پوپ فرانسس کے نام


mustafa afridiآپ پر خداوند کی سلامتی ہو

بعد از سلام عرض یہ ہے کہ بابا جی یہ آپ نے کیا کر دیا؟ آپ نے تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اگر “ایک خدا کے بیٹوں” کے پیر دھلانے اور پھر ان پیروں کی چمیاں کر کے ثواب کمانے کا اتنا ہی شونق تھا تو کہیں ” لک چھپ” کے کر لیتے۔ یہ فوٹو بنوانے کی کیا ضرورت تھی۔ خداوند گواہ ہے کہ 45  سال کی شادی میں میرا اور آپ کی بیٹی شادو کا ایک فوٹو بھی نہیں ہے۔ کوئی دکھا دے تو میں جرم دار۔ آپ نے تو فوٹو بھی بنوا ڈالے۔ اب میں کیا کہوں آپ کو۔ چلیں کام کی بات کر ہی لیتا ہوں

میرا نام فیروز مسیح ہے اور اپنے علاقے بلکہ سارے ضلعے میں فیروز لولو  گٹر ایکسپرٹ کے نام سے مشہور ہوں۔ آپ ملتان میں کسی جگہ کھڑے ہو کر میرا نام لیں اگلا آپ کو میرے دروازے تک نہ پہنچا جائے تو میں جرم دار۔ میری فنکاری یہ ہے کہ میں کپی مارے بغیر سارا گٹر تین گھنٹے میں مار لیتا ہوں۔ آپ کے باقی سارے بچے کپی مار کے ہی اپنا کام کرتے ہیں۔ میں اس گندی چیز کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا۔ اور تو اور بڑے دن پر بھی کبھی نہیں پی۔ بلکہ ایک بار کسی خوشی میں آپ کی بیٹی نے پی لی تو میں نے ایک ہفتہ اس سے بات نہیں کی۔ میری بات پر یقین نہ ہو تو بیشک خداوند سے پوچھ لیں کہ بگو مسیح کا بیٹا فیروز مسیح عمر 70 سال سکنہ ملتان شریف شرابی ہے یا نہیں۔ جواب میرے حق میں نہ آیا تو میں جرم دار۔ میں تو نہیں پیتا لیکن آپ نے شروع کر دی ہے کیا؟ یہ پیر دھلوانے والا کام دیکھ کر تو یہی لگتا ہے که آپ بھی پینے لگے ہیں اور وہ بھی کپی۔

??????????

اب میری سنیں آج صبح میں اپنے ویڑھے میں شادو ( آپ کو سلام دے رہی ہے قبول کریں) کے ساتھ بیٹھا اپنے نکے منڈے پطرس( وہ نوکری پر گیا ہے ورنہ وہ بھی سلام کرتا) کے کاکے الیگزینڈر ( کاکا اشارے سے سلام کر رہا ہے.3 مہینے کا ہے ابھی ) کی مالش کر رہا تھا کہ کسی نے زور سے دروازہ مارا تو الیگزینڈر ڈر گیا۔ میں نے کہا بھی تھا اتنا بھارا نام نہ رکھو بچہ ڈر جائے گا۔ دروازے پر پہنچا تو آنے والا گٹر کھلوانے والا نکلا۔ میں نے اوزار اٹھائے اور مدرسے پہنچ گیا۔ جس کا گٹر ہر دوسرے مہینے بند ہو جاتا ہے میں نے کئی بار کہا ہے کہ پیچھے کی لائنیں تبدیل کراؤ لیکن مانتے ہی نہیں۔ کہتے ہیں بزرگوں کی نشانی ہے کیسے تبدیل کریں۔ میں نے کہا تبدیل نہ کراؤ صاف ہی کرا لو۔ وہ بھی نہیں کرنی۔ قصہ مختصر میں ابھی صفائی کر کے نکلا ہی تھا کہ مولوی جی اپنے دوسرے یاروں کے ساتھ میرے سر پر پہنچ گئے۔ میں سمجھا کام کا جائزہ لینے آئے ہیں مگر جب مولوی جی نے اپنے لشکارے مارتے موبائل پر آپ کا فوٹو دکھایا میں بھی ہنسنے لگا کہ پتہ نہیں یہ کون بابا ہے لیکن جب اس نے آپ کا بتایا اور میں نے نزدیک سے فوٹو دیکھا تو میری پھوک ہی نکل گئی۔ جو تھوڑی بہت رہ گئی تھی وہ اس وقت نکلی جب مولوی جی کے ایک بندے نے کہا.” پیر چومنے پر تو آ گیا ہے انشا الله بہت جلد مسلمانوں کی۔…..۔ ” (میں تو شکیل سے کہہ رہا ہوں کہ پوری بات لکھو لیکن یہ شرما رہا ہے شکیل پطرس کا وڈا منڈا ہے اسی سے یہ خط لکھوا رہا ہوں۔)

