ہم لیڈر کیسے بن سکتے ہیں ؟


mustafa malikکہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان ہمیشہ گھاس کا ہوتا ہے ۔ ہاتھی تو تھوڑی دیر لڑ کر پھر ایک ہو جاتے ہیں مگر روندی ہوئی گھاس کو دوبارہ اگنے میں عرصہ لگتا ہے، اور اتنے میں لڑائی پھر شروع ہو جاتی ہے۔ ویسے تو پاکستان کا جنگلاتی رقبہ بہت کم ہے مگر یہاں ہاتھیوں کی کثرت ہے اور وہ بھی سفید ہاتھی۔ اقتدار کے جنگل میں آگے بڑھنے کے لیے یہ ہاتھی عوام کو گھاس سمجھ کر روند ڈالتے ہیں۔ اب ہم یعنی عوام اس کے اِتنے عادی ہو چکے ہیں کہ جب تک ہم پر کوئی پاﺅں نہ رکھے ہمیں چین نہیں آتا چاہے یہ پاﺅں بوٹ والا ہو یا کھُسے والا۔ لوگوں کو ذہنی طور پر اس قدر دبا دیا گیا ہے کہ وہ بے حس ہو گئے ہیں ۔ انہیں معاشی طور پر اِتنا مفلوج کر دیا گیا ہے کہ اُن کی سوچ روزی روٹی سے آگے جا ہی نہیں سکتی۔ اُن کی تعلیم، سوچ اور فکر کو پِیٹ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ چند جذباتی تقریریں، کچھ وعدے، تھوڑے سے پیسے اور پِیٹ بھر کر کھانا یہ وہ چند چیزیں ہیں جو عوام کو رام کرنے کے لیے کافی ہیں۔ جو لیڈریا سیاستدان اِن ہتھیاروں کا بہتر استعمال جانتا ہے، وہ عوام کو سرحد پہ لے جا کر دُشمن سے لڑوا بھی سکتا ہے اور اُن سے ایک دوسرے کے گلے کٹوا بھی سکتا ہے۔

ہمارے لوگوں کی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے کبھی سڑکوں پر نہیں نکلیں گے، مگر کسی سیاستدان یا لیڈر کے لئے وہ نہ صرف باہر نکلیں گے بلکہ غم و غصے سے اَملاک بھی جَلا ڈالیں گے۔ قتل و غارت اور لوٹ مار کریں گے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ جو روٹی دیتا ہے تو وہ پھر کام بھی لیتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ہر سیاستدان، لیڈر یا بڑا آدمی اپنا حاجت روا نظر آتا ہے۔ نماز میں تو ہم عربی کی چند سورتیں پڑھتے ہیں جن کا ہم میں سے اکثر کو مطلب کا بھی پتہ نہیں ہوتا اور جتنا پتہ ہوتا ہے اُس کے مطابق ہم کہ رہے ہوتے ہیں کہ اَے میرے رَب ہمیں نیک بنا، گناہوں سے بَچا، سیدھے راستے پر چَلا۔ یہ سب ہم محض اللہ کے ڈر، گناہوں سے بچنے اور عبادت کے غرض سے کر رہے ہوتے ہیں مگر ہماری امیدیں اس سیاستدان یا لیڈر سے وابستہ ہوتی ہیں جسے ہم نے ووٹ دیا ہوتا ہے۔ ہم ایسا کیوں نہ کریں ۔ ہما را لیڈر ہمیشہ عالی شان اور معتبر ہوتا ہے، کہیں تو وہ ہمارا پِیر ہے تو کہیں گدی نشین، کہیں مذہبی عالم ہے تو کَہیں روحانی پیشوا۔ جاگیردار بھی ہمارا لیڈر ہے اور صنعتکار بھی، جِس نے چَپراسی یا چوکیدار لگوایا وہ بھی لیڈر، جِس نے کورٹ کچہری کے لیے رُقعہ دیا وہ بھی لیڈر۔ جو زکوٰة لے کر دیتا ہے، نالیاں اور گَلیاں پَکی کرواتا ہے وہ ہمارا لیڈر ہے۔ اور تو اور جس کے اِرد گِرد دو چار بندوق بَردار ہوں وہ بھی لیڈر ہی ہے۔ اَب آپ خُود بتائیں یہ کام دُعاﺅں اور نَمازوں سے ہو سَکتے ہیں؟ اَب اَگر اِتنے سارے کاموں کے بدلے ہم ایک کا غذ کا ٹُکڑا جسے ووٹ کہتے ہیں اپنے لیڈر کو دے دیتے ہیں تو اس میں کیا بُرا ہے۔ اور پھر اگر ہم نہ بھی دیں تو تو اُس نے جِیت تو پِھر بھی جانا ہے۔ کیونکہ وہ لیڈر ہے۔

ہم عوام ہیں اور عوام کیسے لیڈر بَن سکتے ہیں۔ ہر الیکشن میں ہزاروں لوگ لیڈر بننے کی خواہش لے کر میدان میں اُترتے ہیں، درخواستیں بھی جمع کرواتے ہیں مگر کبھی جِیت نہیں پاتے۔ جیتیں بھی کیسے لوگوں کو یہ کیسے قبول ہو سکتا ہے کہ اُن میں سے کوئی اُٹھ کر لیڈر بَن جائے۔ لیڈر تو وہ ہی ہے جو ہم بَچپن سے سنتے آ رہے ہیں ، مال و دولت والا، اثر و رسوخ والا، طاقت اور رُعب والا، بھلا عوام میں یہ چیزیں کیسے آ سکتی ہیں۔ جہاں عوام کی سوچ یہ ہو کہ اگر تبدیلی آ گئی یا نظام بدل گیا تو اُن کے کورٹ کچہری کے مسئلے کون حل کرے گا، چپراسی اور چوکیدار کی نوکریاں کون دے گا، نالیاں پَکی کون کروائے گا اور اگر یہ کہ اُن ہی میں سے کوئی ایرا غیرا اُٹھ کے لیڈر بن گیا تو اُن کے اَصل لیڈر کی بے عزتی ہو جائے گی۔ ایسے میں ہم سے کسی تبدیلی یا اِنقلاب کی توقع رکھنا محض خام خیالی اور دیوانے کا خواب ہو گا۔

ہاں! اگر واقعی نظام اور چہرے بدلنے ہیں تو سب سے پہلے مُجھے یعنی عوام کو بدلنا ہو گا۔ ہمیں علم اور شعور دینا ہو گا، ذہنی غلامی سے نجات دینی ہو گی، ووٹ کے تقدس اور استعمال سے آگاہی دینی ہو گی، ہمیں یقین دِلانا ہو گا کہ ہم بھی اِنسان ہیں اور ہمارا بھی اِس مُلک پر اُتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا، ہماری عزتِ نفس کو بحال کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم اِسی طرح اَپنے لیڈر چُنتے رہیں گے چا ہے وہ کتنی ہی پارٹیاں اور چہرے بدل کر آیا ہو۔ اَپنے ووٹ اِسی طرح چند روپوں اور مُرغن کھانوں کے عِوض بیچتے رہیں گے۔ ہمارے ووٹ سے کون اِقتدار میں آتا ہے، کیا کرتا ہے اِس سے ہمیں کیا لینا دینا۔ ہم عوام ہیں۔ ہم گھاس کی طرح ہیں۔ گھاس اگر اپنے قد سے بڑھ جائے تو کاٹ دیا جاتا ہے یا رُوند دیا جاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments