اسلامی نظریاتی کونسل بلاسفیمی لا پر نظرثانی کر سکتی ہے


adnan Kakar

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے فرمایا ہے کہ بلاسفیمی لا پر اسلامی نظریاتی کونسل نظرثانی کر سکتی ہے بشرطیکہ پارلیمان اس قانون کو بہتر کرنے کے لیے کونسل سے سفارش طلب کرے۔

مولانا محمد خان شیرانی نے ’نیوز لینز پاکستان‘ سے بلاسفیمی لا پر بات کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’ہم کسی قانون کا خود سے جائزہ نہیں لے سکتے ہیں۔ کسی قانون کا ریویو کرنے کا ہمارا مینڈیٹ اس وقت شروع ہوتا ہے جب پارلیمنٹ آئین کی شق 229 کے تحت ہماری رائے مانگے‘۔

بخدا یہ خبر پڑھ کر ہم تو وجد میں ہی آ گئے کہ اس آئینی ادارے کو آئینی حدود کا بجا طور پر کتنا خیال ہے۔ کاش دوسرے ملکی ادارے بھی مولانا شیرانی سے سبق سیکھیں اور دستور اور قانون پر چلنے کا وطیرہ اپنا لیں۔ لیکن پہلے ایک نظر ہم دستور پاکستان پر ڈال لیتے ہیں تاکہ ہر بات میں مولانا شیرانی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی برائی کرنے کے خوگر یہ خوب جان لیں کہ مولانا غلط بیانی نہیں کر رہے ہیں۔ دستور پاکستان کی متعلقہ شق کچھ یوں ہے:۔

۔229۔ صدر یا صوبے کا گورنر اگر چاہے، یا اگر کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کا دو بٹا پانچ حصہ (یعنی اراکین کا چالیس فیصد حصہ) یہ مطالبہ کرے، تو کسی سوال پر اسلامی کونسل سے مشورہ کیا جائے گا کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلام کے احکام کے منافی ہے یا نہیں۔

sherani

واللہ مولانا شیرانی حق بات کہہ رہے ہیں۔ اس دستوری شق کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کسی بھی قانون پر اسی صورت میں رائے دے سکتی ہے جب صدر مملکت، صوبائی گورنر یا پارلیمان کے چالیس فیصد اراکین اس قانون پر کونسل سے رائے مانگیں ورنہ اسلامی نظریاتی کونسل کو کسی قانون پر بھی رائے دینے کا کوئی آئینی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ اس صورت حال میں بلاسفیمی لا کے معاملے میں مولانا شیرانی کی بے بسی قابل فہم ہے۔ آئین نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔

ہم تو مولانا کی اس دستور پسندی کے معترف ہیں۔ واللہ ایک آئینی ادارے کے سربراہ کو ایسا ہی صاف گو اور قانون پسند ہونا چاہیے۔ ویسے بھی بلاسفیمی لا ہم سب مسلمانوں کے لیے مملکت پاکستان کا اہم ترین قانون ہے۔

لیکن راقم الحروف ایک کم فہم شخص ہے۔ وہ یہ جاننے سے قاصر ہے کہ بلاسفیمی لا جیسے اہم ترین قانون پر تو مولانا شیرانی بجا طور پر آئین کی شق 229 کا حوالہ دے کر اپنے مینڈیٹ کے شروع ہونے کی حدود بتا رہے ہیں کہ وہ کسی قانون پر اسی صورت میں مشورہ دے سکتے ہیں جب اس پر ان سے رائے مانگی جائے گی، لیکن بس وہ یہ بتا دیں کہ پنجاب کے تحفظ نسواں بل پر اسلامی نظریاتی کونسل کا مینڈیٹ شروع کرنے کے معاملے پر صدر مملکت، گورنر پنجاب، یا پنجاب اسمبلی کے چالیس فیصد اراکین میں سے جس نے بھی ان سے قانون پر دستوری شق 229 کے تحت مشورہ طلب کیا ہے، وہ کون ہے؟ حضت ذرا اس نام کا انکشاف تو کر دیں تاکہ ہمیں علم ہو کہ یہ تنازع کس نے کھڑا کیا ہے۔

یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ کون سی آئینی شق کے تحت اراکین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ منظوری سے پہلے بل کی سفارشات کو اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کیا جانا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور کیوں وہ پنجاب اسمبلی کو ایسا نہ کرنے پر غدار قرار دے رہے ہیں؟

تحفظ نسواں کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کا مینڈیٹ کیسے شروع ہوا ہے مولانا؟ حضرت آئین کے خلاف پنجاب اسمبلی چل رہی ہے یا آپ کی کونسل؟

اب تو مولانا کو خبروں میں دیکھ کر ہمیں جسٹس افتخار چوہدری یاد آنے لگے ہیں۔ جسٹس چوہدری کو میڈیا پر دیکھ کر ہمیں شہباز شریف صاحب یاد آتے تھے۔ اور شہباز شریف صاحب کو میڈیا پر دیکھ کر ہمیں اداکارہ میرا کے جلوے یاد آتے ہیں۔ میڈیا پر ایسے چھائے رہنا استادان فن کا کام ہے۔

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar