ہولی، دیوالی اور ایسٹر


amjad_parvez_sahil

مجھے سکول کا وہ زمانہ یاد ہے جب ہم جمعہ کے روز چھٹی ہونے کی وجہ سے اتوار کو ایسٹر والے دن بھی سکول جایا کرتے تھے۔ کمبخت امتحانات بھی ایسٹر کے دنوں میں آیا کرتے تھے اور عموماً ایسٹر والے دن ہمارا کوئی نہ کوئی پیپر ہوا کرتا تھا اور ہم اس دن چھٹی کرنے کے بجائے پیپر دینے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ہم کوئی بڑے پڑھاکو قسم کے بچے تھے یہ تو ابا جی کی ڈانٹ بلکہ جسمانی ریمانڈ کے خوف سے اپنے جذبات پر قابو رکھ کر سکول جانا پڑتا تھا۔ والدہ ماجدہ سکول بھیجتے ہوئے یہ تسلی دیا کرتی تھیں کہ کوئی بات نہیں بیٹا دو تین گھنٹوں کی تو بات ہے۔ حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ ایسٹر کا آغاز بیشک ایسٹر نائٹ کو ہو ہی جاتا ہے اور ایسٹرڈے کی دوپہر 12 بجے تک رہتا ہے۔ پھر بھی بس وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوتیں۔ جب سکول پہنچتے تو ماسٹر صاحب جو اپنے آپ کوئی محمود غزنوی سے کم ثابت نہ ہوتے تھے۔ سکول آتے ہی ہم پرطنز و طعنوں کی یلغار فرما دیتے۔ چونکہ ہم اپنی کلاس میں اکلوتے مسیحی تھے اس لیے ہمیں بے شمار ناکام دعوتوں کے بعد ذہنی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا کہ ہم جس مذہب سے ہیں وہ فضول اور بکواس(بقول ان کے) سے زیادہ کچھ نہیں۔

بات مختصر یہ ہے کہ اب سے تین چار دہایاں پہلے سے لے کر چند سال پہلے تک پاکستان میں اقلیتوں کا جو حال ہوا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جس میں ہمارے لئے تلخ یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پچھلے دنوں ہولی، دیوالی اور ایسٹر ڈے کی سرکا ری چھٹی دیکر سرکار نے جو احسان کیا ہے یہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کی عملی آزاد ی میں ایک موثر قدم ہے۔ اس اقدام سے پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کے وجود کو تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کی قربانیوں کو ہمشہ فراموش ہی کیا گیا اور جب کبھی کسی نے اپنی کسی تقریر کے آخر جملوں میں ان کا ذکر کربھی دیا تو ان کو محض ایک مقدس امانت کے سوا کچھ نہیں کہا۔ مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے جب وطن عزیز کی دیواروں پر ہندووں کی ٹھکائی کے نعرے درج ہوا کرتے تھے یہ سوچے سمجھے بغیر کے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں میں مسیحی، ہندو اور سکھوں کے ساتھ اور بہت سے غیر مسلم بھی آباد ہیں۔ وہ بھی ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ اس طرح کی تحریروں سے جس قسم کا مانئڈسیٹ پیدا ہوگا اس کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکل سکتے۔ خیال کیا جانا چاہئے کہ اس قسم کے روئیے سے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں پر کیا بیتتی ہوگی۔

ایسا ہوا بھی، ہماری آنے والی نسلوں کی رگوں میں نفرت کا خون دوڑنے لگا۔ فرقہ واریت کو ہوا ملی اور سب کو اپنے سوا سب کافر نظر آنے لگے۔ مجھے یادہے زمانہ طالب علمی میں مجھ سے بھی کئی دفعہ میرے کلاس فیلوز بڑی حیرت سے پوچھتے کہ یار جیسے پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اس طرح آپ لوگوں کا کونسا ملک ہے۔ ہم بے شمار دلیلیں دینے کے بعد بھی ان کو یہ سمجھانے میں ناکام رہتے کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور آخر میں یہی سوال کرتے کہ چلو مان لیتے ہیں کہ یہ ملک آپ کا بھی ہے لیکن پھر بھی آپ کا کونسا ملک ہے۔ اس میں اس معصومانہ سوال کے پیچھے بھی ایک وجہ تھی۔ ہر ذریعہ جہاں سے ان کی تربیت ہو سکتی تھی وہاں ان کو یہ بات سکھائی ہی نہیں جاتی تھی کہ پاکستان میں بسنے والے سب لوگ مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم پاکستانی بھی ہیں۔

جس بچے نے لب پے آتی ہے دعا سے لیکر مطالعہ پاکستان تک ہر مضمون کی شروعات میں صرف مسلمانوں کے حوالہ سے کارنامے پڑھنے ہیں اور دوسرے کے حوالہ سے نفرت پڑھنی ہے، اس بیچارے میں پاکستان میں بسنے والے دوسرے غیر مسلم پاکستانوں کے لیے محبت اور کشادہ دلی کیسے جنم لے سکتی ہے؟ وہ یہ جان ہی نہیں سکتا کہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم پاکستانیوں کا بھی اپنا مذہبی طور طریقہ ہو سکتا ہے۔ ان کے اپنے مذہبی تہوار ہیں جن کا احترام ہم سب پر فرض ہے اور آئین پاکستان سب اقلیتوں کو اپنے مذہبی تہوار پوری آزادی سے منانے کی اجازت دیتا ہے۔ ان کے تہواروں پر پاکستان میں بسنے والے سب مسلم لوگوں کو ان کی ساتھ ان کی خوشیوں میں شریک ہونا چاہیے اور انہیں کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔ آج ستر سال بعد اگر ہولی، دیوالی اور ایسٹر کی چھٹی کو سرکاری حیثیت حاصل ہوئی ہے تو اصولی طور پر یہ حکومت کا کارنامہ نہیں بلکہ اس نااہلی اور غلطی کا خمیازہ ہے جس کو اپنے سابقہ اعمال کی وجہ سے اس معاشرے نے بھگتا ہے۔ اب عملی طور قائداعظم کے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔ لیکن ابھی بہت سی منازل طے ہونا باقی ہیں۔ جن گانٹھوں کو پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ نے اپنے ہاتھوں سے لگا یا تھا ان کو اب یہ اپنے دانتوں سے کھول رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی اقلیتوں کی دریا دلی ہے کہ وہ تاریخ میں کئے گئے ظلموں کو سینے میں دبائے حکومت پاکستان کے اس قدم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ قابل تحسین ہے اور اس کامیابی پر سب کوہولی، اور ایسٹر مبارک کہتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ہولی، دیوالی اور ایسٹر

  • 28-03-2016 at 5:03 am
    Permalink

    Weldon my dear Brother
    God bless you
    Pastor Ajmal Chaughtai

Comments are closed.