ممتاز قادری کا چہلم اور جنید جمشید پر حملہ


adnan-khan-kakar-mukalima-3

آج ممتاز قادری کا چہلم ہے۔ اور کل رات جنید جمشید پر ائیرپورٹ پر حملہ ہوا ہے۔ اطلاع ہے کہ حملہ کرنے والے کراچی سے جنید جمشید کے ساتھ ہی جہاز پر اسلام آباد آئے تھے اور ان کی آمد کا مقصد ممتاز قادری کے چہلم میں شرکت کرنا تھا۔ حملہ کرنے والے افراد، جنید جمشید کو گندی گالیاں دیتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ جنید جمشید کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی شان میں گستاخی کی وجہ سے وہ یہ کر رہے ہیں۔ ریکارڈنگ میں یہ کلمات سنے جا سکتے ہیں کہ ’ہم تو ڈھونڈ رہے ہیں۔ گستاخ صحابہ ہے۔ گستاخ رسول ہے۔ مارووووووو، مارو اس کو ****۔ گستاخ نبی کی ایک سزا، سر تن سے جدا سر تن سے جدا‘۔ اس پر بات کرتے ہیں لیکن پہلے ممتاز قادری اور سلمان تاثیر کے معاملے پر مفتی تقی عثمانی صاحب کا موقف دیکھتے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی سے سوال کیا گیا کہ ’سر اگر جو یہ قانون بنا ہے تحفظ ناموس رسالت، اگر اس قانون کو جیسا کہ بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے، کوئی کالا قانون، نعوذ باللہ، کہہ دے، جیسا کہ بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں (سلمان تاثیر) نے اس طرح کے الفاظ کہے تھے، تو کیا یہ گستاخی میں آتا ہے؟‘۔

اس پر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ ’یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ اب وہ موقوف اس بات پر ہے کہ اس نے کالا قانون کہا یا اس قانون کے خلاف بات کہی تو اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ معاذ اللہ رسول کریمؐ کی گستاخی کرنا کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ یہ تو گستاخی کے حکم میں آتا ہے‘۔

’ایک مطلب یہ آتا ہے کہ ہے تو جرم لیکن اس کی سزا قتل نہیں ہونی چاہیے۔ تو یہ گستاخی کے جرم میں نہیں آتا ہے کیونکہ حنفی فقہا خود کہتے ہیں کہ یہ قتل نہیں ہے‘۔

’تیسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ سزائے قتل میں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن جس انداز میں یہ قانون بنا ہے تو بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کا غلط استعمال لوگ کر سکتے ہیں جو اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے کسی پر الزام لگا دیں اور اسے قتل کروا دیں، تو اس وجہ سے اس کی مخالفت کی ہو‘۔

’تو مختلف احتمالات ہیں کہ کس وجہ سے کیا۔ تو جب تک ان میں سے کوئی ایک احتمال متعین نہ ہو مثلاً یہ کہ یہ بات واضح نہ ہو کہ اس نے جو مخالفت کی وہ اس وجہ سے کی کہ اس کی نظر میں معاذ اللہ رسولؐ اللہ کی گستاخی کوئی جرم ہی نہیں ہے تو پھر بے شک یہ گستاخی کے ذیل میں آتا ہے اور اس کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے‘۔

دیکھتے ہیں کہ سلمان تاثیر پر مفتی تقی عثمانی کا کون سا حکم لگتا ہے۔ سلمان تاثیر سے سوال کیا گیا کہ ’یہ بتائیں آپ کس وجہ سے کہتے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کی جانی چاہیے؟ کیا وجہ ہے‘؟

جواب: ’اس قانون کے جو اثرات ہیں وہ تو ہمارے آگے ہیں۔ اس سے بڑی ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ کسی پر بھی یہ الزام لگا کر اپنے ذاتی مفاد، یعنی اپنے ذاتی مفاد کی وجہ سے لوگوں پر یہ الزام لگاتے ہیں‘۔

کچھ دوسرے ویڈیو کلپوں میں سلمان تاثیر کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’جس ملک میں آپ سوچیں کہ چھیانوے فیصد آبادی مسلمان ہے، کوئی بندہ اس طرح ہے جو رسول پاکؐ کے خلاف بات کرے گا؟ میرا خیال ہے کہ کوئی صحیح دماغ والا بندہ تو بات نہیں کرے گا۔ نعوذ باللہ کوئی ایسا سوچ بھی سکتا ہے؟ ہم تو ایک قانون کے بارے میں بات کر رہے ہیں کہ اگر اس کے اثرات غلط ہیں یا اس کو استعمال کیا جا رہا ہے تو اس پر نظرثانی کی جائے۔ سارے مسلمان ہیں اگر مسلمان کوئی ایسی بات کرے تو وہ تو پاگل ہو گا، وہ تو مینٹل کیس ہو گا۔ آپ کیوں مجھے کیوں کوئی اس طرح (پوچھتے ہیں ) جیسے میں توہین رسالت کے حق میں ہوں، میں بالکل نہیں ہوں۔ پہلے تو واضح طور پر کہا ہے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور کوئی اس کو برداشت نہیں کر سکتا، میں ایک ضیا الحق کے قانون کے بارے میں بات کر رہا ہوں، اس کے اثرات ایسے ہیں کہ اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے‘۔

jj-0

یعنی بظاہر سلمان تاثیر پر مفتی تقی عثمانی صاحب کا پہلا نہیں بلکہ تیسرا حکم لگتا ہے، اور مفتی تقی عثمانی کے حکم کے مطابق سلمان تاثیر کو گستاخ رسول نہیں کہا جا سکتا ہے۔

لیکن اسی بیان میں مفتی صاحب آگے چل کر مزید باتیں بھی بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’حکم یہ ہے شرعاً کہ اگر کسی شخص نے نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کی تو واجب القتل تو ہو جاتا ہے اگر مسلمان ہے تو، مرتد واجب القتل ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ کوئی شخص خود اس پر سزا جاری کرے قتل کی۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ جائز نہیں ہے کسی کے لیے کہ وہ اسے قتل کرے‘۔

’یہاں صورت حال جو تھی وہ ذرا مشکوک تھی، جیسا بیان کیا کہ آیا واقعتاً اس کی بات گستاخی رسول تک پہنچتی تھی یا نہیں پہنچتی تھی یہ بات واضح نہیں تھی اس حالت میں اس نے اس کو قتل کیا۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جذبہ اس کا بڑا نیک تھا۔ جذبہ یہی تھا کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے لہذا میں اس کا بدلہ لوں گا۔ جذبہ نیک تھا۔ اس نیک جذبے کی وجہ سے اس شخص کے حق میں بھی نیک گمان رکھنا چاہیے۔ اور اس نے جو کچھ کیا وہ نبی کریمؐ کی تعظیم اور تکریم کی نیت سے کیا اس واسطے اللہ تعالی کے ہاں امید ہے کہ وہ [محظوظ ؟] ہی ہو گا اللہ کی رحمت سے‘۔

ممتاز قادری کے بارے میں جس طرح مفتی تقی عثمانی صاحب نے جذبے کی تعریف کی ہے، اور قانون ہاتھ میں لینے کے معاملے میں نرمی کی ہے، تو پھر جنید جمشید کو مستقل بنیاد پر کفار کے ملک میں منتقل ہونے پر غور کرنا پڑے گا۔ مفتی تقی عثمانی کے موقف سے ہمیں تو یہی سمجھ آیا ہے کہ سلمان تاثیر نے گستاخی نہیں کی تھی۔ لیکن دوسری طرف جنید جمشید کے معاملے میں جس طرح جنید جمشید نے خود ہاتھ جوڑ کر اپنی غلطی کی معافی مانگی ہے، اور مولانا طارق جمیل نے بھی یہی کہا ہے کہ جنید جمشید عالم نہیں ہے اور اس سے غلطی ہو گئی ہے، اور اس کو معاف کر دینے کی اپیل کی ہے، اس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ جنید جمشید گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔

jj-4

اب دو صورتیں ہیں۔ یا تو ملکی قانونِ توہین رسالت کے تحت جنید جمشید کو سزائے موت یا عمر قید دی جائے، یا پھر حنفی اکثریتی ملک کے اس قانون کو فقہہ حنفی کے مطابق کیا جائے۔ موجودہ قانون کے برعکس فقہ حنفی میں گستاخ رسول پر مرتد کا حکم لگتا ہے اور اس کے معافی مانگ لینے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔

ورنہ پھر ملکی قانون کو جنید جمشید کے معاملے میں کچھ نہ کرتے دیکھ کر کسی ائیر پورٹ پر، کسی گلی کوچے میں، کسی فیشن شو میں، کوئی شخص حب رسولؐ میں دیوانہ ہو کر اٹھے گا اور جنید جمشید کو سلمان تاثیر ہی کی مانند قتل کر دے گا۔

اس کے پانچ سال بعد کوئی بلند پایہ عالم اٹھے گا اور بتائے گا کہ ’یہ معاملہ غلط ہوا ہے، کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوتی ہے، لیکن بہرحال قتل کرنے والے کا جذبہ نیک تھا اور وہ پھانسی پا کر اللہ کی رحمت سے مستفید ہو گا‘۔

مفتی تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ ’کیونکہ جس طرح گستاخی کرنا نبیؐ کی شان اقدس میں، یہ بہت بڑا جرم ہے، تو اس جرم کے ثبوت کے لیے بھی، احتیاط کی ضرورت ہے کہ واقعی کسی نے یہ جرم کا ارتکاب کیا یا نہیں کیا‘۔

مفتی صاحب، کیا اس بہت بڑے جرم کے ثبوت کے لیے احتیاط کا تقاضا پورا کیا جا رہا ہے؟ یہاں تو کوئی جج ملزم کو بری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے، اور کوئی وکیل اگر ملزم کے وکالت نامے پر دستخط کر دے تو وہ بھی قتل کیا جانے لگا ہے۔

علما سے یہی درخواست ہے کہ دو عملی چھوڑ کر اس قانون کے باب میں یکساں موقف اپنائیں۔ جو موقف بہا الدین زکریا یونیورسٹی کے استاد جنید حفیظ کے بارے میں ہے، وہی جنید جمشید کے باب میں اختیار کیا جائے۔ بہت بڑا جرم ہے تو بہت بڑا ثبوت بھی دونوں کے خلاف لائیں اور مجرم ٹھہریں تو دونوں کو ٹانگ دیں، ورنہ دونوں کو قانون اور عوام کی نظروں میں بری کردیں۔ عوام کو یہ سمجھایا جائے کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار ان کو نہیں ہے۔ اگر حکومت کسی قانون پر عمل نہیں کر رہی ہے، تو حکومت کے خلاف دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ قانون پر عمل درآمد کرے، یہ نہ کیا جائے کہ علم دین، علم قانون، اور متعلقہ معاملے سے یکسر ناواقف کوئی بھی شخص اٹھے اور کسی کو بھی قتل کر دے۔

ایک دوسرے کو گستاخی کے الزام میں قتل کرنے کو وجوہات کیا کوئی کم ہیں؟ بریلوی حضرات کو دیوبندی حضرات گستاخ رسول دکھائی دیتے ہیں اور دیوبندی حضرات کے بھی ان کے بات میں یہی جذبات ہیں۔ دونوں ملک کر اہل تشیع کو گستاخی صحابہ کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔ اور یہ سب مل کر سید مودودی کی خلافت و ملوکیت کو دیکھتے ہوئے ان پر گستاخی صحابہ کی فرد جرم عائد کرتے ہیں اور جماعت اسلامی کے صالحین واجب القتل ٹھہرتے ہیں۔ ان سب کو ‘لائسنس ٹو کل’ دے دیا، ان سب کو محبت کے نام پر مارنے کی آزادی دے دی، تو باقی کون بچے گا، چار فیصد غیر مسلم؟

کل سلمان تاثیر اور جنید حفیظ کی باری تھی تو آج جنید جمشید کی باری بھی آ گئی ہے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ پر ملک کی محفوظ ترین فضاؤں میں جنید جمشید کے گرد نعرے گونج رہے ہیں کہ ’ہم تو ڈھونڈ رہے ہیں۔ گستاخ صحابہ ہے۔ گستاخ رسول ہے۔ مارووووووو، مارو اس کو ****۔ گستاخ نبی کی ایک سزا، سر تن سے جدا سر تن سے جدا‘۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

38 thoughts on “ممتاز قادری کا چہلم اور جنید جمشید پر حملہ

  • 27-03-2016 at 3:49 pm
    Permalink

    بھائیو، نیتوں کا حال اللہ ہی جانتا ھے چناچہ اس عمل کا بھی کوئی اچھا محمول اور تعبیر کرکے خاموش ہی رہییے، JJ اور اس پر حملہ آور ھونے والے دونوں آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے لیے خود ھی جوابدہ ھوں گے،، اس کی بجائے آئیے ھم سب مل کر اس میں مغرب کی کوئی سازش تلاش کریں

    ارے ھاں یاد آیا بھائیو،،،،آپ سب یہ تو نظراندازھی کر گئے ھو کہ J J پر حملہ سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی کی اس قانون سے دراصل “پاکستان کی اقلیتیں محفوظ” ھوئی ھیں، کیونکہ آپس میں برسرپیکار ھونے کے بعد ھی ان کی باری آے گی تب تک تارا مسیح اینڈ کمپنی مزے کرے

    اور ھاں بھائیو، تھوڑا انتظار فرمائیں، جنازے سے فیصلہ ھو جائے گا کہ کون حق پر تھا

  • 27-03-2016 at 4:58 pm
    Permalink

    کون سے جنازے کی بات کر رہے ہیں آپ؟؟

  • 27-03-2016 at 4:58 pm
    Permalink

    Allah musalmanoo pe rehem farmaye kioonkY musalmaan tu ye kam kerain gay naheen.

