خدمت کارڈ …. زندہ باد


ammar masoodمیری مرحومہ اہلیہ صائمہ عمار نابینا تھیں۔ دو سال کی عمر میں تیز بخار کی وجہ سے ان کی آپٹک نرو کو نقصان پہنچا ۔ جسکی وجہ سے بینائی مکمل طور پر جاتی رہی۔ آپٹک نرو کو پہنچنے والے نقصان کا نہ دنیا کے پاس اس وقت کوئی علاج تھا نہ ہی اب تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت ہو سکی۔ مرحومہ نے زندگی کا مقابلہ بہت بہادری سے کیا اور قائد اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز کرنے کے بعد نابینا افراد کے لئے کام شروع کر دیا۔ چودہ سال ایک ماہ اور بائیس دن کی رفاقت میں ، میں نے دیکھا کہ انہوں نے ہزاروں نابینا افراد کی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا۔ بائیس دسمبر دہ ہزار گیارہ کی رات چار بجے کے لگ بھگ قریبا ایک سال چار ماہ کی شدید علالت کے بعد وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
ان برسوں کی رفاقت میں ، میں نے ان کے ساتھ ایک رضاکار کی حیثیت سے ان کے تعلیمی پراجیکٹ میں کام کیا، اور مجھے دنیا بھر کے معذور افراد خصوصاً پاکستان کے معذور افراد کی حالت زار کے بارے میں جاننے کا بہت موقع ملا۔ سماجی رویوں کو جانچنے کا قدرت نے کمال حیلہ نصیب کیا۔معذور افرادکے ساتھ ہونے والے طرز عمل کے بارے میں بھی بہت کچھ پتا چلا۔ جو کچھ میں نے سیکھا اس کا لوگوں تک پہنچانا قرض ہے آج کی تحریر کا مدعا یہی ہے۔
مجھے علم ہوا کہ پاکستان جیسے ملک میں نابینا پن کی ایک بڑی وجہ کزن میرج ہے ۔ اسی رواج کے سبب ایک بیماری آر پی ہے جسے پاکستان میں اندھراتا کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری خاندانوںکی بینائی پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسکے اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں مسلسل کزن میرج کی وجہ سے ایک ہی خاندان میں درجنوں افراد بینائی کھو چکے ہیں ۔
سماجی طور پر معذور افراد کو بالعموم گھروں ، دفتروںاور تقریبات میں نظر انداز کرنے کا رویہ عام ہے۔ ان کی مرضی، ان کی خواہش، ان کی سوچ کو سمجھنے ، پرکھنے کا وقت بحیثیت قوم ہمارے پاس کم ہی ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ نارمل افراد والا رویہ درکار ہوتا ہے مگر معاشرے میں یا تو ایسے بچوں کو ضرورت سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے یا پھر بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں معذور بچوں کو تعلیم دینے کے لئے انہیں نارمل بچوں کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔ یہ وہ طریقہ تعلیم ہے جس سے ان بچوں میں زندگی گزارنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔دوست بنتے ہیں ۔ مقابلے کی مثبت فضا پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان میں نابینا افراد کی تعلیم کے لئے بریل کی کتابیں ناپید ہیں۔ اگر ایسی کچھ کتابیں دستاب بھی ہیں تو ان میں سلیبس میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں کو مدنظر نہیں رکھاجا رہا۔صوتی کتب نابینا بچوں کو تعلیم دینے کا ایک بہتر طریقہ ہے مگر صوتی کتب سے تعلیم کا آغاز پانچویں جماعت کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے بریل ہی دنیا بھر میں مروج ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ہر معذور فرد کو قدرت کچھ حیرت انگیز صلاحیتیں ودیعت کرتی ہے۔ قدرت کے نظام میں بدلے کا رواج نہیں ہوتا۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ معذور افراد اپنی باقی ماندہ صلاحیتوں کا ہم سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ آپ بھی اگر اپنی آنکھیں بند کریں تو آپ کو بھی زیادہ سنائی دینے لگے گا۔
لسانی طور پر ہم نے معذور افراد کے ساتھ ہمیشہ برا سلوک کیا ہے۔ عقل کا اندھا، گونگا، بہرا جیسے الفاظ تحقیر، تذلیل ، تمسخر اور نفرت کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اردو ادب ،ڈرامہ اورصحافت کی تاریخ ایسی نادانستہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ درست لفط نابینا ، قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد ہیں۔
ملازمتوں میں معذور افراد کا کوٹہ ہمیشہ سے دو فیصد رکھا گیا ہے مگر اس کوٹے پر یا تو عمل درآمد نہیں ہوتا یا پھر نارمل افراد کسی معمولی بیماری حتیٰ کہ کمر درد کا بہانہ بنا کر اس کوٹے سے مستفید ہوتے ہیں۔
حکومتی سطح پر معذور افراد کے لیئے سب سے زیادہ کام سابق صدر ضیاءالحق کے دور میں ہوا۔ جس کی وجہ ان کی بیٹی زین ضیا کی معذوری بھی تھی۔ ضیاءالحق کے دور میں معذور افرد کے لئے قریباً ہر بڑے شہرمیں تعلیم اور تربیت کے سنٹر کھولے گئے مگر آج ان کی حالت زار بہت ابتر ہے۔ مجھے یاد ہے برسوں پہلے پشاور صدر میں قائم ایک ایسے ہی انسٹی ٹیوٹ میں جب میں اور صائمہ گئے تو تو بہت بڑی ایک عمارت کے ایک کمرے میں چند نابینا افراد ایک صف پر بیٹھے کرسیاں بن رہے تھے اور یہی ان کی تعلیم تھی اور یہی تربیت کا انتظام تھا۔
تعلیم کے بعد معذور افراد کے لئے سب سے بڑا مسئلہ حصول معاش کا ہوتا ہے۔عموماً سماج میں ایسے افراد کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ روزگار کا کوئی حیلہ میسر نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی سماجی حیثیت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اگر کوئی ذریعہ آمدن ہو تو گھروں میںان معذور افراد کی حیثیت یکدم بدل جاتی ہے۔ گھر کے افراد ، خاندان اور یہ سماج انہیں عزت دینے لگتا ہے۔
حکومتیں معذور افراد کے کسی پراجیکٹ پر اس لئے توجہ نہیں دیتیں کہ اس کی وجہ سے ان کو وہ سیاسی فائدے نہیں حاصل ہوتے جو سڑکیں، پل اور ہسپتال بنانے میں ہوتے ہیں۔ یہ سیکٹر اسی وجہ سے مدتوں سے نظر انداز ہوتا رہا ہے۔
پنجاب حکومت کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ماضی میں پورے دھڑلے سے ان سے اختلاف بھی کیا۔ مگر معذور افراد کے لئے خدمت کارڈ کا اجرا نہایت احسن اقدام ہے۔ اس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گا۔ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے زیر تحت اس پراجیکٹ کے لئے دو ارب روپے کی خطیر رقم معذور افراد کے لیئے مختص کرنا ایک کارنامہ ہے۔ اس اتھارٹی کے چیف ایگز یکٹو ڈاکٹر سہیل انور ہیں جو اسی موضوع پر کیمبرج جیسے ادارے سے پی ایچ ڈی کر کے آئے ہیں۔ انتیس دسمبر دو ہزار پندرہ کو اس کارڈ کا اجراءہوا۔ افتتاحی تقریب میں جو سب سے اچھی بات تھی وہ یہ کہ وزیر اعلیٰ نے معذور افراد کو ان کی نشستوں پر جا کر کارڈ دیئے۔ فوٹو سیشن کے لئے روایتی طور پر سٹیج پر نہیں بلوایا گیا۔ پہلے مرحلے میں تمام ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹر معذور افراد کی معذوری کا تعین کریں گے اور معذور ی کا مستند سرٹیفیکٹ دیں گے۔ معذور افراد کو گھر سے ہسپتال تک لے جانے کے لیئے سرکاری ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے گا۔ ان کارڈز کا اجرا ابتدا میں ساٹھ ہزار معذور افراد کو کیا جائے گا اور دوسرے مرحلے میںان افراد کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔معذور افرد یہ رقم اے ٹی ایم کے ذریعے سے بھی نکال سکیں گے۔خدمت کارڈ کے تحت صرف ماہانہ رقم نہیں بلکہ معذور افراد کو وہیل چیئر، سماعت سے متعلق آلات، سفید چھڑیاں اور جسمانی طور پر معذور افرد کے لئے مصنوعی اعضاءکا بھی انتظام کیا جائے گا۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہو گی اس کے بعد معذور افراد کو معاشرے کا فعال فرد بنانے کے لئے ان کی ووکیشنل ٹریننگ کے اہتمام کے ساتھ ساتھ ان کو روزگار کے بھی مواقع مہیا کئے جائیں گے۔
چند بہت ضروری احتیاطیں جو اس منصوبے کے سلسلے میں درکار ہیں ۔ روایتی بیوروکریسی اس طرح کے منصوبوں کی تلاش میں رہتی ہے۔ جہاں آواز بلند ہونے کا امکان نہ ہو ، وہاں نیک عمل کا گلہ گھونٹنا بہت سہل ہوتا ہے۔ اس اندیشے کا پہلے ہی حل نکال لیا جائے۔ معذور افرد کے درست اعدادو شمار پر کام کیا جائے اور اس سلسلے میں نادراکے علاوہ بھی اداروں کی مدد لی جائے۔ معذور افرد کی شناخت کے لیئے درست طریقہ کار اختیار کیا جائے ورنہ اس کا حشر بھی ملازمتوں کے کوٹے والا ہو گا۔ خدمت کارڈ کی یہ ماہانہ رقم ان افراد کاریاست پر حق سمجھ کر دی جائے ۔ ہمدردی یا خیرات کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہیے۔ہر مرحلے پر معذور افراد کی عزت نفس کو مقدم رکھا جائے کیونکہ یہ افراد معذور ضرور ہیں، مجبور نہیں۔ ان کو حوصلہ دینا ، ان کی زندگیوں کو سہل کرنا ہر مہذب معاشرے کا کام ہے۔ خدمت کارڈ اس ضمن میں ایک اہم قدم ہے مگر کارڈ کے اجرا سے لے کر ان افراد کی بحالی تک ہر مرحلے پر احتیاط اور نیک نیتی درکار ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 41 posts and counting.See all posts by ammar