بہت دیر تک وہ کسی خلافت کی باتیں کرتے رہے جو میری سمجھ میں نہیں آئیں۔ میری سمجھ میں تو صرف یہی آیا کہ آپ کو خط لکھ کے مشورہ دوں کہ بابا جی یہ کام لک چھپ کے کرنے کے ہوتے ہیں اگلی بار احتیاط کریں۔ وہاں آپ عبادت کر رہے ہیں اور یہاں باتیں مجھے سننی پڑ رہی ہیں۔ اچھا اب اجازت خط کو تار سمجھیں۔ جواب دیں یا نہ دیں لیکن احتیاط ضرور کریں۔

آپ کا گنہگار بیٹا

فیروز مسیح

محلہ حاجی برکت علی۔ ملتان

(سلطان کریانہ مرچنٹ کو مل کر فیروز مسیح کو ملے)


Comments

FB Login Required - comments

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 12 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

2 thoughts on “پوپ فرانسس کے نام

  • 27-03-2016 at 2:35 am
    Permalink

    اس عیسائی بڑے مولوی صاب کے پیر کے نیچے پاکستان بھر کے علما، جن میں علمائے سو کی تعداد بوجوہ تین چوتھائی سے بھی زیادہ ہے، آسکتےہیں۔

    برسلز میں بمباری کر کے جہنم رسید ہونے والے دہشتگردوں کی وجہ سے مسلمانوں کو یورپ میں بہت شدید قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ ایسے میں عیسائی مولوی فرانسس نے ایک چھوٹے سے عمل سے مسلمانوں اور دیگر “مہاجرین” کے ساتھ محبت اور عقیدت کا اظہار کر کے نفرتیں پھیلانے والے دائیں بازو کے گدھوں کا مشرق و مغرب میں حال برا کردیا ہے۔

    ہمارے “علما” تو لوگوں سے پیر دبواتے ہیں، اور بچوں کے “۔۔۔۔۔۔۔” دباتے ہیں۔۔۔۔۔۔

    اللہ پاک ان بے غیرت مولویانِ پاکستان اور ان کے معتقدان کور و زندہ درگور کو عقلِ اور سمجھ دے۔ آمین

  • 27-03-2016 at 5:24 pm
    Permalink

    کیوں نہ ھو قابل فخر۔۔۔یہاں تو لوگ اس بات پر مر مٹتی تھے کہ گوڑا صاب ان کی چادر سے نام صاف کر لی ھے۔۔۔یہاں تو گورا صاب نے پیر دھلا دیئے۔۔۔تو اب کٹنے مرنے مارنے کا تو مقام ھے۔۔۔
    دلچسپ بات یہ ھے کہ پوپ صاحب نے 12 مذھب کے لوگوں کے پیر دھوئے۔۔۔لیکن چونکہ اس میں مسلمان بھی تھے اس لیئے فخر کا مقام۔۔۔۔مولویوں کے لیئے۔۔۔۔۔اور لبریز کے لیئے فورا مارے شرمندگی ڈوب مرنے کے مواقعے فراہم ھو گئے۔۔۔واہ جی واہ

Comments are closed.