کیوپڈ کا تیر اور داستان شادی کی


jamal yasinمعزز قارئین، سب سے پہلے تو دوسری اور آخری قسط دیر سے پیش کرنے پر معذرت خواہ ہوں۔ بقول شخصے، ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔

گذشتہ قسط میں ایک اہم اور دلچسپ بات تو آپ کو بتانا بھول ہی گئے۔ معاملہ کچھ یوں تھا کہ پہلی نظر کے بعد موصوفہ سے بالمشافہ ملاقات کا کوئی موقع نہیں ملا تھا۔ دل میں ایک کھد بد سی لگی ہوئی تھی کہ خدا معلوم متوقع منسوبہ و مقصودہ ایسی ہی ہے جیسا ہم نے سوچا اور سمجھا ہوا ہے، کہین کوئی گڑبڑ تو نہیں۔

کیوں نہ ایک دفعہ قریب سے دیکھ لیا جائے۔ مگر یہ سوچتے سوچتے منگنی کی رات آ گئی، مسئلہ حل نہیں ہوا۔ جب کھانے پینے کے بعد سب لوگ رخصت ہونے لگے تو ہم نے ان کی خالہ سے جو ہمارے بہت صدقے واری جا رہی تھیں فرمائش کی کہ کل تو منگنی ہو ہی جائے گی کسی ترکیب سے ایک جھلک تو دکھا دیں (بے چاری نئی پود کیا جانے کہ اس زمانے میں کیا رسوم و قیود تھیں)۔ انہوں نے کہا کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں اسے کسی بہانے سے بلوا لوں گی۔ جاتے وقت ڈیوڑھی میں جو کمرہ ہے اس کا دروازہ کھولنا تمہارا کام ہے۔ آپ سے کیا چھپائیں، ایسے کاموں میں تو ہم پہلے ہی طاق تھے۔

روانگی کے لیے خدا حافظ کی تکرار اور معانقہ و مصافحہ جات کے بعد ہم قصدا سب سے پیچھے رہ گئے۔ ڈیوڑھی کے دروازے کے عین سامنے ہمارا جوتا کسی فرضی رکاوٹ سے ٹکرایا اور ہم نے لڑکھڑاتے ہوئے ہولے سےدروازے پر ہاتھ رکھ دیا۔ واہ خالہ جان، آپ کے صدقے جاوں، سارے شکوک و شبہات ایک پل میں رفع ہو گئے۔ سامنے وہ اپنا چاند سا چہرہ لیے کچھ متوحش سی زیر لب مسکرا رہی تھیں۔ دور کہیں اس زمانے کا مقبول ترین گانا، او ساتھی رے، تیرے بنا بھی کیا جینا چل رہا تھا (سین کچھ فلمی ہو گیا، کیا کریں ایسا ہی تھا)۔ تو ہم پہلی نظر میں گھائل تو ہو ہی گئے تھے، یہ دوسری نظر سونے پر سہاگہ ثابت ہوئی اور آگے کی ساری رات سہانے خواب بنتے گذری۔

یہ سب ایسے ہو گیا کہ ہم ایک دن پہلے اپنے دوست کے ساتھ ہوائی جہاز پر یہاں پہنچ گئے تھے۔ والدہ بمعہ دیگر اہل خانہ اگلے دن صبح بذریعہ ریل پہنچیں۔ ان سب کو اسٹیشن سے ہی سمدھیانے لے جایا گیا۔ ہم بن سنور کر شام چار بجے منگنی کے لیے پہنچ گئے۔ رسم کا انتظام گھر ہی میں کیا گیا تھا۔ آج سے سینتیس برس پہلے کی تقاریب مختصر اور سادہ ہوا کرتی تھیں۔ لڑکی کے والدین، ان کے چند قریبی عزیز اور ہماری طرف سے پانچ چھ لوگ وہیں بیٹھک میں اکٹھے ہو گئے۔ لڑکی کو لایا گیا۔ آئی تو انتہائی متانت اور سنجیدگی سےمگر جب ہمارے قریب بلکہ عنقریب بٹھایا گیا تو نہ جانے کیوں بے طرح ہنسنے لگی۔ ہم نے آئینہ دیکھنا چاہا مگر اپنے چہرے پر تو حماقت برسنے کے کوئی آثار نہ تھے (بلکہ گمان ہے کہ نہایت نستعلیق سی سعادت مندی ضرور ہوگی)، خیر، یہ راز آج تک نہیں کھلا کہ اتنی بے تحاشا ہنسی کی وجہ کیا تھی۔

image1اس کے بعد وہ مشہور زمانہ گوٹے کا ہار لایا گیا جو آج بھی دیہاتوں میں حج اور عمرہ کر کے آنے والوں کو پہنایا جاتا ہے۔ اب تو ہم بھی ہنس دئیے کہ باقاعدہ چغد لگ رہے تھے۔

ہم نے ماڈرن بنتے ہوئے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو خود انگوٹھی پہنائیں گے، چنانچہ یہ خواہش پوری کی گئی۔ اور یوں نمک پاروں، بالو شاہی اور بیکری کے بسکٹوں کے جلو میں منگنی کی رسم اپنے اختتام کو پہنچی۔ اب تو ہم سرکاری طور پر اس گھر کے داماد تھے اس لیے ہمیں اوپر لے جایا گیا اور دیگر اعزہ و اقارب سے ملوایا گیا، تصاویر اتاری گئیں اور کھانے کے بعد رخصت کیا گیا۔ اگلے روز جہاز والے جہاز سے اور ریل والے ریل سے واپس روانہ ہو گئے۔

آج کل کی طرح اس وقت بھی یہی رواج تھا کہ شادی کے دن دولہا سسرال کی طرف سے دیے گئے کپڑے پہنتا تھا، اس لیے ایک بار پھر ہمیں پشاور بلوایا گیا کہ آن کر اپنے پسند کے کپڑوں کا انتخاب کر لیں اور درزی کو ناپ دے جائیں، چنانچہ ماہ اپریل ۸۰ میں ہم نے ایک چکر اور لگایا کیوں کہ شادی مئی میں ہونا قرار پائی تھی۔

اب شادی کے لیے چوں کہ بارات بہت دور جانا تھی اس لیے ہم نے صرف بہن، بہنوئی، والدین اور پانچ چھ قریبی اعزہ کے ساتھ مئی میں بذریعہ جہاز روانگی کا پروگرام بنایا۔ صرف اٹھارہ لوگوں کی بارات چار مئی کو شام پانچ بجے پشاور ائیرپورٹ پہنچ گئی۔

وہاں ایک جم غفیر پشاوری روایات کے عین مطابق استقبال کے لیے موجود تھا۔ سب کو ہار پہنائے گئے اور ہم پر ہار چڑھائے گئے، اتنے چڑھائے گئے کہ بمشکل آنکھوں کی جگہ باقی بچی تھی۔ ہمیں تو ہم زلف صاحب نے کیچ کر کے اپنی جیپ میں بٹھا لیا اور پیچھے گاڑیوں کا قافلہ تیار ہوتا رہا۔ پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار سے ہوتے ہوئے سسرائیلی گلی کوچہ رسالدار پہنچے۔ وہاں ایک قدیمی حویلی جو آج بھی ماشاللہ اسی آن بان سے موجود ہے (لال ماما کی حویلی) میں بارات کے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

بڑے بڑے پرشکوہ دالان اور کمرے جن میں تختے والی کھڑکیاں (بستے) اور منقش دروازے ماحول کی شان و شوکت میں اضافہ کر رہے تھے۔ مئی کا مہینہ ہونے کے باوجود گرمی کا نام و نشان تک نہ تھا، ہلکی رفتار میں پنکھے بھی راحت مہیا کر رہے تھے۔ سامان وغیرہ کھولا اور کچھ دیر آرام کے بعد بازار کی سیر کو نکل گئے۔ واپس آئے تو مہندی کا قافلہ تیار تھا۔ لڑکی کا گھر دو گلی دور تھا۔

پہلے ہم لوگ ان کے ہاں (بغیر دولہا) مہندی لگانے گئے۔ بعد میں لڑکی والے، بلکہ لڑکی والیاں ہماری طرف آئیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ’من ترا مہندی لگائم، تو مرا مہندی لگو‘ (بھئی فارسی وانوں کی ناراضی بجا مگر ایسے پھسپھسے مضمون میں کچھ تو مزاح کا عنصر لایا جائے)، اگلے دن دوپہر ہی میں نکاح تھا۔ تمام رسومات بخیر و خوبی انجام پائیں مگر کھانے پر جو ایک مزیدار واقعہ پیش آیا وہ اب آپ کے گوش گزار کرنا ضروری ہے۔ آج سے تیس بتیس سال پہلے کے پشاور میں شادی کے موقع پر جو کھانا کھلایا جاتا تھا اسے خونچہ کہتے تھے۔ اگرچہ آج بھی کئی روایت پسند خاندان یہی کھلاتے ہیں لیکن جب سے شادی ہال وجود میں آئے ہیں تو خونچہ روٹی کا رواج کافی کم ہو گیا ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ ایک میز کے گرد چار پانچ کرسیاں لگا دی جاتی ہیں یا اگر فرشی نشست ہو تو چار چار مہمانوں کا گروپ بن جاتا ہے اور بہت بڑا خوان (ٹرے) درمیان میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اس خوان میں ایک پلاؤ کی ڈش جسے غوری کہتے ہیں، ایک پیالہ ساگ گوشت، ایک پیالہ چنے کی دال گوشت (اسے ہمارے پشاوری بھائی قورمہ کہتے ہیں، تو پھر قورمے کو کیا کہیں گے، مٹر پلاؤ؟)، ایک پیالہ کوفتے، نان، رائتہ، کسٹرڈ اور دنیا کا لذیذ ترین میٹھا، آلو بخارے کی چٹنی موجود ہوتے ہیں۔

image2

کھانے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ چاروں میں سے ہر ایک اپنی مرضی سے چاول یا سالن روٹی کھاتا ہے، لیکن دوسروں کی پسند کا خیال کرتے ہوئے کہ سامنے والے کا کیا موڈ ہے۔ اگر کسی نے قورمے کا پیالہ اٹھا لیا تو دوسرا ساگ گوشت کھا لے گا۔ تیسرا چاول شروع کر دے گا، علی ھذالقیاس ۔

واقعہ یہ ہوا کہ اتفاق سے تین بزرگان کے ساتھ ایک نوجوان کو بیٹھنا پڑ گیا۔ اس کا نام ہم گل خان فرض کر لیتے ہیں، گل خان کا پروگرام پہلے قورمہ روٹی کھانے کا تھا۔ جوں ہی خونچہ رکھا گیا اور کہا گیا کہ ’بسم اللہ کرو نا جی‘ تو انہوں نے ایک ہاتھ میں نان لے کر دوسرا ہاتھ قورمے کی طرف بڑھایا کہ ادھر ایک بزرگ نے ان سے پہلے قورمے کا پیالہ اچک لیا اور چاولوں پر انڈیل دیا۔ کوئی بات نہیں۔ انہوں نے سوچا ہم ساگ گوشت کھا لیتے ہیں۔ مگر ان کے دیکھتے دیکھتے دوسرے بزرگ نے وہ پیالہ بھی چاول کی غوری میں پلٹ دیا۔ خون کے گھونٹ پیتے ہوئے گل خان نے ابھی کوفتوں کی طرف دیکھا ہی تھا کہ نہایت سنجیدگی اور بڑی بزرگانہ شان استغنا سے تیسرے صاحب نے وہ پیالہ اپنی طرف کھسکایا اور چاولوں کو تر بہ تر کر کے کھانا شروع کر دیا۔ اب تو گل خان کو بڑا غصہ آیا، کچھ دیر تو ضبط کرنے کی کوشش کی۔ مگر جوان خون اور پھر پٹھان، آخر رہا نہیں گیا۔ آپ نے قریب رکھا پانی کا گلاس اٹھایا اور غوری میں عین چاولوں کے درمیان انڈیل دیا۔ اس پر تینوں بزرگان بہت بھنائے اور ہندکو میں پوچھا، “اے کی کیتا نے” (یہ کیا کر دیا)، گل خان فرماتے ہیں، “خیر اے، پانی نہ پیسو” (خیر ہے، پانی بھی تو پینا ہی تھا)۔ ایک منتظم یہ دکھ رہا تھا، وہ بھاگا بھاگا گیا اور گھر کے بزرگوں میں سے ایک کو پکڑ لایا۔ انہوں نے معاملات کو سنبھالا۔ گل خان کو ایک طرف لے جایا گیا، ان کا غصہ ٹھنڈا کیا گیا۔ ان تین بزرگوں کے لیے الگ خونچہ لایا گیا۔ اس واقعے سے تمام لوگ بہت محظوظ ہوئے۔ آج بھی جب کہیں خوانچہ روٹی پیش کی جاتی ہے تو یہ واقعہ مزے لے لے کر دہرایا جاتا ہے۔

اس کے بعد کوئی قابل ذکر تفصیل نہیں ہے۔ نکاح والی شام کو ہم سب کی روانگی خیبر میل سے تھی، چنانچہ حسب پروگرام دلہن رخصت کروا کے ہم لوگ بخیر و عافیت ملتان پہنچ گئے۔

اور یوں لکڑہارے کی کہانی تمام ہوئی۔ اور جیسے خدا نے ان کے دن پھیرے، ایسے سب کے پھیر دے۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “کیوپڈ کا تیر اور داستان شادی کی

  • 26-03-2016 at 7:10 pm
    Permalink

    عالی شان سر عالی شان۔۔۔دوسری قسط کے انتظار کی کوفت شاندار تحریر نے دور کر دی۔

    • 26-03-2016 at 8:09 pm
      Permalink

      حوصلہ افزائ کے لئے از حد شکر گزار ہوں۔

  • 27-03-2016 at 7:49 am
    Permalink

    قبلہ، اصل کہانی تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے. آگے لکھیے نا، کہ وہ پہلی جھلک سے قبل کی توقعات کیسے پوری ہوئیں.

  • 27-03-2016 at 11:46 am
    Permalink

    خوبصورت اور قیمتی یادیں ۔۔۔
    لفظ”آخری قسط” سے شدید اختلاف۔۔۔ “ہاں ابھی تو تم بھی ہو ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں”۔۔۔
    امید ہے کہ آپ اپنے قارئین کی تشنگی محسوس کرتے ہوئے اس بندھن کے حوالے سے اپنی زندگی کہانی لکھتے رہیں گے۔

    • 27-03-2016 at 10:37 pm
      Permalink

      ٹھیک ہے صاحب ! کچھ سوچتے ہیں، پیار کے تسلسل کوآگے بڑھاتے ہیں۔ إک ذرا إنتظار ۔

Comments are closed.