  • 27-03-2016 at 5:01 pm
    Permalink

    Ibrahim Shafquat کبھی نہ کبھی تو حملہ آور اور JJ فوت ھوں گے ناں ، تب دیکھ لیں گے کس کا جنازہ بڑا ھے

  • 27-03-2016 at 5:10 pm
    Permalink

    ممتاز قادری کو حوروں کے پاس 28 فروری کو بھیجا گیا تھا۔ تو آج چہلم (چالیسواں) کیسے ہوا؟

  • 27-03-2016 at 8:59 pm
    Permalink

    Right

  • 27-03-2016 at 9:41 pm
    Permalink

    مودودی کی خلافت و ملوکیت پرپابندی کے باوجود بھی اس کے فسفے کو روکا تو نہیں جاسکا

    • 28-03-2016 at 2:48 pm
      Permalink

      آپ سے کس نے کہا ہے کہ اس کتاب پر پابندی ہے۔

    • 28-03-2016 at 6:25 pm
      Permalink

      جناب! آپ چیک کرلیں 90 کے عشرے میں تقریبا” 80 کے قریب کتابوں پر پابندی لگی تھی جس میں یہ بھی شامل تھی

  • 27-03-2016 at 10:00 pm
    Permalink

    یہ سب مذھبی انتہاپسندی کا شاخسانہ ھے جو آگ ملاوں نے عوام میں بھڑکائی تھی اس کانشانہ وہ آج خود ھیں

  • 27-03-2016 at 11:49 pm
    Permalink

    Sir JJ nain jo gustakgy ki thy us ka reference bukhary Sharif ka tha.ab pata nahin imam bukhary Kay khilaf kab kuffer ka fatwa lagay ga

    • 28-03-2016 at 2:28 pm
      Permalink

      Bahi bukhari me wo alfaz nahi tehe jo juned ne ada kiye honge ?

    • 28-03-2016 at 2:31 pm
      Permalink

      Naeem Jd, ada kiye hongy? Matlab abi tak ye nai pata k kia kaha tha aur kia nai?

    • 28-03-2016 at 5:48 pm
      Permalink

      Ppl didnt listen fact n face truth as these were spoked by Mullah while if any other said they will…….

  • 28-03-2016 at 1:01 am
    Permalink

    Well said

  • 28-03-2016 at 1:27 am
    Permalink

    i cant understand if mumtaz qadri is shaheed then why making it issue???.

  • 28-03-2016 at 2:12 am
    Permalink

    جب تک فرقہ پرستی دین اسلام میں تبدیل نہیں ھوتی،ہر فرقہ کا مسلمان اسئ طرح مرتا رہیگا،
    اسلام ایک ھے،اس کا کوئی فرقہ نہیں،

  • 28-03-2016 at 2:34 am
    Permalink

    Firqa parast aur nasal parast se bra jahil insaan koi nhi ha.chahy wo kisi b firqy ya nasal se ho.

    • 28-03-2016 at 10:14 am
      Permalink

      g bhai me ap se itfaq karti hon quraan.pak soort inam soort numbr 6 ayat numbr 159 me bht sakhti firqa bazi se mana farmaya allah,tala ne

  • 28-03-2016 at 6:37 am
    Permalink

    #No_Comment
    #Q_K_Is_Mulk_ka_Bairaa_gharq_karny_Me_Hum_Awaam_ka_Hi_Hath_He

  • 28-03-2016 at 7:16 am
    Permalink

    لعنت ھو ایسے لوگوں بر جو بے گناھ قتل کرتے ھے

  • 28-03-2016 at 7:17 am
    Permalink

    Sab ko mil kar sochna chaihay bimari ka ilaj be ha

  • 28-03-2016 at 7:22 am
    Permalink

    جب تک ھم قرآن سنت کی بجاےء مختلف اماموں کی اطاعت کرتے رھیں گے فرقہ پرستی ختم نھیں ھو سکتی .فقہ اماموں کی تحقیق ھے جو لائق تحسین کام ھے اور اس سے فائدہ بھی اٹھانا چاھئےمگر یہ حرف آخر نھیں جیسا کہ خود آئمّا کرام نے فرمایا ھے حرف آخر اللہ اور اس کے رسول کا فرمان ھے .

  • 28-03-2016 at 8:29 am
    Permalink

    es maulvi noun hour kutt charhnee chaye!

  • 28-03-2016 at 9:10 am
    Permalink

    کیا بہتر نہیں ھے کہ دین اسلام پر تقریریں کرنے والے شہرت یافتہ انسان برگزیدہ ھستوں مومنین کی ماوں اور دیگر کی مثال عامیانہ طریقے سے دینے سے پہلے کسی اونچے عالم ھی سے اپنے خیالات چیک کرا کر لاف و گزاف سے بچتے ھوے بیان کیا کریں
    اور کیا یہ عظیم غلطی جس کا اعتراف عوامی راے کی شدت کے بعد کیا گیا ان کے اندر کی جہالت کا پول کھول کے مزید اظہار سے ڈس کوالیفائیڈ نہیں کر رھی؟؟؟
    اگر تم ان کی گفتگو سنو تو سنتے رہ جاو اگر ان کے حلیہ دیکھو تو دیکھتے ھی رہ جاو مگر یہ وڑن میڈ ڈیکوریشنز پیسز ھیں

  • 28-03-2016 at 9:43 am
    Permalink

    HuM Junaid Jamshaid Par Hamly Ki Barpur Muzammt Karty Hain islam Ke Dusmano Ko Mar Kar Hi Dam Le Gain Insha’Allah

  • 28-03-2016 at 10:05 am
    Permalink

    V gd

  • 28-03-2016 at 10:12 am
    Permalink

    Nice saying:)

  • 28-03-2016 at 10:12 am
    Permalink

    Bas yr in chor inhon nay hameen pagal kia howa hai

  • 28-03-2016 at 11:25 am
    Permalink

    لے سانس بھی آھستہ کے نازک ھے بہت کام

    سزا ان کو بھی نہ دی گئی مگر قران میں تا قیامت یہ تحریر فرما دیا گیا

    اور سننے والوں کو بھی رگڑا گیا

    “”بے شک وہ لوگ جو بڑا بہتان لاے تم میں سے ایک جماعت ھیں. .

    ھر ایک آدمی نے جتنا کیااس کے لئے اتنا گناہ ھے
    اور جس نے بڑا طوفان اٹھایا اس کے لئے بڑا عذاب ھے
    اور جب تم نے سنا مومن مردوں مومن عورتوں نے یہ نیک گمان کیوں نہ کیا کہ یہ صریح بہتان ھے””

    سورت نور

  • 28-03-2016 at 12:29 pm
    Permalink

    اور تم میں بہترین مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ پاوں سے دوسرے مسلمان محفوز رہیں….انسانی عزت خانہ کعبہ سے زیادہ تکریم واکی ہے

  • 28-03-2016 at 12:33 pm
    Permalink

    مفتی تقی عثمانی نے کہا تھا کہ ” شاتم کو سزا دینا حکومت کا کام ھے لیکن مجھے قادری کی نیت پر شک نہی ھے”

    • 28-03-2016 at 2:51 pm
      Permalink

      سبحان اللہ کیا قول فیصل ہے۔ باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی۔۔

    • 28-03-2016 at 4:01 pm
      Permalink

      tu lagy raho bhaio der kis bat ki hey meri samajh main nahe a raha k HAZOR SAW k zamaney koi nahe tha jo hazor ko taklif deney walon ko saza deta?

  • 28-03-2016 at 3:05 pm
    Permalink

    Allah Ta’ala tu yaqeenan junaid ko muaf kr den gay lekin aap km zarf log nahi krsaktay

  • 28-03-2016 at 4:13 pm
    Permalink

    Is mulk ko kharab na karin qanoon adalat he faisly k leay maujod hen. bardasht karlogy kal koi bahana banakar tumhen koot den ?

  • 28-03-2016 at 5:50 pm
    Permalink

    Fiqa is like different teachers in a school of Islam

    Ab ap jis ki class mn a gay ap ki qismat

  • 30-03-2016 at 8:10 pm
    Permalink

    ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے ، اگر کل میرا دل ممتاز قادری کے ساتھ اور آج جنید جمشید کے ساتھ ہے، تو جان لینا چاہیئے کہ میں فرقہ پرست منافق ہوں۔

Comments are closed.