ٹرمپ کی ڈائری: اوباما نے امریکہ سے غداری کی


ڈائری مورخہ چھبیس مارچ 2016

adnan Kakar

پچھلا پورا ہفتہ ہی شدید غم و غصے میں گزرا۔ نجانے وہ کون سی گھڑی تھی جب ناسمجھ امریکی عوام نے عربوں اور مسلمانوں کی سازش کا شکار ہو کر بارک حسین اوباما کو صدر بنا دیا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اسے دوسری ٹرم کے لیے بھی منتخب کر لیا۔

عرب بھی ہمارے ملک پر چھائے ہوئے ہیں۔ سارا میڈیا ان کا غلام ہے۔ سٹی بینک کے مالک وہ ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے اربوں ڈالر اپنے ملکوں میں رکھنے کی بجائے امریکہ کے بینکوں میں کیوں رکھتے ہیں؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ کسی دن جب ہمارا ٹکراؤ ہونے لگے گا، تو اس وقت وہ یہ ساری دولت یکلخت نکال کر ہمارے پیارے امریکہ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیں گے اور ہمیں گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن میری بھولی قوم مسلمانوں کی ان سازشوں کو سمجھ نہیں رہی ہے۔

angry-trump
ڈانلڈ ٹرمپ: امریکہ کا محب وطن ترین باغیرت ممکنہ صدر

اوباما جتنا مرضی کہے کہ وہ مسیحی ہے، لیکن اس کا نام اس کا پول کھول دیتا ہے۔ اگر وہ حقیقتاً مسیحی ہوتا تو اب تک اپنا نام بدل کر بارک جان اوباما رکھ چکا ہوتا، لیکن نہیں، مسلمانوں کے اس ایجنٹ نے تو اپنا نام بارک حسین اوباما ہی رکھا ہوا ہے اور میری قوم اس کے باوجود اسے صدر بنا بیٹھی ہے۔ ہمیں تو
مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگا دینی چاہیے، اور یہ مسلمان شخص امریکہ کا صدر بن گیا ہے۔

اوباما نے جس طرح مسلم یلغار کے سامنے کھڑی کی گئی عظیم امریکی دفاعی دیوار، مملکت اسرائیل، کو ناراض کیا ہوا ہے اور اس کو امداد دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے، وہی سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ کیا امریکی عوام یہ بھول گئے ہیں کہ نائن الیون کے حملہ آور سعودی سلفی تھے؟ کیا القاعدہ کا اسامہ سعودی سلفی نہیں تھا؟ کیا القاعدہ اور داعش سلفی

عظیم محب وطن رابرٹ میکارتھی
عظیم محب وطن میکارتھی

نہیں ہیں؟ ان سب کو صرف عظیم لڑاکا ملک اسرائیل ہی روک سکتا ہے لیکن اوباما نے اس کو ناراض کر دیا ہے۔

ابھی یہ پرانی غداری ہی نہیں بھلائی جا رہی تھی کہ اس ہفتے اوباما نے جو چاند چڑھائے ہیں، ان پر میں دل تھام کر رہ گیا ہوں۔ شکر ہے کہ جلد ہی میں امریکہ کی صدارت سنبھال لوں گا۔ مسلمانوں سے کہیں بڑے امریکی دشمن کمیونسٹ تھے۔ عظیم امریکی محب وطن جوزف میکارتھی نے ایک بحران میں قوم کی قیادت کی تھی اور اس کو کمیونسٹوں سے بچایا تھا۔ بھلا کون شبہ کر سکتا تھا کہ چارلی چیپلن، لیو برنسٹائن، ایلبرٹ آئن سٹائن، ایٹمی پراجیکٹ کے سربراہ رابرٹ اوپن ہائمر کمیونسٹ غدار تھے۔ کون یہ مان سکتا تھا کہ امریکی سیاستدانوں، جتی کہ امریکی فوج میں بھی امریکہ دشمن کمیونسٹ غدار بھرے ہوئے تھے۔ ایسے میں جوزف میکارتھی نے ان سب کو شناخت کر کے ان کا کیرئیر ختم کیا۔

Chaplin_Making_a_Living_2 (1)کمیونزم ایک لعنت ہے۔ اگر امریکہ میں بھی یہ بد بخت اپنا نظام لے آتے تو آج ایک ارب پتی تاجر اور امریکہ کا ممکنہ صدر ہونے کی بجائے میں بھی دادا جان مرحوم فریڈرک ڈرمپف عرف فریڈرک ٹرمپ کی طرح نائی کا پیشہ اختیار کیے دو دو ٹکے کے لیے لوگوں کے سر مونڈتا پھرتا اور انہی کی مانند پیشہ ور خواتین کو پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرتا نظر آتا۔ مگر شکر ہے کہ امریکی حکومت نے کمیونزم سے ہر محاذ پر جنگ لڑی اور سوویت یونین کو ہرا دیا اور آج میں پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دینے والے نائی کی بجائے امریکہ کا ممکنہ امیر ترین صدر ہوں۔

ایسے میں جب ہم سب کو یہ مناظر دیکھنے پڑے کہ بارک حسین اوباما نامی یہ گمراہ شخص، روئے زمین پر آخری سچے کمیونسٹ ملک کیوبا جا کر اس طرح

امریکہ اور امریکہ کے صدر کو ذلیل کرنے کا باعث بنا ہے، تو غم اور غصے سے میری بہت بری حالت ہو گئی۔

obama-castro
کمیونسٹ کیوبن راؤل کاسترو اوباما کا بازو مروڑتے ہوئے

بارک حسین اوباما نے بے آف پگز (سووروں کی کھاڑی) کے شہیدوں کا لہو بیچ دیا ہے۔ ازلی کمیونسٹ دشمن کے گھر جا کر امریکی فوج کو ذلیل کر ڈالا ہے اس شخص نے۔ اوپر سے امریکی عوام کی بدترین بے عزتی اس وقت ہوئی جب یہ کم عقل اور گمراہ عقائد کا حامل امریکی صدر کیوبا کے صدر راؤل کاسترو سے گلے ملنے کو بانہیں پھیلا کر اس کی طرف بڑھا اور کاسترو نے اس کا بازو مروڑ دیا اور یوں دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے امریکہ کی عزت لوٹ لی۔ راؤل کاسترو نے گو کہ امریکہ کی وار آن ٹیرر سے خوفزدہ ہو کر اپنی فیڈل کاسترو جیسی داڑھی منڈوا لی ہے، لیکن اس کا دل تو اندر سے داڑھی والا امریکہ دشمن ہی ہے۔

لیکن یہ ساری بے غیرتی ابھی بارک حسین اوباما کو کم لگ رہی تھی۔ کیوبا سے نکل کر اس نے کیا کیا؟ وہ سیدھا ارجنٹائن چلا گیا۔ پتہ نہیں کون سے براعظم میں یہ فضول ملک ہے، لیکن لگتا یہ بھی کمیونسٹ ہی ہے۔

obama-tango-argentina-dance
اوباما امریکی غیرت کا جنازہ نکالتے ہوئے

بارک حسین اوباما اور مشال اوباما کو انہوں نے ہزاروں لوگوں سے بھرے پنڈال میں کھانے کی میز پر بٹھایا، اور ساتھ ہی ایک اخلاق باختہ عورت نمودار ہوئی جس کا لباس ویسا ہی تھا جیسا کہ دادا جان مرحوم کے لیے کام کرنے والی خواتین کا ہوا کرتا تھا۔ اس عورت نے تو ہلکا سا اشارہ ہی کیا ہو گا، لیکن یہ مسلمان ایجنٹ سیدھا اس کی باہہوں میں جھول کر عظیم امریکہ کو بدنام کرنے لگا۔ یہی بدنامی کم نہ تھی کہ ایک ارجنٹائنی کمیونسٹ نے مشال اوباما کو بانہوں میں جکڑ کر رقص کرنا شروع کر دیا۔ باغیرت امریکی قوم اپنے صدر اور خاتون اول کی اس بے غیرتی پر شرم سے پانی پانی ہو گئی۔

 

کاش عظیم امریکی محب وطن رابرٹ میکارتھی آج زندہ ہوتا تو بارک حسین اوباما نامی یہ شخص وائٹ ہاؤس میں ہونے کی بجائے بدنام زمانہ امریکی جیل لیون ورتھ میں رہائش پذیر ہوتا۔ جیسے ہی میں امریکہ کا صدر بنا تو میں پہلی فرصت میں قانون سازی کروں گا جس کی رو سے حسین نام والے تمام امریکیوں کو ان کی موجودہ یا گزشتہ حیثیت کو نظرانداز کر کے باغیرت امریکی صدر کی خواہش پر سیدھا لیون ورتھ کے رسوائے زمانہ قید خانے میں بھیجا جا سکے گا۔

دستخط: ریاست ہائے امریکہ کا باغیرت ترین اور امیر ترین ممکنہ صدر، ڈانلڈ ٹرمپ


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “ٹرمپ کی ڈائری: اوباما نے امریکہ سے غداری کی

  • 26-03-2016 at 5:28 pm
    Permalink

    جون آلیور نے جس طرح ڈرومف کے نام سے ٹرمپ کی بھد اڑائ وہ یادگار رہے گی 🙂

  • 26-03-2016 at 10:19 pm
    Permalink

    اسے ہی ہے ۔۔۔۔اباما نے بہت سے کام جو یہ لوگ کروا چاہتے ہے نہیں کیے ۔۔۔۔جیسے بلجئیم ہنگامو ن کے بعد ۔۔۔لبرک کے امید وار نے کہا مسلم ۔USA
    .میں جہاں جہاں رہتے ہے سیکوٹی
    ۔۔شحت کی جائے اس پر بھی ان کا جواب

Comments are closed.