تم نے ہر کھیت میں انسانوں کے سر بوئے ہیں


ehsan azizوطن عزیز میں قومی سطح پہ محبت کی آبیاری نفرت کی زمیں پہ کی گئی ہے کہ کسی سے بھی محبت کسی اور سے شدید تر نفرت سے ہی تصدق پائے گی ۔ بصورت دیگر محبت کامل نہ کہلائے گی

جیسے ہمارے ہاں حب الوطنی صرف اور صرف  انڈیا کو گالی دے کر ثابت ہوسکتی  ہے

کیونکہ انڈیا کا جو یار ہے، وہ غدار ہے، غدار ہے۔۔۔ ہمارا جزوِایمانی ہے خود چاہے ٹیکس کروڑوں میں چوری کیا ہو یا سرکار کی زمین ہڑپ کر لی ہو، ہیں تو پھر بھی پاکستانی نا ۔۔۔

اسی تناظر میں اگر ہم اپنے فقہی مسلکی معاملات بھی دیکھیں تو وہ بھی خود کو درست ثابت کرنے سے زیادہ دوسروں کو غلط ثابت کرنے پہ زیادہ زور دیتے نظر آتے ہیں

“ہم اپنی محبت کو نفرت کی شدت سے منوانے کے عادی ہیں ۔جو بذات خود تعمیر نہیں تخریب پہ مشتمل جذبہ ہے۔”

کیونکہ نفرت انتشار تفریق کا سبب تو بن  سکتی ہے مگر اس سے پرامن بندوبست پیدا ہونا ممکن نہیں۔

یہی وہ رویہ ہے جس کا فروغ قومی سطح پہ سرکاری چھتری تلے دو سے زائد دہائیوں تک ہوتا رہا۔ اور جب آگ گھر کو جلانا شروع ہوئی تو ہوش آیا، اور اب قومی منشور تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

جبکہ معاشرہ ابھی تک اسی رویے کا عادی ہے اور عدم برداشت اور تشدد  جزوِایمانی ہے، جس کا شکار سلمان تاثیر ہوا اور آج جس کی جھلک جنید جمشید کو نظر آئی ہے۔

جنید جمشید جس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اس نے ہمیشہ طالبان کی طرف سے اپنی نگاہیں بند رکھیں اور کبھی انڈیا اور کبھی بیرونی سازش کا نام دے کے حقائق پہ مٹی ڈالنے کا کام کیا۔ جب ہمارے معصوم بچے سولہ دسمبر کو درندگی کا شکار ہوئے تو بھی عزت مآب جناب مولانا طارق جمیل صاحب نے اس کو ہمارے گناھوں اور بدعمالیوں کا شاخسانہ اور غیظ الہی قرار دیا اور دس منٹ کے اس کلپ میں جسے میں نے تین مرتبہ سنا ایک لفظ بھی طالبان کے خلاف نہ کہا، ملتان میں پروفیسر پہ توہین مذہب کا الزام لگا تو اس کا وکیل مار دیا گیا۔ جج اس کا کیس سننے سے انکاری رہے۔ پنڈی میں قرآن پاک کی توہین کا الزام ایک نابالغ بچی پر لگایا گیا۔ آسیہ بی بی کے واقعے تفصیلات ابھی تک الزام در الزام کی گہری دھند میں ہیں۔ کیا ان میں سے کسی ایک واقعہ کی تحقیق راؤنڈ کے اکابر علما نے کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کی غلط تشریح کی جا رھی ہے، یہ اسوہ حسنہ نہ تھا۔ رسول اللہ کا اخلاق اور ان کی شریعت یہ نہیں تھی۔

نہیں ایسی کوئی آواز اس قوم کی سماعت تک نہ پہنچی۔ ھاں مگر تبلیغ کا دائرہ عامر خان اور وینا ملک نرگس تک ضرور پہنچا اور ایک آواز ضرور سنائی دیتی تھی کہ گستاخ رسول کی سزا سر تن سے جدا، توہین کے مجرم کو معافی صرف نبی پاک دے سکتے ہیں جیسے فتوی ہم سنتے رہے۔ اور جب انجانے میں  جنید جمشید  نے یہی غلطی دہرائی تو ایک دم سے وھی علما  معافی اللہ کو پسند ہے نیز رسول پاک کی شفقت اور رحم دلی کے واقعات کے دفتر کے دفتر اٹھا لائے، جو جنید حفیظ کے معاملے میں سنتِ رسول فراموش کر بیٹھے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جب مخالف فرقے نے جنید جمشید کو توہین مذہب کا مجرم قرار دے دیا اور اپنے مسلک کی ترویج نفرت کی آگ پھیلا کے کی اور جس کا شکار آج جنید جمشید صاحب ہوگئے۔

اب اس واقعہ کو رائے ونڈ والے جنید جمشید کس نظر سے دیکھتے ہیں یہی سب سے اہم ہے کیونکہ اگر یہ لوگ پھر فرقہ پرستی کو ہوا دینے لگے تو یہ آگ ہمارے گلشن  کو جلا کے خاکستر کر دے گی اور اگر جنید جمشید صاحب  ایک لمحہ کے لئے ٹھہر کے سوچیں کہ وہ لمحہ ان پہ کیسا بیتا جب کوئی ان کو گالیاں دے رہا تھا ۔

گستاخِ قرار دے رہا تھا، ان کے منہ سے مارے غیظ و غضب کے کف اڑ رھی تھی، آنکھوں میں ان کے لئے نفرت اور حقارت کے انگارے تھے اور وہ ان کی جان لینے کے درپے تھے تب جنید جمشید کا دل و دماغ  کیا کہہ رہے تہے کہ کاش میں اکیلا نہ ہوتا ۔

تو حضور پرنور آپ سے صرف اتنی گزارش ہے  کہ کہ پروفیسر جنید حفیظ اور آسیہ بی بی  کے دلوں پہ ان لمحوں میں کیا گزرتی ہوگی  جب انہیں احساس ہوتا ہو گا کہ ان کو بچانے اور چھڑانے کے لئے کوئی طارق جمیل نہیں آنے والا۔

خدارا یہ سوال خود سے کریں، شاید کہ تبدیلی آ جائے۔

شاید یہ احساس جاگے کہ عشق کا پودا نفرت کی زمیں پہ پروان چڑھے تو پھل کشت و خوں کا ہوتا ہے اور پھولوں کی  جگہ انگار برستے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “تم نے ہر کھیت میں انسانوں کے سر بوئے ہیں

  • 27-03-2016 at 11:00 pm
    Permalink

    Agreed

  • 28-03-2016 at 9:09 am
    Permalink

    ASalamu Alakum
    Ihsan Aziz Sb
    Pehle ap kalma par ke aur khuda ko hazir nazir man ke mujhe ye batain ke jab se app sahafat me ayain hain to ap ne islam ke bare me logo to kitne sahih maloomat diye
    Dusri baat waziristan me ya kisi be agency me itne zulam huain hain ap kisi be aik ke pass gayain hain aur us se yeh pocha ha ke ye kon karwa raha ha aur ap kiya feel kar rahain hain
    tesri baat ap ke hatoon kitne log muslman huain hain, kitne rishtadar aur dost waghera ap se khosh hain aur ap ka ikhlaq un ke sath kaisa ha
    kitne tabligh wale ulma ko apne junaid jamshed ke bare me kuch kehte hue suna hai Maulana Tariq Jameel sb ke ilawa
    kitne aur firqoo waloo ko waziristan ya dusre agencies me jo last 16 years se jo jung shuru ha us ke bare me kuch kehte hue suna ha
    ap tariq jameel sb ke bare me kehte hain ke wo nargees, amir waghera ko jate hain unko tabligh karte hain acha apke hatoon kitne aise log rahe rast pe aaien\
    aur be boht sare sawalaat hain me apke liye number send karta hun zara mughe miss call karain ma apko call back karo ga in jawabaat ke liye
    00971564665009

  • 31-03-2016 at 8:06 am
    Permalink

    برادر محترم احسان عزیز صاحب کی ایک نہایت اہم اور احساس موضوع پر بہت ہی پراثر اور فکرانگیز تحریر ہے. ان کے کالم کے ایک ایک لفظ سے اتفاق کرتا ہوں. میں نے خود اس قوم کو جن مہلک امراض میں مبتلا دیکھا ہے ان میں نفرت سر فہرست ہے. بظاھر تو ہمارے مذہبی پیشوا اور ان کے مقلدین یہود و ہنود سے نفرت کرتے ہیں لیکن ان کی اس نفرت کے نتیجے میں جو تخریب، انتشار، اور تفریق پیدا ہو رہی ہے اس کا خمیازہ مملکت اللہ داد کے بدقسمت باشندے بھگت رہے ہیں.
    محترم احسان عزیز نے اپنے اس کالم میں جنید حفیظ اور آسیہ بی بی کے کیسوں کو اجاگر کرکے بہت اچھا کیا ہے. ایسے کیسوں کی میڈیا پر بھرپور تشہیر ہونی چاہئیے تاکہ ان مظلوموں کو جلد از جلد انصاف مل سکے. اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ توہین رسالت کے جرم میں گرفتار یا قید افراد اصل میں ذاتی دشمنی یا انتقام کا نشانہ بنے ہیں. جلد یا بدیر لوگوں کو احساس ہو جائے گا کہ توہین رسالت کا قانون حرمت رسول کا تحفظ کرنے کی بجائے اسے پائمال کرنے کا سبب بن رہا ہے.

Comments are closed.