لاجواب لوگ اور نئی قومی ائر لائن


 

\"0AKISTAN1\"حکومت ایک طرف اپوزیشن کے ساتھ مل کر پاکستان انٹر نیشنل ائر لائن کا بحران حل کرنا چاہتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک نئی قومی ائر لائن کا ڈول ڈالنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس بارے میں کل وزیر اعظم کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہؤا۔ اجلاس میں نئی قومی ائر لائن کے خد و خال پر بات چیت کی گئی اور وزیر اعظم نے اسے صارفین کے لئے بہترین اور اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار کے مطابق استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان خبروں کے سامنے آنے سے قومی ائر لائن کے سوال پر سیاسی اپوزیشن اور پی آئی اے کی ورکرز یونین کے ساتھ معاملات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

عام طور سے یہ بتایا جا تا ہے کہ پی آئی اے کوسالانہ چالیس ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے حکومت اس ادارے کی اصلاح کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ گزشتہ ماہ کے شروع میں پی آئی اے کی یونین نے سہ روزہ ہڑتال بھی کی تھی اور اس موقع پر فائرنگ کے ایک واقعہ میں دو افراد جاں بحق بھی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی مصالحت سے ائر لائن کے ورکرز ہڑتال ختم کرنے پر راضی ہو گئے تھے ۔ تاہم اس معاہدہ کی بنیاد یہ سمجھی جا رہی تھی کہ حکومت پی آئی کے ورکرز کو اصلاح احوال کا ایک موقع دے گی۔ اگر وہ ایر لائن کاخسارہ کم کرنے اور اسے پروفیشنل انداز میں چلانے میں کامیاب ہو گئے تو ائر لائن کی نجکاری کا معاملہ مؤخر کردیا جائے گا۔ اس دوران دو خبریں سامنے آئیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق ہڑتال سے کام پر واپس آنے کے بعد پی آئی کے ورکرز نے ڈٹ کر بہتری کے لئے کام کیا ہے اور جو ائر لائن خطیر خسارے میں جا رہی تھی اسے صرف ایک ماہ میں 9 ارب روپے کا منافع ہؤا ہے۔ درست ہونے کی صورت میں یہ ایک ڈرامائی خبر تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت نے اس ہفتے کے شروع میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جس میں مبینہ طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا بل منظور کروانے کا ارادہ تھا۔ تاہم اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے بعد اس معاملہ کو مؤخر کردیا گیا اور ایک دس رکنی کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کا کام سونپا گیا۔

سوال ہے کہ اگر پی آئی اے ایک ماہ میں ہی خسارہ سے منافع بخش ہو گئی ہے تو حکومت اس انتظام میں کیوں رخنہ ڈال رہی ہے اور کارکنوں کو زیادہ اختیار اور مالکانہ حقوق دے کر کیوں اس اہم قومی ادارے کی صورت حال کو بہتر بنانے کے عمل کو مستقل نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف اگر واقعی ایک ادارے پر سالانہ چالیس ارب کا خسارہ ہے اور وہ مسلسل عالمی معیار اور مسافروں کی توقعات پوری کرنے میں ناکام ہے تو صرف 20 ہزار کے لگ بھگ ملازمین کے روزگار کے لئے اس قدر کثیر قومی دولت کیسے اور کیوں صرف کی جارہی ہے۔ اور اب اگر صورت حال واقعی بہتر ہو رہی ہے تو ایک نئی ائر لائن قائم کرنے کا فیصلہ کر کے اعتماد کی فضا کو کیوں تباہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سارے سوالات قیاس اورفراہم کردہ محدود اور غیر یقینی معلومات کی بنیاد پر اٹھائے جاتے ہیں۔ حکومت اپنی طے شدہ پالیسی کے تحت اصل معلومات پارلیمنٹ اور عوام سے چھپا کر فیصلے کرنا چاہتی ہے۔

نئی ائر لائن کے بارے میں سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ اس کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا گیا تھا اور پی آئی کے معاملہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ یہ دلیل اور مؤقف بودی اور ناقابل اعتبار ہے۔ حکومت اب اگر پرائیویٹ سیکٹر میں ایک نئی ائر لائن قائم کرنا چاہتی ہے تو پہلے اسے اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ جب پہلے سے قائم متعدد قومی ادارے ناکام ہیں اور خسارے میں جا رہے ہیں تو ایک نیا سرکاری ادارہ کیوں کر عوام دوست اور منافع بخش ہو سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 699 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali