سندھ میں اگلے الیکشن کے گرد گھومتی سیاست


\"wisi

 سندھ سید لیگ سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔ یہ بڑی درگاہوں کے پیروں کا غیر رسمی اور غیر علانیہ اتحاد ہے۔ ہالہ کے مخدوم واحد غیر سید ہیں جنہیں سید پیروں نے اپنے اس اتحاد میں شامل کر رکھا ہے۔ اس اتحاد میں نولکھی گدی والے پیروں کا زور ہے۔

نو لکھی سے مراد ایسے پیر جن کے مریدوں کی تعداد نو لاکھ ہے۔ یہ ایک دلچسپ اتحاد ہے جو برسراقتدار پارٹی ہی کا نہیں، اپوزیشن میں رہنے والوں کا بھی انتخاب کرتا ہے۔ بظاہر حریف دکھائی دینے والے ممبران اسمبلی بہت احسن طریقے سے میدان میں جھونکے جاتے ہیں۔ وہ لڑتے رہتے ہیں ان کی لڑائی بھی پیروں کا اقتدار قائم ہی رکھتی ہے۔ پیروں نے حسب معمول بروقت اندازہ لگا لیا ہے کہ سندھ میں سیاست ایک کروٹ لینے کو ہے۔

مصطفی کمال ویسے تو اپنے لانچ کرنے والوں کی توقعات پوری کرنے میں ناکام ہی رہتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی پارٹی نے اپنی رونمائی کے لیئے لوگوں سے دور ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائیٹی کا علاوہ منتخب کیا۔ وہاں دفتر بنا کر سیاست کی ٹھرک تو پوری کی جا سکتی ہے ووٹ نہیں لئیے جا سکتے۔

مصطفی کمال نے البتہ ایک کام کر دیا ہے۔ الطاف بھائی کی کراچی پر گرفت کو ڈھیلا کر دیا ہے۔ متحدہ میں سراسیمگی پھیلا دی ہے، متحدہ کے جلسوں کی رونق کم ہوئی ہے۔ اتنا ہی نہیں ہوا، احتجاج کرنے کی سابق اہلیت بھی جاتی رہی ہے۔ اگلے الیکشن میں کراچی سے پہلے کی طرح واحد اکثریتی جماعت بن کر آنا متحدہ کے لیئے ایک مشکل ٹاسک ہے۔

کراچی سے اکثریت تو متحدہ کی ہی رہے گی شاید، لیکن قومی اسمبلی کی کئی سیٹیں اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔ متحدہ کو آئندہ پڑنے والا یہ ڈینٹ پیروں نے پہلے ہی محسوس کر لیا ہے۔ آصف زرداری کی سندھ سیاست بس اتنی تھی کہ جیتنے والوں کو اندرون سندھ سے ٹکٹ دو، الطاف حسین سے اچھے تعلقات رکھو اگر اکثریت نہ ملے تو متحدہ کو ملا حکومت بنا لو۔ متحدہ پی پی اتحاد کا کوئی توڑ کسی کے پاس نہیں تھا۔

اب ساری سیاسی گیم بس اتنی ہی رہ گئی ہے کہ کیا متحدہ پی پی اتحاد سندھ میں اکثریت لے سکتا ہے۔ مصطفی کمال کے آنے سے متحدہ کی وہ برتری برقرار نہیں رہے گی جو اسے کراچی کے حلقوں میں حاصل تھی۔ ٹھپے لگانا اگر ممکن نہ رہا تو اپنی اصل قوت سے بھی کم پر الطاف حسین کی متحدہ کو سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

سید لیگ کے اجلاس بار بار ہو رہے ہیں۔ سندھ کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذوالفقار مرزا کی مدد سے مسلم لیگ نون کے صوبائی صدر اسماعیل راہو نے بدین سے ضمنی الیکشن میں پی پی کے امیدوار کو شکست دے کر صوبائی سیٹ بھی جیت لی ہے۔ صورت حال پیروں اور وڈیروں کو حوصلہ افزا لگ رہی ہے۔

یہ سب دیکھ کر پی پی سندھ کے بہت سے اہم لوگ اپنی پارٹی سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ابھی تو شاید وہ مان جائیں حکومت سے الگ نہ ہوں لیکن اگلے الیکشن میں وہ پارٹی ٹکٹ کی بجائے آزاد الیکشن لڑنے کا آپشن لے سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ امکان ہے کہ وہ سندھ میں بننے والے نئے اتحاد کا حصہ بن جائیں۔

یہ سب ان سیاستدانوں کی باتیں ہیں جو اقتدار میں ہیں۔ اقتدار میں رہتے آئے ہیں۔ الیکشن میں ابھی دو سال پڑے ہیں اور وہ سرگرم ہو گئے ہیں۔ سیاست پارٹ ٹائم کام نہیں ہے۔ اگر ہم اس سب کو مافیا بھی مان لیں کرپشن یا حصہ وصولی کا ایک ذریعہ بھی مان لیں تو بھی جن کا یہ کام ہے وہ یہ سب بروقت کرتے ہیں، ہر وقت کرتے ہیں۔ جیتیں یا ہاریں، سرگرم رہتے ہیں۔ اپنے ووٹر سے رابطے میں رہتے ہیں اور اپنے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔

میاں نوازشریف نے بھی اپنی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے مقصد آئندہ الیکشن کی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ وہاں پر سوچا یہ گیا کہ اکنامک کاریڈور، قطر گیس بجلی منصوبے اور موٹروے کیا الیکشن جتوانے کے لئے کافی ہوں گے۔ ہر ممبر قومی اسمبلی کو ایک ارب روپے کے ترقیاتی کام اپنے حلقے میں کرانے کا طریقہ ڈھونڈنے پر اتفاق ہوا۔ قانونی طور پر ممبر اسمبلی کو فنڈ نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن مسلم لیگ نون کے \”کرو\” یعنی کاریگر لوگ کوئی راستہ نکال ہی لیں گے۔

مسلم لیگ نون نے پنجاب سے باہر اپنے لئے بیس قومی اسمبلی سیٹ جیتنے کا حقیقت پسندانہ ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے یہ حلقے بھی سوچ لئے ہوں گے جہاں سے وہ جیتنا چاہیں گے۔ ان کا حق ہے کہ وہ اپنی سیاسی بساط بچھائیں اپنا گیم پلان رکھیں اس پر عمل کریں۔

سوال صرف ایک ہے کہ مسلم لیگ نون کو میڈیا میں رگڑنے والے انہیں اوئے نواز شریف کہنے والے اور دھاندلی کے گیت گانے والے کپتان کیا کر رہے ہیں۔ کپتان اب بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ وہ پھر اپنی پارٹی کے الیکشن کرانے میں مصروف ہیں۔ پارٹی پھر تقسیم ہو گی۔ اپنے الیکشن کمشنر سے کپتان نے سینگ پھنسا رکھے ہیں۔ کوئی گیم پلان نہیں ہے کوئی آئندہ کا منصوبہ نہیں ہے، بس نعرے ہیں، دعوے ہیں، عمل کچھ نہیں ہے۔

کپتان کو شائد ابھی یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ سید لیگ اگر واقعی سرگرم ہوئی اور اسے سندھ میں اپنے لئے امکانات دکھائی دیئے تو شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی میں مزید نہیں رکیں گے۔ وہ وہاں جائیں گے، جہاں ان کو سید لیگ بھیجے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 243 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “سندھ میں اگلے الیکشن کے گرد گھومتی سیاست

  • 25-03-2016 at 9:57 pm
    Permalink

    o mere Khuda log kab tak jhuut likhte aur maante chale jaayenge 🙂 karachi fatah karne waalon ke hote huwe mqm ne pehle se zyaada aksariyat sabit kardi lekin jhuut bolne waale baaz nahiin aaye …. o bhai naimat ullah khan ne kaam kiya tou is ke natije main 2002 main karachi waalon ne jamaat islami ko seats milin lekin dehshat gardon ke zor dene se karachi ke log nahii daren ge aur onki haqiqi2 ko vote nahin denge ….

Comments are closed.