دو اجلاس: مقاصد و اہداف


صاحبزدہ محمد امانت رسول

imanat rasool

پاکستان کی نیم سیاسی، نیم مذہبی جماعتوں نے حکومتِ پاکستان کو 27 مارچ کی ڈیڈ لائن دی ہوئی ہے کہ وہ تحفظِ خواتین بِل میں ترمیم کے بجائے مکمل طور پر منسوخ کرے کیوں کہ بل غیر اسلامی اور مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے بنایا گیا ہے۔ 27 مارچ ملک ممتاز قادری کے چہلم کا دن بھی ہے اس طرح ڈیڈ لائن دو آتشہ ہو گئی ہے۔ اہلسنت والجماعت اس وقت تک مختلف گروہوں میں تقسیم ہے۔ ایک ایسا گروہ بھی ہے جو ڈی ثوک پہ دھرنا دینے کا خواہش مند ہے، ایک گروہ یومِ چہلم پُرامن انداز میں منانے کا قائل ہے۔
گزشتہ دنوں، ایک بامقصد اور سنجیدہ اجلاس ڈاکٹر سرفراز نعیمی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں بھی منعقد ہوا۔ جس میں علماء و فضلاء کرام نے شرکت کی۔ اس کی صدارت ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کی۔ یہ اجلاس اسی روز منعقد ہوا جس روز منصورہ میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام اجتماع ہوا۔ جن علماء کرام نے ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کے منعقدہ اجلاس میں شرکت کی حامی بھری تھی وہ بھی منصورہ میں پائے گئے۔ گویا کہ اُن کے نزدیک اُس اجلاس میں شرکت اِس اجلاس سے زیادہ اہم تھی کیونکہ وہاں عظیم سیاسی رہنما تشریف لارہے تھے۔

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے بہت عمدہ طریقے سے تحفظ خواتین بل پہ گفتگو کی اور شرکاء سے اصرار کیا کہ وہ ان شقوں کا ذکر کریں جن پہ انہیں اعتراض ہے کہ وہ غیر اسلامی ہیں۔ بہت سے علماء و فضلاء نے اس حوالے سے بامقصد گفتگو کی اور بہت سے لوگوں نے روایتی انداز میں ’’بِل‘‘ کی کلاس لی، جس میں حکومت وقت پہ شک و شبہ کا اظہار بھی تھا کہ حکومتِ پاکستان ملک کو سیکولر ملک بنانا چاہتی ہے۔ کچھ علماء نے فقہ حنفی اور مفسرین کی آراء کی روشنی میں بِل کا جائزہ لیا اُن کی نظر میں بِل اس لئے غیراسلامی ہے۔ میں نے بحیثیت طالب علم گزارش کی کہ آپ علماء کرام ہیں اور علماء کرام کو ورثۃ الانبیاء کہا گیا ہے۔ انبیاء علیہم السلام اپنی بات پہنچانے کے بعد فرماتے تھے: وما علینا الا البلاغ المبین‘‘ اور ہماری ذمہ داری واضح طور پر صرف پہنچانا ہے۔ آپ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کریں۔ التزامی یا الزامی گفتگو آپ کی شایان شان نہیں ہے۔ آپ علمی اور تحقیقی بنیادوں پہ اس بل پہ اظہار خیال فرمائیں۔ حکومت وقت کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ وہ کیا ہے، کیسی ہے اور یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ اگر آپ نے یہی گفتگو کرنی ہے تو یہاں اجلاس منعقد کرنے کا کیا فائدہ؟ اجلاس میں موجود علماء کرام نے ملک ممتاز قادری کی پھانسی کے حوالے سے بھی حکومت پنجاب پہ تنقید کی۔

ulemaمنصورہ اجلاس میں موجود سیاسی علماء کرام کی بصیرت اور دوراندیشی کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے بِل کی واپسی کی تاریخ وہی مقرر کی ہے جو رسم چہلم کی تاریخ ہے۔ اس لئے کہ اس روز ویسے ہی مجمع میسر ہو گا اور علیحدہ عوام کو اکٹھا کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوگی۔ مذہبی سیاست کے ماہرین کو اس کا بھی اندازہ ہے کہ فقط بل پہ لوگوں نے باہر نہیں نکلنا کیونکہ بل اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ حکومتِ پاکستان بل پہ بحث اور ترمیم کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے اس سے آگے قدم اٹھایا کہ اس بل کو یکسر منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا جو واقعی حکومت کے لئے مشکل ہے۔ اگر حکومت مانتی ہے تو کمزوری سامنے آئے گی۔ اگر حکومت نہیں مانتی تو ممتاز قادری کے چہلم پہ جمع ہونے والی عوام تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے لیکن اس سے ملک اور اسلام کو پہنچنے والے نقصان کی طرف ان رہنماؤں کی نظر نہیں جاتی۔
دنیا پہ اسلام کا تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ اس کے نمائندے کسی موضوع پہ سنجیدہ گفتگو سے پرہیز کرتے اور خوف سے اپنی بات منوانے کا رحجان رکھتے ہیں۔ اگر بل کا ہی مسئلہ ہے تو سوال یہ ہے کہ اس اجلاس میں موجود کتنے افراد نے اس بل کو پڑھا ہے۔ جمہوری معاشروں میں مکالمہ کے ذریعے بات کی جاتی ہے یا مظاہروں سے بات منوائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ جو عمران خان کو اسمبلی میں آنے کا مشورہ دیتے رہے اور اس فورم پہ اپنے مطالبات پیش کرنے کا کہتے رہے اب وہ خود سڑکوں پہ اپنی بات منوانے کے لئے تُلے ہوئے ہیں۔
دوسرا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ سیاست کے بازی گر اپنی کرسی اور اقتدار کے لئے اسلام کا بے محابا استعمال کرتے ہیں انہیں ذرا بھی خدا کا خوف نہیں ہوتا کہ اُن کے اس عمل سے اسلام کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ لبرل ازم اور سیکولرزم کی مخالفت میں اسلام کے تعارف اور چہرے کو داؤ پہ لگا دیا جاتا ہے۔ کیا سیاسی تحریک سے بھی علمی تحریک کا راستہ روکا گیا؟ کیا ہم نے انگریزوں کے خلاف تحریکیں چلا کر کامیابیاں حاصل کر لیں اور اسلام کو غالب کر لیا؟ اسلام خود ایک علمی تحریک ہے جو علمی اور نظریاتی زمین پہ ہر نظریہ اور دلیل کا جواب دیتی ہے۔ اسے کسی ایسی تحریک کی احتیاج نہیں ہے جو اسلام کے نام پہ شروع ہو اور اس کا اختتام چند سیاسی مقاصد کے حصول پہ ہو جائے۔


Comments

FB Login Required - comments