نیک دل کفار کے بارے میں ایک وسوسہ


faisal-shahzad

ایک خیال یا وسوسہ کہہ لیجیے، جو تقریباً ہر مسلمان کے دل میں کبھی نہ کبھی آتا ہی ہے اور اکثر جدید تعلیم یافتہ بھائیوں کو تو بہت ہی تنگ کرتا ہے، جس کا اظہار فیس بک پر ان کے اسٹیٹس کی صورت نظر آتا رہتا ہے۔

شبہ دل میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بہت سے محض نام کے مسلمان حد درجے گھناونے کاموں میں ملوث ہیں، انہوں نے ظلم وستم کا بازار گرم کر کے مخلوق خدا کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ کسی بے بس کی عزت لوٹی، کسی غریب کا مال دبایا۔ غرض ایسے بھیانک ظلم کہ بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔ مگرہم سنتے ہیں کہ چونکہ وہ مسلمان ہے، اس لیے اگر سزا ملی بھی تو کچھ عرصے کے بعد ہمیشہ کے لیے جنت میں جا کر مزے کرے گا۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بعض کافر ہیں، مگر نہایت رحم دل اور بااخلاق۔ وہ لوگ اپنی پوری زندگی اور سب کچھ مخلوق خدا کی خدمت کے لیے لگا دیتے ہیں۔ دنیا میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں مگر پاک و ہند سے صرف دو مثالیں لیجیے۔ ایک ہندوستان کی مدر ٹریسا اور دوسری پاکستان کی ڈاکٹر روتھ فاو جنہوں نے جذام کے ان مریضوں کے لیے اپنا ملک، عیش وعشرت، اپنی جوانی، اپنی دولت، اپنی زندگی کھپا دی، جن کو ہم شاید ایک نظر دیکھ کر کراہت سے دوسری نگاہ بھی نہ ڈالیں۔

مگر چونکہ بہرحال یہ دونوں خواتین غیر مسلم تھیں (ڈاکٹر روتھ حیات ہیں)۔ اور ہم سنتے آئے ہیں کہ کافر کو اس کی اچھائی کا دنیا میں ہی بدلہ دے دیا جائے گا مگر آخرت میں ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں جلے گا۔ سو یہ سارے کافر بھی ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ کی نذر!

اب شیطان یہ وسوسہ ہمارے دل میں ڈالتا ہے کہ یا تو نعوذ باللہ، اللہ رب العزت ظالم ہیں۔ کہ ایسے رحم دل کو ایمان والوں کے گھر پیدا نہیں کیا اور اب یہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش کے لیے جلیں گے! یا پھر۔ دخول جنت کے لیے کلمے والی یعنی ایمان مجمل و مفصل کی شرط غلط ہے۔ پھر شیطان مختلف دور از تاویلات اور احتمالات پیش کر کے کافروں کے لیے ایمانیات کی لازمی شرط پوری کیے بغیر بھی جنت کے در وا کر دیتا ہے!

آئیے اب اس شبہ کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:۔

سب سے پہلے ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم پڑھیے: فرمایا کہ حشر کے دن بہت سے ایسے لوگ جو ساری زندگی کفر میں گزار کر مرے ہوں، مسلمانوں کی صف میں نظر آئیں گے اور بہت سے مسلمان نام والے کافروں کی صف میں نظر آئیں گے۔

ایسا کیسے اور کیوں ہوگا؟

ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت لطیف بھی ہے۔ یعنی باریک بیں۔ وہ دلوں کے ہر بھید سے بخوبی واقف ہیں اور وہ بے حد قدردان بھی ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی بات ان کے سامنے ہے، ذرہ برابر بلکہ ذرے کے کروڑویں حصے کے برابر بھی۔ کوئی خیر یا شر ایسا نہیں، جو اس علیم و خبیر و بصیرذات سے چھپا ہوا ہو۔

سو کافر اگر متعصب یا مغرور نہ ہو اور اس کی کوئی نیکی، کوئی ایک ادا رب تعالیٰ کو پسند آ جائے تو اسے بلا کسی ظاہری سبب کے بھی ایمان کی توفیق دے دیتے ہیں۔ پھر یہ ایمان کبھی تو ظاہر ہو جاتا ہے جیسا کہ ایک صحابی رسول نے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے ایام جاہلیت میں 300 بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا تو میری اس نیکی کا اجر مجھے کیا ملے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس کا مفہوم ہے کہ تمہیں اسلام لانے کی توفیق دی گئی، یہی تو اس کا اجر ہے۔

اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے نیک دل غیر مسلموں کے ایمان کی کسی کو خبر نہ ہو۔ یا تو اس وجہ سے کہ انہیں موت سے قبل ہی ایمان لانے کی توفیق ملی ہو، جس پر بندہ اور اس کا رب ہی واقف ہوں۔ یہ قبل نزع کے عالم سے گھنٹہ بھر پہلے بھی ہو سکتا ہے اور ایک دن قبل بھی۔ اور اگر کچھ عرصہ پہلے بھی ہدایت کی توفیق ہو تو ممکن ہے کہ کسی شرعی عذر اور مصلحت کی وجہ سے بھی چھپایا گیا ہو۔
البتہ تعصب ، ضد، نسلی فخر اور تکبر ایسی بری صفات ہیں کہ ان کا خناس دل میں ہو تو سر کی آنکھوں سے توحید و رسالت کی حقانیت دیکھ کر بھی ایمان کی توفیق نہیں ہوتی۔ اپنی آنکھوں سے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھ کر دل نے یقین کر لیا مگر ضد اور قومی تعصب کی وجہ سے اسلام کی توفیق نہیں ملی۔ اسی طرح نہایت نیک دل چچا، عظیم المرتبت بھتیجے کی سچائی کے دل سے معترف مگر قومی حمیت کی وجہ سے ایمان کی توفیق نہیں ہوئی۔

سو ان بری صفات کے حامل کافر نے کچھ نیک اعمال بھی کیے ہوں۔ تو ان کو ایمان کی توفیق تو نہیں ہوتی مگر ان نیک اعمال کو ضائع پھر بھی نہیں کیا جاتا۔ ان کا بدلہ اللہ تعالیٰ اکثر تو اسی دنیا میں دے دیتے ہیں کہ نزع کے عالم سے پہلے اس کی ناممکن خواہشات بھی بعض اوقات پوری کر دیتے ہیں۔ جب کہ بعض کافروں کے نیک اعمال کی بدولت انہیں آخرت میں بھی فائدہ ہوتا ہے کہ ان پر عذاب کی تخفیف کر دی جاتی ہے۔

یہ تو ہوئی کافر کی تفصیل۔ اب مسلمانوں کی بات لیجیے:۔

احادیث مبارکہ میں کئی ایسے گناہ کبیرہ بھی بتائے گئے ہیں جن کو ہلکا جاننے یا ان پر اصرار کی وجہ سے یا پھر دین کے کسی حکم کو کمتر جاننے سے مرتے وقت کلمہ کی توفیق چھین لی جاتی ہے، یہاں تک کہ کچھ کی موت ہی ایسی آتی ہے کہ مرنے سے قبل کوئی کلمہ کفر کہہ دیا اور یوں کفر پر موت آ گئی۔ العیاذ باللہ (اللھم احفظنا منھم)۔

احادیث میں اور اسلاف کی کتابوں میں ایسے کئی بدنصیبوں کے واقعات موجود ہیں کہ کسی شرابی ، زانی یا ظالم شخص نے ان گناہوں کو ہلکا سمجھایا دین کے کسی حکم کو کمتر جان کر اس کا مضحکہ اڑایا تو کفر کی حالت میں مرا۔

سوقصہ مختصر!ہم تو ظاہر کے مکلف ہیں، اس لیے ہمیں اصولی بات عمومی انداز میں کرنی چاہیے۔ کیا پتہ جن نیک دل کفار کے نیک اعمال سے متاثر ہو کر ہمارے اندر یہ خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ اے کاش یہ جہنم میں نہ جائیں تو۔

واقعی ان کو آخری وقت منجانب اللہ ہدایت مل جائے کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر احسان کرنے والوں کے آپ سے زیادہ قدردان ہیں۔ وہ دلوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہیں۔ اگر اس کے عدل میں وہ شخص ایمان کی دولت عظمیٰ کا حقدار ہو گا تو اسے ہدایت مل کر رہے گی، چاہے اس سے کوئی دوجا واقف ہو یا نہ ہو مگر۔

مگر چونکہ یقینی طور پر کسی کو اس کا علم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے تعین کے ساتھ کسی کا محض ظاہر دیکھ کر یہ کہنا کہ فلاں کافر بڑے فلاحی کام کرتا تھا، سو وہ جنت میں جائے گا، بڑی جرات کی بات ہے اور اللہ کی سنت کو جھٹلانے کی بات ہے۔

بالکل اسی طرح کسی مسلمان کی بد اعمالیوں اور ظلم کو دیکھ کر بھی ہم حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ضرور ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ کے علم میں وہ اتنا برا نہ ہو کہ اس سے ایمان کی دولت ہی چھین لی جائے۔

اس لیے میرے دوستو! یقینی اور حتمی بات جاننے کے لیے حشر کے دن کا انتظار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “نیک دل کفار کے بارے میں ایک وسوسہ

  • 25-03-2016 at 9:04 pm
    Permalink

    واہ سبحان اللہ
    بہترین استدلال کے ساتھ بات سمجھائی
    آج دل کی ایک دیرینہ خلش ختم ھوئی۔

    • 26-03-2016 at 9:36 pm
      Permalink

      جنت اور دوزخ کا فیصلہ

      جنت اور دوزخ کا فیصلہ اللہ کا کام ھے —-اس کا اپنا ایک کمپیوٹرائزڈ نظام ھے جس کے تحت کسی فرد کے تمام پہلؤں کا احاطہ کیا جاسکتا ھے — یہ پہلو ہم سے مخفی ہیں سو ھم کون ہیں جو کہہ سکیں کہ کون جنت میں جائیگا اور کون دوزخ کاحقدار ? ہماری جانب سے کسی کے جنتی اور دوزخی ھونے کا فیصلہ اللہ کے اختیار کو خود استعمال کرنا ھے اور ھماری غلط جسارت -جنت میں جانا وغیرہ آللہ کے یہاں جماعتوں اور مسلک کی بناہ پر حساب نہیں ھوتا بلکہ انفرادی حساب دینا ھے -انفرادی طور پر اللہ کسی بھی عذر کو قبول کرسکتا ھے -وہ چاھے تو ھندو ، عیسائی اور یہودی کا عذر بھی قبول کر لے —

      جنگ احد میں آنحضرت محمد صلی علٰی علیہ و السلم زخمی ھو گئے تو فرمایا یہ لوگ کیسے رہائی پائیں گے جو پیغمبروں کا یہ حال کرتے ھین –تب اللہ تعالٰی نے تصحیح کی

      “تمہارا کوئی تعلق نہیں سزا و جزا سے -اللہ سزا دے یا معاف کردے (البتہ) وہ غلط راستے پر چل رھے ھیں

      لَيۡسَ لَكَ مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَىۡءٌ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡہِمۡ أَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَإِنَّهُمۡ ظَـٰلِمُونَ

      ( 128)

      Soorah Al – Emran Ayat 128 (3/128)

      Translation (From two different Qurans )

      (1)It is not concern with you __Allah may forgive them or punish them for they are evils doers

      (2) It is no concern at all of thee (Muhammad) whether He relent toward them or punish them; for they are evil-doers

      References :

      (a)Magazine “Soway Haram –March 2007 -Editorial page 06–07

      (b) Book name “Mohammad” by Waheed ud Din Khan Page 41

  • 25-03-2016 at 10:35 pm
    Permalink

    oversimplification.

  • 26-03-2016 at 12:44 am
    Permalink

    zbardast…es form pay ap aysy logn ka majood hona bays a shagoon hay…jety rahyia ,sehat o eman ke salamti kay sath…aor ham aysy shayqeen a elm ke rehnomae karty rahyia.
    yaqeen maneyay,arsa hoa es hawaly say eshqal tha,aj Anashara sadr ho gaya.
    jazak Allah.

  • 26-03-2016 at 4:45 pm
    Permalink

    ماشاء اللہ ۔ ایک بہت ہی اہم ترین موضوع کا انتخاب کیا ۔۔ ایک ایسا سوال جو اکثر ذہن میں آتا رہتا ہے کفار اور مسلمین کے متعلق ۔۔ مختصر لیکن جامع الفاظ میں بہت عمدگی سے آپ نے سمجھایا اور وضاحت کی ۔ جزاک اللہ احسن الجزاء

  • 26-03-2016 at 8:41 pm
    Permalink

    جنت اور دوزخ کا فیصلہ

    جنت اور دوزخ کا فیصلہ اللہ کا کام ھے —-اس کا اپنا ایک کمپیوٹرائزڈ نظام ھے جس کے تحت کسی فرد کے تمام پہلؤں کا احاطہ کیا جاسکتا ھے — یہ پہلو ہم سے مخفی ہیں سو ھم کون ہیں جو کہہ سکیں کہ کون جنت میں جائیگا اور کون دوزخ کاحقدار ? ہماری جانب سے کسی کے جنتی اور دوزخی ھونے کا فیصلہ اللہ کے اختیار کو خود استعمال کرنا ھے اور ھماری غلط جسارت -جنت میں جانا وغیرہ آللہ کے یہاں جماعتوں اور مسلک کی بناہ پر حساب نہیں ھوتا بلکہ انفرادی حساب دینا ھے -انفرادی طور پر اللہ کسی بھی عذر کو قبول کرسکتا ھے -وہ چاھے تو ھندو ، عیسائی اور یہودی کا عذر بھی قبول کر لے —

    جنگ احد میں آنحضرت محمد صلی علٰی علیہ و السلم زخمی ھو گئے تو فرمایا یہ لوگ کیسے رہائی پائیں گے جو پیغمبروں کا یہ حال کرتے ھین –تب اللہ تعالٰی نے تصحیح کی

    “تمہارا کوئی تعلق نہیں سزا و جزا سے -اللہ سزا دے یا معاف کردے (البتہ) وہ غلط راستے پر چل رھے ھیں

    لَيۡسَ لَكَ مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَىۡءٌ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡہِمۡ أَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ فَإِنَّهُمۡ ظَـٰلِمُونَ

    ( 128)

    Soorah Al – Emran Ayat 128 (3/128)

    Translation (From two different Qurans )

    (1)It is not concern with you __Allah may forgive them or punish them for they are evils doers

    (2) It is no concern at all of thee (Muhammad) whether He relent toward them or punish them; for they are evil-doers

    References :

    (a)Magazine “Soway Haram –March 2007 -Editorial page 06–07

    (b) Book name “Mohammad” by Waheed ud Din Khan Page 41

  • 22-04-2016 at 7:40 pm
    Permalink

    قرآن و حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جہنم دائمی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃ‘‘ یعنی اس کی ماں ھاویہ ہے۔ جس طرح بچہ ماں کے پیٹ میں مکمل ہونے کے بعد باہر نکل آتا ہے اسی طرح ایک گنہگار جہنم میں، جو ایک ہسپتال کی طرح ہے، تندرست ہوکر اپنے گناہوں کی سزا پاکر وہاں سے نکل آئے گا۔ حدیث میں ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ جہنم بالکل خالی ہوجائے گی اور اس کے کواڑ ہوا سے پھڑپھڑائیں گے۔
    کلمہ گو ہونا بھی مرنے کے بعد سیدھا جنت میں جانے کی ضمانت نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی کافر ہو اور مرنے کے بعد سیدھا جنت میں داخل کردیا جائے اور ایک کلمہ گو مسلمان ہو لیکن وہ جہنم میں جائے۔ کسی کو علم نہیں اس کے ساتھ کیا ہوگا ’’وما ادري ما یفعل بی و لا بکم‘‘ (46:9) مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور نہ ہی تمہارے ساتھ۔
    آگ میں بالکل نہ ڈالا جانا یہود کا گمان تھا جس کی خدا نے قرآن میں تردید کی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک طوائف کو پیاسے کتے یا بلی کو پانی پلانے پر اللہ نے بخش دیا۔ اب اس کا بخشا جانا اس کے اور اللہ کے درمیان رہا مخلوق تو اسے جہنمی طوائف ہی سمجھتی رہی ہوگی۔

Comments are closed.