پاکستان میں ڈرائیونگ کے تیرہ اصول


zunaira-saqib-3

پاکستان میں ڈرائیونگ کرتے اب بارہ تیرہ سال ہو چلیں ہیں۔ کچھ دنیا پھری تو احساس ہوا کہ ڈرائیونگ کے جو اصول اور رواج ہمارے ملک میں ہیں وہ دنیا میں کہیں اور نہیں پائے جاتے۔ لہٰذا فیصلہ کیا کہ اس پر ایک عدد بلاگ لکھ مارا جائے۔ نہ صرف اس کو پڑھنے سے آپ کی معلومات میں گراں قدر اضافہ ہو گا بلکہ آپ کو (خاص کر خواتین کو ) گاڑی سیکھنے اور چلانے کے لیے بے حد حوصلہ اور ترغیب ملے گی۔

۔1۔ کبھی بھی کسی کو ہرگز بھی راستہ مت دیجیے ۔ اگر آپ کو لگے کہ کوئی آپ سے راستہ چھیننے کے چکر میں ہے تو تیزی سے گاڑی دوڑائیں اور راستے کا حق محض اپنے پاس رکھیے۔
۔2۔ اگر خدا نہ خواستہ آپ کا چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ ہو جائے یعنی کہ گاڑی کی معمولی سی ٹکر ہو جائے تو فوراً باہر نکل کر غصے میں بولیں ۔ “کیا کر رہے ہیں؟ دیکھ کر نہیں چلا سکتے” ۔ ایسا رویہ اس موقعے پر بے حد کام آتا ہے جب غلطی آپ کی ہو۔ دوسرا شخص ایک دم الجھ جاتا ہے اور آپ موقعے کا فائدہ اٹھاتے اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔

۔3۔ اگر خدا نہ خواستہ آپ کا بڑا ایکسیڈنٹ ہو جائے یعنی کوئی بندہ زخمی ہو جائے یا الله کوپیارا ہو جائے تو اس مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ گاڑی یتیزی سے دوڑائیں۔ پیچھے مڑ کر مت دیکھیں اور گھر جا کرہی دم لیں۔

۔4۔ سڑک پر موجود فاسٹ سپیڈ لین کا مقصد گاڑی تیز چلانا یا اوور ٹیک کرنا ہے۔ لیکن اگر فاسٹ لین میں آپ کے آگے اگر کوئی ٹیکسی جا رہی ہے تو کوئی امید نہ رکھے گا۔ یہ امید پوری ہونا بہت مشکل ہے۔ دوسری لین میں جائیں، ہاتھ سے کچھ نازیبا اشارے کریں اور اوور ٹیک کر لیں۔

۔5۔ اگر آپ کسی خاتون ڈرائیور کو گاڑی چلاتے دیکھیں تو یہ آپ کا اخلاقی فرض ہے کہ اس کی حوصلہ شکنی کے لیے آپ بار بار ہارن بجائیں، اپنی گاڑی کی ہیڈ لائٹ سے اشارے کریں اور پاس سے گذرتے اگر اپنی نشیلی آنکھوں سے گھوری مار دیں تو کیا کہنے۔ اس طرح کے رویے کا مقصد ان خواتین کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو کہ مفتی جنید جمشید کی بات نہیں مانتیں اور ان کی ڈرائیونگ کی وجہ سے طلاق کی شرح بڑھنے کا بھی خاطر خواہ امکان ہے۔

۔6۔ پاکستان میں کچھ جگہ ایک سائن لگا دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے یہ ون وے روڈ ہے۔ اگر ایسا کوئی سائن آپ کی نظر سے گزرے تو اس روڈ پرفوری طور پر الٹے جائیں۔ صرف پاکستان میں ہی اس روڈ پر الٹے جانے سے نہ صرف کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ آپ اپنی منزل پر بھی جلد پہنچ جائیں گے۔

۔7۔ کچھ لوگ بلاوجہ روڈ کراس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ایسی کوئی مخلوق آپ کو نظر آئے تو گاڑی کو تیزی سے اس کی طرف لے جائیے ۔ ڈر کر جب تک مخلوق فٹ پاتھ پر واپس نہ چلی جائے ایسا ہی کیجیے۔ بار بار ہارن بجانے سے بھی افاقہ ہونے کا امکان ہے۔

۔8۔ اگر آپ مرد ہیں اور آپ کی گاڑی خراب ہو جائے تو یا تو آپ اپنے گھر والوں کو فون کر کے بلا لیں یا غیب سے مدد کا انتظار فرمائیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور غلطی سے کچھ ٹھیک ٹھاک دکھتی ہیں تو گاڑی خراب ہونے کی صورت میں پریشان ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ آپ کی مدد کے لیے منکر نکیر کی طرح کچھ بھائی دائیں بائیں نمودار ہو جائیں گے ۔ آپ کا مسئلہ چٹکی بجاتے حل۔

۔9۔ جس سڑک پر چار لین ہوں وہاں آپ سات آٹھ لین بنا سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ اور رویہ بلکل لچکدار اور درست ہے۔

۔10۔ زندگی انتہائی مختصر ہے اور اس کو دائیں یا بائیں مڑنے کے لیے اشارہ دینے میں ضائع کرنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں۔ جہاں ضرورت ہو بصد شوق اور جب مرضی مڑ جائیے ۔

۔11۔ صرف پاکستان میں آپ مفت میں بائیک پر “موت کے کنویں” کا مفت نظارہ کر سکتے ہیں ۔ یہ موت کا رقص دکھانے والے نوجوان نہ صرف موت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتے ہیں بلکہ ایسا کرتے ہوے موبائل پر میسج کرتے شو کو چار چند لگا دیتے ہیں۔

۔12۔ پارکنگ کے لیے زیادہ مصیبت مول لینے کی ضرورت نہیں۔ کہیں بھی پارک کیجیے۔ اگر آپ کو کسی قسم کے ردعمل کا ڈر ہو تو پارک کرتے ہوئے وقت ایک خاتون بھی گاڑی میں چھوڑ جائیں۔ گاڑی بھی محفوظ رہے گے اور لوگ گالیوں سے بھی اجتناب فرمائیں گے۔

۔13۔ اگر آپ نے کبھی چنگ چی کے پیچھے ڈرائیونگ نہیں کی ہے تو آپ کو ہر گز گھورے جانے اور تاڑے جانے کا مطلب معلوم نہیں اور آپ کی زندگی سخت نامکمل ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments