جاگتے رہنا بھا ئیو!


shumayla-hussain-2

صاحبو! ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں۔ اسی لئے تو جنت سے بے دخل ہونے سے لے کر آج تک آدم کی اولاد اپنی ہر غلطی اور ہر گناہ کے لئے حوا زادیوں کو مورد الزام ٹھہراتی چلی آرہی ہے۔ میرے ساتھ چلیے، ذرا نگاہ دوڑائیے تاریخ کے اوراق پر، جنت سے نکلے تو کہا کہ حوا نے بہکایا تو پھل کھا لیا اس سے تو اچھا تھا کہہ دیا جاتا کہ پھل تھا کھا گیا، جیسے پیپسی کے اشتہار میں پیپسی پینے والا توجیہہ پیش کرتا ہے کہ پیپسی تھی پی گیا۔ اس کی تردید حکم ربی سے ہوئی بھی کہ دونوں کو شیطان نے بہکایا۔ مگر پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ کہ بی بی کی بدولت جنت سے بے دخل ہوئے۔ چلو مان لیتے ہیں۔ اگر نکالے بھی گئے تو کیا برا ہوا جنت میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے تو بہتر ہے کہ کسی کام کو لگے۔ لذت گناہ برتر از عذر گناہ۔

اب مزید چلتے آئیے، انہیں دیکھئے بہت بڑے جنگ جو گزرے ہیں ایک مستانی کی زلف کے اسیر ہوئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ارے ابھی رکیے نہیں مغلیہ سلطنت کے درو دیوار کے منہدم ہونے کا قصہ بھی دیکھتے چلیے کہ شباب و شراب نے کہیں کا نہ رکھا۔ محل میں کھانے کو لقمہ نہ تھا لیکن تین سو عورتیں حرم کی زینت تھیں ۔ بہت سی حکومتوں کا دھڑن تختہ عورتوں کے کھاتے میں ڈال کر مرد جاتی ایک طرف ہوبیٹھی۔ بات یہیں ختم نہیں ہو گئی، جادوگر، چڑیل اور منافق ہونے کے الزمات بھی ہماری جھولی میں ہیں۔ اور تو اور بد زبان، بد دماغ، شکی، سیاسی، غیبتی، غبی اور فریبی، یہ خوبیاں بھی عورت کی اوڑھنی پر مستقل ٹانک دی گئی ہیں۔ اوران حوالوں سے ایسے ایسے اخلاق باختہ لطیفے اور چٹکلے مارکیٹ میں گردش کرتے رہتے ہیں کہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ بدزبانیاں بھی کسی عورت نے ہی کی ہوں گی۔ بیوی کو بدصورت بتانا، اس کے مرنے پر خوشی کا اظہار کرنا، اس کے گم ہوجانے پر شوہر کا مارے خوشی کے سمجھ نہ پانا کہ پولیس آفس جائے یا پوسٹ آفس، محبوبہ کو ہیروئن بتانا لیکن بیوی کو ولن، بیوی کو محبوبہ بننے کے قابل نہ جاننا، اس کی بدہیتی کو مذاق کا نشانہ بنانا، بیوٹی پارلر کا رخ کرنے پر ٹھٹھا اڑانا، یہ تو ہماری تہذیب کا حصہ ہے۔ مغربی تہذیب کو کھنگال لیں تو حالات زیادہ مختلف نہیں وہاں تو بیوی کو بے وفا اور ہرجائی ثابت کرنے کے لئے اس کے ایک سے زیادہ معاشقے دکھائے جاتے ہیں۔

مجھے وہ ڈرائنگ یاد آرہی ہے جس میں ایک خاتون اپنے بستر میں بیٹھی ہے اس کے بستر میں، بیڈ کے نیچے، بیڈ کے پیچھے، کھڑکی کے باہر، پنکھے کے اوپر اور دروازے کے پیچھے چھپے ہوئے نیم عریاں افراد کی بہتات ہے لیکن ایک معصوم شوہر آتا ہے اور آکر کہتا ہے کہ بے بی ! مجھے معاف کرنا میری ایک اور گرل فرینڈ ہے، میں نے تم سے چھپایا۔ اور بیوی اس پر اسے آنکھیں دکھا رہی ہے۔ تو حضور! یہ ساری باتیں بتانے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ پڑھ کے زبان کا چٹخارہ پورا کیا جائے۔ یا ہمارے تلملانے پر محظوظ ہوا جائے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے آدھی عمر جو گزاری تو مخلوط نظام تعلیم میں رہے، مخلوط دفاتر میں کام کیا، ایسا کرتے ہوئے ہم نے خود کو اندھا گونگا بہرہ کر کے نہیں رکھا۔ اور نہ ہی اپنے خاتون ہونے پر مجرم بن کر زندگی گزار دی۔ آنکھیں کھلی رکھیں اور بصارت کو بصیرت سے بہت دور نہیں جانے دیا۔ اور یہ پایا کہ وہ ساری برائیاں جو عورتوں میں بیان کی جاتی رہیں ہمارے مرد حضرات ان میں طاق ہیں۔

خواتین چھٹی لینے کے لئے کبھی کسی نانی دادی یا رشتے دار کو بار بار موت کے گھاٹ نہیں اتارتیں۔ دفاتر کی سیاست سے عموماً الگ رہتی ہیں ۔ منافقت کرنے کی نوبت کم آتی ہے کیونکہ زیادہ دیر جھوٹ پر قائم نہیں رہ سکتیں۔ مردوں کا مذاق بھی کم اڑاتی ہیں کیونکہ دماغی طور مسلسل مصروف ہوتی ہیں۔ گھر کے کام، باہر کے کام، بچوں کے مسائل، اماں ابا کی ٹینشن، محبوب یا شوہر کی بے وفائی اور دیگر بہت سے معاملات انہیں فراغت نصیب نہیں ہونے دیتے۔ کہ وہ مردوں کی طرح بیٹھ کر چٹکلے چھوڑ سکیں۔ ہاں آپس میں خوش گپیاں اور مزاح الگ بات ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انسان کو تہذیب کے دائروں میں رکھنے کا سہرا عورت ذات کے سر ہی باندھا جاتا ہے اگر یہ بھی ان دائروں کو پھلانگ کر سیدھے سبھاؤ چلنے لگے تو مشتاق یوسفی جیسا مزاح نگار بھی اس کی شاگردی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے۔

دوسرا بڑانکتہ اعتراض یہ ہے کہ عورتیں اپنی خوبصورتی کے معاملے میں محتاط ہوتی ہیں اور لاکھوں روپے بیوٹی پارلز اور بوتیکز پر خرچ کر ڈالتی ہیں۔ تو صاحبان عقل ودانش! نسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کرتا ہے۔ کسی بد صورت شخص کا وجود دنیا کے ادب میں کبھی محبوب کی جگہ نہ پا سکا۔ مردوں نے عورت کا جو تصور پیش کیا اور جس طرح خوبصورت عورتوں کی خاطر حکومتیں لٹا ڈالیں، خاندان تباہ کردئیے یہ ہی عدم تحفظ کا احسا س عورت کو خوبصورت لگنے کے تمام حربوں کی جانب لے گیا۔ کون نہیں چاہے گا کہ اس کو چاہا جائے۔ یہاں سوال یہ کیا جاتا ہے کہ مرد تو ایسا نہیں کرتے عورتیں بھی تو خوبصورت مرد پسند کرتی ہیں تو میاں! مرد حضرات حکیموں اور ماہر جنسیات حضرات کے پاس کس کی خاطر جاتے ہیں؟ دونوں اجناس انسانی ایک دوسرے کو متاثر کرنے کے لئے اپنے اپنے میدان میں بے تحاشہ خرچ کرتی ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر عورت کسی کا راز رکھنے والی نہ ہوتی تو کوئی بھی مرد معاشرے میں سر اٹھا کرچلنے کے قابل نہ رہتا۔ یہاں سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ عورتیں راز رکھتی ہیں۔ جبکہ مرد حضرات میں اکثر یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ کوئی عورت ان سے ہنس کر بات کر لے تو منہ پر باجی باجی کہہ کر بات کرنے والے بھائی تھوڑی دور جاکر اپنے کالر جھاڑ کر فرماتے ہیں کہ دیکھا کیسے پٹایا میں نے۔ اس کے برعکس عورتیں معاشرتی دباؤ کا اس قدر شکار ہو تی ہیں کہ خوامخواہ ہر کسی کو بھائی کہہ کر بلانا اور دوسروں کے سامنے صفائیاں پیش کرنا ضروری خیال کرنے لگتی ہیں۔

عورتیں جذباتی ہوتی ہیں بات بات پر رونے لگتی ہیں۔ جی ہاں وہ زیادہ رحم دل ہوتی ہیں کچھ تو فطری طور پر ایسا ہے اور رہی سہی کسر پوری کردی جاتی ہے گھر کی تربیت سے۔ جب مرد کو شروع سے بتایا جاتا ہے کہ مرد روتے نہیں ہیں۔ مرد ڈرتے نہیں ہیں۔ اب ان باتوں کو ڈی کنسٹرکٹ کریں تو بات کی تفہیم یوں ہوتی ہے مرد نہیں روتے لڑکیاں روتی ہیں۔ مرد نہیں ڈرتے لڑکیاں ڈرتی ہیں۔ یہ ڈیٹا کئی نسلوں سے جینز میں گھس کر منتقل ہو تاچلاآرہا ہے ۔ کسی گھر میں یہ نہ بھی سکھایا جارہا ہو تو سماج، جینز کے اثرات اور جسمانی طور پر کم مائیگی کا احساس عورت کو کمزور مخلوق ہونے کا شعور بخشتا ہے۔ وہ طاقت سے معاملات درست نہیں کرسکتی تو زبان سے جھگڑتی ہے۔ جھگڑا بے سود رہتا ہے تو بے بس ہو کر رونے لگتی ہے۔ جب آنسو دکھا کر اس کا کام ہو جاتا ہے تو پھر اس بچے کی طرح وہ ہر بات رو کر منوانے لگتی ہے جس کی ماں صرف رونے پر ہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ اگر عزت پانا چاہتے ہیں تو دونوں اصناف ایک دوسرے کی عزت کریں۔ ورنہ ایک اور بل پاس کروانے کی نوبت آپہنچے گی اور پھر ایک شور قیامت ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “جاگتے رہنا بھا ئیو!

  • 25-03-2016 at 2:38 pm
    Permalink

    Well written ma’am

  • 25-03-2016 at 5:28 pm
    Permalink

    You are absolutely right this is what I have also observed in my many years working in offices Men are can be super gossips as wells.

Comments are closed.