23 مارچ: شہید بھگت سنگھ کا دن


farooqبرطانوی پادری سی ایف اینڈریوز جو 1932ء میں ہندوستان آیا تھا نے کہیں لکھا کہ “ہندوستان کے موجودہ حالات انیس سو سال قبل کے سلطنتِ روم کے حالات کا عکس ہیں۔ روم میں بھی بظاہر ہندوستان جیسا ہی شاندار امن قائم تھا، مگر ظاہری پُرامن نظر آنے والے ہندوستان میں ایک سلگتا ہوا خلفشار موجود ہے جو اچانک آتش فشانی لاوے کی طرح دھرتی کو پھاڑ کر باہر آنا شروع ہو گیا ہے”. اُس دور میں H.S.R.A (ہندوستان سوشلسٹ ریولوشنری آرمی) کا قیام بلاجواز نہیں تھا اور نہ ہی یہ کوئی کھلنڈرے نوجوانوں کی مہم جوئی تھی۔ یہ اُس عہد کی سماجی انگڑائی نہیں تو سماجی خلفشار و بےچینی کا اظہار ضرور تھا. زار کے روس میں آنے والے سوشلسٹ انقلاب نے بلاشبہ پوری دنیا کو جھنجھوڑا تھا. پیرس کیمون کے بعد انسانی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر اہلِ حکم کے سر اوپر بجلی کڑکڑ کڑکی تھی، اور مفلوک الحال عوام، مزدوروں اور دہقانوں نے اقتدار طاقتوروں سے چھین کر اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا. اِس انقلاب کی بدولت دنیا بھر کے غلاموں اور محکوموں کو ایک حوصلہ مِلا تھا، باقی دنیا کی طرح اِس واقعے نے ہندوستان پر بھی اپنے اثرات مرتب کیے تھے. خصوصاً نوجوانوں کو اُس انقلابی تبدیلی سے تحرک میسر آیا تھا. بھگت سنگھ، سُکھ دیو، راج گُرو، چَندر شیکھر آزاد، بی کے دت اور دیگر نوجوان انقلابیوں کی جرات مندی نے پورے غلام ہندوستان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا. مگر ایک مارکسسٹ پارٹی کی عدم موجودگی کے سبب تبدیلی اور انقلاب کا سائنسی لائحہ عمل ترتیب نہ دیا جا سکا، جِس کا منطقی انجام انفرادی مسلح جدوجہد اور دہشت گردی ہی نکلا.
کسانوں کے ریڈکل رہنما لالہ لجپت رائے نے نومبر 1928ء میں لاہور ریلوے اسٹیشن پر سائمن کمیشن کے سامنے شدید عوامی احتجاجی مظاہرہ کیا، اِس دوران پنجاب پولیس نے احتجاجیوں پہ شدید ریاستی تشدد کیا جس میں لالہ لجپت رائے بہت زخمی ہو گئے اور نتیجتاً سترہ نومبر کو لالہ وفات پاگئے. لالہ لجپت رائے کی موت نے H.S.R.A کے نوجوانوں کو مسلح جدوجہد پہ اُکسایا. اِنتقاماً اُن سوشلسٹوں نے 8 اپریل 1929ء کو اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ پولیس جان پویانٹس سانڈرز کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ بعد ازاں بھگت سنگھ نے دوسروں کامریڈوں کی مدد سے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران سرکاری بنچوں پر احتجاجاً بےضرر بم پھینکے اور گرفتاری دے دی. اِن سوشلسٹوں پہ قائم مقدمہ پانچ ماہ تک چلتا رہا. اِس مقدمے کی کارروائی کے دوران اِنکے انقلابی بیانات اور نعروں نے ہندوستان کو تڑپا کر رکھ دیا. برطانوی سامراج کے ساتھ ساتھ ہندوستانی آزادی پسند مقامی بورژوا لیڈران بھی لرز اٹھے، کیونکہ اُس ریڈیکل رجحان کے ابھار کے سبب جدوجہد آزادی کی قیادت اِن نام نہاد قائدین کے ہاتھوں سے نکلنے کا خطرہ بن گئی تھی.
کامریڈ بھگت کی کہانی میں ایک قابلِ تقلید اور قابلِ تحسین امر یہ ہے کہ جب یہ انقلابی قانون ساز اسمبلی میں بم مارنے اور ساتھ ہی گرفتاری کا منصوبہ بنا رہے تھے تو بھگت کے ساتھیوں نے اُسے بذاتِ خود جانے روکا کیونکہ اُس کی مبینہ موت سے تحریک کو نقصان پہنچ سکتا تھا. مگر بھگت نے کہا کہ میرے علاوہ کوئی دوسرا اپنا موقف واضح پیش نہیں کر پائے گا. اِس طرح ایک انقلابی سچے لیڈر کی طرح بھگت نے قربانی کیلئے سب سے پہلے خود کو پیش کیا. حکومت نے لاہور سازش کیس آرڈیننس جاری کیا جس کے مطابق سماعت کے دوران وکیلِ صفائی، گواہان اور ملزمان کی موجودگی کی ضرورت ختم کر دی گئی۔ اُس دوران عدم تشدد کے علمبردار گاندھی جی اور برطانوی وائسرائے لارڈ اروِن کے مابین مذاکرات چل رہے تھے اور دونوں فریقین معاہدے کے لیے کچھ لے دے کی پالیسی پر چل رہے تھے. عوام اور خود کانگریس کے قائدین کی سوچ یہ تھی کہ مذاکرات کے دوران گاندھی جی رحم کی اپیل کر کے ان انقلابیوں کی زندگیاں بچا لیں گے۔ عوام میں اس معاہدے کے خلاف شدید نفرت اور غصہ اُبھرا تھا کیونکہ اس میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو نظر انداز کر دیا گیا تھا. کانگریس ہی کے اہم رہنما ڈاکٹر سبھاش چندر بوس نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا کہ “ہمارے اور برطانویوں کے درمیان خون کا ایک دریا اور لاشوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہے۔ گاندھی کی جانب سے کیے گئے سمجھوتے کو ہم کسی صورت قبول نہیں کر سکتے.” گاندھی اور اروِن کی ملاقات ہی کے دن بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے وائسرائے کو ایک خط بھیجا۔ رحم کی اپیل کی بجائے انہوں نے جنگی قیدیوں جیسے سلوک اور پھانسی کی بجائے گولی کے ذریعے موت کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں کراچی میں ہونے والی آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں یہ نعرہ لگتا رہا کہ “گاندھی کے معاہدے نے بھگت سنگھ کو مار ڈالا.” بہرحال سات اکتوبر 1930ء کا دن آگیا جب جسٹس اے آر کولڈ سٹریم نے کامریڈ بھگت سنگھ اور اُسکے ساتھیوں کو سزائے موت کا حکم جاری کیا. پھر 23 مارچ 1931ء کو اِن سوشلسٹ انقلابیوں کو لاہور کی جیل میں تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا. کامریڈ اشفاق اللہ پھانسی کے دن گلے میں قرآن لٹکا کر پھانسی کے تختے پہ چڑھا تھا.

-جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
-یہ جان تو آنی جانی ہے، اِس جان کی کوئی بات نہیں

مرزا غالب، ورڈز ورتھ، بائرن اور عمر خیام کی شاعری، رابندر ناتھ ٹیگور، لاجپت رائے، ارسطو‘ افلاطون‘ ڈیکارٹ‘ ہوبز‘ لاک‘ روسو‘ ٹالسٹائی‘ برٹرینڈ رسل‘ کارل مارکس اور اینگلز جیسے مفکرین کو پڑھنے والا نوجوان بھگت سنگھ آج دنیا بھر کے انقلابیوں کا ہیرو ہے. پاکستانی ماضی پرست ریاستی قوتوں اور قدامت پرست اشرافیہ نے بھگت کو غیر مسلم ہونے کی وجہ سے اُس کے حقیقی نظریات پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، جبکہ ہندوستان میں اُس کا تشخص محض ایک “حریت پسند” تک محدود کیا گیا ہے. حالانکہ اکیس جنوری 1930ء میں جب بھگت اور اُسکے ساتھیوں کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ نعرے لگائے “لینن زندہ باد”، “سامراج مردہ باد”،”سوشلزم زندہ باد”. جبکہ اُنہوں نے سروں پہ سرخ پٹیاں باندھ رکھیں تھیں. عدالتی کارروائی کے دوران بھگت سنگھ نے ایک ٹیلی گرام پیش کر کے مطالبہ کیا کہ اُس ٹیلی گرام کو تیسری کیمونسٹ انٹرنیشنل تک پہنچایا جائے. ہندوستان کی خونی تقسیم کے بعد نام نہاد آزادی کے بیسیوں برس گزر جانے کے بعد بھی حکمران طبقات نے سماج کو ذلیل و خوار کر رکھا ہے، یہاں کے کروڑوں عوام کو برباد حال ہیں. مجبور و مقہور طبقات استحصال، کرپشن، سامراجی لوٹ مار، مسائل، غربت اور بیماریوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکے ہیں۔ نئی نسل اگر یہ سماجی نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو بھگت سنگھ کی انقلابی میراث کو پھر سے تلاش کرتے ہوئے اس مقصد کی تکمیل کریں. شری رام بخشی نے اپنی کتاب “بھگت سنگھ اور اس کا نظریہ” میں بھگت سنگھ کا قول لکھا ہے کہ “انقلاب سے ہماری مراد ایک ایسے سماجی نظام کا قیام ہے جس میں پرولتاریہ کا اقتدار تسلیم ہو اور ایک عالمگیر فیڈریشن کے ذریعے نسلِ انسانی سرمایہ داری، مصائب اور سامراجی جنگوں کی غلامی سے آزادی پا لے”


Comments

FB Login Required - comments