتی نہیں بلکہ ایک ایسا بھگت سامنے آتا ہے جو عوام کی ایکتا، نظام کے بدلاؤ اور سچی آزادی کے نظریے کا ایک مفکر بھی ہے،مجاہد بھی اور شہید بھی۔ اور اسی لیے وہ زندہ ہے کہ شہید مرا نہیں کرتے۔

12899985_10154056986246667_132856813_n

آج جب پورے برصغیر میں آزادی فقط حکمرانوں کے چہرے بدلنا ثابت ہوئی ہے۔ جب ظالم مظلوم پر حاوی ہے اور حکومتی نظام جبر، کرپشن اور بد عملی کا نمونہ ہے۔ جب ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام ہندو اور مسلم مذہبی جنونیت کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب طبقاتی تقسیم خوفناک حد تک بڑھ چکی اور مڈل کلاس غائب ہوتی جا رہی ہے۔ جب حب وطن دوسرے سے نفرت کا نام بن گئی ہے۔ تو بھگت سنگھ کے زندہ رہنے کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ اس کا نظریہ کسی ایک ملک یا مذہب کا نہیں ہے۔ وہ ہندوستانی کا بھی ہیرو ہو سکتا ہے اور پاکستانی کا بھی، فلسطینی کا بھی اور افغانی کا بھی۔ وہ ملحد تھا مگر اس کی جدوجہد ایک استعارہ ہے ان کے لیے بھی جو کسی مذہب کو مانتے ہیں مگر جبر کا شکار ہیں۔ اور بھگت ایک پل ہے مختلف ملکوں کے عوام کے درمیان خصوصا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان۔ کیا آپ ایک ہندوستانی اور پاکستانی کو گاندھی جی کے یا قائداعظم کے نام پر اکٹھا کر سکتے ہیں؟ کیا ایک ہندو،سکھ اور مسلمان مذہب کے نام پر اکٹھا ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ مگر بھگت اور اس کے مساوات کے نظرئیے کے نام پر ہم اکٹھے ہو کر اپنے اپنے ظالم کے خلاف مشترکہ جدوجہد ضرور کر سکتے ہیں۔ آپ جس بھی مذہب کو مانیے، ظلم کے خلاف جدوجہد میں اس مذہب کی وجہ سے باہمی تقسیم کا شکار مت بنیے۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

11 thoughts on “بھگت سنگھ کو زندہ رکھیں

  • 25-03-2016 at 5:02 pm
    Permalink

    بهگت سنگه کی خدمات پہ روشنی ڈالیے تا کہ ہم بهی آپ کے ہم نوا بن جائیں؟ اور وہ اصول بتایئے جس پہ چلتے ہوے آپ بهگت سنگه کے گن گاتے ہئں اور ممتاز قادری کو مطعون کرتے ہیں؟ دونوں قانون شکنی کرتے ہیں، ایک گورے قابض کی حکومت میں دوسرا کالے قابض کی حکومت میں
    … آزادی کہیں دور بہت دور کهڑی ہے.

  • 25-03-2016 at 5:04 pm
    Permalink

    Boht aala rana sab. Keep it up.

  • 25-03-2016 at 5:21 pm
    Permalink

    چند روز قبل ایک پوسٹ میں عرض کیا تھا کہ ہندوستان کی آزادی کی حقیقی جنگ بھگت سنگھ ، چندر شیکھر آزاد اور سبھاش چندر بوس نے لڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ گاندھی اور کانگریس نے نہ صرف اس اس جنگ کو سبوتاژ کیا بلکہ ایک ہزار برس سے برصغیر میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی علیحدہ ہونے پر مجبور کیا ۔۔۔۔۔۔ انعام رانا کی یہ تحریر بہت سی بند آنکھیں اور بند ذہن کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ البتہ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہو، وہ اس روشنی سے محروم ہی رہیں گے

  • 25-03-2016 at 5:32 pm
    Permalink

    بہت خوب بھگت سنگھ آزادی اور سماجی انصاف کا استعارہ ہے مگر یگانگت فطری ہے ایکتا ہمیشہ کے لیئے ممکن نہیں ارتقاء و انقلاب فطری ہیں اور ان کے نتیجہ میں قوموں اور اوطان کی حد بندیوں میں تغیر آتا رہا ہے اور آتا رہیگا بھگت سنگھ. گاندھی اور جناح سب اس تاریخی عمل کے لیئے ناگزیر تھے مگر تینوں کے اہداف مختلف تھے اور وہ سب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مخلص بھی
    بے شک وہ صرف یاد رکھنے قابل ہی نہیں رول ماڈل بنا لینے کے حقدار ہیں

  • 25-03-2016 at 5:33 pm
    Permalink

    سبھاش چندربوس آزادئ ہند کے ہیرو ہیں مگر بھگت سنگھ سارے انسانوں کے لیئے حریت کا استعارہ ہیں . اگرچہ کسی سیاسی فکر نے ان کو بوجوہ گود نہیں لیا مگر ان کی روایت اتنی لازوال ہے کہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں

  • 25-03-2016 at 8:09 pm
    Permalink

    please introduce his ideas and services only then i can make opinion, who approach was right, of Gandhi or Bhagat, so far as i have impression, i favor Gandhi’s politics

  • 25-03-2016 at 9:51 pm
    Permalink

    بھگت سنگھ ہندوستانی قوماں دے گلے چوں برٹش سامراج دی غلامی دے بدلے اک ہور غیرملکی،، روسی،، سامراج دی غلامی اینھاں دے دے گلے پاناں چاہندا سی۔
    گاندھی جی جمہوریت دی آڑ چ برطانی سامراج دے بدلے اینھاں قوماں نوں ہندو رام راج ہیٹھ لیاون دی چنتا چ سن۔
    پورے ہندوستان دے مسلماناں نے 100% جمہوری طریقے نال اینہاں دوہاں نوں ریجیکٹ کر کے قائد اعظم دے جھنڈے تھلے اکٹھے ہو کے،، اپنے لئی وکھرے وطن دی منگ کیتی،، ڈٹ گئے،، تے اپنا حق لے کے ہٹے۔
    بھگت سئیں نوں اوہدی اپنی قوم نے بھلا دتا اے۔ پرسوں بھارت دے وڈیرے پترکار کلدیپ نائر نے اپنے تازہ کالم چ ایہو ای رونا رویا اے۔ بھانویں چیک کر لئو۔
    لہذا ایس اشتراکی کوچہ گرد دھریے نوں اپنے کول ہی رکھو، تے پاکستانی مسلمان قوم دا ہیرو بنان دی نکام کوشت ناںای کرو تے چنگا اے۔ لوکائی اینہوں قبول کرن آلی نئیں۔
    رب راکھا

  • 25-03-2016 at 10:27 pm
    Permalink

    عبدللہ جی بھگت نوں جے زندگی کُج ہور ویلا دیندی تے شاید ایس گل دا نتارا ہوندا کہ اوہ ہندوستان نو ہندوستانی آزادی دینا چاہندا سی یا فیر سویت غلامی۔ اگر تسی کمیونسٹ پارٹی سے بارے ایہہ کہندے تے میں اک واری شاید سوچدا پر او بھگت جیڑا پارٹی دا ممبر ہی نہی بنیا بلکہ اپنی جنگ نو خالص ہندوستانی آزادی دا سفنا بنایا، اودے بارے ایس گل دی نیو کی اے مینو سمجھ نہی آئی۔
    دوجا کلدیپ نئیر کی کہندا اے میں نہی جاندا۔ پر میں ایہ ویکھ ریا واں کہ نہرو یونیورسٹی تے دوجی جگہ سارے بال بھگت بھگت دے نعرے لا رہے نیں۔ نالے بھگت نو واقعی اودی اپنی قوم نے بھلا دتا اے کیونکہ اودی اپنی قوم تے باڈی دے ایس پاسے وے جیڑے آزادی دے ہیرو وی دھرم دی بنیاد تے ونڈ بیٹھی اے۔

    • 27-03-2016 at 12:33 am
      Permalink

      رانا جی
      سب توں پہلاں ،، ایہہ تہاڈا بوہت وڈا مغالطہ اے کہ دلّی دی جے این یونیوسٹی تے ہور تھاواں دے بال بھگت بھگت دے نارے لا رہیے نیں۔ ایسا کجھ نئیں ہیگا۔ بھارت دے بوہت سارے پڑھاکو ہندو نیشنلسٹ پڑھاکو جتھے «اے ڈی وی پی» دے نال،، تے بھگت سنگھ سوچ دے ویری نے۔
      دوجے پاسے کنہیا کمار اجیہے سُرخے منڈے کڑیاں دی سوچ ، نالے طور، بھگت سنگھ دے آئیڈیل نالوں بالکل وکھ اے۔ اوہ ظلم دے خلاف کوشت کر رہیے نیں ،، پر بار بار ایہو ای آہندے نیں کہ اسیں، بابا صاب امبیڈکر دے دتّے بھارتی سنبھیدان ،،، دستور،،، دے عین مطابق لوکائی لئی آزادی چاہنے آں۔
      میں پشلے دو ڈھائی مہینیاں توں ایس آندولن نوں فالو کر ریہاں،، مینوں تے کتے وی بھگت سنگھ دے نعرے وجدے سنائی نئیں دتے۔ ہاں ایہہ ہو سکدا اے کہ ٹانواں ٹانواں کِتے انقلاب زندہ باد دا نارا لگیا ہووے۔ تے ایہہ نارا کوئی بھگت سنگھ دی ایجاد یا ملکیت نئیں۔ ایس چھوٹے براعظم دے ہر علاقے چ مدتاں توں ایہہ نارا لگدا رہیا اے۔ سرخیآن توں ودھ کے سجے پاسے آلے ایہنوں ورتدے رہے نیں۔
      کل پرسوں گاندھی پالٹی دے اک ادھیکاری ششی تھروور نے ضرور اک شرلی چھڈ کے کنہیا کمار نوں بھگت سنگھ نال ملان دی شرارت کیتی اے، جیہدے جواب چ دوجے پاسے آلے اوہدی خوب خبر لے رہیے نہیں۔ کل انوپم کھیر نے جے این یو جا کے منڈے کڑیاں نوں خطاب کردےآں کنہیا ورگیاں نوں طعنہ دتا اے کہ ضمانت تے چُھٹّے ملزم بھگت سنگھ ورگے کیویں ہو سکدے نیں۔
      دراصل تہاڈا لاڈلا بھگت سیئاں ہر پاسے استعمال ہو رہیا اے، جیویں ساڈے پاسے کھبے سجے دونواں پاسےآں آلے اقبال تے قائد نوں اپنا اپنا اُلو سدھا کرن لئی استعمال کر رہے نیں۔ پر کوئی وی اینہاں دے رستے چلّن تے تیار نئیں۔ ایتھے ایہہ ناں سمجھ لیناں کہ میں تہاڈے پیارے بھگت سئیں قاتل بمباز نوں ایہناں بزرگ ہستیاں دے نال ملا رہیآں۔ خاک نوں اسماناں نال کیہہ نسبت؟
      لو پہلاں پیارے بھارت دیش چ اپنے ہیرو دی ناقدری تے کلدیپ نائر دا رونا ویکھو تے بعدوں دلّی یونیوسٹی چ اپنے پیارے بھگت دا حشر ویکھو۔ ۔۔۔۔
      اج دے قاتل بمباز دہشت گرداں دے خلاف اپریشن دے دور چ ہُن ایہہ گھسیا پِٹیا راگ ناں ای چھیڑو تے چنگا اے۔
      رب راکھا
      The very spirit of democracy would be lost if people are told what not to say. True, it is their inherent right to support or oppose a proposition. But it cannot be thrust on them. They are their own masters. Against this background, it is strange that the martyrdom day of Bhagat Singh, hanged by the British, has gone practically unnoticed. goo.gl/3fXyUb
      …….
      Regretfully, India has, over the years, lessened attention to Bhagat Singh. The media is also silent. There is hardly a meeting held to recognise his or his comrades’ sacrifices. True, the Indian society has ousted the value system.  But I had never imagined that even the memory of those who made today’s democratic polity possible would get little mention. goo.gl/SMJase
      ………
      ABVP disrupt lecture on Bhagat Singh

      They are insulting and abusing the whole freedom struggle of the nation. By Chaman Lal goo.gl/vrYGaN
      One could not have imagined this happening in India. What ABVP did on March 18 at Delhi University’s (DU) main gate is something even the British could not do. Even the British colonial regime could not disturb or disrupt either Bhagat Singh’s own meetings under the banner of Naujwan Bharat Sabha, or meetings held in his favour during his jail term and execution.

      Ahwan, a student group organised a meeting on “The life and Writings of Bhagat Singh” to mark his martyrdom day which falls on March 23, but due to vacations ahead, they held it on March 18 by inviting Professor Chaman Lal, a retired JNU professor, who has written many books on the martyr.

      The speaker reached the venue at the DU gate. Since the students were denied any place in the university even for lecture on Bhagat Singh, they were forced to move out. The students informed the area police, which was present in good numbers – at one time outnumbering the students.

      Around the same time at an adjoining location, a drama group were staging a play on “The true happenings in JNU.” The team had just four-five actors. Within five minutes of starting the play, a mob of 10-15 young boys and girls encircled the area and started resorting to violence and threatening the actors with attacks. They were shouting “Bharat Mata ki Jai” and “Vande Mataram” slogans, calling the actors as “Deshdrohis” to be thrown out of India.

      The police tried to separate the two groups. As Ahwan group chairman Dr Vikas Gupta invited speaker Prof Chaman Lal to speak, the same ABVP group tried to disrupt the lecture by loudly shouting Bharat Mata ki Jai slogans. The speaker who was holding government of India published writings of Bhagat Singh pleaded with police to ask the disruptors to listen and ask questions later or hold a separate meeting.

      The police tried to persuade the disruptors but they were in no mood to listen and kept shouting.

      At one time both the sides were shouting full-throated slogans – the ABVP group with – “Bharat Mata ki Jai Kehna Hoga” and “Vande Matram Kehna Hoga”. Ahwan students responded with “Jai Hind” and Bhagat Singh’s slogan, “Inquilab Zindabad.” The ABVP students were not allowing the speaker to speak on Bhagat Singh’s writings on religion, communalism and atheism.

      This was a sad day to see how the supreme patriot and nationalist of the country, Bhagat Singh was treated by phoney and violent nationalists, who had played no role in freedom struggle, but grabbed power by cheating people with false slogans. They are now insulting the whole freedom struggle of the nation, including Gandhi, Nehru, Bose, Ambedkar and Bhagat Singh.

  • 26-03-2016 at 1:39 am
    Permalink

    بس ٹھیک ہے۔ آدرش، مقصد،نظریہ پرکٹ مرنا جوانی کی مہم جوئی یا رومان پرستی ہے۔ ہیرو گھڑے جاتے ہیں۔ اگر ہم بھگت کو ہیرو مانتے ہیں تو ہم سے ایک سو گنا غازی علم الدین کو کہیں بڑا اور جائز ہیرو تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ہزاروں اور لاکھوں ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو انہیں مخصوص مقاصد کی خاطر کھیت رہتے ہیں لیکن “مقدر” میں ہیرو بننا نصیب نہیں ہوتا۔ کچھ پراپیگنڈا جیہا نئیں ہو گیا۔

    • 27-03-2016 at 12:45 am
      Permalink

      بجا فرمایا جے ڈاکٹر مجاہد مرزا صاب
      جیوندے رہؤو

Comments are closed.