عرب و عجم ہمارا…. ؟


khawaja kaleemعرب و عجم کی لڑائی نئی نہیں ،اور عرب میں عجم کانام لیتے ہی ذہن میں ایران کا تصور ایسے ابھرتا ہے جیسے سمندر کا نام لینے سے پانی کی ایک عظیم سلطنت کا۔ہم میں سے بہت سوں نے عرب و عجم کا نام چودہ سو سالہ اسلام کی تاریخ میں پڑھا یا دیکھا ہوگا لیکن یہ مخاصمت اس سے بھی صدیوں پرانی ہے۔ یہی عصبیت تھی جس کے زیر اثر ایرانیوں نے سفارت کے صدیوں پرانے اصول بالائے طاق رکھے اور عرب سے آنے والے سفیروں کے سر پر مٹی کے ٹوکرے رکھوائے۔ خالق کو لیکن کچھ او رہی منظور تھا۔ سو وہی ہوا اور عربوں نے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت آباد کی ۔ یہ الگ بات کہ بعد میں اپنے ہی اعمال کے سبب وہ سلطنت تاراج ہوئی۔ کیسے؟ یہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ لیکن اس لڑائی میں پاکستان کا کیا کردار؟جدید دور کی ضروریات اور پاکستان کی جغرافیائی صورتحال کا تقاضا ہے کہ پاکستانی ریاست اس قضیے سے ایسے بچ کے نکلے جیسے ایک ہوشیار مسافر صحرا کی جھاڑیوں کے کانٹوں سے دامن بچا کر صاف نکل جاتا ہے ۔
ایران ہو یا سعودی عرب ، باقرالنمرکو سزائے موت کا معاملہ ہویا ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال، یہ دونوں ریاستوں کے اندرونی معاملات ہیں۔دونوں جگہ ایک خاص ذہن کے زیر اثر سیاسی نظام نافذ ہے، میری ناقص رائے میں جلد یا بدیر جسے ختم ہو جانا ہے۔ اللہ نے انسانوں کو آزاد پید اکیا تھا اور انسان آزادی ہی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی دوسری ریاست کومگر یہ حق نہیںکہ وہ دوسری ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور اپنے مخالف کو خدا کا مخالف قراردے کر عذاب الٰہی کی وعید سنائے ۔ ہمیںمگر کسی طور بھی اس پرائی آگ میں کودنے کی ضرورت نہیں۔ ثالثی بھی مگر اس وقت ہی کرنی چاہیے کہ دونوں ملک اس پر دل وجان سے راضی اور پاکستان پر اعتماد کو تیار ہوں ۔ ثالثی کی صورت میں بھی کوئی آسانی پاکستان کو میسر نہیں ،تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے ۔اس لئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی پارلیمنٹ کو ان کیمرہ بریفنگ کافی نہیں ہے۔ پوری قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے ،ظاہر ہے بہت سی باتیں سرعام نہیں کی جاسکتیں لیکن بات کرنے کا سلیقہ بھی تو ہوتا ہے۔ سفارتی زبان سفارت خانوں کے باہر استعمال کرنے پر کوئی پابندی تو ہے نہیں۔ اس لیے قوم کو اعتما دمیں لینا ضروری ہے کہ کل کلاں کو اگر کوئی بوجھ اٹھانا بھی پڑتا ہے تو وہ قوم نے ہی اٹھانا ہے۔ ایک عام پاکستانی کو شیعہ سنی لڑائی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ پاکستان معاشرے میں خرابیوں کے باوجود اتنی لچک موجود ہے کہ دونوں مسالک آپس میں شادیا ں بھی کر لیتے ہیں ۔
حالت یہ ہے کہ مشرق میں بھارت تاک لگائے بیٹھا ہے اورنسلیں گزر گئیں افغانستان کی سرحد سے ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا پاکستان نہیں آیا۔ سعودی عرب کی سرحد پاکستان سے متصل نہیں لیکن بہت سے عالمی معاملات میں وہ پاکستان کا حامی اور مشکل وقت میں مددگار رہا ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستانی ماو¿ں کے کڑیل بیٹے خاکی وردی پہن کر کسی خاندان کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ جی نہیں! وہ وقت گزر گیا ۔ مکہ اور مدینہ کی خاک ہماری آنکھ کا سرمہ ، پوری پاکستانی قوم حرمین شریفین کو کسی بھی خطرے کی صورت میں اپنا سب کچھ داو¿ پر لگانے کو تیار ہو گی لیکن کسی کی ذاتی حکمرانی یا جاہ کے لئے ہر گز نہیں۔ ویسے بھی یہ اسی کی دہائی نہیں جب پاکستان کو مجبوری ہی میں سہی، بہت سی امریکی یقین دہانیاں حاصل تھیں۔ رہا ایران تو آج سے نہیں، تاریخ میں بہت پیچھے بھی چلے جائیں تو عرب کے ساتھ نہ اس کی بنی ہے، نہ بنے گی۔ ہمارا لیکن ہمسایہ ہے ایران، گو کہ چین جیسا دوست نہیں اور بھارت جیسا دشمن بھی نہیں لیکن مغربی سرحد اب ایسی بھی آرام دہ شمار نہیں کی جاتی۔ سو ایرانیوں سے بھی بگاڑنے کی ضرورت نہیں۔ سعودی عرب تو پہلے سے امریکی کیمپ میں تھا اور اب ایران کے تعلقات بھی امریکہ سے استوار ہو چکے ہیں۔ تہران کی گلیوں میں اب شیطان بزرگ اور مرگ بر اسرائیل کا نعرہ نہیں گونجے گا۔ فلسطین کی آزادی کی آواز تہران سے بہت بلند ہو کر اٹھی لیکن صرف آواز …. عمل اور نتیجہ کیا ہے؟
گزشتہ ستر برس کی تاریخ میں عربوں نے فلسطینیوں کے لئے کیا قربانی دی ؟اس سوال پر تاریخ خاموش ہے ، تو اب اس جھگڑے کا فائدہ کس کو ہے؟ خطے میں ایران یا سعودی عرب یا پھر دوسری عرب ریاستوں کو خطرہ کس سے ہے؟ ظاہر ہے اسرائیل سے، امریکہ جس کا مربی اور سرپرست ہے ،اور اگر ایران اور عرب ریاستیں اس قدر کمزور ہو گئیں کہ اسرائیل کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہ رہے تو یہ خطرہ کس طرف منتقل ہو گا؟ کسی اور طرف نہیں، صرف پاکستان کی طرف۔ کیونکہ اسرائیل پاکستانی شہبازوں کی دی گئی چوٹوںکا بدلہ اتارنے کے لئے ویسے ہی بے چین ہے جیسے عرب کے صحرا کا اونٹ۔ ریاض اور اسلام آباد کے درمیان خصوصی پروازوں کی شٹل سروس کے مہمانوں کو شائستہ طریقے سے یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو آپ کے اندرونی معاملات سے کوئی سروکار نہیں لیکن یمن کے تنازعے کی طرح پاکستان اس لڑائی میں کودنے کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا ۔ مشورہ ان کو یہ بھی دینا چاہیے کہ خود وہ بھی ایران کے ساتھ تعلقات کو ایک حد سے زیادہ نہ بگڑنے دیں۔ باتیں کرنا یا بیانات داغنا اور بات ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ دونوں میں سے کس کی فوج کو لڑنے کا ایک طویل تجربہ ہے اور کون ہے جسے ڈھنگ کے چند سپاہی بھی میسر نہیں۔ سو حالات کو اتنا ہی بگاڑیں جتنا سنبھالا جا سکے۔
تہران کو بھی ایک بات اب ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پراکسی وار کا زمانہ اب گزرتا جا رہا ہے۔ لڑائی صرف توپوں اور گولہ بارود سے نہیںلڑی جاتی، اچھی معیشت اور مسلسل منافع کمائے بغیر ایک دن کا بارود بھی میسر نہیں آ سکتا۔ دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن ایران اپنی معدنیات کو بیچ کر منافع اس لئے نہیں کما سکا کہ قوموں کی برادری میں اس کو ایک قابل قبول حیثیت میسر نہیں ہے، اور وجہ اس کی وہی ہے جومیں بیان کر چکا ہوں کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال سے کرہ ارض کا کوئی ملک بھی مطمئن نہیں۔ انقلاب کو دائیں بائیں برآمد کرنے کے خواب سے باہر نکلیں کہ دنیا اب پتھر کے دور میں نہیں بستی، اپنے خیالات اور قوانین کو اپنی سرحدوں میں نافذ کیجئے۔ اس لئے کہ ہمسائے کے گھر میں آپ اس وقت تک نہیں گھس سکتے جب تک وہ آپ کو اجازت نہ دے اور اچھا ہمسایہ وہی ہے جو میزبان کی طر ف سے دی گئی عزت کا بھرم رکھے اور جواب میں اس کو بھی تکریم بخشے۔ قدرت نے جس طرح انسانوں اور دوسری مخلوقات کو ایک دوسرے پر انحصار کی زنجیر میں جکڑا ہے اسی طرح اس دنیا میں کوئی بھی ملک الگ تھلگ رہ کر گزار ا نہیں کر سکتا بھلے وہ امریکہ جیسی سپر پاور ہی کیوں نہ ہو۔ کہیں نہ کہیں اسے دوسری ریاستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ انحصار کی یہ زنجیر دو انسانوں یا دو ملکوں کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ باہم احترام اور تعاون کے ساتھ وقت گزاریں۔ دلی ،اسلام آباد، ماسکو، بیجنگ اور تہران اگر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر باہم تعاون سے کام کریں تو نہ صرف خطے میں ان کی دھاک بیٹھ جائے گی بلکہ دنیا کے فیصلے بھی یہی کریں گے ۔ورنہ قانون قدرت یہ ہے کہ’اگر تم نے کائناتی نظام سے منہ موڑلیا تو یہ زمین کسی ا ور کے قبضے میں دے دی جائے گی‘ اور زمین قبضے میں لینے والے تیار بیٹھے ہیں کیونکہ اس زمین کے نیچے تیل بھی وافر ہے، گیس بھی، سونا اور جواہرات بھی اور جو سبز سونا یہ زمین اگلتی ہے اس کا کوئی بدل دنیا میں نہیں ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments