تعداد نہیں، اخلاقی اصول کا سوال ہے


wajahatبرسلز میں دہشت گردی کی بڑی واردات ہوئی ہے۔ تین درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ برسلز یورپی یونین کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ یورپی یونین میں اٹھائیس ممالک شامل ہیں جہاں کل ملا کر پانچ کروڑ سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ عمر کوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو صاحب نے قوم کی تعمیر کے ضمن میں کچھ نہایت قابل تعریف باتیں کی ہیں۔ ہمارے محترم بھائی انصار عباسی صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں ایک سینئر افسر کا حوالہ دیا ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ ”یوم اقبال کی چھٹی ختم کر دی گئی اور ہولی اور دیوالی کی چھٹی شروع، جبکہ پاکستان میں ہندو ایک اعشاریہ چھ فیصد سے بھی کم…. یہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف اعلان جنگ نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ سرحدیں پامال کی جا چکی ہیں…. “ ان تین بظاہر الگ الگ معاملات میں گہرا تعلق ہے۔ جس پر غور کئے بغیر مسلمانوں کے موجودہ سیاسی معاشرتی اور معاشی بحران سے نجات ممکن نہیں۔

پیرس، لندن اور میڈرڈ کے بعد برسلز میں حملوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ دہشت گردوں نے یورپ کو ہدف بنا لیا ہے۔ ان حملوں کا مقصد یورپ کو تباہ کرنا یا اس پر سیاسی غلبہ حاصل کرنا نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص یورپ میں بسنے والے مسلمانوں اور یورپ کے باشندوں کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا کر کے یورپ کے سیاسی اور معاشرتی نظام میں رخنہ ڈالنا ہے۔ ان حملوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ

 

0یورپ کے سیاسی رہنما بتدریج تکثیریت اور رواداری کو ترک کر کے گروہی قانون سازی پر مائل ہوجائیں گے۔ اہلِ یورپ ہر مسلمان کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھیں گے، مسلمانوں پر معاش کے راستے تنگ ہوں گے اور ان کے بچوں کی تعلیم میں رخنہ آئے گا۔ بے گانگی اور مخاصمت کا شکار ہونے والی یہ نسل امتیازی سلوک کے نتیجے میں مزید پسماندہ ہوجائے گی۔ نفرت اور تفرقہ کی سیاست کا یہ ناگزیر نتیجہ ہوتا ہے۔ اس سے جڑا ہوا سوال یہ ہے کہ خود مسلم اکثریتی معاشرے بھی سیاسی نظام کے بحران کا شکار ہیں۔ یہ معاشرے بادشاہت، آمریت اور نیم جمہوری مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اس طرح کا سیاسی نظام مستحکم نہیں ہوا کرتا۔ ان معاشروں کی معیشت کمزور ہے۔ بیسویں صدی میں معدنی وسائل اور افرادی قوت کی صورت میں مسلم دنیا کو جو فائدہ مل سکتا تھا وہ علم کی معیشت کے باعث تیزی سے زائل ہو رہا ہے۔ اب فیصلہ آبادی کے حجم پر نہیں، آبادی کے علمی معیار اور ہنر کی بنیاد پر ہورہا ہے۔ خام مال کی اہمیت مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوئی لیکن خام مال کو مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت فیصلہ کن نکتہ بن چکی ہے۔ معاشرتی سطح پر مسلم اکثریتی ممالک شخصی آزادیوں کے بحران کا شکار ہیں۔ یہاں عورتوں کو معاشی اور سماجی طور پر مفلوج رکھا گیا ہے اور ان کی نوجوان نسل ذہنی گھٹن کا شکار ہے۔ جس سے ان کی علمی صلاحیت کمزور ہورہی ہے اور منقسم ذہنیت کے باعث اخلاقی توانائی مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ گزشتہ بیس
برس میں دہشت گردی کے عفریت نے مغرب اور مسلمان دنیا کو یکساں طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ دہشت گردی کو ایک سیاسی نصب العین کے طور پر اسلام کی آڑ میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ چنانچہ دہشت گردی کے ضمن میں دو ٹوک موقف اختیار کرنے کی ذمہ داری مسلم دنیا پر In this photo provided by Georgian Public Broadcaster and photographed by Ketevan Kardava two women wounded in Brussels Airport in Brussels, Belgium, after explosions were heard Tuesday, March 22, 2016. A developing situation left at least one person and possibly more dead in explosions that ripped through the departure hall at Brussels airport Tuesday, police said. All flights were canceled, arriving planes were being diverted and Belgium's terror alert level was raised to maximum, officials said. (Ketevan Kardava/ Georgian Public Broadcaster via AP)عائد ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے مسلم دنیا میں اس پر سنجیدہ غور و فکر نہیں کیا جا رہا۔ مسلم دنیا کی سیاسی قیادت جمہوری تائید سے محروم ہونے کے باعث غیر شفافیت اور کوتاہ نظری کا شکار ہے۔ با جواز حکمرانی کی عدم موجودگی میں قیادت پہل کاری کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے۔ چنانچہ مسلمان ملکوں کی قیادت نے پچھلے پندرہ برس سے دہشت گردی کو بیسویں صدی کی قوم پرستی کے ساتھ خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے اور قوم پرستی بھی ایسی کہ جس میں مذہبی تشخص اور قومی ریاست کے تصورات میں تصادم موجود ہے۔ نتیجہ یہ کہ مسلم رائے عامہ دہشت گردی کے سوال پر یکسوئی سے محروم ہے۔

یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دہشت گردی کی مخالف ہے تاہم یہ بھی کہ حقیقت ہے کہ مسلم دنیا میں دہشت گردی کو جائز سیاسی ہتھکنڈہ سمجھنے والی سوچ بھی موجود ہے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے مجھے تین مواقع پر شدید تعجب ہوا۔ 1996 میں افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان نے عورتوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا، ایک مسلم معاشرے میں پرورش پانے کے تناظر میں وہ رویہ میری نظر میں اسلامی تعلیمات کے منافی تھا لیکن مسلمانوں کی رہنمائی کے دعوے دار حلقوں نے اس پر وہ رد عمل نہیں دیا جس کی ان سے توقع تھی۔ دس برس بعد 2007 ءمیں پاکستان کے علاقے سوات میں طالبان نے بالا دستی حاصل کی تو بچیوں کے اسکول تباہ کیے گئے۔ شدید حیرت ہوئی کہ پاکستان میں مذہبی قیادت نے علم کے بنیادی حق پر اس حملے کی واضح مزاحمت نہیں کی۔ پچھلے تین برس سے داعش عراق اور شام میں عورتوں کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے مسلم دنیا میں دانشور اور ذرائع ابلاغ اس پر خاموش ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ مسلمان رہنماؤں اور مفکرین 00568e9_bکو بعض بنیادی نکات پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے سوال پر شاید اب لیپا پوتی سے کام نہ چلے۔ مسلم دنیا کی ترجمانی کرنے والوں نے کھل کر ظلم اور دہشت گردی کی مخالفت نہ کی تو مسلم دنیا کے لئے مشکلات بہت بڑھ جائیں گی۔ دہشت گردی کو یورپ کے مفروضہ مظالم کے ساتھ ایک ہی سانس میں جوڑنے سے تو دہشت گردوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ کیا اسلام کا غلبہ ایک جائز سیاسی نصب العین ہے؟ یا ہمیں تمام مذاہب اور عقائد کے مابین پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر زندہ رہنے کا اصول ماننا چاہیے۔ اگر اس سوال پر آج سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو مسلم دنیا کا بحران بہت بڑھ جائے گا۔

یورپ اور امریکا میں کروڑوں مسلمان آباد ہیں اور مسلم دنیا کا معاشی اور علمی مستقبل بھی یورپ اور امریکا ہی سے وابستہ ہے۔ قتال کا تصور ایک تاریخی حقیقت ہے۔ لیکن اس طرح تو غلامی کا ادارہ بھی موجود رہا ہے۔ کیا تاریخی ارتقا کے مراحل کو عقائد کا حصہ قرار دینا چاہیے؟ داعش نے قتال، غلامی اور عورتوں کے حقوق کے تین نکات کو بالکل کھول دیا ہے۔ اب اس پر مسلمانوں کو واضح موقف اختیار کرنا 03x267پڑے گا۔ اس میں محض دانشوروں کے بات کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ سیاسی قیادت کو پہل کاری کرنا ہوگی۔ میری رائے میں میاں نواز شریف، آصف علی زردار ی اور دوسرے صف اول کے رہنما ان معاملات کو سمجھتے ہیں لیکن مسلسل کردار کشی کی صورت میں ان رہنماؤں کی ساکھ اس قدر مخدوش کر دی گئی ہے کہ ان کے لئے کھل کر بات کرنا مشکل ہورہا ہے۔ میاں نواز شریف کا لبرل ازم فی الحال صرف یہ ہے کہ مولوی حضرات ماضی کی طرح ریاست کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔ اس اصولی موقف پر اتنی دھول اڑائی گئی ہے کہ الامان۔ اب بلاول بھٹو نے زبان کھولی ہے تو اس غریب کی ٹانگ لی جائے گی۔ ہمارا المیہ اس جملے میں ہے کہ ”پاکستان میں ہندو صرف 6۔1 فیصد ہیں“۔ بھائی، اقلیت تعداد کا سوال نہیں ہوتا، اقلیت کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جاتا ہے اس سے قوم کا تشخص طے پاتا ہے۔ یہ تعداد کا سوال نہیں، قوم کی تشکیل میں کارفرما انصاف اور مساوات کے اخلاقی اصولوں کا سوال ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “تعداد نہیں، اخلاقی اصول کا سوال ہے

  • 25-03-2016 at 6:26 pm
    Permalink

    عمدہ نکات اٹھائے گئے ۔ ۔ ۔ یہاں بھی دائیں اور بائیں بازو کی پہچان ھوئی کہ دائیں بازو نے عورت کے خلاف کئے گئے اقدامات کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ خاموش رہ کر ایسے گروہوں کو تقویت پہنچائی ۔
    ملالہ یوسف زئی پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تب بھی یہ لوگ خاموش رہے بلکہ جن لوگوں نے اس پر حملے پر احتجاجی جلوس نکالے یہ ان پر تنقید کرتے رھے

  • 26-03-2016 at 4:04 pm
    Permalink

    Superb Sir

Comments are closed.