ماسکو سے پاکستانی مسافر کیوں ڈی پورٹ ہوئے؟


mujahid mirza

۔23 مارچ، میرے بھتیجے کو جو سیمسنگ کی نمائندگی کر رہا تھا، ایمیریٹس کی پرواز سے دن کے دو بج کر بیس منٹ پر پہنچنا تھا۔ میں اسے ملنے کی خاطر اس ہوٹل میں جہاں اس نے قیام کرنا تھا تین بج کر دس منٹ پر پہنچ گیا تھا۔ یہ ایک فور سٹار ہوٹل ہے، رجسٹریشن سے آنے والے پاکستانیوں سے متعلق پوچھا تو اہلکار خاتون نے بتایا کہ وہ چھ بجے پہنچیں گے۔ گھر جا کر پھر آتا تو آتے جاتے چھ بج جاتے چنانچہ لابی میں انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ خیال آیا کہ کہ فلائٹ تو دو بج کر بیس منٹ پر پہنچنی تھی اور خاتون کہہ رہی ہے کہ ان کی فلائٹ ساڑھے تین پہنچے گی، کہیں کوئی اور وفد نہ ہو۔ ایک بار پھر مسافر کا نام بتا کر دریافت کیا تو ان کے پاس دو آدمیوں کےنام تھے مرزا محمد یعنی میرا بھتیجا اور کوئی عامر نام کا شخص۔

پونے سات بج گئے۔ میں نے ایک رقعہ لکھ ، رجسٹریشن پر موجود لڑکی کو دیا اور گھر کو چل دیا۔ لابی میں وائی فائی نہیں تھا۔ زیر زمین ریل گاڑی مین وائی فائی تھا۔ نوجوان نے فیس بک پر میسیج لکھا ہوا تھا کہ پڑتال چل رہی ہے۔ کب تمام ہو معلوم نہیں۔ گھر آنے کے بعد فیس بک پر چیٹ سے معلوم ہوا کہ وفد کے اراکین 95 ہیں جبکہ 30 دیگر مسافر ہیں، ان سب کو امیگریشن لاؤنج میں روکا ہوا ہے، کلیئر نہیں کر رہے۔ کیوں روکا ہوا ہے کوئی وجہ نہیں بتا رہے۔

میں نے ماسکو میں پاکستان کمیونٹی کے صدر ملک شہباز کو فون کیا۔ وہ اس روز پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے منعقد کی گئی یوم پاکستان کی تقریب میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی کونسلر کے مطابق تمام پاکستانی مسافروں کو رات بارہ بجے کی فلائٹ سے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے وجہ وہی بتائی جو بعد میں اخبارات میں آئی کہ ویزے کسی ایسی کمپنی کے توسط سے دیے گئے جو روس میں بلیک لسٹ ہے (اس طرح تو قصور ویزا دینے والی اتھارٹی کا بنتا تھا) دوسرا یہ کہ ہر شخص نے اپنے آنے کا مقصد مختلف بتایا ہے، تیسرا یہ کہ جنہوں نے تاجر ہونے کا دعوٰی کیا، ان کے پاس ٹورسٹ ویزے ہیں، اصولی طور پر اگر کوئی کسی بزنس کے سلسلے میں آئے ہیں تو اس کے پاس “بزنس ویزا” ہونا چاہیے یا اگر کسی فرم یا تنظیم نے مدعو کیا ہے تو اس کا دعوت نامہ ہونا چاہیے جو نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آٹھ بجے ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں، اس شفٹ کا انچارج جو فیصلہ کر جاتا ہے اس سے اگلی شفٹ کا انچارج اس فیصلے کو عموماً چیلنج نہیں کرتا اور یہ بھی بتایا کہ سفیر محترم قاضی خلیل اللہ صاحب نے تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے آئی کسی روسی اعلٰی شخصیت سے اس معاملے میں بات بھی کی تھی مگر موصوف نے کہا کہ ہم متعلقہ افسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کیا کرتے، وہ جو فیصلہ کرتے ہیں اپنے ملک کے قوانین کے مطابق کرتے ہیں۔

صبح بھتیجے سے فیس بک پر رابطہ ہوا۔ اس نے بتایا کہ رات اسلام آباد والوں کو ٹرکش ایر لائنز سے واپس بھجوا دیا گیا تھا ہم آج پانچ بجے تک واپس بھیج دیے جائیں گے۔ اس نے بتایا کہ اس کے شور مچانے پر ہی امیگریشن والوں نے طبیعت کی خرابی محسوس کرنے والوں کو دیکھنے کی خاطر ڈاکٹر بلایا۔ پانی بھی لے کر آئے اور روکھا پھیکا جیسا بھی کھانے کو بھی کچھ دیا۔

بعد میں مسافروں کے شکوے میں زمین پر بغیر کمبل کے سونا اور سردی ہونا شامل تھا۔ سب جانتے ہیں کہ امیگریشن والے جب کسی کو روک لیتے ہیں تو اسے امیگریشن ہال سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی چونکہ یہ لاؤنض بہت عارضی قیام کی خاطر ہوتا ہے اس لیے وہاں ماسوائے محدود کرسیوں کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ جسے روکا جاتا ہے اس پر اس ملک کے کسی قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہوتا ہے چنانچہ جب تک معاملہ کلیِئر نہ ہو ایسے شخص کو ٹرانزٹ لاؤنج میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ پھر جنہیں ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے، انہیں کسی بھی قسم کی کوئی بھی سہولت کہیں نہیبں دی جاتی۔ کھانا اسے اپنی جیب سے ہی کھانا ہوتا ہے۔ رہی بات سردی کی تو روس کی تمام عمارتیں سنٹرلی ہیٹڈ ہیں جہاں سردی نہیں ہوتی۔ ہاں سفر کی حالت میں سونے کے لیے اوڑھنے کو اپنی ہی کوئی چیز استعمال کرنی پڑتی ہے اور جہاں جگہ ملے، کرسیوں پر یا فرش پر سونا پڑتا ہے یا پھر نہ سوئیں۔ مگر ایک طرح سے شکایت درست ہے کہ اگر اتنے آدمیوں کو روکا گیا تھا تو کچھ تو کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ فریضہ اصولی طور پر پاکستان کے سفارت خانے کو ادا کرنا چاہیے تھا کہ وہ کہیں سے کمبل اور گدے کرائے پر لے کر محصور مسافروں کو پہنچاتا۔ سفارت خانہ ہمیشہ کی طرح اپنے نچلی سطح کے کسی اہلکار کو ائیر پورٹ بھجوا کر اپنے فرض سے عہدہ برآء ہو گیا ہوگا۔ ایسے معاملے کو حل کرنے کی خاطر کسی اعلٰی افسر بلکہ خود سفیر محترم کو جانا چاہیے تھا مگر وہ بھی کیا کرتے دس بجے تک تو “یوم پاکستان” کی تقریب چلی تھی۔ اس کے بعد اپنی تھکاوٹ دور کرنے کا اہتمام بھی کرنا ہوتا ہے۔

ویزا دینے والی کمپنی بلیک لسٹ تھی یا تاجروں نے بزنس ویزے کی بجائے سیاحتی ویزے لیے ہوئے تھے یا بکنگ ایجنسی نے ہوٹلوں کے اخراجات جزوی طور پر ادا کیے ہوئے تھے ان سب شکایات کا مداوا ممکن تھا۔ ہوٹلوں کے بل ادا کر دیے جاتے، مدعو کرنے والی فرم/تنظیم ذاتی ضمانت فراہم کر دیتی لیکن بہر حال کوئی قانونی سقم ضرور تھا کیونکہ اتنے زیادہ لوگوں کو نہ صرف روکے جانا بلکہ ڈیپورٹ کر دینا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری تھی اور ایسا کرنے والے اعلٰی عہدیدار کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ تبھی تو روس اور پاکستان دونوں جوانب کی وزارت ہائے خارجہ وضاحتیں پیش کرتی رہی ہیں۔

اتنا بڑا وفد شاید پہلی بار ماسکو پہنچا تھا لیکن خاصے بڑے بڑے وفد پہلے بھی آتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس اسی موسم میں اسلام آباد کی ایک این جی او کے زیر اہتمام ایک تقریب میں شمولیت کی خاطر تقریباً ساٹھ افراد آئے تھے جو ماسکو میں بھی رہے اور سینٹ پیٹرز برگ بھی گئے۔ تو اس بار ایسا کیا ہوا کہ اس وفد کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔ ایک تو اس واقعے سے ایک دو روز پہلے برسلز میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے تھے دوسرے چند ماہ پیشتر مورمنسک اور سیںٹ پیٹرز برگ کے راستے روس سے بہت سے شامی، افغان اور حتٰی کہ پاکستانی مہاجروں کی شکل میں سائیکلوں پر سوار ہو کر ناروے اور فن لینڈ میں داخل ہوئے تھے۔ ایک پاکستانی گرفتار بھی ہوا جو ان لوگوں کو اس سلسلے میں مدد دے رہا تھا اور اسے ڈھائی برس سزائے قید سنائی گئی۔ ماسکو پہنچنے والے اس وفد میں بہت سے تاجر ایسے تھے جن کی داڑھیاں تھیں۔ انہوں نے امیگریشن ہال مین باجماعت نماز بھی پڑھی اگرچہ ان کے ٹور کے پروگرام میں جو میرے پاس محفوظ ہے ایک ایسا ڈنر بھی شامل تھا جس میں “ننگے پیٹ اور ننگی رانوں والے “بیلے رقص” سے محظوظ ہونا شامل تھا۔ مگر روس میں مذہبی رواداری کی روایت صدیوں پرانی ہے، یہاں آج بھی جمعہ کے روز مساجد سے ملحقہ سڑکوں کو ٹریفک سے خالی کروا کر ان سڑکوں پر جانماز بچھا کر نماز پڑھنے والے کو پولیس کے خصوصی دستے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

میرا بھتیجا تو روس کے امیگریشن حکام کے ناروا سلوک سے ناراحت ہو کر ” دیکھنا انشاءاللہ ایک روز ہم ان کو غلام بنائیں گے” کا دعوٰی بھی کر رہا ہے۔ دکھ میں ایسا کہا جا سکتا ہے۔ ہم گذشتہ 67 برس سے دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کا دعوٰی بھی تو کر رہے ہیں۔ غلامی کی ریت تمام ہونے کے بعد بھی انسانوں کو غلام بنانے کی بات کرنا، بہرحال ایسی باتیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ البتہ کسی یورپی خطے ( جی ہاں ماسکو یورپ میں ہے ) میں داخل ہونے کی خاطر تمام قانونی اور اصولی تقاضے پورے کیے جانے چاہییں۔ کسی بھی یورپی ملک بشمول روس کی امیگریشن کا عملہ بہت پیشہ ور ہوتا ہے۔ تھوڑا سا بھی شک ہو تو مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں ویزا ہونا کسی ملک میں انٹری کی ضمانت نہیں بلکہ وہاں کی امیگریشن کے عملے کو مطمئن کرنے سے اس ملک میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔

ڈیڑھ سو سے کچھ کم لوگوں کی صعوبت کا ذمہ دار ٹریول ایجنٹ ہے جس نے ہوٹل کی جزوی پیمنٹ کی، تمام مسافروں کو نہیں بتایا وہ آمد کی غرض سیاحت بتائے اور یہ بھی بتائے کہ کس سیاحتی فرم نے اسے مدعو کیا ہے۔ پھر وہ سیاحتی فرم/ تنظیم اس کے اس دعوے کی تصدیق بھی کرے۔ اگر لوگوں کے پاس نقد رقم نہیں تھی تو ان کو اپنے کریڈٹ /ڈیبٹ کارڈ میں مناسب رقم رکھنی چاہیے تھی جو دکھانے اور اس کی پڑتال کیے جانے پر امیگریشن کے اہلکار کو مطمئن کر سکتا ہے۔

یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو روس پاکستان بہتر ہوتے تعلقات میں ایک دھبا تھا جسے دھونا ہوگا اور اس ضمن میں دونوں ملکوں میں تحقیق کی جانی ہوگی کہ طرفین میں سے کون کہاں پر کس حد تک قصور وار ہے۔ اس کا مداوا کیا جانا ہوگا۔ جن کا سفر سیاحت پامال ہوا انہیں تو صبر کی دعا ہی دی جا سکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ماسکو سے پاکستانی مسافر کیوں ڈی پورٹ ہوئے؟

  • 26-03-2016 at 8:43 pm
    Permalink

    جب ملکوں کے آپس کے تعلقات اچھے نہ ہوں تو اس طرح کے واقعات یوتے ہیں. یمن، سیریا اور ترکی کے تناظر میں روس ہم سے خوش نہیں ہے. بات بہت سادہ سی ہے. یہ بلکل اسی طرح ہے جیسے بھارت ہمارے ماہی گیر پکڑ لیتاہے اور ہم ان کے.

  • 27-03-2016 at 4:53 pm
    Permalink

    A.salam.janab
    I need email address of DR.mujahid mirza.some personal thinks to share with him

Comments are closed.