کسی نے بتایا ہوتا تو آپ کو علم ہوتا۔۔۔


Mubashir ahmad mirآپ کو یہ تو علم ہے کہ قائد اعظم ہندوستان کی سیاست سے مایوس ہو کر انگلستان تشریف لے گئے تھے۔ آپ کو یہ تو بتا یا جاتا ہے کہ علامہ اقبال کے پرزور اصرار پر کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے قائد اعظم واپس تشریف لائے، لیکن ہندوستان واپس لوٹنے سے قبل انہوں نے اپنی واپسی کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟

کسی نے آپ کو بتایا ہوتا تو آپ کو ضرور علم ہوتا۔

آپ کو یہ تو علم ہے کہ علامہ اقبال نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے نظریہ پاکستان پیش کیا، لیکن کیا آپ کو علم ہے کہ مسلم لیگ کا پورا نام کیا تھا؟ کیا اس وقت کوئی اور مسلم لیگ بھی تھی؟ اور اگر کوئی اور مسلم لیگ بھی تھی تو ان دونوں میں کیا اختلافات تھے اور کیا ان میں سے کوئی مسلم لیگ سرکار کی منظور نظر بھی تھی؟

کسی نے آپ کو بتایا ہوتا تو آپ کو ضرور علم ہوتا۔

آپ کو یہ تو علم ہے کہ ہماری جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں انگریز ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ لیکن کیا آپ کو علم ہے کہ 1945ء میں عبوری حکومت کے قیام کے معاہدے (جس کے تحت 1946ء میں انتخابات ہوئے) کے مطابق کانگرس اور مسلم لیگ دونوں آئندہ دس سال تک تاج برطانیہ کے تحت اس تنخواہ پر کام کرنے کے لیےبسروچشم رضا مند تھیں۔ پھر اس ایک ڈیڑھ سال کے دوران کانگرس یا مسلم لیگ نے کون سا تیر چلایا کہ انگریز افراتفری میں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوگیا؟

کسی نے آپ کو بتایا ہوتا تو آپ کو ضرور علم ہوتا۔

آپ کو یہ تو علم ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرنے کے لیے پاکستان کا مطالبہ کیا کیونکہ ہندو اکثریت کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں تھا۔ لیکن کیا آپ کو یہ علم ہے کہ اگست 1947ء تک قائد اعظم، اکالی دل سے رابطہ کر کے سکھوں کو پاکستان میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے رہے اور انہیں اس سلسلے میں کیا پیشکش کی؟

کسی نے آپ کو بتایا ہوتا تو آپ کو ضرور علم ہوتا۔

آپ کو یہ تو علم ہے کہ سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا، جس کے نتیجے میں انہیں وہ گھر چھوڑنا پڑے جہاں وہ صدیوں سے آباد تھے۔ اس سفاک وحشیوں نے انہیں گھروں سے نکال کر بھی چین نہیں لیا بلکہ مہاجرین کے قافلوں کو بھی لوٹ لیا۔ لا ریب یہ سب سچ ہے لیکن کیا آپ کو علم ہے کہ عبدالقیوم خان کے بھیجے ہوئے محسود مجاہدین نے مقامی آبادی کے بھرپور تعاون سے بنوں سے آنے والی ایک گاڑی میں سوار ہزاروں بے گھر ہندوؤں اور سکھوں کا کس والہانہ انداز میں استقبال کرتے ہوئے ساری گاڑی کو لالہ رنگ کر دیا تھا؟

کسی نے آپ کو بتایا ہوتا تو آپ کو ضرور علم ہوتا۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “کسی نے بتایا ہوتا تو آپ کو علم ہوتا۔۔۔

  • 26-03-2016 at 10:18 am
    Permalink

    Aap he bata dein na Mir sb

    • 27-03-2016 at 6:09 pm
      Permalink

      میرے بھائی! اگر میں بتا دوں تو آپ کے ذوق جستجو کو مہمیز نہیں ملے گی. جوابات تلاش کیجیے، مل جآئیں گے. میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بیانیے اور نصاب میں بے شمار حقائق جان بوجھ کر چھپائے جاتے ہیں.
      ایک قیدی عورت کی پکار پر حجاج بن یوسف کی للکار سے سقوط ڈھاکہ تک اور اس کے بعد تاحال ہمیں پڑھائی جانے والی تاریخ میں قدم قدم پر آپ کو جھٹکا لگے گا. شرط صرف یہ ہے کہ رک کر تھوڑا سا غور کریں.

  • 26-03-2016 at 4:33 pm
    Permalink

    انگریز کی ہندوستان چھوڑنے کی وجہ نہ کانگریس اور مسلم لیگ کی جدوجہد تھی نہ کچھ اور بلکہ اس کی واحد وجہ دوسری جنگ عظیم میں شکست اور اس کے نتیجہ میں ھونے والے ھوش ربا نقصانات نے انگریز سمیت تمام مغربی استعماری قوتوں کو اپنے اپنے نوآبادیاتی علاقے چھوڑنے پر مجبورکردیا۔ بعینہِ پاکستان اس وجہ سے وجود میں آیا کیونکہ انگریز ہر حالت میں ہندوستان کے من پسند حصے بخرے کر کے جانا چاہتے تھے وگرنہ شائد پاکستان بھی نہ بنتا

  • 27-03-2016 at 6:11 pm
    Permalink

    محترم طاہر یونس صاحب! اگر میں بتا دوں تو آپ کے ذوق جستجو کو مہمیز نہیں ملے گی. جوابات تلاش کیجیے، مل جآئیں گے. میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بیانیے اور نصاب میں بے شمار حقائق جان بوجھ کر چھپائے جاتے ہیں.
    ایک قیدی عورت کی پکار پر حجاج بن یوسف کی للکار سے سقوط ڈھاکہ تک اور اس کے بعد تاحال ہمیں پڑھائی جانے والی تاریخ میں قدم قدم پر آپ کو جھٹکا لگے گا. شرط صرف یہ ہے کہ رک کر تھوڑا سا غور کریں.

Comments are closed.