منہاج سے میٹرو تک


ghaffer’منہاج‘ کا لفظ نہج سے مشتق ہے اور اس کے معنی ’راستہ‘ کے ہیں۔ عربی زبان میں ’صراطِ مستقیم‘ کا لفظ ’سیدھا راستہ‘ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بہتر انسانی معاشرے ، احسن سماجی رشتوں، اور دنیا وآخرت میں فلاح کے لیے ’صراط مستقیم‘ کو اختیار کرنے کے لیے بار بار کہا گیا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو انسانی سماج اور اس کی تاریخ میں ’راستے‘ کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ راستے ہی ایک بستی میں گھروں کو آپس میں ملاتے ہیں، ایک دوسرے تک رسائی دیتے ہیں۔ سیدھا رستہ ہو تو جانے والا آسانی محسوس کرتا ہے اور اگر اوپر سے چکر لگا کر منزل تک پہنچنا پڑے تو انسانی اعصاب اس غیر ضروری سفر سے تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایس ہی صورت حال نظریات اور مذاہب میں بھی ہوتی ہے۔ اگر بات سیدھے سبھاﺅ کی جائے تو سب کی سمجھ میں آ جاتی ہے، اگر اس میں الجھاﺅ پیدا کر دیا جائے تو سننے والا اضمحلال کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک گھر کو دوسرے گھر سے، ایک بستی کو دوسری بستی سے، ایک شہر کو دوسرے شہر سے اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملانے والے یہ راستے ہی ہوتے ہیں۔

پہلے پہل جب زمینی سفر یا بحری سفر ہوتا تھا تو راہزنوں اور بحری قزاقوں کو خدشہ رہتا تھا۔ یہ راہزن اور بحری قزاق قافلوں اور جہازوں کے انتظار میں رہتے تھے کہ کب موقع ملے اور وہ لوٹ لیں۔ راجہ داہر کے دور میں بھی ایسے ہی بحری قزاقوں کے بارے جب شکایت کی گئی اور اس نے معذوری ظاہر کر دی تو محمد بن قاسم دیبل کے راستے ہندستان میں داخل ہوا۔ زمینی راستوں پر کارواں چلتے تھے۔ لوگوں کے یہ قافلے زیادہ تر کاروباری مقاصد اور بعض اوقات زیارات مقدسہ یا حج کے لیے روانہ ہوتے تھے۔ اس عہد میں ٹھگوں کا بھی بہت شہرہ ہوتا تھا۔ یہ ٹھگ ان راستوں پر چلنے والے قافلوں میں مسافروں کا روپ دھار کر شامل ہو جاتے اور پھر کسی مناسب موقع پر مسافروں کا سامان لوٹ کر چلتے بنتے۔ راہزنی کی ان وارداتوں میں ہندستان میں خاص طور پر ڈاکو بھی ہوتے تھے جو گھوڑوں پر آتے اور قافلوں کو لوٹ کر بھاگ جاتے۔ انگریزی عہد میں جب ریل گاڑی متعارف ہوئی تب بھی ان گھوڑوں کی مدد سے چلتی ریل گاڑی پر کئی وارداتیں ہوئیں جو آج کل بھی اس عہد کی فلمی کہانیوں میں دکھائی جاتی ہیں۔ عبدالقادر جیلانیؒ اوائل عمری میں ایسے ہی ایک قافلے میں جا رہے تھے اور ان کی والدہ نے ان کی قمیص میں کچھ رقم سی دی تھی کہ ڈاکو لوٹ نہ سکیں۔ جب قافلے پر ڈاکوﺅں نے حملہ کیا اور عبدالقادر جیلانی سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے تو آپ نے کہا کہ میرے پاس رقم ہے۔ ڈاکو نے تلاشی لی مگر رقم کہیں برآمد نہ ہوئی تو ڈاکو آپ کو اپنے سردار کے پاس لے گیا۔ استفسار پر آپ نے بتایا کہ میری ماں نے یہ رقم میرے کرتے میں سی دی تھی اور یہ یہاں ہے۔ ڈاکو بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ اگر تم یہ بات نہ بتاتے تو تمھاری رقم بچ سکتی تھی۔اس آپ عبدالقادر جیلانیؒ سے بولے کہ رقم تو بچ جاتی مگر جھوٹ بولنے پر جو سزا روز قیامت ملتی تو اللہ کے عذاب سے تو نہ بچ پاتا۔ آپ کی سوچ اور بات کا یہ اثر ہوا کہ ڈاکوﺅں کے سردار کی کایا کلپ ہو گئی۔اس بات کو صراحت سے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگیوں میں راستوں کا بہت کردار رہا ہے۔ ان راستوں کے کناروں پر بادشاہوں نے سرائے تعمیر کروائیں، مسافروں کی سہولت کے لیے کنویں بنوائے، قوس مینار تعمیر کیے تا کہ مسافروں کو راتوں میں سفر کرنے میں سہولت رہے اور وہ راستہ نہ بھولیں۔شاعروں نے سب سے زیادہ راستوں کے بارے میں اپنے اشعار میں لکھا ہے ۔شعر دیکھئے:

یکجا رہے ہیں صدیوں سے دو نیم کر دیا
اس راستے نے شہر کو تقسیم کر دیا

ان راستوں کو اپنی منزل تک لے جانے میں دریاﺅں ، ندی نالوں پر پلوں کی تعمیر نے انجنئیرنگ کے میدان میں انقلاب برپا کیا۔ لکڑی اور لوہے سے بنائے جانے والے پل سیمنٹ اور سریے کی ایجاد کے بعد کنکریٹ سے بننے لگے۔ پل کے نیچے سے گزرتے ہوئے پانی نے ہماری معاشرت اور تخلیقی ادب کے نئے موضوعات دیے۔ نئے محاورے بنے، ’پلوں کے نیچے سے پانی کا بہہ جانا‘ مطلب تب تک بہت وقت گزر چکا ہو گا۔ دریا کے دو کناروں کو ملانے کے لیے پل بنانے کا عمل علامتی سطح پر شاعری میں بھی پیش کیا گیا:

دریا کے دو کنارے ملانے کے واسطے
بانہوں میں پل بنانے کی ہمت نہیں رہی

جب ایک سے زیادہ راستے بننے لگے تو یہ راستے ایک دوسرے کو قائمةالزاویہ کاٹتے بھی تھے جس کے سبب چورستے (Crossing)بنے۔ ان چورستوں کی انسانی زندگی کی تاریخ میں بہت اہمیت رہی ہے۔ ان چورستوں پر انسانوں کے اکٹھ ہوتے تھے، سماجی زندگی کی رونقیں لگتیں۔ مظاہرے ہوتے، انقلاب آتے اور یہ عوامی چورستے (Public Square)انقلابیوں اور بادشاہوں کو پھانسی دینے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ انقلابِ فرانس میں ایسے ہی ایک چوراہے میں بادشاہ کے منہ میں گھاس ٹھونسی گئی تھی اور اسے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ رستوں سے چورستوں تک آتے آتے انسانی سماج اور شہری معاشرت نے بہت سی ترقی کر لی تھی۔ پہلے شہروں میں لمبی لمبی گلیاں ہوتی تھیں اور اس کے اطراف گھر ہوتے تھے۔ ان گلیوں میں ہی دروازے کھلتے اور کھیل تماشے ہوتے، رسم و رواج اور تہواروں کے مطابق مختلف سرگرمیاں انعقاد پذیر ہوتیں۔جب تک انسان پیدل چلتا تھا یا گھوڑوں پر سواری کرتا تھا تب تک یہ راستے ایسے پیچیدہ اور دشوار گزار نہ ہوتے تھے۔ جب سواری کے لیے گاڑی اور موٹر سائیکل آ گئی تو یہ راستے سڑکوں کی شکل اختیار کر گئے۔ گاڑی کی تیز رفتاری نے ٹریفک انجنئیرنگ کے شعبے کو جنم دیا ۔ رستے پہلے چورستے بنے، پھر راﺅنڈ اباﺅٹ (Round About) متعارف ہوا اور ٹریفک سگنل آ گئے۔ نئے قوانین ، نیا کلچر، ٹھہریے، دوسرے کو گزرنے دیجیے، اپنی باری کا انتظار کیجیے، سرخ بتی، پیلی بتی اور سبز بتی کے اشارے پر لوگ رکنا اور چلنا شروع ہو گئے۔ ٹریفک پولیس کا ملازم ، جہاں اشارے نہیں ہوتے، بازوﺅں اور ہاتھوں کی مدد سے ٹریفک روکتا اور چلاتا ہے۔بازوﺅں کو کس زاویے پر حرکت دینا ہے، کتنے وقفے بعد ٹریفک کو رکنے اور چلنے کا شارہ دینا ہے، اس کی ٹریننگ ہونے لگی۔

جب ٹریفک لوڈ بڑھ گیا، اشاروں اور ٹریفک سارجنٹ سے ٹریفک کنٹرول نہ ہو پائی تو سگنل فری فلائی اوور(Signal Free Fly Over) متعارف ہو گیا۔ ایک چوک یا چورستے سے گزرتے ہوئے اب آپ کو رُکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے سیدھا جانا ہے تو انڈر پاس(Under Pass) سے گزر جائیں۔ دائیں بائیں مڑنا ہے تو فلائی اور سے بغیر رکاوٹ کے گزر جائیں۔ بات یہاں تک نہیں رُکی، میٹرو بس اور میٹرو ٹرین آ گئی۔زمین سے چالیس فٹ اوپر یا زیر زمین چالیس فٹ، بغیر کسی رکاوٹ کے یہ میٹرو ٹرین ہواﺅں کی طرح دوڑتی پھرتی ہے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ جس طرح جہاز ہواﺅں میں انتہائی شارٹ کٹ کے ساتھ منزل تک پہنچتے ہیں اسی طرح شہر کے رستوں، چورستوں اور فلائی اوور کے بغیر نہایت کم وقت میں آپ ٹیوب ٹرین میں بیٹھ پر ایک جگہ سے دوسری جگہ چند منٹوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ سفر بہت ہی ذاتی اور انفرادی ہو گیا ہے۔اسی طرح مذہبی اور معاشرتی اور معاشی نظریات بھی بہت ذاتی ہو گئے ہیں۔ جب تک یہ نظریات ایک دوسرے کو مختلف زاویوں سے کاٹتے رہے، رستے، چو رستے بنتے رہے، لڑائیاں ہوتی رہیں ، جنگیں انسانی زندگیوں کو نگلتی رہیں۔جو لوگ نظریاتی سطح پر بھی،’ رکو، راستہ دو‘ اور ’پہلے آپ گزر جائےے‘ کی پالیسی پر گامزن رہے، ان معاشروں میں امن و امان اور سکون رہا مگر جب نظریات کا ٹکراﺅ ہوا، چورستوں کی طرح محاذ آرائی ہوئی، وہاں مسائل پیدا ہوئے۔ مگر جب سے انسان اس جدید دور سے آگے نکل کر مابعد جدیدیت کے عہد میں داخل ہوا ہے، یوں لگتا ہے انسانی سوچ بھی فلائی اوور کی طرح اس مقام پر آن پہنچی ہے کہ دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنے اپنے فلائی اوور پر سے نہایت سرعت سے گزر جاﺅ۔


Comments

FB Login Required - comments