پاکستان اور یورپ کے سفر کا موازنہ


سید عبدالرؤف

abd rauf

سفر بنی نوع انسان کی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی منزل کا مسافر ہے۔ ایسے میں ذرا اپنے آپ بیتے دو جگہوں کے سفر کا موازنہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ کہ شاید ہمیں کچھ حاصل ہو جائے۔

گھر کے قریب کوئی معیاری تعلیمی اداراہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر پاکستانیوں کو بڑے شہروں کا ہی رُخ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں مجھے بھی حصولِ تعلیم کے لیے راولپنڈی آنا پڑا۔ گھر جانے کے لیے مجھے پبلک ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ ایک دن گھر جانے کے لیے  فیض آباد مسافر خانے میں پہنچا۔ گرمی۔ بے ہنگم گاڑیوں کے شور اورگندگی سے فیض آباد، جو کہ روالپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پہ واقع ہے، ایک عجیب و غریب منظر پیش کر رہا تھا۔ جسے الفاظ کی وسعت میں سمونا آسان نہیں۔ میرپور کے سفر کے لیے ہائی ایس کا ٹکٹ خریدا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ کبھی ایک ونڈو سے مانگنے والا کھڑکی کو آ کے ٹک ٹک کرتا تو کبھی دوسری کھڑکی سے آواز بلند کرتا۔ جبکہ گاڑی میں بیٹھی ماں اپنے نومولود بچے کو اپنے دوپٹے سے ہوا دے رہی تھی اس کے باوجود بھی بچے کے چہرے پہ گرمی کے آثار نمایاں تھے۔ دو مسافر کم ہونے کی وجہ سے ہمیں مزید ایک گھنٹہ وہیں مسافر خانے میں انتظار کی اذیت برداشت کرنی پڑی۔ ڈرائیور اس ضد پہ اڑا رہا کے جب تک 15 مسافر پورے نہیں ہوں گے میں گاڑی مسافر خانے سے نہیں نکالوں گا۔ حالانکہ گاڑی میں بیٹھا ہر شخص بے تکی گالیاں اور تبصرے سے ڈرائیور کی خوب تواضع کر رہا تھا۔ ایسے میں اس کا ٹس سے مس نہ ہونا ایک مہذب اور سلجھے ہوئے انسان کے لیے بڑی حیرت و تعجب کی بات تھی۔ اللہ اللہ کرتے دو مسافر پورے ہوئے تب جا کہ ڈرائیورنے گاڑی مسافر خانے سے نکالی اور مرکزی ہائی وے پہ ڈال کے میرپور کی طرف رواں دواں ہوگیا۔

گاڑی کے اندر کا ماحول ملاحظہ ہو۔ سارے سفر میں اس خاتون کو ڈرئیور کے سر کے پاس لگے چھوٹے سے شیشے سے دیکھنے کی ہر کوئی ناکام کوشش کرتا رہا۔ “سیکنڈ سیٹ” پہ بیٹھی دو عورتوں نے آپ میں ایسے واقفیت بنا لی جیسے صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتی ہوں۔ ان کی آپس میں گفتگو کی آواز ساری گاڑی میں بآسانی سنی جاسکتی تھی۔ کبھی وہ ایک دوسرے کے کپڑوں پہ تبصرے کرتی تو کبھی اپنے بچوں کی عادات و اطوار کا ذکرچھیڑ کے بیٹھ جاتی۔ جبکہ مزید روابط کو تقویت دینے کے لیے ایک دوسرے کے موبائل نمبروں کا بھی تبادلہ کر لیا۔ گاڑی کی اندورنی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ کہ پھٹی پرانی سینٹیں اورایک جمپ لگنے پر “کھڑل کھڑل ” کی آوازوں نے سارے سفر میں سکون کا سانس نہ لینے دیا۔ مزید رہی سہی کسر ایک بھائی صاحب نے نکال دی جو اپنے چائنہ کے موبائل سے انڈین گانے لگا کر بیٹھ گئے اور پوچھے ہی ہماری موسیقی کی پیاس بجھانے کا اہتمام کر دیا۔ موبائل کی ایسی کھڑک آواز تھی کہ یوں محسوس ہونے لگا کہ ابھی کان پھٹ جائیں گے لیکن انہیں اپنی اس حرکت پہ ذرا بھی ملال نہ ہوا کہ میری وجہ سے کسی کو تکلیف بھی ہو رہی ہے یا نہیں۔ سفر میں مزید اذیت کا اضافہ اس وقت ہوا جب لمبی تڑنگی مونچھوں والے صاحب نے سگریٹ سلگھا لی۔ اپنے نشے کے خمار کو تقویت دینے کے لیے ہماری نیند اور سکون سے محاذ آرائی شروع کر لی۔ سگریٹ سفر میں ابکائی آنے کے سارے رستے کھول دیتا ہے۔ چاہے کوئی بالغ ہو یا نابالغ، ابکائی کے سامنے سب یکساں ہیں۔ اسی وجہ سے ایک ماں اپنے بچے کو ابکائی سے بچانے کے لیے کبھی اس سے باتیں کرتی تو کبھی اس کے چہرے پہ کپڑا ڈالتی کہ اس کی توجہ بٹ جائے اور ابکائی نہ آئے۔

میں اس اندورنی ماحول سے اکتا گیا اور اپنے نوکیا کے موبائل کے ایم پی تھری کو آن کیا۔ نصرت کی قوالیوں کو چلا کر “ائیر فون ” کان سے لگائے، ٹانگیں سیٹ کے نیچے پھیلائیں اور سر سیٹ سے ٹیک کے قوالی سننے میں مگن ہو گیا۔ دوگھنٹے تیس منٹس کا سفر ختم ہوا تو سکون کی سانس لی۔ قدرے طویل سفر ختم ہوا۔ ہر مسافر اپنے سفری بیگ اٹھائے ہوئے اپنی مطلوبہ جگہوں کی طرف رواں دواں ہو گیا۔

وقت گذرا دن بدلے تو بندہ ناچیز کو جرمنی میں سفر کرنے کا پہلا موقع ملا جس کا اجمالاً تذکرہ یہاں کرنا مناسب سمجھتا ہوں تاکہ ہمیں کچھ سیکھنے کا موقع مل جائے۔ اس سفر سے مجھے کافی تجربات حاصل ہوئے ہیں اور میں انھیں قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ برلن ریلوے سٹیشن سے جب میں ٹرین پہ سوار ہوا تو ہر مسافر کا رویہ انتہائی ملنسار اور سنجیدہ تھا۔ جوں ہی ٹرین میں بیٹھا تو پاس بیٹھے مسافر اپنے اپنے کاموں میں مگن کچھ نہ کچھ ایسا کر رہے تھے جس سے انہیں کوئی تعمیری۔ تعلیمی اور اصلاحی فائدہ پہنچ رہا تھا۔ سب کے درمیان سیٹ پہ بیٹھے ایک لڑکی اور لڑکا تھوڑی سی بلند آواز میں آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ دوسرے مسافر ان سے ایک ہی بار نظروں سے مخاطب ہوئے تو انہوں نے اپنی آواز کنٹرول کر لی اور دھیما انداز اپنا کے آپس میں سرگوشیاں کرنے میں جُٹ پڑے۔ جبکہ مجھے اس وقت حیرت نے آ کے جنجھوڑا جب ٹرین میں سوارستر فیصد مسافروں کے ہاتھ میں کتابیں دیکھی۔ جبکہ بعض اپنے ٹیبلیٹ پہ لگے مضامین حل کر رہے تھے اور کچھ اپنے آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ پہ بیٹھے کتابیں پڑھ رہے تھے۔ فوراً میری سوچ نے پلٹی کھائی اور تفکر میں جا ڈوبا کہ ان لوگوں کی ترقی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سیکھنے کےلیے کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے۔ کتاب خاموش مخاطب ہے۔ یہ افکار و خیالات کو حرکت دیتی ہے۔ تعلیمی و اصلاحی میدان میں اس وقت تک ترقی نہیں کی جا سکتی جب تک کتاب سے دوستی عروج پہ نہ پہنچ جائے۔

میرے اس موازنے سے میرا مقصد قطعاً یہ نہیں ہے کہ مغربی اقوام ہم سے اخروی اعتبار سے بہتر ہیں۔ بس عبرت دینا مقصد ہے کہ جو باتیں ہمیں سکھائی گئی تھی انہیں اس قوم نے اپنا لیا ہے۔ ہم اپنی راہ سے کیوں ہٹ گئے ہیں؟ ہماری نظروں میں ہمیشہ ہوس کی پیاس اور زباں پہ بے تکی و گھٹیہ باتیں جہاں چلتی ہیں وہاں ہم اگر اپنا محاسبہ کریں اور لغویات سے اجتناب کریں نیز محبتیں تقسیم کریں تو بڑی آسانی سے منزل پہ پہنچ سکتے ہیں۔ ہم اگر اپنا ذہن صحیح سمت پہ ڈال کے غوروفکر کی عطا کردہ نعمت سے استفادہ کریں تو کامیابی ہم سے دور نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے وہ کچھ سیکھ لیتا ہے جو اپنی ماں کی گود اور سکول کے استاد سے نہیں سیکھ پاتا۔ تو اس ماحول کو ہم نے بدلنا ہے کہ کل ہماری نسلیں اپنے راستے شفاف پائیں نہ کہ ہم انہیں ہزاروں الجھنوں میں الجھا کے چل بسیں۔


Comments

FB Login Required - comments