پانیوں پر جھکتے بادل جیسے شاعری


میرے سامنے محمود ناصر ملک کا دوسرا شعری مجموعہ “بادل جھکتے پانی پرٗ رکھا ہے۔ ایک شعر دیکھیے:

گو محبت ایک پل میں کھو گئی

دل کو سمجھانے میں اک عرصہ لگا

نذیر قیصر نے اس شعری مجموعے پر رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے، ’’ہم محمود ناصر ملک کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ہمیں اس خوبصورت شعری کائنات میں داخل ہونے کی اجازت دی۔‘‘

اس میں شک نہیں کہ محمود ناصر ملک کی غزلوں کا ظاہر ایک پُر اثر اور پُر فریب خوبصورتی کا عکاس ہے لیکن باطن میں وہی اداسی اور غمگینی ہے جو ہمیشہ سے انسانوں کا مقدر رہی ہے اور جس طرح عالم اسباب اور انسان نت نئے تجربوں، ذائقوں، ایجادوں اور وحشتوں سے دو چار ہوئے ہیں اسی تناسب سے بے چارگی اور بے سمتی بڑھتی چلی گئی ہے۔ ساری خوبصورتیاں ایک مکھوٹا ہیں جس کے اترتے ہی حزنیہ چہرہ سامنے آتا ہے جس پر ہزاروں سال کے غم و اندوہ کے نقوش ثبت ہیں۔ اس افسردگی کی وجوہ تلاش کرنے کے لیے بڑے جتن کی ضرورت نہیں۔ انسانی زندگی چند روزہ ہے، موت مسلسل دبے پاؤں پیچھے چلی آتی ہے، خوشی کے لمحے تھوڑے ہیں (لیکن یہی لمحے ہیں اور ان کی یاد جن کی بدولت ہم میں جیے جانے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے) اور غم و آلام کے انبار بہت ہیں۔

اس کہانی میں وصل اور فراق چھوٹے بڑے پڑاؤ ہیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ کچھ مل جانے یا کسی سے مل جانے کا انبساط ہمیں اتنی ہمت عطا نہیں کرتا جتنا کچھ نہ ملنے یا کسی سے ملنے سے محروم رہ جانے کا حزن ہمارے دلوں میں آگ جگائے رکھتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ محمود ناصر ملک کی مصروف زندگی میں انہیں اپنی شعری صلاحیت سے نباہ کرنے کے مواقع کم ملتے ہوں گے۔ تاہم اس مختصر مجموعے سے بھی، جس میں صرف پچاس غزلیں اور چند نظمیں ہیں، اتنی خبر تو ملتی ہے کہ تخلیقی جوہر ان میں موجود ہے۔ کہیں چھپی ہوئی آگ جس کی لپٹ باہر آتی ہے تو روشنی اور حرارت پڑھنے والے کے خیالوں کو چھو جاتی ہے۔ کوئی اتنا بھی کر دکھائے تو غنیمت ہے ورنہ بیشتر نئی غزلوں میں لفظ صرف قواعد کرتے نظر آتے ہیں۔

 چھوٹی بحر کو محمود ناصر کی طبیعت سے زیادہ مناسبت ہے۔ وہ جب کم لفظوں میں اپنی دلی کیفیات کو بیان کرتے ہیں تو شعر کی تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کفایت ہر لحاظ سے اچھی ہے اور اگر لفظوں کو سوچ سمجھ کر خرچ کیا جائے تو پھر لفظ بھی اپنے معنی دل کھول کر لٹا دیتے ہیں۔ مجموعے میں سب غزلیں ہم پایہ نہیں۔ بعض شاید پرانی ہیں اور ان میں اتنی وحدت اور شدت نہیں جتنی نئی غزلوں میں ہے۔ مگر میری یہ بات بے دلیل ہے کہ نئی پرانی غزلوں میں، خاص طور پر جب سنین نہ دیے ہوں، تمیز کرنا بہت مشکل ہے۔ ہاں، اگر سلاست اور روانی کو مدِ نظر رکھا جائے تو شاید یہ کہا جا سکے کہ نقاش نقشِ ثانی بہتر کشد ز اول۔

یہ غزلیں کیا ہیں، اُڑتے ہوئے چند خیال اور بکھرے ہوئے کچھ خواب جو شاعر کی گرفت میں آ گئے ہیں۔ نہ جانے کیا کچھ اور ان کے ذہن میں خلفشار برپا کیے رکھتا ہو جسے صفحات پر منتقل کرنے کی مہلت نہ ملی ہو گی۔ یہ جو تھوڑا سا ان کی طرف سے ہمیں عطا ہوا ہے وہ بھی باعثِ راحت ہے۔ اگر کبھی زیادہ مل جائے تو کیا کہنا۔ شکیل عادل زادہ نے اس مجموعے کے بارے میں لکھا ہے، ’’کوئی شاعر اس قدر بے کل کر دیتا ہے تو آسمان نے ضرور طرح طرح سے اس کا حوصلہ آزمایا ہے۔‘‘ آسمان بے سبب دشمن نہیں ہوتا۔ سوچ سمجھ کر کسی کسی پر بجلی گراتا ہے تا کہ گرج اور چمک سے روزمرہ کی بے رونقی ذرا دیر کے لیے دور ہو جائے۔ ستم کا نشانہ وہی بنتے ہیں جن کی فریاد میں تاثیر ہو۔ کاش محمود ناصر کی فریاد کی لے اور لو اور اونچی ہو جائے۔ نہ ہوئی تو پھر ’’سفر افسوس ہے سارا۔‘‘

بادل جھکتے پانی پر

از: محمود ناصر ملک

ناشر: زاویہ پبلشرز، لاہور

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں