ائیر مارشل اصغر خان کی یاد میں


میں بچپن میں اپنے چچا کے ہمراہ چلتا ہوا پاکستان ائیر فورس (پی اے ایف) کے پشاور میں واقع سکول آف فزیکل فٹنس کی جانب بڑھ رہا تھا کہ ایک خوش قامت شخصیت کو وہاں کھڑی گاڑی سے نکلتے دیکھا۔ میرے چچا نے، جو پی اے ایف ہاکی ٹیم کے کوچ تھے، بتایا کہ یہ ائیر مارشل محمد اصغر خان ہیں جو یہاں تقریب میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ چچا نے کہا کہ یہ کئی سال پہلے ریٹائر ہو چکے ہیں مگر وقت کے ایسے پابند ہیں کہ مقررہ وقت سے ٹھیک پندرہ منٹ پہلے پہنچتے ہیں۔ وہیں پہلی بار ایئر مارشل صاحب کے نیاز حاصل ہوئے۔ چند سال بعد اصغر خان نے پاکستان قومی اتحاد میں شامل جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر غفور احمد کو ایک دھواں دھار خط لکھا اور قومی اتحاد کے رہنماؤں کو وقت کی پابندی نہ کرنے پر سخت سست کہا کہ ان کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ گھنٹوں انتظار کرنا پڑا تھا۔ اصغر خان پانچ جنوری کو دارِ فانی سے رحلت فرما گئے۔ وه بیسویں صدی کے باقی آخری جغادری پاکستانی سیاست دانوں میں سے ایک اور برصغیر کے پہلے جیٹ پائلٹ تھے۔

اصغر خان کے اجداد پشتونوں کے آفریدی قبیلے کی ملک دین خیل شاخ سے تعلق رکھتے تھے مگر اُن کی ولادت جموں میں ہوئی جہاں ان کے والد فوجی افسر کے طور پر تعینات تھے۔ انہیں تعلیم کے لیے پرنس آف ویلز رائل ملٹری کالج، ڈیرہ دون بھیجا گیا جہاں وہ راؤلنسن ہاؤس میں تھے۔ اس کے بعد اصغر خان نے برٹش انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا مگر جونہی رائل انڈین ائیر فورس (آئی اے ایف) کی تشکیل کا اعلان ہوا وہ آئی اے ایف میں چلے گئے اور پائلٹ افسر ہو گئے۔ ان کی پہلی تقرری پشاور میں ہوئی اور بعد ازاں انہوں نے برما کے محاذ پر جاپانیوں کے خلاف ایک ہوائی ٹکڑی کی کمان کی۔ جلد ہی انہیں گلوسٹر جیٹ طیارہ اڑا کر برصغیر کے پہلے جیٹ پائلٹ ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ وہ انڈونیشیا کے صدر سوکارنو کی دعوت پر ولندیزی استعمار کے خلاف لڑنے جاکارتا جانا چاہتے تھے مگر جب اس بابت انہوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس نوجوان افسر کو اپنی توجہ و توانائی پاکستان کی جانب مبذول کرنے کا کہا۔

کچھ عرصے بعد جب پاکستان بنا تو اس وقت اصغر خان انبالہ میں چیف فلائٹ انسٹرکٹر تھے۔ انہوں نے پاکستان جانے کے لیے ریل کی نشستیں مخصوص کروائی ہوئی تھیں مگر ان کی جگہ آنے والے انڈین ونگ کمانڈر نائر نے پاکستانی فضائیہ کے پہلے برطانوی سربراہ ائیر وائس مارشل ایلن پیری-کین سے کہا کہ وہ اصغر خان کو اپنے جہاز میں پاکستان لے جائیں۔ پیری-کین نے اپنا جہاز بھیج کر اصغر خان کو پاکستان منتقل کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جس ریل گاڑی پر اصغر خان نے سفر کرنا تھا وہ تقسیم کے فسادات کا شکار ہوگئی اور اس کا کوئی مسافر نہ بچ سکا۔

ونگ کمانڈر اصغر خان نے پاکستان آ کر پی اے ایف فلائنگ سکول رسالپور کی کمان سنبھالی۔ وہیں انہوں نے قائد اعظم کی میزبانی بھی کی۔ اسی موقع پر جناح صاحب نے وہ مشہور تقریر کی جس کا لب لباب تھا کہ “فضائیہ کے بغیر کوئی بھی ملک محض دشمن کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔۔۔ پاکستانی فضائیہ کو کسی سے پیچھے نہیں رہنا ہوگا۔”

یہ پیغام گویا اصغر خان کا نصب العین بن گیا۔ وہ سینتیس برس کی عمر میں پی اے ایف کے پہلے پاکستانی اور سب سے کم عمر سربراہ بنے۔ انہوں نے ترنت ہی امریکہ سے جدید ترین جہاز اور اسلحہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے افسر سے لے کر ائیر مین تک کی کڑی تربیت پر زور دیا اور اس میں کامیاب رہے۔ اگر کوئی افسر جنگ لڑے بغیر جنگ میں کامیاب کہلا سکتا ہو تو وہ اصغر خان تھے۔ وہ 1965 کی پاک بھارت جنگ سے چند ماہ قبل ریٹائر ہو گئے تھے مگر ان کے جانشین ائیر مارشل نور خان  نے کہا کہ گو جنگ ان کی قیادت میں لڑی گئی مگر یہ اصغر خان کی ائیر فورس نے لڑی۔ مگر جب بھی اصغر خان سے اس بارے میں پوچھا جاتا تو وہ اپنے مخصوص شریف النفس انداز میں کہتے کہ انہوں نے فقط اپنا فرض ادا کیا باقی سب افسروں، جونئیر کمیشنڈ افسروں اور ائیر مینوں کی تندہی تھی۔ اصغر خان متواتر دو بار ائیر چیف مارشل رہنے کے بعد 1965 میں ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے سربراہ رہے جہاں سے پھر 1968 میں سبکدوش ہوگئے۔

جب مارچ 1965 میں رن کچھ میں پاکستان اور انڈیا کی بری افواج کی جھڑپ ہوئی تو اصغر خان پی اے ایف کے سربراہ تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ رن کچھ قریب ترین پی اے ایف بیس ماری پور (حالیہ مسرور) کی فضائی دسترس کی بالکل آخری حد پر واقع ہے۔ انہوں نے اپنے انڈین ہم منصب ائیر مارشل ارجن سنگھ، جن کے ساتھ وہ ٹریننگ میں اکٹھے رہ چکے تھے، کو فون کیا اور تجویز دی کہ دونوں فضائی افواج کو جنگ سے الگ رکھا جائے۔ اصغر خان نے کہا کہ اگر انڈین فضائیہ رن کچھ معرکے میں اتری تو پی اے ایف اسے اپنی مرضی کی جگہ جواب دے گی جس سے جنگ کا دائرہ یقیناً پھیل جائے گا۔ ارجن سنگھ نے وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری سے مشورہ کیا اور اصغر خان کی بات مان لی۔ گو کہ دونوں سربراہانِ فضائیہ کو اپنے اپنے ملک میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا اور شاید کئی جانیں بھی بچ گئیں۔ مگر یہ کیفیت زیادہ دیر برقرار نہ رہی۔

اصغر خان کہا کرتے تھے کہ پاکستان آرمی نے نہ صرف انڈیا کے ساتھ چاروں جنگیں خود چھیڑیں بلکہ چاروں مرتبہ پی اے ایف کو بتایا تک نہیں کہ جنگ ہونے جا رہی ہے۔ جب اصغر خان کو بھنک پڑی کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کشمیر میں محدود کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ ان سے ملے اور انہیں مشورہ دیا کہ ایسا نہ کریں کیونکہ مشتعل ہو کر انڈیا باقاعدہ سرحد پر بڑا محاذ کھول کر دے گا۔ مگر ایوب خان نے اپنے اس وقت کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی مشاورت کے ساتھ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کا آغاز کردیا جس کے بعد جنگِ ستمبر 1965 چھڑ گئی۔ ائیر مارشل نور خان نے بھی اعتراف کیا کہ انہیں بھی ایوب خان نے اس مہم جوئی کی اطلاع تک نہ دی تھی۔

اصغر خان نے اپنی باقاعدہ سیاست کا آغاز نومبر 1968 میں ایوب خان کی مارشل لائی آمریت کے خلاف مہم سے کیا۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے طوفانی دورے کیے اور انہیں عوام میں بےحد پذیرائی ملی۔ انہیں ایوب خان اور کئی سال بعد بھٹو کا ممکنہ متبادل بھی تصور کیا جاتا تھا۔ بھٹو جو ایوب خان کی کابینہ سے مستعفیٰ ہو کر ان کے خلاف مہم چلا رہے تھے، دو بار اصغر خان کے پاس ایبٹ آباد ان کے گھر آئے اور پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)  میں شمولیت کی دعوت دی مگر ائیر مارشل نے بوجوہ انکار کر دیا۔ جب جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان کو فارغ کر کے ایک نیا مارشل لاء لگایا تو اصغر خان نے اس کے خلاف بھی بھرپور مہم چلائی اور احتجاجاً اپنے قومی اعزاز ہلالِ پاکستان اور ہلالِ قائدِ اعظم واپس کر دیے۔ وہ ان چند سیاستدانوں میں سے تھے جو شیخ مجیب الرحمٰن سے ملنے ڈھاکہ گئے تاکہ مشرقی پاکستان کے مسئلے کا حل ڈھونڈا جا سکے۔ اس کے برعکس بظاہر جمہوریت پسند بھٹو دونوں مارشل لاؤں میں وزیر رہے۔ یہ بات کہنا ضروری ہے کہ ہر چند کہ ائیر مارشل اصغر خان سراپا فوجی تھے وہیں وہ واحد سیاستدان تھے جس نے چار فوجی جرنیلوں یعنی ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔

مارچ 1969 میں اصغر خان نے اپنی جسٹس پارٹی بنائی جس کا اعلان انہوں نے اپنے دوست، ڈیرہ دون کے ساتھی اور سیکولر بلوچ رہنما سردار شیرباز خان مزاری کے گھر پر کیا۔ بعد میں انہوں نے جسٹس پارٹی کو دیگر چند پارٹیوں کے ساتھ مدغم کرکے پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی بنائی مگر نوابزادہ نصرالله خان کے پینتروں کے باعث فوراً ہی اسے بھی چھوڑ بھی دیا۔ اس کے بعد انہوں نے تحریک استقلال قائم مگر 1970 کا انتخاب انہوں نے آزاد حیثیت سے راولپنڈی سے لڑا۔ مگر پی پی پی کے امیدوار وہاں سے کامیاب رہے اور اصغر خان نے اپنی شکست کو فوراً کھلے دل سے تسلیم کیا۔ یہی شرافت اصغر خان کا طرہ امتیاز رہی۔

مگر جب ذوالفقار علی بھٹو نے 1977 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر صریح دھاندلی کی تو اصغر خان نے قومی اتحاد کے دیگر رہنماؤں مولانا مفتی محمود، سردار شیرباز خان مزاری، بیگم نسیم ولی خان وغیرہ کے ساتھ مل کر ملک کے طول و عرض میں بھرپور احتجاجی مہم چلائی۔ بقول سردار مزاری، “اصغر خان تو گویا بھٹو کے اعصاب پر سوار تھے”۔ بھٹو نے اصغر خان کو ہر طرح نشانہ بنایا۔ انہیں کئی بار جیل بھیجا گیا یا گھر پر قید کیا گیا، تحریکِ استقلال کے جلسوں پر حملے کیے گئے، گولیاں چلائی گئیں، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کی گئی۔ اصغر خان کے برادرِ نسبتی کرنل علیم پر غداری کا مقدمہ تک قائم کردیا گیا۔ اس تحریک کے دوران اصغر خان کا گھر پراسرار انداز میں جلا کر راکھ کردیا گیا مگر مجرموں کا پتہ نہ چلا۔

اصغر خان پر ناحق جنرل ضیاء الحق کو مارشل لاء لگانے کی دعوت دینے کا الزام ہے۔ امر واقعہ یہ ہے بھٹو حکومت نے قومی اتحاد کے خلاف چند شہروں میں فوج طلب کرلی تھی۔ 25 اپریل 1977 کو اصغر خان نے افواجِ پاکستان کو ایک خط لکھا اور ان سے بھٹو حکومت یا جرنیلوں کے غیر قانونی احکامات کی بجاآوری نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ یہ کسی صورت مارشل لاء کی دعوت نہ تھی۔ حقیقت یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف فوجی کور کمانڈرز کو خود ٹیلی فون کرتے تھے، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل غلام جیلانی خان سے سیاسی مشاورت کرتے تھے بلکہ یکم جولائی 1977 کو قومی اتحاد سے مذاکرات کے لیے جنرل ضیاء کو لے کر آنے والے بھی وہ خود تھے۔ ضیاء نے قومی اتحاد کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ بلوچستان سے فوج واپس بلانے پر زور نہ دیں اور نہ ہی رسوائے زمانہ حیدرآباد ٹریبیونل ختم کرنے اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے بلوچ و پشتون رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب جنرل ضیاء نے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد کچھ سویلین وزراء لیے تو قومی اتحاد کی چند پارٹیاں اس کابینہ کا حصہ بنیں مگر تحریکِ استقلال شریک نہیں ہوئی۔ اصغر خان نے جنرل ضیاء الحق کی مخالفت کی یہاں تک کہ ضیاء نے افواج کے نام اسی خط کی بنیاد پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی دھمکی دی۔ عجب طرفہ تماشا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جنہوں نے 1973 کے آئین کی منظوری کے صرف ایک دن بعد ایمرجنسی نافذ کر کے اسی آئین میں دیے گئے حقوق سلب کر لیے، فیڈرل سیکورٹی فورس کے نام سے بدنامِ زمانہ ذاتی جتھا بنایا، مخالفین کو قیدخانوں میں ڈالا، نیپ کی بلوچستان حکومت توڑ کر گورنر راج لگایا، نیپ پر پابندی لگائی، وہ جمہوری شخصیت کہلوائے۔ کچھ لوگ اصغر خان پر بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں مگر چاہے جلسوں میں سخت زبان کی گئی ہو، ان جیسے شریف النفس آدمی کے لیے ایسی سازش کا حصہ بننا بعید از قیاس ہے۔ اصغر خان کو قدرے ہٹ دھرم ، غصیل یا سخت گیر کہا جاتا مگر سازش اور جسمانی بدلہ ان کی سرشت میں تھا ہی نہیں۔

تحریکِ استقلال پی پی پی اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ہمراہ ضیاء الحق کے خلاف بننے والی تحریکِ بحالی جمہوریت جو ایم آر ڈی کہلائی، کی بانی پارٹیوں میں تھی اور بیگم نصرت بھٹو اور سردار مزاری اس کے قائدین میں سے تھے۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اصغر خان کابل گئے اور افغانستان کے کمیونسٹ صدر ڈاکٹر محمد نجیب الله سے ملے۔ واپس آ کر انہوں نے چند مضامین بھی تحریر کیے جس میں ضیاءالحق کے افغان جہاد پر کڑی تنقید کی اور پاکستان کے لیے اس کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا۔ وہ 1990 میں پاکستان جمہوری اتحاد میں بینظیر بھٹو کے انتخابی حلیف تھے۔ انہوں نے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے خلاف 1990 کے اس انتخاب میں چنیدہ سیاسی لوگوں کو روپے تقسیم کرنے پر مقدمہ دائر کیا۔ یہ عذرداری جو اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہوئی ان کی اس جدوجہد کی کڑی تھی جو انہوں نے سیاست میں جرنیلوں کی مداخلت کے خلاف ہمیشہ کی۔

مجھے ائیر مارشل سے ان کی پارٹی کے پشاور دفتر میں ملاقات کا موقع بھی ملا جو سوکارنو سکوائر میں واقع تھا اور جس کے مہتمم ان کے صوبائی صدر انعام الله خان جی تھے۔ میں ان سے آخری مرتبہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف منعقدہ ایک ریلی میں ملا تھا جہاں مجھے ان کے ساتھ سٹیج پر شریک ہونے کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے اپنے مخصوص نپے تلے انداز، قدرے درشت آہنگ اور ذرا بیٹھی ہوئی آواز میں تقریر کی اور دیگر قائدین کو ہلکی سی جھاڑ بھی پلائی کہ اگر آپ لوگ مشرف کے خلاف تحریک چلانے میں سنجیدہ ہیں تو آپ کو اسلام آباد میں جمع ہونے کی بجائے پاکستان بھر میں پھیل جانا چاہیے۔ وہ رواں مقرر تھے مگر باتیں بنانا ان کا شیوہ نہ تھا۔ جہاں سیاسی جوڑ توڑ کا سکہ چلتا ہو وہ اس مذموم صفت سے تہی دست تھے اور اس پر خوش تھے۔ پاکستان کے کئی نامور سیاستدان ان کی پارٹی میں رہے یا وہاں سے سیاست کا آغاز کیا جیسے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف۔ اصغر خان کو انتخابی کامیابی ایک ہی بار 1977 میں ملی مگر وہ انتخابات فسخ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آدرشوں کے لیے کام کرتے ہیں چاہے اس میں کامیابی نہ ملے۔ اصغر خان کہتے تھے کہ پاکستان کے لوگ سچ سننا چاہتے ہیں اور میں سچ بولوں گا۔ اسی لگن کی وجہ سے وہ فضائیہ اور سیاست میں ایک زبردست قدآور شخصیت رہے۔ ائیر مارشل اصغر خان ایک مایہ ناز افسر تھے اور ایک شریف سیاستدان، بقول شاعر

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

(ڈاکٹر محمد تقی پاکستانی امریکن کالم نگار ہیں،  @mazdaki ان کا ٹوئٹر ہینڈل ہے)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں