بیٹ مین ورسز سپر مین ۔ ایک ریویو


husnain jamal (3)

لگا تار دو تین گھنٹے بیٹھ کر فلم دیکھنا اتنی بڑی ذہنی تفریح ہے کہ اس مصروف زندگی میں اس کا تصور تقریباً ناممکن ہے۔  گذشتہ شب ایک عزیز آئے اور ان کے بہکاوے میں آ کر فقیر بھی فلم دیکھنے چلا گیا۔ مقام شکر ہے کہ ہمارے برادر خورد جو گھر کے وزیر فلمیات ہیں وہ بھی ساتھ تھے تو فلم اپنے مکمل پس منظر کے ساتھ سمجھ آتی رہی اور ذہن میں سوالیہ نشان بہت کم بن پائے۔

فلم بیٹ مین ورسز سپر مین – ڈان آف جسٹس تھی۔ تھری ڈی فلم تھی اور کم بخت پورے ڈھائی گھنٹے کی تھی، گویا انگریزی فلم نہ ہوئی دیو داس ہو گئی کہ دیکھتے جائیے اور ختم نہ ہو۔ سب سے زیادہ خوشی ہمیں یہ ہوئی کہ سپر مین کا لباس اب پہلے کے جیسا فحش نہیں رہا۔ پہلے سپرمین اپنے مکمل کپڑوں کے اوپر لال رنگ کی ایک چڈی پہنتے تھے، اب کے وہ غائب تھی اور یقین جانیں سپر مین کافی اچھے اور مہذب لگ رہے تھے، یعنی باقی کاسٹیوم مکمل تھا بس وہ لال چڈی سے انہوں نے پیچھا چھڑا لیا اور کیا ہی اچھا کیا۔

سب سے پہلے تو بھئی اس چڈی میں سمجھنے والوں کے لیے بے تحاشا سبق ہیں۔ دیکھیے، ضدیں تین مشہور ہوئیں تاریخ میں، ایک تھی بال ہٹ، ایک راج ہٹ اور ایک تریا ہٹ، یعنی علی الترتیب بچوں کی، بادشاہوں کی اور خواتین کی ضد۔ اب اگر بچوں کے کامکس بنانے والے اور ان انہیں کو فلموں میں ڈھالنے والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سپر مین اس چڈی کے بغیر بھی سپر ہٹ ہی رہے گا اور اس چیز کا مذاق بہت اڑوا لیا تو عام زندگی میں ہم ایسی چیزوں اور ایسے خیالات سے پیچھا کیوں نہیں چھڑا سکتے۔

batman

اس فلم میں جو ولن تھے لیکس لوتھر صاحب، وہ ہمیں بالکل ایسے دکھے جیسے گوروں نے بھی شاہ رخ خان سے متاثر ہو کر اداکاری شروع کر دی ہے۔ عین وہی جنونی کردار جو شاہ رخ کا ڈر میں تھا، بازی گر میں تھا۔ اسی طرح جذباتی انداز کے لمبے ڈائیلاگ اور کئی جگہ تو یوں لگتا تھا جیسے باقاعدہ وہ صاحب شاہ رخ خان کے بڑے مداح رہے ہیں۔ خدا خدا کر کے شاہ رخ خان کچھ بڑے ہوئے تھے کہ اب ہمیں ان کا ایک اور کاربن کاپی میسر آ گیا۔ دنیا واقعی بہت چھوٹی ہے اور فلمی دنیا تو بہت ہی زیادہ !!

پھر دوبارہ ہمیں بھارتی فلموں کی یاد تب آئی جب بیٹ مین اور سپر مین میں باقاعدہ گھمسان کا رن پڑا۔ رج کے دھنائی ہوئی سپر مین کی، مخالف فریق نے بھی کم مار نہیں کھائی لیکن صاحب چوں کہ سپر ہیرو لڑ رہے تھے اور سنی دیول یا سلطان راہی کی مانند بچ تو جانا ہی تھا، اس لیے صابر و شاکر بیٹھ کر دیکھتے رہے اور پھر وہ معرکتہ الارا سین آیا جو ہمیں تاعمر یاد رہے گا۔ بیٹ مین نے سپر مین کو کرپٹان سے بنی ہوئی گولی ماری، اب کرپٹان وہ دھات ہے جو سپر مین کا توڑ ہے (شکریہ خاور میاں کہ یہ سب آپ کا دیا ہوا علم تھا) تو سپر مین صاحب نڈھال پڑے ہوئے تھے، ان کی گردن پر بیٹ مین نے پاؤں رکھا اور پوچھا کہ تم یہ سب کیوں کر رہے ہو، انہوں نے جواب دیا، مارتھا، میری ماں، اسے بچانے کے لیے۔ عین اسی وقت بیٹ مین کے سامنے فلیش بیک چلنے لگا، ان کی والدہ کا نام بھی مارتھا ہی تھا۔ وہ مر چکی تھیں۔ قریب تھا کہ فلم لکھنے والے دونوں کو گڈ فرائیڈے میں بچھڑا ہوا بھائی بنا دیتے لیکن پھر کچھ حیا آ گئی ہو گی یا ہالی وڈ کا پروفیشنل پن ہو گا کہ بس یہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بیٹ مین باقاعدہ جذباتی ہو گئے۔ سپر مین کی گردن سے پاوں ہٹایا اور بولے، اب مارتھا نہیں مریں گی، انہیں بچانے کے لیے میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اور یوں دوستو اس فلم میں کرن ارجن، ہمارا مطلب تھا سپر مین اور بیٹ مین دوست بن گئے اور ہنسی خوشی دشمن کا مقابل کرنے لگے۔

batman2پھر ایک کام اور ہوا جس سے ہمیں یقین ہو گیا کہ یہ فلم دراصل فارمولہ فلم ہے اور ڈیوڈ گائیر جیسے لکھاری کو شاید ضائع کرنا مقصود تھا، یا ان کا نام چاہئیے تھا کہ سٹار کاسٹ کو بڑھاوا دیا جا سکے۔ وہ کام تھا ونڈر وومین کا متعارف ہونا۔ کامکس کی ایک اور ہیروئین جو اب گئے دنوں کا قصہ ہیں، انہیں بھی چلتی فلم میں دھکا دے دیا گیا۔ ہینری کیول بطور سپر مین، بین ایفلک بطور بیٹ مین، جیریمی آئرن بطور بیٹ مینز بٹلر، پھر ونڈر وومین کا بھی شامل باجہ بن جانا یہ سب چیزیں وہ تھیں جو شاید شائقین کو متوجہ کرنے کے لیے ضروری سمجھی گئیں۔

فلم میں بہت زیادہ سپیشل ایفیکٹس تھے، کئی بار تو یہ نوبت آئی کہ ہم نے اٹھ کر اپنے ماتھے کو دیکھنا چاہا کہ کوئی خاص حروف تو نہیں ابھرے لیکن شکر ہے کہ بنے کی بنی رہ گئی۔

پلاٹ کا مسئلہ یہ تھا کہ اسے سمیٹنے والا شاید کوئی نہ ملا، ڈھائی گھنٹے کی فلم میں ڈیڑھ گھنٹے تک تو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اتنے سارے مرکزی کردار، اتنے ایفیکٹس، پھر وہ کاروں کی لڑائی/دوڑ  والے ضروری سین، یہ سب کہاں جا کر کسی ایک کہانی کو جنم دیں گے۔ خدا بڑا مہربان ہے، جیسے وہ لمحے اس نے ہمیں دکھائے، آپ بھی دیکھیں کہ آخر کار پردہ سیمیں پر ایک دیو کا ظہور ہوا۔ جو کہ آخری ولن تھا۔ وہ دیو لیکس لوتھر بھائی نے انہیں عناصر سے بنایا تھا جو سپر مین کے مرکزی اجزا تھے اور اس نے مرنا بھی اسی کرپٹان سے تھا کہ جو سپر مین کا واحد توڑ ہے۔ تو بہرحال جیسا کہ آج تک ہوتا چلا آیا ہے، وہ دیو فیل پیکر ہمارے تین بہادروں نے مار کر ڈھیر کر دیا لیکن اس جد و جہد میں سپر مین بھی گزر گئے کہ وہی کرپٹانی گرز جس سے انہوں نے دیو کو مارا وہ ان کے واسطے بھی سم قاتل ثابت ہوا۔ مسلسل اس دھات کے سامنے رہنے سے وہ بھی دیو کے ساتھ سوئے عدم روانہ ہو گئے۔

بیس منٹ سپر مین کی آخری رسومات دکھائی گئیں لیکن آخری سین میں ان کے تابوت کی مٹی ہلی اور فلم ختم ہو گئی۔

گویا رہے نام سپر مین کا، وہ مر گئے تو آئندہ فلمیں کیسے بن سکتی ہیں، دیکھنے والا جائے، خوشی خوشی چونچ بن کر آئے، بنانے والوں کی جانے بلا!

تشدد کے بہت زیادہ مناظر سے اگر صرف نظر کر لیا جائے تو یہ فلم صرف دس سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے آئیڈیل کہی جا سکتی ہے۔

فلم کو ڈان آف جسٹس کا ٹائٹل کیوں دیا گیا، سمجھ سے بالاتر بات تھی۔ اگر اس فیل پیکر دیو کے مرنے پر انصاف کی پو پھٹتی ہے تو ٹھیک ہے، گورے بہرحال زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

3 thoughts on “بیٹ مین ورسز سپر مین ۔ ایک ریویو

  • 27-03-2016 at 12:50 am
    Permalink

    میاں ۔ ہمیں تو ہیرو کے بارے میںوہ شعر یاد آرہاہے کہ
    نہ گھبراؤ ، نہ گھبراؤ ، اگریہ مر بھی جاۓ گا
    تو ہیرو ئن کی شادی پر يقيناً لوٹ آئے گا ۔

  • 27-03-2016 at 1:18 pm
    Permalink

    حسنین بھائی!ہم تو اس چکر میں تھے کہ اس ہفتہ یہی فلم ڈاون لوڈ کر کے( یقین مانے DSL سپیڈ اتنی ہی ہے کہ ٹورنٹ پہ ایک فلم 3.4 دن میں ڈاون لوڈ ہوتی ہے )اگلے ہفتے ٹھاٹ کرینگے……
    تو……. وقت اور mbz بچانے کا شکریہ

  • 27-03-2016 at 8:35 pm
    Permalink

    غیر روایتی انداز میں آپ کا زیر نظر تبصرہ دلچسپ ہے بھلے فلم دلچسپی سے خالی تھی .

Comments are closed.