ڈاکٹر اسلم فرخی: اک ستارے میں ہے مکاں اس کا


ڈاکٹر اسلم فرخی (1926-2016) اردو کے بہترین خاکہ نگاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے خاکوں کی وقفہ وقفہ سے شائع ہونے والی ساری کتابیں اب ایک ہی مجموعے میں یکجا کردی گئی ہیں۔ ان کتابوں کے نام یہ ہیں : آنگن میں ستارے، گلدستہ احباب، لال سبز کبوتروں کی چھتری ، موسم بہار جیسے لوگ، رونق بزم جہاں، اور سات آسمان۔ وہ نہایت نتھری ستھری زبان لکھتے ہیں۔ اسلوب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قلم کار کی شخصیت کا ترجمان ہوتا ہے۔ اسلم فرخی جیسے اجلے انسان ویسا اجلا ان کا طرز بیان۔ مدت ہوئی ان کا رجحان تصوف کی طرف ہو گیا تھا اور اسی کی تعلیمات کے زیر اثر وہ کسی بندے کے عیوب بیان کرنے سے محترز رہتے تھے۔ اس صوفیانہ چلن کو انھوں نے ایک جگہ یہ لکھ کر بیان کیا ہے کہ وہ شخصیت کی ڈی کنسٹرکشن کے قائل نہیں۔ اس اصول کے ساتھ خاکہ لکھنا سہل نہیں اور یہ خاکہ نگاری کے بنیاد گزار مرزا فرحت اللہ بیگ کی راہ سے انحراف ہے،جنھوں نے ڈپٹی نذیر احمد پر اپنے خاکے میں ان کی تصویرکے دونوں رخ پیش کر کے، ایک طرح سے اچھے خاکے کا بڑھیا معیار طے کردیا تھا،اس کے باوجوداسلم فرخی کامیاب خاکہ نگار ہیں کیونکہ وہ اپنی اس کمی کو دوسرے طریقوں سے پورا کر دیتے ہیں۔ اچھی نثر کا ذکر تو ہو ہی گیا ہے جس کے بغیر تحریر اٹھ نہیں سکتی، اس کے سوا انسانی فطرت کا عمیق مطالعہ، انسانی ہمدردی کا جذبہ اور دل گدازی سے تحریر میں تاثیر آ جاتی ہے۔

ان کی ہر کتاب لائق مطالعہ ہے لیکن مجھے ذاتی طور پر ”لال سبز کبوتروں کی چھتری”پسند ہے۔ اس میں پانچ خاکے مصنف کے آبائی شہر فتح گڑھ کے ساکنوں سے متعلق ہیں۔ خاکے کیا ہیں کسی ٹوٹے ہوئے دل کے درد انگیز نالے ہیں۔ خاکہ نگاری کو وہ خود سوزی کا عمل قرار دیتے ہیں۔ یہ بات انھی خاکوں پر سب سے فٹ بیٹھتی ہے۔ باجی آپا پر تحریر کا آغاز اس پیراگراف سے ہوتا ہے:

“بعض انسان اپنی زندگی میں ویران، اداس اور تنگ وتاریک کھنڈر نظر آتے ہیں۔ مگر کھنڈروں کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ میں نے اپنے خاندان میں کم وبیش ساٹھ برس تک ایک ایسے ہی کھنڈر کو دیکھا اور برتا ہے۔ جس کی خشت اول ہی کج تھی۔ حالات و واقعات نے اس کی ٹیڑھ میں روز بروز اضافہ کیا مگر یہ کھنڈر مجھے اور میرے خاندان کو عزیز تھا اور ہے۔ میں نے باجی آپا کے خاکے میں یہ کوشش کی ہے کہ آپ بھی اس کھنڈر کی ایک جھلک دیکھ لیں۔ آپ کی ملاقات بھی اس بیتاب، بے لچک، بے خوف، بے غرض اور بے آسرا خاتون سے ہوجائے جس میں اوائل عمری سے کائی لگنا شروع ہوگئی تھی، جوانی میں ویرانی برسنے لگی تھی اور بڑھاپے میں بد حالی، کہنگی اور شکست وریخت کے آثار پوری طرح نمایاں ہو گئے تھے، جسے کسی نے محبت، ہمدردی اور سنجیدگی سے سمجھنے کی زحمت نہیں کی، جو ساری زندگی جبرِ حالات کا شکار رہنے کی وجہ سے اپنے اور دوسروں کے لیے اذیت پسند ہو گئی تھی۔”

فرخ آباد کے قصبے قائم گنج سے تعلق رکھنے والے الیاس احمد مجیبی کے بارے میں تحریر بھی خوں رلاتی ہے۔ وہ اپنے زمانے میں بچوں کے معروف ادیب تھے جنھیں ہم نے بھلا دیا۔ مصنف نے بچپن میں ان کی بچوں کے لیے سیرت پر کتاب ’سرکار کا دربار‘ پڑھی تو وہ دل پر نقش ہوگئی۔ ان کی کتاب ’چار یار‘ کی بھی تعریف کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے الف لیلہ مرتب کی۔ “باغ وبہار”اور ”فسانہ عجائب“ کی تلخیص بھی کی۔ انھیں حیدر آباد دکن میں مولوی عبدالحق کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، ان کے کام سے وہ خوش بھی تھے لیکن پھر ان کے مخالفین نے ان کے بارے میں مولوی صاحب کے کان بھرے اور وہ وہاں ٹک نہ سکے۔ بقول اسلم فرخی “مولوی صاحب میں خوبیاں بے شمار تھیں لیکن ان کے ساتھ کانوں کے کچے بھی تھے، سازش کرنے والے ان کی اس کمزوری سے پورا فائدہ اٹھاتے تھے اور بڑے سلیقے سے اچھے دل برے کر دیتے تھے۔”تقسیم سے پہلے اور بعد میں الیاس مجیبی پر ادبار کا سایہ رہا،ایک کڑی زندگی انھوں نے گزاری۔ کراچی میں اردو گھر قائم کیا جس کا افتتاح سید سلیمان ندوی نے کیا لیکن وہ چلا نہیں۔

اسلم فرخی کا قلم، فرخ آباد کے ذکر پر خوب فراٹے بھرتا ہے، بتاتے ہیں کہ اس ضلع میں آم بہت تھے۔ تخمی اور قلمی دونوں۔ تخمی چار چھ آنے سیکڑا اور ایک سیکڑے میں پچیس پنجے۔ مقامی زبان میں لنگڑے کو ٹکاری اور سرولی کو بمبئی کہتے تھے۔ یہاں کے تربوز بھی بڑے مشہور تھے۔ فتح گڑھ میں خاکروبوں کا سالانہ میلہ بھی ہوتا تھا۔ ایک جلوس بھی نکلتا تھا جس میں ناریلوں سے لدا سجا ایک لمبا نشان بھی اٹھایا جاتا تھا۔ خاکہ نگار کے اپنے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں، تحریک پاکستان کے سلسلے میں وہ بہت پرجوش تھے، فتح گڑھ مسلم لیگ کا سیکرٹری ہونے کے ناتے اس کا سرگرم حصہ بھی، اس دور کی سیاسی فضا اور قائد اعظم نے یوپی کے مسلمانوں کے دل میں کس طرح گھر کیا اس کی بابت پتا چلتا ہے۔ اس تناتنی کے ماحول میں ایک قوم پرست رہنما کو اپنے سوال سے انھوں نے لاجواب بھی کردیا لیکن اس کا نام نہیں لکھا، لکھ دیتے تو بہتر تھا اس سے تاریخ کا ریکارڈ درست رہتا۔ فرخ آبادکے ایک کردارمرزانعیم اللہ رسوا کی یاد میں خاکہ بعنوان ”روداد رسوائی”بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

 اس کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ بھلے وقتوں میں مسلمانوں میں کتنی روادار، کشادہ دل اور دیانت دار ہستیاں موجود تھیں، یہ مگر اس وقت کی بات ہے جب ہمارے یہاں مذہب سے لوگوں کی وابستگی نے کاروباری رنگ اختیار نہ کیا تھا اور ظواہر پرستی کے بجائے دین کی اصل روح عمل سے ظاہر ہوتی تھی۔ یہ کتاب پڑھنا اس واسطے بھی لازم ہے کہ ہم جان سکیں کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں۔ صحافی بھائیوں نے اپنے عمل سے پیشہ صحافت کو اتنا بدنام کیا ہے کہ شرفا کے لیے بطور صحافی تعارف ذریعہ عزت نہیں رہا۔ اسلم فرخی ہماری ملاقات باضمیر ضمیر نیازی سے کراتے ہیں، جنھیں گورنر سندھ نے صحافتی خدمات کے اعتراف میں چیک بھجوایا تو انھوں نے اسے واپس کردیا۔ بے بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں شام کے اخبارات پر پابندی لگی تو انھوں نے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دے کر تمغہ حسن کارکردگی بطور احتجاج لوٹا دیا۔ بیماری کے دنوں میں حکومت نے خدائی کی زکوٰة دینی چاہی تو وہ بھی وصول نہیں کی۔

صحافت تو خیر بدنام ہوئی سو ہوئی وہ پیشے جو اپنی بنیاد میں انسانی خدمت سے عبارت ہے اور جن کا براہ راست تعلق انسانی زندگی سے ہے وہ بھی بندگان حرص وہوس کے ہاتھ میں ہیں، مثال کے طور پر طب کا پیشہ۔ اسلم فرخی اس کتاب میں ایک سچے موتی ڈاکٹر یاور عباس سے متعارف کراتے ہیں: ”یاور صاحب قدیم دبستان کے طبیب تھے جس کا مقصد و منشا خدمت خلق تھا۔ ان کے مزاج میں کسی قسم کی طمع نہیں تھی۔ مریضوں کی صحیح معنوں میں دل جوئی کرتے۔ خیال رکھتے اور آج کل کے ڈاکٹروں کی طرح کھال نہیں ادھیڑتے تھے۔”

تدریس کا پیشہ بھی دنیا داروں نے بدنام کردیا ہے۔ پیسہ، پیسہ، پیسہ، اب یہی معلموں کا وظیفہ ہے۔ وہ ایک کھرے استاد مولوی ثنا الحق کے باب میں،جنھیں دنیاوی منفعتوں سے کوئی علاقہ نہ تھا، لکھتے ہیں تونکتے کی یہ بات سامنے لاتے ہیں : “علم سکھانے والوں نے مشرب علم سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا رخ مالی منفعتوں کی طرف موڑ دیا ہے۔”

دلی کے روڑے اور “دلی کی چند عجیب ہستیاں”جیسی بے مثل کتاب کے مصنف اشرف صبوحی دہلوی کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دستر خوان بہت وسیع تھا۔ دوسروں کو طعام میں شریک کرکے انھیں دلی خوشی ہوتی، کوئی انکار کرتا تو وہ آزردہ ہو جاتے۔ یاروں کے یار۔ ان کے لیے سب کچھ نچھاورکرنے کو تیار۔ دلی والے لیکن لاہور آئے تو یہاں کے کھانوں سے پوری طرح باخبر۔ اسلم فرخی کے بقول :

 ان کا مقولہ ہے: ایک ڈاڑھ چلے ستر بلا ٹلے۔ کھانے پینے کے معاملے میں وہ دلی کے دل والے ہیں۔ ایک ایک دکان کا حال معلوم۔ اس کے کبابوں کا مسالا ہی کچھ اور ہے۔ اس کی کھیر میں سوندھا پن ہے۔ اس کے یہاں شربت میں بادام گھٹے ہوتے ہیں۔ ڈاک خانے میں کھانے پینے کی چیزیں چلی آرہی ہیں۔ باہر نکلے تو راستہ چلنا مشکل۔ ایک ایک دکان کی تعریف۔ یہاں یہ اچھا ہے، یہاں یہ اچھا ہے۔ بھائی ولی ہیں کہ آنے والے کی تواضع میں بچھے جارہے ہیں۔ بس چلے تو تن کے کپڑے بھی اتار کر مہمان کی نذر کردیں۔ میں نے بارہا غور کیا کہ یہ خلوص تواضع اور خوش باشی ہماری نسل میں کیوں نہیں آئی۔ پھر خود ہی خیال آتا ہے کہ ہم لوگ ہر شخص سے ایک توقع رکھ کر ملتے ہیں۔ بھائی ولی کسی سے کوئی توقع نہیں رکھتے۔ بے غرض ملتے۔ اس لیے ان کے یہاں عزت نفس بھی ہے اور خوش باشی بھی۔”

کتاب میں ایسے کردار ہیں جو دوسروں کی ہر دم مدد کو تیار رہتے ہیں۔ کھلونوں کے دکاندار سے دوستی تھی۔ سولہ ہزار کی اشد ضرورت تھی، یار عزیزکو معلوم ہوا تو آن کی آن میں سیف کھولا اور نوٹوں کا بنڈل نکالا اور پیسے گن کے دوست کو دیے۔ مصنف نے بتایا ہے کہ نیاز فتح پوری کی ساری جمع پونجی ایک بینک ڈوب جانے کے باعث برباد ہوگئی تو یہ سب جان کر نامور محقق مالک رام نے کسی طلب کے بغیر ایک بڑی رقم ان کو بھجوا دی۔ مالک رام کے بارے میں لکھتے ہیں :

”مالک رام صاحب کی زندگی کا رہ نما اصول اپنی اصلاح اور درگزر تھا۔ یہ انھوں نے ابوالکلام آزاد سے سیکھا تھا اور ساری زندگی اس پر عمل کیا۔ ایک بار وہ مولانا کے کسی معترض کو جواب دینا چاہتے تھے۔ اس پر مولانا نے فرمایا ”کیا آپ کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے۔ اپنے کام سے کام رکھیے، دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔”

 خوشبوئے یوسفی کے نام سے مشتاق احمد یوسفی کے بارے میں مہکتی تحریر ہے، جس میں سو باتوں کی ایک بات یہ کہ انگریزی محاورے کے مطابق شاعروں ادیبوں میں وہ اگر کسی کو اپ رائٹ کہہ سکتے ہیں تو وہ یوسفی ہیں۔ اسلم فرخی کہتے ہیں کہ صوفی نہ ہونے کے باوجود اس باکمال مزاح نگار میں چارایسی خوبیاں ہیں جو صوفیوں میں ہوتی ہیں: کم بولنا۔ کم کھانا۔ کم سونا اور صحبت ناجنس سے دور رہنا۔

 آبادی میں بے ہنگم اضافے نے شہروں کی ہیئت کو جس طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے وہ ان لوگوں کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہے جنھوں نے کراچی کا اصل روپ دیکھ رکھا ہے، یہ بربادی اب صرف شہر قائد سے مخصوص نہیں، ہر بڑا شہر اس کی زد میں ہے۔ لکھتے ہیں “آبادی کی کثرت نے شہروں کی ثقافتی روایتوں اور شہریوں کے طرز احساس اور فکر کو بالکل بدل دیا ہے۔ بدل کیا دیا ہے،شہر نابود ہوگئے ہیں۔ انسانوں کے جنگل وجود میں آگئے ہیں۔ ایسے جنگل جہاں انسان کی کوئی ثقافت اور انفرادیت نہیں ہے اور نہ ہی کسی محلے کی کوئی روایت زندہ ہے۔”

 کتاب میں ایسے مقامات بھی آتے ہیں جہاں علمی معاملے میں کسی صاحب کی دوٹوک رائے اسلم فرخی پیش کرتے ہیں، ذرا دیکھیے کہ نور الحسن جعفری نے لسانیات سے متعلق ایک اہم نکتہ کس انداز میں اجاگر کیا ہے:…. اب آپ لوگ زبان کی ٹھیکے داری کا سودا سر سے نکال دیں۔ تلفظ اور لہجے پر اعتراض نہ کریں۔ زبان سب کی ہے۔ سب کا اس پر استحقاق ہے۔ برہمنی جکڑ بندیاں ختم کیجیے اور زبان کو اپنے تسلط سے آزاد کر دیجیے۔ زبان کی ترقی اس طرح ممکن ہے۔ آپ لوگ بہت دن تک زبان کے اجارہ دار رہے۔ اب یہ اجارہ داری عام ہونا چاہیے۔”

معین الدین حزیں کاشمیری سے ان کی دوستی خط کے ذریعے قائم ہوئی، ٹیلی فون پر لمبے لمبے مکالموں نے اسے فروغ دیا، دونوں کی ایک ہی بالمشافہ ملاقات لاہور میں 2010 میں ہوئی جہاں اسلم فرخی پنجاب یونیورسٹی کے آزاد صدی سیمینار میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ ان کے خاکے میں ایک دکھ بھری داستان بھی چپکے سے داخل ہوگئی ہے جس نے ہمدمی کے قصے کو سوگوار بنا دیا ہے۔ حزیں کاشمیری سے رابطہ میں تعطل آیا تو پریشان ہوئے، بات ہوئی تو پوچھا کہ کوئی مسئلہ تھا جس پر انھوں نے بتایا:

 “گوجرانوالے گیا تھا۔ وہاں بیوہ بیٹی کی زمین ہے۔ مکان بنوانے کا خیال ہوا تو سوچا پہلے زمین دیکھ لیں۔ گیا تو وہاں مکان بنا ہوا نظر آیا۔ پوچھ گچھ کی۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ مکان تو بہت پہلے بن گیا تھا۔ آپ اب خبر لینے آئے ہیں۔ ایک بزرگ نے سمجھایا۔ بھائی! صبر کرو۔ مقدمہ کرو گے تو مخالف پارٹی اپنے اثر کی وجہ سے تمھیں تگنی کا ناچ نچا دے گی۔ ہر ہفتے پیشی ہوگی۔ لاہور سے گوجرانوالے آنا پڑے گا۔ بہت خوار ہوگے۔ میں واپس آگیا۔ لاہور میں بھی بہی خواہوں نے یہی مشورہ دیا کہ بھائی چپکے ہو جاﺅ۔ کچھ ہو نہیں سکتا۔ ایمان اللہ بڑا رنج ہوا۔ کیا زمانہ آگیا ہے۔ فرخی صاحب ! یہ تو اندھیر ہے اندھیر۔ سارے ملک میں یہی تباہی پھیلی ہے۔”

اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مشفق خواجہ کو آپ بیتیوں سے خاص دلچسپی تھی، روسو کی اعترافات اور کیسا نووا کی آپ بیتی خاص طور پر پسند تھیں، اعترافات کا ترجمہ شروع کیا تھا جو غالباً تکمیل کو نہ پہنچا۔ تحقیق کرنے والوں کی مشفق خواجہ کے فراخدلی سے مدد کرنے کا بھی بتایا ہے۔ اسلم فرخی کی احمد فراز سے دوستی کا جان کر حیرت ہوئی۔ دونوں کی شخصیتوں میں بعد المشرقین ہے، لیکن وہ انسانی تعلقات میں اس مقولے کے قائل نظر آتے ہیں جو ہم نے اس کتاب میں ہی کہیں پڑھا ہے: یار کی یاری سے کام، یار کے فعلوں سے کیا کام۔ احمد فراز پچاس کی دہائی میں ماہ ڈیڑھ ماہ کراچی ریڈیو سے متعلق رہے، تو وہی ان کے ساتھ دوستی کی بنا پڑی، دونوں کراچی کی سنسان سڑکوں پر گھوما کرتے۔ اسلم فرخی بتاتے ہیں کہ فراز کی عادت تھی کہ بند تالوں کو بڑے غور سے دیکھتے، تالہ کھنچتے ہلاتے اور آگے بڑھ جاتے۔ ایک دن پولیس والے نے ٹوکا ”یہ تم تالہ کیوں کھینچ رہے ہو۔” فراز نے فوراً جواب دیا، “یہ دیکھ رہا ہوں کہ صحیح بند ہوا یا نہیں ….“

اس کتاب کا مطالعہ کیوں ضروری ہے، اس کا جواز ہم نے ڈاکٹر اسلم فرخی کی تحریر کے اس ٹکڑے سے کشید کیا ہے:

“تہذیبی اعتبار سے ہم اس وقت ایک خلا میں معلق ہیں کیونکہ ہماری اکثریت تہذیب کے ان تمام مظاہر اور عناصر سے بیگانہ ہوگئی ہے جو تہذیبوں کو وزن و وقار بخشتے ہیں۔”

کتاب سنگ میل نے شائع کی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں