الحمدللہ ہم فیس بکی ہیں!


jamil khanپچھلے چند برسوں سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کے ذریعے ابلاغ کی ایک نئی جہت متعارف ہوئی ہے۔ یہ جہت علم و دانش پر اجارہ داری کا دعویٰ رکھنے والے طبقوں اور حلقوں کے لیے نہایت تکلیف دہ ثابت ہورہی ہے۔ جس طرح پرنٹنگ مشین کی ایجاد نے یورپ بھر میں علم و دانش پر کلیسا کا قبضہ ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اسی طرح فیس بک نے ہمارے معاشرے میں ناصرف مذہبی اجارہ داروں کی من مانیوں اور سچ کہیے تو فرعونیت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا ہے، بلکہ علمی و ادبی حلقوں کے ایسے بتوں کو بھی پاش پاش کردیا ہے، جنہوں نے علمی و ادبی حلقوں کو گویا مندر بنا دیا تھا، جہاں صرف پجاریوں ہی کو داخلے کی اجازت تھی۔ علم و ہنر سے شاید انہیں کوئی سروکار ہی نہیں تھا، وہ اس ڈر سے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کیا کرتے تھے کہ کہیں ان نوجوانوں میں پوشیدہ قدآور ادیب، شاعر، مفکر یا محقق کے ابھرنے سے ان کا علمی اور پیشہ ورانہ بونا پن ظاہر نہ ہوجائے۔

ظاہر ہے کہ علم و دانش کو اپنا تکیہ اور گدی بنانے سمجھ کر اس پر اچھل کود کرنے والوں سے یہ صورت حال کیونکر برداشت ہوسکتی تھی۔ چنانچہ علم و دانش کی گویا چائنا کٹنگ کرکے فروخت کرنے والے ہوں، علم و دانش کو مذہبی دائرے میں قید کرنے والے یا علم و دانش کو طبقہ اشرافیہ کی لونڈی سمجھنے والے ہوں، ان سب نے فیس بک کے ذریعے اپنے خیالات، نکتہ نظر اور اپنی مختلف ادبی، علمی اور فنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے والے افراد کو متفق علیہ نہایت حقارت کے ساتھ “فیس بکی دانشور” کا لقب دے رکھا ہے۔

نہایت دلچسپ امر یہ ہے کہ اس معاملے میں قدامت پرست اور ترقی پسند دانشور تقریباً ہم نوا دکھائی دیتے ہیں، جس طرح کہ چند برس قبل کی بات ہے، جرمنی میں ختنے پر پابندی کے خلاف مسلمانوں اور یہودیوں نے مشترکہ طور پر مظاہرہ کیا تھا۔ جبکہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین مو¿قف رکھتے ہیں، اور مسلمانوں کی اکثریت تو اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ پانچ وقت کی نماز کے دوران پڑھی جانے والی سورہ فاتحہ کی آیت ”غیرمغضوب علیہم“سے مراد یہودی قوم ہی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں چند عشروں سے مذہبی طبقے نے علم و ادب پر ایسی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے کہ آپ کتابوں کی کسی بھی دکان پر چلے جائیں، 70 سے 80 فیصد کتابیں مذہبی موضوعات پر ہی ملیں گی۔ حد تو یہ ہے کہ خالص سائنسی موضوعات کو بھی مذہب کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چنانچہ ایسے دانشور جنہیں حق پرستی کا فریضہ انجام دینا تھا، وہ دبک کر بیٹھ گئے ہیں یا پھر انگریزی زبان کے دامن میں پناہ لے رکھی ہے۔

دوسری جانب نو آموز شعر ، ادباءاور محققین کے لیے اظہار کے تمام راستے بند ہیں، اخبارات و رسائل تک ہر ایک کی رسائی نہیں، بہت سے ادبی میگزین کے بارے میں زبان زدعام ہے کہ وہ معقول رقم لے کر کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے کی شخصیت کو چار چاند لگا سکتے ہیں اور میر و غالب کا ہم پلہ جبکہ جوش و جون کا ہم نوالہ و ہم پیالہ ثابت کرسکتے ہیں۔

گوکہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں سالانہ ادبی میلوں کے انعقاد کی روایت اب مستحکم ہوچکی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان میلوں ٹھیلوں کو بھی متمول طبقے کے بعض ایسے افراد نے اپنے دل پشوری (کتھارسز ) کا ایک آسان ذریعہ بنالیا ہے، جو خود کو انٹلکچوئل سمجھتے ہیں یا دوسروں پر اپنی دانشوری کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ ان تمام افراد سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہمارے ملک کی اکثریت انگریزی زبان سے نابلد ہے، یا کم ازکم اس زبان کے ادب کو سمجھنا اور اظہار خیال کرنا تو درکنار اس کو پڑھنے سے بھی قاصر ہے۔ اردو زبان کی اکثریت تک رسائی اس لیے بھی ہے، کہ مادری زبان مختلف ہونے اور حصولِ تعلیم سے محروم رہنے کے باوجود بھی ہمارے ملک میں اکثریت ناظرہ قرآن کی تعلیم ضرور حاصل کرتی ہے، جس کے بعد اردو زبان پڑھنا دشوار نہیں رہتا۔ لیکن ترقی پسند سوچ کا اظہار اردو زبان میں خال خال ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شدت پسند مذہبی طبقے کے لیے اس زبان پر قبضہ کرنا نہایت آسان رہا۔

ایسی صورتحال میں کسی شاعر، ادیب یا محقق نے اگر اپنا قلم روایت پرستی کے خلاف اور شعوری وسعت اور ترقی پسندی کے حق میں اٹھایا ہو، تو پھر ابلاغ کے کسی بھی ذریعے پر اس کی پذیرائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔

سچ پوچھیے تو فیس بک اور انٹرنیٹ میڈیا نے یہ سارے بت توڑ ڈالے ہیں بلکہ حق کے اظہار کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں بھی دور کردی ہیں۔ اب کسی ادیب، شاعر، مفکر یا محقق کو اپنے خیالات اور اپنی کاوشوں کو ہزاروں افراد تک پہنچانا کوئی مسئلہ لاینحل نہیں رہا بلکہ لاکھوں تک رسائی بھی معمول کی بات ہوگئی ہے۔

یہ صورتحال قدامت پسند طبقے کے لیے ہی نہیں بلکہ ترقی پسند حلقوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے بعض بزعم خود دانشمندوں کے لیے بھی نہایت پریشان کن ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی محسوس ہورہی ہے۔

ہمارے خیال میں یہ احساس انہیں ان کی بے حسی کی وجہ سے کافی دیر سے ہوا ہے، زمین تو کب کی ان کے مفلوج پیروں کے نیچے سے کھسک چکی ہے، اور اب وہ اپنے کبر و غرور کے کمزور دھاگوں کو تھامے فضا میں معلق ہیں، ظاہر ہے کہ یہ کمزور دھاگے ان کی فرعونیت کا بوجھ کب تک ا±ٹھائیں گے، جلد یا بدیر یہ ایک اک کرکے جہالت کی تاریک کھائی میں گر کر اپنا وجود گم کر بیٹھیں گے۔ لیکن ان کے کبر کا عالم دیکھیے کہ ڈوبتے ڈوبتے بھی اپنی عاجزی اور تہی دامنی کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنے سوا ہر ایک کو حقیر سمجھتے ہیں، ان کا یہی شعور تو ہے کہ جس نے نئی جہت اور نئے زاویے متعارف کروانے والے علم و ادب کے محسنوں کو ذلیل کرنے کے لیے “فیس بکی دانشور” کا نام دیا ہے۔

یہ آنکھیں رکھتے ہیں، لیکن دیکھ نہیں سکتے، کان رکھتے ہیں، لیکن سن نہیں سکتے، کاسہ سر رکھتے ہیں، لیکن اس میں سوچنے سمجھنے کا مادہ نہیں رکھتے۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ فیس بک کا دباو¿ کس قدر شدید اور سخت ہے۔ یہ فیس بک کا دباو¿ ہی تو تھا کہ فیس بک پر مقبول ہونے کے بعد محترم مبشر علی زیدی کی 100 لفظوں کی کہانیاں روزنامہ جنگ کے صفحات پر شایع ہونا شروع ہوئیں۔ لیکن ”یں نہ مانوں“کے سرکش اونٹ پر سوار ان دانشمندوں نے اب یہ نکتہ آرائی فرمائی ہے کہ 100 لفظوں کی ان کہانیوں کی کوئی ادبی حیثیت نہیں، یا پھر ان کی ادبی حیثیت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔

بزرگو! اور ان بزرگوں کی مٹھی چاپی کرنے والو/والیوں! بے فکر رہو کہ اب ہر شعبے میں، ہر پہلو سے نت نئی جہات متعارف ہورہی ہیں، اور نئے سرے سے تعیناتی کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ ٹیکنالوجی کی رفتار اس قدر تیز ہے اور منڈی کی چھلک جانے والی معیشت کا کم از کم ایک فائدہ ضرور ہے کہ تیسری دنیا کے تیسرے درجے بلکہ سچ پوچھیے تو بہت سے پرلے درجے کے لوگوں کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی سہل اور آسان ہوچکی ہے۔ موبائل فون میں کیمرے کی سہولت کے بعد فوٹو اسٹیٹ مشین کا دور لد چکا ہے، جلد یا بدیر کمپیوٹر اسکرین سے موبائل اسکرین میں سمٹ جانے والی ٹیکنالوجی ایک یکسر مختلف اور چونکا دینے والی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔

آج ڈیڑھ، پونے دو اور ڈھائی اینٹوں کی مساجد کی مانند قبضہ گروپس کی محدود و مختصر علمی و ادبی مجالس کے برخلاف اس طرز مجالس کا دائرہ وسعت ایک کمرے یا ہال سے نکل کر عالمی گاو¿ں کے مختلف کونوں تک پھیل چکا ہے، اب ایسی مجالس انٹرنیٹ پر منعقد ہوتی ہیں، اور یہ سلسلہ بھی برسوں سے جاری ہے۔ ان مجالس میں سڈنی، یورپ کے مختلف ملکوں، کراچی، لاہور، اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مختلف شہروں سے احباب شریک ہوتے ہیں۔

بزرگو! تسلیم کرلیجیے کہ اب پرنٹ میڈیا کا خاتمہ بالخیر ہوچکا ہے۔ یہاں ہم اپنی ہی مثال پیش کیے دیتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا کہ روزانہ پانچ چھ اخبارات ہمارے پاس آتے تھے، اتوار کے روز ان کی تعداد آٹھ تک پہنچ جاتی تھی۔ دس بارہ ہفت روزہ، ماہانہ میگزین اور رسالے ہم خود خریدتے تھے اور ان سے چار گنا تعداد میں ہمیں بطور اعزازی موصول ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج مجال ہے کہ ایک اخبار یا میگزین بھی ہم خریدتے ہوں، البتہ کچھ میگزین ضرور ہمیں اعزازی طور پر موصول ہوتے ہیں۔ ان میں سے بھی کئی ایسے ہیں جنہیں ہم دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے، اس لیے نہیں کہ خدانخواستہ ہم مطالعے سے بیزار ہوگئے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے، الحمدللہ کتابوں کا مطالعہ اب بھی جاری ہے، اور ہماری لائبریری میں روز بروز کتابوں کا اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے، تاہم ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہم نے ای بکس کی بھی ایک لائبریری تیار کرنی شروع کردی ہے، اور ان میں سے بھی کوئی نہ کوئی کتاب زیرمطالعہ رہتی ہے۔ دراصل کچھ میگزین کو دیکھنے کی بھی زحمت نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان میگزین میں شایع شدہ بیشتر مواد کا مطالعہ ہم انٹرنیٹ پر پہلے ہی کرلیتے ہیں،بس کبھی کبھی ان کے لے آو¿ٹ اور پبلشنگ کے معیار پر ضرور نظر ڈال لیتے ہیں کہ پبلشنگ کے شعبے سے ہمارا تعلق دو دہائیوں پر محیط ہے۔

خیر علم و دانش پر اجارہ داری کا دعویٰ کرنے والے قدامت پسندی اور ترقی پسند حلقوں کو ہم یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ …. الحمدللہ! ہم بھی فیس بکی ہیں، لیکن دانشوری کا دعویٰ ہرگز نہیں، بطور تہمت یہ لفظ آپ ہم پر چسپاں کرنا چاہیں تو شوق سے کرلیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ہمیں تو اب علم و دانش پر آپ کی کود پھاند سے بھی کوئی پریشانی نہیں، اس لیے کہ اب آپ کی ان مساعی جمیلہ کے باوجود بھی آپ کے کبروغرور کے مندر کا پرشاد یونہی پڑا سڑتا رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “الحمدللہ ہم فیس بکی ہیں!

  • 25-01-2016 at 5:24 pm
    Permalink

    ماشاء اللہ،،موضوع کا حق ادا کردیا۔۔

Comments are closed.